اسلامی اُصول۔۔۔۔۔۔

ہمارے مولوی (بشمُول اُنکے جنہیں ہماری اکثریت عُلماء سمجھتی ہے) اگرچہ مدرسہ سے حاصل کئے گئے “علم” کو ہی اصل علم مانتے ہیں لیکن ان مدارس کے نصاب اور طرزِ تعلیم میں تحقیق، مشاہدے، تجزیے اور منطقی استنباط کا ایسا فقدان ہوتا ہے کہ اگر آپ مختلف مسائل پرانکی رائے طلب کریں توآگے سے ایک مبہم سا جواب ملے گا۔ چونکہ مذہبی طرز تعلیم میں سوالات پُوچھے جانے کا رواج کم اور رٹہ لگانے کی عادت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا آپ مزید تشریح طلب کریں، کوئی ضمنی سوال کریں تو جواب ملنے کے امکانات کم اور اِنکے سیخ پا ہونے کے زیادہ ہوتے ہیں۔ کُچھ نُمائندہ سوالات پیشِ خدمت ہیں جن کے جواب عمُوما” عُلماء اور مُلاوں سے کم وبیش ایسے ہی ملتے ہیں۔

سوال: دہشت گردی اس مُلک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: فرقہ واریت کے عفریت نے اس وقت مُلک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ مُسلمان مُسلمان کو مار رہا ہے۔ آپ لوگ اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: اس وقت دُنیا بھر میں مسلمانوں کا امیج تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے اس میں ہمارا بھی کوئی قصور ہے یا محض ہمیں بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: آپ کے خیال میں خُودکش حملوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: معیشت کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ روپیہ کی قدر مسلسل گِر رہی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں ہمارے معاشی نظام میں خرابی کہاں ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

 سوال: اگلے ہفتے ایڈز کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آپ کا اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال:آپ ویلنٹائن ڈے کی مُخالفت کیوں کرتے ہیں؟ کیا مُحبت ایک غیر فطری یا نا جائز جذبہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: کونسے ایسے اسلامی اُصول ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر آج کا مُسلمان مسائل کے گرداب سے نکل سکے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا آپ وضاحت کریں گے کہ کونسے اُصول ایسے ہیں جن کی بدولت ہمارے مسائل کا حل ممکن ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: جناب میں آپکی بات سے سو فیصدی مُتفق ہوں لیکن کیا آپ اُن اُصولوں کی نشاندہی کرنا مناسب سمجھیں گے؟

جواب: آپ لوگوں کا یہی مسئلہ ہے، پُوری بات سُننے سے پہلے ہی قطع کلامی کرتے ہیں۔ میں کہہ رہاتھا کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: ٹھیک ہے مولانا صاحب ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ اُصول توبتائیں ہمیں۔

جواب: کیا مطلب؟ آپ کو یہی نہیں پتا کہ اسلامی اُصول کونسے ہیں یا آپ کا خیال ہے کہ ایسے کوئی اُصول ہیں ہی نہیں؟ لا حول ولا قوۃ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھیں سب سے پہلے تو آپ اپنے ایمان کی تجدید کریں ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب، میرا ایمان بالکل سلامت ہے۔ میرا آپ سے سوال یہ تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: چھوڑیں یہ دُنیا وی سوالات۔ اُن سوالات کی فکر کریں جن کا جواب آپ نے عالمِ برزخ میں دینا ہے۔ پڑھیں ۔ ۔ ۔ اٰمَنتُ بِاللہِ کَمَا ھُوَ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب میرا ایمان بالکل پُختہ ہے، میرا سوال صرف اِتنا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: میں کسی ایسے شخص کے سوال کا جواب دینا مُناسب نہیں سمجھتا جو دینِ اسلام کی جامعیت اور اکملیت پر یقین نہ رکھتا ہو۔ آپ جیسے کمزور ایمان کے حامل لوگوں کیوجہ سے آج اُمت اس مقام پر ہے۔ انگریزی تعلیم نے آپ کواسلامی اُصول تک بُھلادیے ہیں۔ اور وہ مدارس جو اسلامی علوم اور دینی آگہی کا منبع ہیں، اُن کو بدنام کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔ لعنت ہو ایسی تعلیم پر۔ تُف ہے تم لوگوں کی عقل پر۔

(تحریر خانزادہ)

Advertisements

مسلمانوں کی جہالت کا نوحہ

ہمارے مہربان دوست محترم سحر تاب رومانی کا کہنا ہے کہ سچائی اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔

دراصل بہت سی باتوں اور روایتوں کے بارے میں ہمارا یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ سچ ہیں اور ان کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت سی دلیلیں بھی موجود ہوتی ہیں۔

لیکن آپ کو ان کی حقیقت کے بارے میں اگر علم ہوجائے یا آپ کے سامنے کوئی ان کی حقیقت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرے تو شاید آپ کو اس حوالے سے حقیقت کو رد کرنا بہت مشکل ہو جائے۔

یہاں ہم دو مثالیں پیش کرنا چاہیں گے۔ ہمارے ایک پڑوسی جن کا نام فرض کرلیں کہ سلیم ہے۔ ایک روز ہم نے دیکھا کہ سلیم صاحب رات کے وقت لڑکھڑاتے ہوئے سامنے سے چلے آرہے ہیں اور اسی طرح ہمارےسامنے سے گزرے، ہم نے انہیں سلام کیا اور خیریت دریافت کی تو اُنہوں نے ہماری طرف ذرا بھی توجہ نہیں دی۔

سلیم صاحب کے حوالےسے پہلے ہی ہمارے دل میں کچھ خدشات موجود تھے، چنانچہ جب نظر ان کے ہاتھ میں ایک بڑے سائز کی سیاہ رنگ کی بوتل پر پڑی تو یہ یقین ہوچلاکہ سلیم صاحب شراب پیتے ہیں اور آج تو ہم نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا تھا۔

ایک اور صاحب جن کا نام فرض کیجیے کہ شاہد ہے، ہمارے پڑوسی ہیں۔ پکے نمازی اور دیگر مذہبی شعائر کی پابندی کرنے والے، مسجد کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہم نے خود انہیں دیکھا تھا کہ مسجد کی تعمیر میں انہوں نے اپنی جیب سے کافی بڑی رقم خرچ کی تھی۔

یہ وہ سچائیاں تھیں، جن کے ہم بذاتِ خودچشم دید گواہ تھے، لیکن ان دونوں کرداروں کے حوالے سے حقائق ان کی سچائیوں کے بالکل برعکس تھے۔

جی ہاں، جو ہم نے دیکھا، وہ سچ ضرور تھا لیکن حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ  سلیم صاحب اس وقت شدید بخار کے عالم میں کلینک سے دوا لے کر آرہے تھے۔ بخار کی شدّت کی وجہ سے انہیں چلنے میں دشواری ہورہی تھی۔ وہ غریب لیکن خوددار انسان ہیں، دوسری بات یہ کہ  وہ مذہبی شعائر کا اس شدت سے اہتمام نہیں کرتے، جس شدت سے شاہد صاحب کرتے ہیں، اور اکثر بہت سے ایسےسوالات اُٹھاتے رہتے ہیں کہ جن سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ایمان کمزور ہوگیا ہے۔ بعض پنج وقتہ نمازیوں کی ان کے بارے میں یہ رائے ہے کہ وہ ملحد ہوچکے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ ان کے بارے میں پہلے ہی سے ہمارے ذہن میں منفی رائے موجود تھی اور جو کچھ ہم نے دیکھا، اس میں معنی پہنانے کا کام اسی منفی رائے کی روشنی میں ہی انجام پایا۔

دراصل سلیم صاحب بےاولاد ہیں اور ان کی اہلیہ آئے دن بیمار رہتی ہیں، اس روز خود ان کو بھی بخار تھا، لیکن انہیں اپنی ہی نہیں اپنی اہلیہ کی دوا لینے کے لیے بھی گھر سے نکلنا پڑا۔

یوں ہم نے انہیں لڑکھڑاتے قدموں سے آتے دیکھا اور تاریکی میں دوا کی بوتل ان کے ہاتھ میں دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے ہی ان کی مہ نوشی پر مہر تصدیق ہی ثبت کر ڈالی۔

اب آئیے ان نمازی پرہیزگار شاہد صاحب کی اصل حقیقت کی جانب، ان کی حقیقت یہ ہے کہ مسجد کے برابر میں انہوں نے کافی بڑی زمین گھیر کر اس پر پوری مارکیٹ بنا ڈالی ہے، اتنی بڑی جگہ پر ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ دُکانیں اور دکانوں کے اوپر فلیٹ بنا کر کرائے پر دے رکھے ہیں۔ یہ جگہ سروس روڈ کی تھی جس پر انہوں نے ناجائز قبضہ کر لیا۔ ہمیشہ سے غفلت کی نیند سورہی ہماری حکومت کو اچانک خیال آیا کہ اس شاہراہ پر سروس روڈ تعمیر کی جائے، تو شاہد صاحب کو  اپنی دکانیں اور فلیٹس کے گرائے جانے کا  خدشہ لاحق ہوا۔  چنانچہ اس کا بہترین حل انہوں نے یہ نکالا کہ لاکھوں روپے مسجد کی توسیع کے لیے ہدیہ کردیے اور مسجد کی یہ توسیع سروس روڈ کی زمین پر کی گئی۔ حکومتی اہلکاروں نے جب سروس روڈ کی تعمیر شروع کی، تو وہ تعمیر مسجد کے قریب آکر رُک گئی کہ مسجد کو کیوں کر توڑا جائے؟

پھر مسجد کے مولوی نے بڑے بڑے دارالعلوم کے مفتیوں اور علامہ حضرات سے یہ فتویٰ بھی لے لیا کہ مسجد زمین سے لے کر آسمان تک ہوتی ہے، چنانچہ اس کو گرایا نہیں جا سکتا۔

اب کیا تھا وہی لوگ جو سروس روڈ نہ ہونے کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا تھے، مسجد کو گرائے جانے کے خلاف اکھٹا ہوگئے اور ایسے کسی اقدام کی صورت میں  سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگے۔

سروس روڈ مکمل نہیں ہوسکی اور سوسائٹی کے داخلی راستے تک جانے کے لیے بائیک، کار اور دیگر گاڑیوں کو مین شاہراہ  پر اُلٹی سمت چلنا پڑتا ہے۔ اس رانگ سائیڈ ڈرائیو کے نتیجے میں اکثر ایکسیڈنٹ بھی ہوتے ہیں، جن میں کئی مرتبہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن شاہد صاحب کی پارسائی قائم ہے اور شاہد صاحب پر انگلی اُٹھانے والے سلیم صاحب سے صفائی طلب کیے بغیر ان کے بارے میں انتہائی منفی رائے قائم کرلی گئی ہے۔

آپ کو ماننا پڑے گا کہ سچائی اور حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہوسکتا ہے۔ حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے عدالت کا ذہن درکار ہوتا ہے، لیکن یہ بات اُس معاشرے کے لوگ کس طرح سمجھیں گے، جہاں عموماً عدالت کے پاس بھی عدالت کا ذہن موجود نہیں ہوتا۔ یہاں عدالت کے ذہن سے ہماری مُراد غیر جانبدارانہ طرزفکر ہے۔

یہ طویل تمہید ہم نے اس لیے باندھی ہے کہ اگلی سطور میں ہم جن حقائق کی پردہ کشائی  کرنے جارہے ہیں، اس کے بعد بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں قائم سچائیوں کے عظیم الشان محلات کی دیواریں منہدم ہو جائیں گی۔

ایسے تمام افراد سے میری گزارش ہوگی کہ وہ خود تحقیق کرلیں، لیکن افسوس مسئلہ یہ ہے کہ تحقیق کے لیے غیر جانبدار ذہن درکار ہوتا ہے۔

جس کا ماضی پرست افراد کے پاس تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا ان کی خدمت میں انتہائی مؤدّبانہ اور نہایت معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بلاوجہ مشتعل ہوکر اپنا خون نہ جلائیں، بلکہ ہماری گزارشات کو محض ایک ‘‘مجذوب کی بڑ’’ سمجھ کر آگے بڑھ جائیں، کہ یہ ساری گزارشات ان لوگوں کے لیے ہیں جو ماضی پرستی، اسلاف پرستی، عقائد پرستی، لفظ پرستی، روایات پرستی، ملت  پرستی اور کتاب پرستی کی زنجیروں کو توڑ چکے ہیں یا توڑنا چاہتے ہیں۔

*********

سورج کا طلوع ہو کر روشنی اور حرارت پہنچانا، چاند کی کرنوں سے تاریک راتوں کا منور ہونا، برسات، زمین کی زرخیزی، سمندر کی تہہ میں پوشیدہ خزانے، سنگلاخ چٹانوں میں چھپی معدنیات، صحراؤں میں سطح زمین کے نیچے سیال سونا یعنی پیٹرولیم کے اُبلتے چشمے، غرضیکہ دنیا کے سارے وسائل نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے موجود ہیں۔ لیکن یہ وسائل اُن کے ہی کام آتے ہیں جو اِن وسائل کے فوائد حاصل کرنے کے لیے عقل و شعور کا استعمال کرتے ہوئے جدوجہد کرتے ہیں۔

آج سمندر مسلمانوں کے پاس بھی ہے اور ترقی یافتہ اقوام کے پاس بھی، ترقی یافتہ اقوام نے اس کی تہہ کھنگال ڈالی اور سمندر میں موجود غذائی اشیاء، سیپیاں، موتی اور نجانے کن کن قیمتی چیزوں کے ساتھ پیٹرول تک نکال رہے ہیں جبکہ مسلمان سمندر کی بیکراں وسعتوں اور انجانی گہرائیوں سے اپنے بل بوتے پر صرف مچھلیاں  ہی حاصل کرسکتے ہیں، جس کی پیداوار بھی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے۔

زرخیز زمین غیر مسلموں کے پاس ہے  تو مسلمانوں کی دسترس میں بھی کم زرخیززمین نہیں، بلکہ اگر حساب کتاب لگایا جائے تو ممکن ہے یہ بات بھی سامنے آجائے کہ مسلمانوں کی ملکیت میں موجود زمین دیگر اقوام سے زیادہ زرخیز ہے۔

چلیے مان لیتے ہیں  کہ ایسا نہیں ہے تو یہ دیکھنے کی ضرورت تو ہونی چاہیے  کہ اپنی ملکیت میں موجود  زرخیز زمین سے مسلمانوں نے کس قدر فائدہ اُٹھایا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق مسلم ممالک میں صرف 5 کروڑ ہیکڑ رقبے پر کاشت ہورہی ہے اور تقریباً  20 کروڑ ہیکڑ رقبے کی زمین بے آباد اور ویران پڑی ہے۔

بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کو چھوڑیں، رقبے کے اعتبار سے ایک بہت چھوٹے ملک اسرائیل کی مثال لے لیجیے، اس ملک میں پانی کی شدید کمی ہے، پانی کی اس کمی کا حل اسرائیل کے سائنسدانوں نے یہ نکالا کہ اپنے کھیتوں کے درمیان ایک سرے سے دوسرے سرے تک بلند و بالا کھمبے  Pole نصب کیے اور اُس میں باریک جال باندھ دیے۔ کُہر آلود ہوا جب اِس جال سے گزرتی، تو ننھے ننھے شبنمی قطرے جال کے باریک تاروں سے ٹکرا کر نیچے گرنے لگتے۔ قطرہ در قطرہ پانی پختہ نالیوں میں جمع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ جب اس کی مقدار بڑھتی ہے تو بہہ کر کھیتیوں کو سیراب کر دیتا ہے۔

اسرائیل اس سسٹم کے ذریعے اتنی وافر مقدار میں سبزیاں پیدا کررہا ہے، جو اُس کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہیں، لہٰذا یہ سبزیاں پڑوس کے اُن  مسلمان عرب ممالک کو برآمد کردی جاتی ہیں، جہاں کی مسجدوں میں ہر جمعہ کی نماز کے بعد اسرائیل کی بربادیوں کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

یہ تو خیر ایک مثال تھی۔

اگر یہاں ہم اس قسم کی مثالیں بیان کرنا شروع کردیں تو صفحات کے صفحات بھر جائیں گے اور مثالیں ختم نہیں ہوں گی، لیکن ہم یہاں مسلمانوں کی پسماندگی، بے چارگی، قدرتی وسائل کی ناقدری اور جہالت کا محض نوحہ نہیں پڑھنا چاہتے، بلکہ ہماری کوشش ہوگی کہ مسلم قوم  کے زوال کے اسباب پر غیر جانبدار ہوکر  گفتگو کی جائے اور پوشیدہ حقائق تلاش کیے جائیں۔

مسلم اقوام کے زوال کا ایک اہم سبب روشن خیالی کا خاتمہ، علوم و فنون کی اشاعت و ترویج میں اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں سے چشم پوشی بھی ہے۔

کسی بھی تہذیب کی اصل روح اُس کی فکری سرگرمیاں ہوتی ہیں اور جب کسی جگہ فکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں یا ماند پڑجائیں تو تمدّن کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور پھر محض بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی مانند ایک ہجوم باقی رہ جاتا ہے، جن کی آنکھوں پر  خوش فہمیوں کی سیاہ پٹی بندھی ہوتی ہے اور جن کے شب و روز ایک دوسرے کو نوچنے کھسوٹنے میں گزرتے رہتے ہیں۔

غیرجانبدار ہوکر دیکھیے تو آپ کو بھی مغربی اقوام کے بعض دانشوروں کی جانب سے مسلمانوں پر کیا جانے والا یہ اعتراض غلط محسوس نہیں ہوگا کہ مسلمانوں میں تنقید برداشت کرنے کا مادّہ بالکل نہیں ہے، بلکہ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی فکر میں وہ خود مختاری بھی شاید کبھی موجود نہیں رہی کہ وہ زندگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اپنے تجربے اور فکر سے سمجھیں۔ ماضی پرستی کی روایت شاید ہماری بنیادوں میں پیوست ہوچکی ہے۔

ہمارے معاشروں میں تحقیق کرنے والے اذہان کیسے پیدا ہوں گے، جب جائز و ناجائز کا خوف لوگوں کے خون میں رچ بس کر اُن کے جسموں میں دوڑتا ہو؟ یہی وجہ ہے کہ بیشتر حساس موضوعات سوال بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی طرح کنی کترا کر نکل جاتے ہیں۔ بجائے اپنے راستے سے پتھر ہٹانے کے، پتھر کو دیکھ کر اپنا راستہ ہی بدل لیتے ہیں۔

ہمیں تو یہ زعم ہی سر اُٹھانے نہیں دیتا کہ کبھی ہم پوری دنیا پر چھائے ہوئے تھے، لیکن کیا واقعی مسلمانوں نے کبھی اپنے ذہنی افق سے دنیائے علم و ہنر کو زیر نگیں کیا تھا؟

بالفرض یہ بات بھی حقیقت ہو تو آج ہم کیوں اپنی سوچ اور فکر کو ترقی دینے سے گریزاں ہیں؟

یا حسین تیری پیاس کا صدقہ

یہ تب کی بات ہے جب ہم ایک گمراہ ، مشرک ، بدعتی معاشرے میں رہتے تھے۔ اے اللہ مجھے اور میرے مشرک ، گمراہ ، بدعتی پرکھوں اور اس سماج کو معاف کردینا جسے کوئی تمیز نہیں تھی کہ عقیدے اور بدعقیدگی میں کیا فرق ہے۔ اچھا مسلمان کون ہے اور مسلمان کے بھیس میں منافق اور خالص اسلام کو توڑنے مروڑنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے والا سازشی کون ۔

اے میرے خدا میری بدعتی والدہ کو معاف کردینا جو اپنی سادگی میں ہر یکم محرم سے پہلے پڑنے والے جمعہ کو محلے پڑوس کی شیعہ سنی عورتوں کو جمع کرکے کسی خوش الحان سہیلی سے بی بی فاطمہ کی کہانی سننے کے بعد ملیدے کے میٹھے لڈو بنا کر نیاز میں بانٹتی تھی ۔
اسی بارے میں

اے میرے خالق ، میرے والد کو بھی بخش دینا جو حافظِ قران دیوبندی ہونے کے باوجود یومِ عاشور پر حلیم پکواتے تھے تاکہ ان کے یارِ جانی حمید حسن نقوی جب تعزیہ ٹھنڈا کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے ہمراہ بعد از عصر آئیں تو فاقہ شکنی کر پائیں۔

البتہ میری دادی کبھی اس فاقہ شکنی میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ وہ مغرب کی ازان کا انتظار کرتی تھیں تاکہ نفلی روزہ افطار کرسکیں۔ حمید حسن اور انکے اہلِ خانہ تو مغرب کے بعد اپنے گھر چلے جاتے تھے ۔ مگر عشا کی ازان ہوتے ہی ہمارے صحن کے وسط میں کرسی پر رکھے ریڈیو کی آواز اونچی ہو جاتی۔ سب انتظار کرتے کہ آج علامہ رشید ترابی کس موضوع پر مجلسِ شامِ غریباں پڑھیں گے۔ مجھے یا چھوٹی بہن کو قطعاً پلے نہیں پڑتا تھا کہ شامِ غریباں کیا ہوتی ہے ؟ کیوں ہوتی ہے ؟ اور مجلس کے اختتام سے زرا پہلے دادی کی ہچکی کیوں بندھ جاتی ہے ؟ اور کیا یہ وہی دادی ہیں جن کی آنکھ سے گذشتہ برس میرے دادا اور تایا کے یکے بعد دیگرے انتقال پر ایک آنسو نا ٹپکا تھا ؟

اے اللہ شرک و ہدایت ، درست و غلط اور بدعت و خالص میں تمیز نا رکھنے والی میری سادہ لوح واجبی پڑھی لکھی دادی کی بھی مغفرت فرما ۔ اور پھر انہیں آج کی طرح کوئی یہ دینی نزاکتیں سمجھانے والا بھی تو نہیں تھا۔ وہ تو اتنی سادی تھیں کہ یہ فرق بھی نا بتا سکتی تھیں کہ بریلویت کیا چیز ہے اور شیعہ ہم سے کتنے مختلف ہوتے ہیں ؟

وہ تو بھلا ہو اعلی حضرت میاں عبدالغفور کا جنہوں نے ایک دن دادی کو تفصیل سے اہم فرقوں اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری فقہ کے فرق کو سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اماں آپ نجیب الطرفین دیوبندی گھرانے سے ہیں اور بریلوی اور شیعہ ہمارے آپ کے پوشیدہ دشمن اور اسلام دشمنوں کے آلہِ کار ہیں لہذا ان سے ایک زہنی فاصلہ رکھتے ہوئے میل ملاقات رکھیں۔ اور اماں آپ اسلم برکی کے بچوں کو اب عربی قاعدہ نا پڑھایا کریں کیونکہ وہ قادیانی ہیں اور قادیانی کافر ہوتے ہیں اور کافر کو عربی قاعدہ پڑھانا نا صرف گناہِ کبیرہ ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ جب دادی نے قانون اور جرم کا لفظ سنا تب کہیں انہیں معاملے کی سنگینی سمجھ میں آئی۔ خدا میاں غفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

لو میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

بچپن میں عید الضحی گذرنے کے بعد سکول کی چھٹی ہوتے ہی ہماری مصروفیت یہ ہوتی کہ بڑے قبرستان کے کونے میں ملنگوں کے ڈیرے پر نئے تعزیے کی تعمیر دیکھتے رہتے۔ یہ ملنگ روزانہ حسینی چندے کا کشکول اٹھا کر ایک چھوٹے سا سیاہ علم تھامے دوکان دوکان گھر گھر چندہ اکٹھا کرتے اور پھر اس چندے سے زیور ، پنیاں اور کیوڑہ خرید کر تعزیے پر سجاتے اور سورج غروب ہوتے ہی کام بند کرکے بہت زور کا ماتم کرتے۔

میرے کلاس فیلو اسلم سینڈو کے ابا طفیلے لوہار کی تو محرم شروع ہونے سے پہلے ہی چاندی ہوجاتی ۔جس عزا دار کو چھریاں ، قمہ ، برچھی ، مچھلی اور زنجیر تیز کرانی ہوتی وہ طفیلے لوہار کی دوکان کا رخ کرتا ۔کام اتنا جمع ہوجاتا کہ اسلم سینڈو کو بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ البتہ شبِ عاشور طفیلے کی دوکان پر تالا لگ جاتا اور بند دوکان کے باہر ہر سال کی طرح ایک سیاہ بینر نمودار ہو جاتا جس پر لکھا ہوتا ’’ یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ’’۔۔۔دونوں باپ بیٹے دودھ کی سبیل لگا کر ہر آتے جاتے کو بااصرار پلاتے ۔

پھر طفیل مرگیا اور اسلم سینڈو نے سارا کام سنبھال لیا۔ پھر میں نے سنا کہ اسلم نے ایک دن دوکان بند کردی اور غائب ہوگیا۔ کوئی کہتا ہے کشمیر چلا گیا ۔ کوئی کہتا ہے کہ افغانستان آتا جاتا رہا۔ کوئی کہتا ہے اب وہ قبائلی علاقے میں کسی تنظیم کا چھوٹا موٹا کمانڈر ہے اور اس کا نام اسلم نہیں بلکہ ابو یاسر یا اسی سے ملتا جلتا کوئی نام ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کراچی کے نشتر پارک میں سنی تحریک کے جلسے کے بم دھماکے میں وہ پولیس کو چار سال سے مطلوب ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ کوئٹہ پولیس نے اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

لوگ کہتے ہیں مذہبی شدت پسندی اور تشدد قابو سے باہر ہوگیا ہے۔مگر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ قبلہ و ایمان درست کرنے اور قوم کے جسم سے شرک و بدعت و گمرہی کے زہریلے مواد کے اخراج کے لئے تکفیری جہادی نشتر تو لگانا پڑتا ہے۔ انشاللہ عنقریب تمام مشرک ، بدعتی اور منافق جہنم رسید ہوجائیں گے اور ماحول اتنا پرامن اور عقیدہ اتنا خالص ہو جائے گا کہ اس خطہِ پاک کو دنیا پاکستان کے بجائے خالصتان پکارے گی۔۔۔
بس چند دن کی تکلیف اور ہے۔۔۔۔۔۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی

حضرت علی کے دیگر خلفاء سے تعلقات

۱۔کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی؟
اس معاملے میں جو تاریخی روایات بیان ہوئی ہیں اور یہ تین طرح کی ہیں:
• پہلی قسم کی روایات کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوری رضا و رغبت کے ساتھ اگلے دن ہی بیعت کر لی تھی۔
• دوسری قسم کی روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے کچھ پس و پیش کیا تھا لیکن دیگر صحابہ کے سمجھانے پر کچھ ہی عرصہ بعد بیعت کر لی تھی۔
• تیسری قسم کی روایات مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ خود خلیفہ بننا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے بیعت سے انکار کر دیا تھا اور حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا اور ان کا دروازہ جلا دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر بھی تشدد کیا جس سے ان کا حمل ضائع ہوا اور حضرت علی کو مجبور کر کے ان سے بیعت لی گئی۔ اس کے بعد پہلے تین خلفاء راشدین کے زمانے میں خفیہ سازشوں میں مصروف رہے اور ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کرتے رہے۔
پہلے گروپ کی روایات
برضا و رغبت بیعت والی روایتیں متعد دہیں اور یہاں ہم انہیں پیش کر رہے ہیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ , ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ , ثنا وُهَيْبٌ , ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ , ثنا أَبُو نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بعتَ لنے کے لےن منبر پر چڑھے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت علی موجود نہ تھے۔ آپ نے ان کے بارے میں پوچھا۔ انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہیں بلا لائے۔ جب وہ آئے تو ان سے فرمایا: “اے رسول اللہ کے چچا زاد بھائی اور داماد! کان آپ مسلمانوں کے عصا (طاقت) کو توڑنا پسند کریں گے؟” انہوں نے بھی ییُ کہا: “اے رسول اللہ کے خلفہہ! مجھے ملامت نہ کے زا۔” اور پھر ان کی بعتم کر لی۔ پھر آپ نے دیکھا کہ حضرت زبری رضی اللہ عنہ غر حاضر ہںْ۔ آپ نے انہںا بلا بھجا ۔ جب حضرت زبرو آئے تو ان سے فرمایا: “اے رسول اللہ کے پھوپھی زاد بھائی اور آپ کے حواری! کاد آپ مسلمانوں کے عصا (طاقت) کو توڑنا پسند کریں گے؟ ” انہوں نے کہا: “اے رسول اللہ کے خلفہس! مجھے ملامت نہ کےیتں۔ ” پھر کھڑے ہو کر انہوں نے بعتم کر لی۔( بیہقی۔ الاعتقاد الی سبیل الرشاد۔ باب اجتماع المسلمین علی بیعۃ ابی بکر۔ حدیث 325۔ بلاذری، انساب الاشراف۔ 2/267)
حدثنا عبيد الله بن سعد ، قال : أخبرني عمي ، قال : أخبرني سيف ، عن عبد العزيز بن ساه ، عن حبيب بن أبي ثابت: حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ کسی نے انہیں بتایا کہ مسجد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیعت لے رہے ہیں۔ اس وقت حضرت علی نے محض ایک طویل کرتا پہن رکھا تھا اور تہمد نہ باندھ رکھا تھا ۔ آپ دیر ہو جانے کے خوف سے اٹھے اور بغیر تہمد باندھے بھاگم بھاگ مسجد میں پہنچے اور بیعت کر کے صدیق اکبر کے پاس بیٹھ گئے۔ اس کے بعد آپ نے گھر سے بقیہ لباس منگوا کر پہنا۔( ابن جریر طبری۔ حدیث سقفہن۔ 11H/2/1-410)
محمد بن سعد، ثنا محمد بن عمر الواقدي، عن أبي معمر، عن المقبري، و يزيد بن رومان مولى آل زبير، عن ابن شهاب: (سقیفہ کے واقعہ کے بعد) حضرت علی نے ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا: “ابوبکر! آپ جانتے نہیں کہ اس معاملے (مشورہ) میں ہمارا بھی حق تھا؟” انہوں نے فرمایا: “جی ہاں، لیکن مجھے انتشار کا خوف تھا اور مجھ پر بڑا معاملہ آن پڑا تھا۔” علی نے فرمایا: “میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز کی امامت کا حکم دیا تھا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ غار (ثور) میں ثانی اثنین ہیں۔ ہمارا حق تھا (کہ ہم سے مشورہ کیا جائے) لیکن ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ بہرحال اللہ تعالی آپ کو معاف کرے۔” یہ کہہ کر انہوں نے بیعت کر لی۔ ( بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 2/263)
حدثن عن الحسن بن عرفة، عن علي بن هشام بن اليزيد، عن أبيه، عن أبي الجحاف: جب ابو بکر کی لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ نے کھڑے ہو کر تین بار اعلان کیا: “اے لوگو! (اگر آپ چاہیں) تو میری بیعت کو ختم کر سکتے ہیں۔” علی نے کہا: “خدا کی قسم، ہم نہ تو آپ کی بیعت کو ختم کریں گے اور نہ ہی آپ کو استعفی دینے دیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں آپ کو امام بنایا تھا تو پھر کون ہے جو (دنیاوی امور کی امامت) میں آپ سے آگے بڑھے؟” ( ایضاً ۔ 2/270)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی اور زبیر رضی اللہ عنہما نے برضا و رغبت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی۔ بعد میں پہلے تینوں خلفاء کے دور میں وہ جس طرح امور حکومت میں پوری دلجمعی کے ساتھ شریک رہے، اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پوری رضا و رغبت سے بیعت کی تھی۔ سند کے اعتبار سے ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت سب سے زیادہ مستند ہے۔ بقیہ روایتیں اگرچہ سند کے اعتبار سے کمزور ہیں تاہم حضرت علی ا ور زبیر نے پہلے تینوں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے ساتھ جو طرز عمل اختیار کیا، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایتیں بالکل درست ہیں۔
دوسرے گروپ کی روایات
بیعت میں پس و پیش کرنے سے متعلق روایات کے مطابق سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باغ فدک کی وراثت کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ ایک باغ تھا جس کی آمدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان پر خرچ ہوتی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ باغ سرکاری ملکیت ہے، جس کی وجہ سے اس کی وراثت تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ہاں ا س کی آمدنی میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کو حصہ ملتا رہے گا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس بات پر ناراض ہو گئیں اور چھ ماہ بعد اپنی وفات تک انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات نہیں کی۔ باغ فدک کی روایت یہ ہے:
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب قال: أخبرني عروة بن الزبير: أن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أخبرته : سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آپ کی میراث تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے بطور فئی (وہ مال غنیمت جو جنگ کے بغیر حاصل ہو) دیا تھا۔ ابوبکر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہمارا (انبیا کا) ورثہ تقسیم نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔” (ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ) فاطمہ رضی اللہ عنہاغضب ناک ہو گئیں اور ابوبکر کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ پھر وہ ان سے اپنی وفات تک نہ ملیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔( بخاری۔ کتاب خمس۔ حدیث 2926)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں چھ ماہ بند رہے اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی ۔ سیدہ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ان کے پاس گئے اور ان سے گفت و شنید کی۔ دونوں نے ایک دوسرے کے فضائل بیان کیے اور اس کے بعد حضرت علی نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی۔ روایت کچھ یوں ہے:
حدثنا أبو صالح الضرار ، قال : حدثنا عبد الرزاق بن همام ، عن معمر ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة : حضرت فاطمہ اور عباس ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فدک اور خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ ہے، وہ ہمیں دیا جائے۔ ابوبکر نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہمارے املاک میں ورثہ نہیں، جو ہم چھوڑتے ہیں، وہ صدقہ ہے تو ضرور یہ املاک آل محمد کو مل جاتیں۔ ہاں اس کی آمدنی میں سے آپ کو بھی ملے گا۔ بخدا میں ہر اس بات پر عمل کروں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے۔
(زہری نے) بیان کیا کہ اس واقعے کی وجہ سے فاطمہ نے پھر وفات تک اس معاملے سے متعلق ابوبکر سے کوئی بات نہیں کی اور قطع تعلق کر لیا۔ جب فاطمہ کا انتقال ہوا تو علی نے رات میں ان کو دفن کر دیا اور ابوبکر کو نہ تو ان کی وفات کی اطلاع دی اور نہ دفن میں شرکت کی دعوت دی۔ فاطمہ کی وفات کے بعد ان لوگوں کا خیال علی کی طرف پلٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ فاطمہ اور زندہ رہیں اور پھر انہوں نے وفات پائی۔
معمر کہتے ہیں کہ زہری سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا علی نے چھ مہینے تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں کی اور جب تک انہوں نے نہیں کی ، تو بنو ہاشم میں سے کسی نے نہیں کی۔ مگر فاطمہ کی وفات کے بعد جب علی نے دیکھا کہ لوگوں کا وہ خیال باقی نہیں رہا، جو فاطمہ کی زندگی میں تھا تو وہ ابوبکر سے مصالحت کے لیے جھکے اور انہوں نے ابوبکر کو کہلا بھیجا کہ مجھ سے تنہا آ کر ملیے اور کوئی ساتھ نہ ہو۔ چونکہ عمر سخت طبیعت کے آدمی تھے، علی کو یہ بات گوارا نہ تھی کہ وہ بھی ابوبکر کے ساتھ آئیں۔ عمر نے ابوبکر سے کہا کہ آپ تنہا بنو ہاشم کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر نے کہا: “نہیں، میں تنہا جاؤں گا۔ مجھے اس کی توقع نہیں کہ میرے ساتھ کوئی بدسلوکی کی جائے گی۔” ابوبکر، علی کے پاس آئےتو تمام بنو ہاشم جمع تھے۔ علی نے کھڑے ہو کر تقریر کی ۔ اس میں حمد و ثنا کے بعد کہا: ’’اے ابوبکر! آج تک ہم نے آپ کے ہاتھ پر جو بیعت نہیں کی، اس کی وجہ آپ کی کسی فضیلت سے انکار یا اللہ کی آپ کو دی گئی بھلائیوں پر حسد نہ تھا۔ بلکہ ہم اس خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے مگر آپ نے زبردستی اسے ہم سے لے لیا۔‘‘ اس کے بعد علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت اور اپنے حق کو بیان کیا۔ علی نے ان باتوں کو تفصیل سے بیان کیا یہاں تک کہ ابوبکر رو پڑے۔ علی جب خاموش ہوئے تو ابوبکر نے تقریر شروع کی۔ کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالی کے شایان شان حمد و ثنا کے بعد انہوں نے کہا: “واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء مجھے اپنے رشتہ داروں کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہیں۔ میں نے ان املاک کے متعلق جو میرے اور آپ کے درمیان اختلاف کا باعث بنی ہیں، میں صرف واجبی کمی کی تھی۔ نیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت نہیں جو ہم چھوڑیں۔ وہ صدقہ ہے۔ ہاں اس کی آمدنی میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا رہے گا اور میں اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ کسی بات کا ذکر کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو اور خود اس پر عمل نہ کروں۔ “
علی نے کہا: “اچھا! آج شام ہم آپ کی بیعت کریں گے۔” ظہر کی نماز کے بعد ابوبکر نے منبر پر سب کے سامنے تقریر کی اور بعض باتوں کی علی سے معذرت کی۔ پھر علی کھڑے ہوئے او رانہوں نے ابوبکر کے حق کی عظمت اور ان کی فضیلت اور اسلام میں پہلے شرکت کا اظہار اور اعتراف کیا اور پھر ابوبکر کے پاس جا کر ان کی بیعت کی۔ ( طبری۔ ایضا۔ 11H/2/1-411)
اس واقعے کا تجزیہ دو اعتبار سے کیا جا سکتا ہے، ایک سند کے اعتبار سے اور دوسرا درایت کے اعتبار سے اور دونوں اعتبار سے اس میں کچھ مسائل موجود ہیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام روایتوں کی سند میں دیکھیے تو ان میں ابن شہاب الزہری (58-124/678-742) موجود ہیں۔ محدثین کے نزدیک زہری ایک جلیل القدر محدث اور قابل اعتماد راوی ہیں تاہم ان کے ساتھ کچھ مسائل موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ احادیث میں “ادراج ” کیا کرتے تھے۔ ادراج کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرتے ہوئے اس میں اپنی جانب سے تشریحی جملے شامل کر دیے جائیں۔ اس پر زہری کو ان کے معاصر ربیعہ کہتے تھے کہ وہ ایسا نہ کریں کیونکہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ہے۔ اگر ایسا کرنا ضروری بھی ہو تو اسے الگ سے بیان کریں تاکہ ان کی رائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات میں مل نہ جائے۔( بخاری۔ التاریخ الکبیر۔ راوی نمبر 976۔ 3/135۔ http://www.almeshkat.net (ac. 28 Apr 2007) )۔ دوسرے یہ کہ وہ “تدلیس” کیا کرتے تھے یعنی حدیث کی سند میں اگر کوئی کمزوری ہو تو اسے چھپا لیتے تھے۔
باغ فدک سے متعلق جتنی بھی روایات ہیں، ان سب کو اگر اکٹھا کر لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراضی کا ذکر صرف انہی روایات میں ملتا ہے جن کی سند میں زہری موجود ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناراضی والی بات زہری کا ادراج (اضافہ) ہے۔ چھ ماہ تک ناراض رہنے والی بات صرف زہری ہی نے بیان کی ہے جو کہ اس واقعہ کے پچاس سال بعد پیدا ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ زہری اس واقعے کے عینی شاہد تو نہیں تھے۔ انہوں نے یہ بات کس سے سنی اور جس سے سنی، وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا؟ ان کے علاوہ کسی اور نے تو یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ مشہور محدثین جیسے بیہقی اور ابن حجر عسقلانی نے بھی زہری کی اس بات کو منقطع قرار دے کر اسے مسترد کیا ہے۔( ابن حجر عسقلانی۔ فتح الباری شرح بخاری۔ 7/495۔ زیر حدیث 4240۔ ریاض: مکتبہ سلفیہ۔)
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ناراضی والی بات درایت کے نقطہ نظر سے بالکل غلط معلوم ہوتی ہے۔ اس میں تو کوئی اشکال نہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے حصول کا خیال گزرا تو انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے بات کی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ، حضرت صدیق اکبر کو جائز حکمران تسلیم کرتی تھیں، تبھی ان کے پاس مقدمہ لے کر گئیں۔ حضرت ابوبکر نے وضاحت فرما دی کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام مال کو صدقہ قرار دیا تھا اور باغ فدک تو ایک سرکاری جائیداد تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت نہ تھی بلکہ حکومت کی ملکیت تھی۔ اس کی صرف آمدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت پر بطور تنخواہ خرچ ہوتی تھی کیونکہ آپ بطور سربراہ حکومت فل ٹائم کام کرتے تھے اور آپ کی آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس کی آمدنی بدستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت پر خرچ ہو گی۔
حضرت ابوبکر نے دلیل سے بات کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو بطور دلیل پیش کیا تھا۔ اگرسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس سے اختلاف ہوتا تو وہ بھی جوابی دلیل پیش کرتیں لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ آپ کی بات کو سمجھ گئی تھیں۔ سیدہ کے زہد و تقوی ، اعلی کردار اور دنیا سے بے رغبتی کو مدنظر رکھا جائے تو آپ سے ہرگز یہ توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ آپ اس بات پر ناراض ہو جائیں گی کہ آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پیش کیا جائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو زہری کی روایت میں کسی اور نے یہ ناراضی والا جملہ شامل کر دیا ہے یا پھر یہ جملہ خود انہوں نے کسی غلط فہمی کے سبب کہہ دیا ہے۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ باغ فدک کے دعوے داروں میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی نظر آتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ یہ بات بالکل معروف اور متعین ہے کہ قرآن مجید کے قانون وراثت کی رو سے چچا کا میراث میں حصہ نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ان کا دعوی کرنا سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ خاندان کے بزرگ کے طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چلے گئے تھے۔
چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی کو محروم نہ کیا تھا بلکہ ان دونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو بھی اس وراثت سے محروم کیا تھا۔ عام طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بات کو بہت اچھالا گیا ہے لیکن سیدہ عائشہ و حفصہ اور دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا ہے حالانکہ وراثت میں بیوی کا حصہ بھی ہوتا ہے۔
پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہم کو اس کا ٹرسٹی مقرر کر دیا تھا۔ آپ اس کی بطور ٹرسٹ حیثیت کو مانتے تھے تبھی آپ نے اس کا ٹرسٹی بننا قبول کیا۔ اگر باغ فدک واقعی اہل بیت کی ملکیت ہوتا تو آپ کم از کم اپنے دور خلافت میں تو اسے ان کے حوالے کر سکتے تھے۔ ان کا ایسا نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بھی اسے اہل بیت کی ملکیت نہ سمجھتے تھے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس باغ کو مروان بن حکم نے حکومت سے خرید لیا تھا، اس وجہ سے حضرت علی نے ایسا نہ کیا۔ لیکن یہ بات درست نہیں، اگر یہ واقعتاً اہل بیت کا حق تھا تو حضرت علی کو چاہیے تھا کہ وہ اسے اس کے حق داروں تک پہنچاتے اور مروان کو ان کی رقم واپس کروا دیتے۔
چھٹا مسئلہ یہ ہے کہ خود حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پڑپوتے، حضرت زید بن علی بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا: “اگر میں ابوبکر کی جگہ ہوتا تو فدک کے بارے میں وہی فیصلہ کرتا جو انہوں نے کیا تھا۔ ( بیہقی، ایضا۔ حدیث 12744۔ 6/493)
ساتواں مسئلہ یہ ہے کہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے مرد مومن سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ محض ایک باغ کی وجہ سے آپ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہیں اور نماز پڑھنے کے لیے بھی مسجد میں تشریف نہ لائیں؟ آپ نے اسلام کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں، کیا یہ ممکن تھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات جیسے نازک موقع پر پیچھے بیٹھ رہتے جب متعدد عرب قبائل نے بغاوت کا علم بلند کر دیا تھا۔ اگر آپ کو حضرت ابوبکر سے کوئی شکایت تھی تو براہ راست ان کے پاس جا سکتے تھے اور ان سے معاملات پر گفتگو کر سکتے تھے لیکن اس کی بجائے یہ کہنا کہ آپ اٹوانٹی کھٹوانٹی لے کر گھر بیٹھ رہے، یہ بات کسی طرح آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ جب سب کے سب صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت علی ایسا نہ کرتے اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔ حضرت علی کی بیعت نہ کرنے والی روایات دراصل حضرت ابوبکر پر نہیں بلکہ حضرت علی پر بہتان ہیں اور آپ کی کردار کشی کی کوشش ہیں۔
آٹھواں مسئلہ یہ ہے کہ عہد رسالت میں مال غنیمت میں سے جو حصہ بنو ہاشم کے لیے مقرر تھا، اس کی تقسیم کی ذمہ داری حضرت علی ہی کے سپرد تھی۔ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم، برابر اس مال کو حضرت علی ہی کو دیتے رہے جو کہ ان پر اعتماد کی علامت ہے۔ اگر ان کے درمیان عدم اعتماد کی فضا ہوتی تو پھر ایسا نہ ہوتا۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، ثنا يحيى بن أبي بُكير، ثنا أبو جعفر الرَّازي، عن مُطرِّف، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: سمعت عليّاً يقول: حضرت علی نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس کے پانچویں حصے (کی تقسیم) کا ذمہ دار بنایا۔ میں نے اسے رسول اللہ کی حیات طیبہ میں اس کے مخصوص مقامات پر خرچ کیا۔ پھر ابو بکر اور عمر کی زندگی میں بھی اسی طرح ہوتا رہا۔ پھر کچھ مال آیا تو عمر نے مجھے بلایا اور فرمایا: ’’لے لیجیے۔‘‘ میں نے کہا: ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’لے لیجیے، آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے (کہ پہلے ہی ہمارے پاس کافی مال ہے، کسی ضرورت مند کو دے دیجیے۔)‘‘ چنانچہ انہوں نے اسے بیت المال میں جمع کر دیا۔‘‘( ابو داؤد۔ سنن۔ کتاب الخراج و الفئی و الامارہ۔ حدیث 2983)
نواں مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں متعدد ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن کے مطابق صدیق اکبر رضی اللہ عنہ برابر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عیادت کے لیے تشریف لاتے رہے۔ جب سیدہ کا انتقال ہوا تو حضرت علی نے اصرار کر کے حضرت ابوبکر ہی کو نماز جنازہ پڑھانے کے لے کہا ۔ سیدہ فاطمہ کو غسل حضرت ابوبکر کی اہلیہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہم نے دیا۔ اب اگر روایات ہی کو ماننا ہے تو پھر ان روایات کو کیوں نہ مانا جائے جو اصحاب رسول اور اہل بیت اطہار کے کردار کے عین مطابق ہیں۔ روایات یہ ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِىُّ بِنَيْسَابُورَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ: شعبی کہتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ بیمار ہوئیں تو ابوبکر صدیق ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ علی نے کہا: “فاطمہ! یہ ابوبکر آئے ہیں اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں؟” انہوں نے کہا: “آپ کیا انہیں اجازت دینا چاہتے ہیں؟” فرمایا: “ہاں۔” انہوں نے اجازت دے دی تو ابوبکر اندر داخل ہوئے اور سیدہ کو راضی کرنے کی کوشش کی اور فرمایا: “واللہ! میں نے اپنا گھر، مال، اہل و عیال اور خاندان کو صرف اللہ اور اس کے رسول اور آپ اہل بیت کی رضا ہی کے لیے چھوڑا تھا۔ ” پھر وہ انہیں راضی کرتے رہے یہاں تک کہ سیدہ ان سے راضی ہو گئیں۔ ( بیہقی۔ سنن الکبری۔ حدیث 12375۔ 6/491۔ http://www.waqfeya.com (ac. 17 May 2005) )
حافظ ابن کثیر (701-774/1301-1372) نے پہلی اور دوسری قسم کی روایات کو تطبیق (Reconcile) دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہی میں کر لی تھی۔ باغ فدک کی وجہ سے سیدہ رضی اللہ عنہا کے ذہن میں کچھ کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ کشیدگی کا پیدا ہو جانا ایک انسانی معاملہ ہے جو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے خواہ وہ کتنا ہی بلند رتبہ کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب بیمار پڑیں تو ان کی تیمار داری کے باعث حضرت علی زیادہ باہر نہ نکلے ۔ دوسرے یہ کہ آپ قرآن مجید کو نزولی ترتیب سے جمع کرنا چاہتے تھے جو کہ ایک علمی نوعیت کی کاوش تھی۔ اس بات کی تائید بلاذری کی اس روایت سے ہوتی ہے:
حدثنا سلمة بن الصقر، وروح بن عبد المؤمن قالا: ثنا عبد الوهاب الثقفي، أنبأ أيوب، عن ابن سيرين قال: ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابوبکر نے علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: “کیا آپ میرے امیر بننے کو ناپسند کرتے ہیں؟” انہوں نے کہا: “نہیں۔ اصل میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ قسم کھائی ہے کہ جب تک میں قرآن مجید کو نزولی ترتیب سے جمع نہ کر لوں، اس وقت تک باہر نہ آؤں گا۔ (بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 2/269)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے باہر نہ نکلنے سے بعض لوگوں کو گمان گزرا کہ ان حضرات میں کچھ ناراضگی موجود ہے حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے گھر آ کر انہیں راضی کر چکے تھے۔ صدیق اکبر کا فیصلہ شریعت کے عین مطابق تھا تاہم انہوں نے پھر بھی سیدہ کی دلجوئی کی جس سے آپ کی اہل بیت کے لیے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان کے نقطہ نظر کو قبول کیا اور ان سے راضی ہو گئیں۔ (ابن کثیر۔ البدایہ و النہایہ۔ 5/389 )۔ آپ کے انتقال کے بعد حضرت علی نے اس وجہ سے علی الاعلان صدیق اکبر کی دوبارہ بیعت کی تاکہ لوگوں کی غلط فہمی دور ہو جائے اور انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ اصحاب رسول میں کوئی ناراضی نہیں ہے اور وہ یکجان کئی قالب ہیں۔ اس ضمن میں بلاذری نے یہ روایت بیان کی ہے جس سے اس سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کردار واضح ہوتا ہے۔
المدائني، عن عبد الله بن جعفر، عن أبي عون: ابو عون کہتے ہیں کہ جب عربوں نے ارتداد اختیار کیا تو عثمان، علی کے پاس گئے اور علی کہنے لگے: “میرے چچا زاد بھائی! کوئی بھی مجھ سے ملنے نہیں آیا۔” عثمان نے کہا: “یہ دشمن (مرتدین) ہیں اور آپ نے بیعت نہیں کی۔” عثمان، علی کے پاس اس وقت تک بیٹھے رہے جب تک کہ وہ ان کے ساتھ چل نہ پڑے اور ابوبکر کے پاس آ نہ گئے۔ ابوبکر انہیں دیکھ کر کھڑے ہوئے اور ان سے گلے ملے۔ اس کے بعد یہ دونوں حضرا ت روئے اور علی نے ابوبکر کی بیعت کر لی۔ لوگ اب جنگ کے لیے تیار ہو گئے اور لشکر روانہ کیے گئے۔ ( بلاذری۔ 2/570)
تیسرے گروپ کی روایات
جبراً بیعت لی جانے والی روایات روایات بالعموم اہل تشیع کی کتب میں آئی ہیں۔ ان کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے انکار کر دیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور دروازہ جلا دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آگے آئیں تو انہیں گرا دیا جس سے ان کا حمل ضائع ہو گیا اور ان کی پسلی ٹوٹ گئی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مجبور کر کے ان سے زبردستی بیعت لی۔ جبری بیعت والی روایات زیادہ تر ابو مخنف لوط بن یحیی (d. 157/774) سے مروی ہیں جن کا صحابہ کرام کے بارے میں تعصب مشہور ہے اور صحابہ کی کردار کشی سے متعلق جتنی روایات ہمیں ملتی ہیں، ان کا زیادہ تر حصہ انہی سے منقول ہے۔ ابو مخنف سے ہٹ کر صرف ایک روایت ایسی ملتی ہے جو بلاذری نے نقل کی ہے:
المدائني، عن مسلمة بن محارب، عن سليمان التيمي، وعن ابن عون: ابوبکر نے علی کو پیغام بھیجا کہ وہ آ کر بیعت کریں۔ انہوں نے بیعت نہ کی۔ عمر ان کے گھر آئے اور ان کے ہاتھ میں ایک مشعل تھی۔ فاطمہ گھر کے دروازے پر آئیں اور کہنے لگیں: “ابن خطاب! کیا آپ میرے گھر کا دروازہ جلا دیں گے؟” انہوں نے کہا: “ہاں۔ یہ اس سے زیادہ مضبوط طریقہ ہے جو آپ کے والد لے کر آئے تھے۔” اتنے میں علی آ گئے اور انہوں نے بیعت کر لی اور کہا: “میرا تو ارادہ صرف یہ تھا کہ میں اس وقت تک گھر سے نہ نکلوں جب تک کہ قرآن جمع نہ کر لوں۔( ایضاً ۔ 2/268)
اس روایت میں سند میں دو مسائل ہیں:
• مسلمہ بن محارب کے حالات نامعلوم ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کس درجے کے قابل اعتماد راوی ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمہ بن محارب کو مشہور ماہر جرح و تعدیل، ابن حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ یہ ابن حبان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن ان کے علاوہ کسی اور ماہر جرح و تعدیل نے مسلمہ بن محارب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ زیادہ معروف راوی نہیں تھے، جس کی وجہ سے ماہرین کو ان کے حالات کا زیادہ علم نہیں ہو سکا ہے۔
یہ روایت ابن عون بیان کر رہے ہیں جو کہ (d. 151/768) میں فوت ہوئے۔( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلاء۔ شخصیت نمبر 3328۔ ص 2451۔ )
اگر ابن عون کی عمر کو سو سال بھی مان لیا جائے، تب بھی وہ اس واقعے کے عینی شاہد نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ابن عون نے یہ واقعہ کس سے سنا اور جس سے سنا، وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا؟
اس ایک روایت کے علاوہ کسی اور ذریعے سے یہ روایات نہیں ملتی ہیں۔ جس شخص نے بھی جبری بیعت کی یہ روایت گھڑی ہے، اس نے نہ صرف حضرات ابوبکر و عمر بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہم کی شہرت کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسی باتوں کو آپ سے منسوب کیا ہے جو آپ کے شایان شان نہیں ہیں۔ حضرت علی کی شجاعت ضرب المثل ہے۔ کیا ایسا ممکن تھا کہ کوئی آ کر آپ کے گھر پر حملہ کرے اور خاتون جنت کے ساتھ گستاخی کرے اور حضرت علی اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں اور پھر سر جھکا کر بیعت بھی کر لیں؟ ہمارے دور کا کوئی غیرت مند شوہر ایسا برداشت نہ کرے گا، کجا سیدنا علی شیر خدا جیسے عظیم بہادر کے بارے میں یہ تصور کیا جائے؟ روایت کے الفاظ پر غور کیجیے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ کسی طرح بھی آپ کے شایان شان نہیں ہے۔
اب یہ ہر شخص کے اپنے ضمیر پر ہے۔ چاہے تو ان منقطع اور جھوٹی روایتوں کو مانے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بدگمان رہے اور چاہے تو ان روایتوں کے جھوٹ کو جھوٹ مانے اور صحابہ کرام سے متعلق اپنا دل صاف رکھے۔ پہلی صورت میں پھر اسے یہ بھی ماننا ہو گا کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ناکام رہی اور آپ پر جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے آپ کی وفات کے فوراً بعد آنکھیں پھیر لیں اور آپ کے خاندان پر ظلم و ستم ہوتا دیکھتے رہے۔ جو شخص یہ سوچنا چاہے، سوچے لیکن پھر اسے پھر ان ہزاروں روایات کی توجیہ بھی پیش کرنا ہو گی جن میں اصحاب رسول اور اہل بیت کی باہمی محبت اور تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ محبت والی روایتیں ، بغض والی روایتوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ کوئی غیر متعصب غیر مسلم مورخ بھی انہیں نظر انداز کر کے صرف بغض والی روایتوں کو قبول نہیں کر سکتا ہے۔ ان میں سے متعدد روایات ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ ایک اور روایت پیش خدمت ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عْن أَبِيهِ أَسْلَمَ: اسلم عدوی روایت کرتے ہیں: “جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو علی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پا س آئے اور ان سے مشورہ کرنے لگے۔ اس بات کا علم جب عمر رضی اللہ عنہ کو ہوا تو وہ سیدہ کے گھر آئے اور کہنے لگے: “اے رسول اللہ کی بیٹی! ہمارے نزدیک تمام مخلوق میں آپ کے والد سے بڑھ کر کوئی محبت و عقیدت کے لائق نہیں ہے اور آپ کے والد کے بعد کوئی آپ سے بڑھ کر عقیدت کے لائق نہیں ہے۔ ” یہ کہہ کر انہوں نے سیدہ سے گفتگو کی۔ سیدہ نے علی اور زبیر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: “آپ دونوں پلٹ کر ہدایت پا لیجیے۔” یہ دونوں واپس پلٹے اور جا کر (ابوبکر کی) بیعت کر لی۔ ( ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ جلد 21۔ حدیث 38200۔ http://www.almeshkat.net (ac. 23 Feb 2008) )
درایت کے اعتبار سے بھی حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہما پر یہ الزام غلط ہے۔ بے شمار روایات سے معلوم ہے کہ پہلے تینوں خلفاء راشدین کے دور میں حضرت علی ان کے ساتھ رہے، ان کے ساتھ امور سلطنت میں ہاتھ بٹایا اور ان کے ساتھ خیر خواہی کا رویہ اختیار کیا۔ حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اسماء بنت عمیس سے حضرت علی نے شادی کی۔ حضرت ابوبکر کے ان سے ایک بیٹے تھے جن کا نام محمد بن ابی بکر تھا۔ ان کی پرورش حضرت علی نے اپنے بیٹوں کی طرح کی۔ اگر آپ پر جبر و تشدد کر کے بیعت لی گئی ہوتی تو کیا آپ یہ سب کچھ کر سکتے تھے؟ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے بطور تقیہ ایسا کیا تو یہ معاذ اللہ حضرت علی پر ایک تہمت ہو گی کہ آپ دل سے جس بات پر قائل نہیں تھے، اس کے لیے آپ نے پوری جانفشانی سے جدوجہد کی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب یروشلم کی فتح کے لیے خود شام گئے تو اپنے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کو قائم مقام خلیفہ بنا کر گئے جو کہ ان پر اندھے اعتماد کی علامت ہے۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ چاہتے تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اقتدار پر قبضہ کر سکتے تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ نہج البلاغہ کی روایت کے مطابق جب حضرت عمر ایران کو فتح کرنے کے لیے خود جانا چاہتے تھے تو حضرت علی نے خود انہیں روکا۔ حضرت علی نے اپنے بیٹوں کے نام ابو بکر ، عمر اور عثمان رکھے،( مصعب الزبیری (156-236/773-851)۔ نسب قریش۔ باب ولد علی بن ابی طالب۔ 42, 43۔ http://www.waqfeya.com (ac. 14 Aug 2012))۔ جو ان تینوں خلفاء سے ان کی محبت کی علامت ہے اور ان میں سے دو بیٹے ابوبکر اور عثمان سانحہ کربلا میں شہید ہوئے۔( ابن حزم۔ جمہرۃ الانساب۔ 38۔ قاہرہ: دار المعارف)۔ اگر حضرت علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر جبر و تشدد کیا گیا ہوتا تو کیا اس کا امکان تھا کہ آپ پہلے خلفاء کے ساتھ اتنے خلوص اور محبت سے پیش آتے؟
۲۔حضرات ابوبکر و عمر کے دورمیں حضرت علی کا کردار کیا تھا؟
حضرت علی، حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے دور میں مرکزی کابینہ کے رکن تھے۔ اس کابینہ میں ان کے علاوہ حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ، زبیر، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔( ابن سعد۔ 2/302۔ باب اہل العلم و الفتوی من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ )۔ تمام معاملات مشورے سے طے کیے جاتے تھے جس میں حضرت علی پوری دیانتداری سے شریک ہوتے اور ان کے مشورے کو بے پناہ اہمیت دی جاتی۔ یہاں ہم چند مثالیں پیش کر رہے ہیں:
1۔ مرتدین کے خلاف جنگ کے لیے صدیق اکبر بذات خود نکلے تو حضرت علی رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ کہہ کر روکا: ’’اے خلیفہ رسول اللہ! آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ اب میں آپ کو وہی بات کہوں گا جو احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فرمائی تھی۔ اپنی تلوار نیام میں رکھیے اور اپنی ذات کے متعلق ہمیں پریشانی میں مبتلا نہ کیجیے۔ اللہ کی قسم! اگر آپ کے ذات کے سبب ہمیں کوئی مصیبت پہنچی تو آپ کے بعد اسلام کا یہ نظام درست نہ رہ سکے گا۔‘‘( ابن کثیر ۔ 11H/9/446۔ بحوالہ دار قطنی۔ ابن عساکر 30/316۔ بیروت: دار الفکر۔ )
2۔ غزوہ روم کے موقع پر حضرت علی مشورہ میں شریک ہوئے اور بہترین رائے دی جسے حضرت ابوبکر نے پسند کیا۔
3۔ مرتدین کی جانب سے مدینہ پر حملے کا خظرہ ہوا تو حضرت ابوبکر نے مدینہ آنے والے راستوں پر لشکر مقرر کیے جن کے سربراہ حضرت علی، زبیر، طلحہ اور عبداللہ بن مسعود تھے۔ رضی اللہ عنہم۔( طبری۔ 11H/2/2-54)
4۔ حضرت علی، عہد فاروقی میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔( ابن سعد۔ 2/93۔ باب علی بن ابی طالب۔ ابن کثیر۔ 13H/9/602۔ )
6۔ حضرت عمرنے ارادہ کیا کہ ایران کی جنگوں میں وہ خود قیادت کریں۔ حضرت علی نے انہیں منع کیا اور کہا: ’’ ملک میں نگران کی منزل مہروں کے اجتماع [تسبیح] میں دھاگے کی ہوتی ہے کہ وہی سب کو جمع کیے رہتا ہے اور وہ اگر ٹوٹ جائے تو سارا سلسلہ بکھر جاتا ہے اور پھر کبھی جمع نہیں ہو سکتا ہے۔ آج عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی بنا پر کثیر ہیں اور اپنے اتحاد و اتفاق کی بنا پر غالب آنے والے ہیں۔ لہذا آپ مرکز میں رہیں اور اس چکی کو انہی کے ذریعہ گردش دیں اور جنگ کی آگ کا مقابلہ انہی کو کرنے دیں۔ آپ زحمت نہ کریں کہ اگر آپ نے اس سرزمین کو چھوڑ دیا تو عرب چاروں طرف سے ٹوٹ پڑیں گے اورسب اس طرح شریک جنگ ہو جائیں گے کہ جن محفوظ مقامات کو آپ چھوڑ کر گئے ہیں ، ان کا مسئلہ جنگ سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔ان عجمیوں نے اگر آپ کو میدان جنگ میں دیکھ لیا تو کہیں گے کہ عربیت کی جان یہی ہے۔ اس جڑ کو کاٹ دیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راحت مل جائے گی اور اس طرح ان کے حملے شدید تر ہو جائیں گے اور وہ آپ میں زیادہ ہی طمع کریں گے۔۔‘‘( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خطبہ نمبر 146۔ طبری۔ 21H/3/1-139)
7۔ حضرت عمر نے دو مرتبہ شام کا سفر کیا تو دونوں مرتبہ قائم مقام خلیفہ حضرت علی کو بنا کر گئے۔ ( ابن کثیر۔ 9/656۔ طبری۔ 17H/3/1-75)
کتب حدیث و آثار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بے شما رمواقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق فیصلہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے پہلے دونوں خلفاء کے دور میں پوری طرح ان کا ساتھ دیا اور حکومتی معاملات میں شریک رہے۔ اگلے باب میں ہم بیان کریں گے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں تو آپ نائب خلیفہ تھے۔
۳۔حضرت علی اورصحابہ کرام کی موجودگی میں باغیوں نے حضرت عثمان کو شہید کیسے کر دیا؟
تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علی، طلحہ، زبیر، سعداور دیگر بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں حضرت عثمان کو باغیوں نے شہید کیسے کر دیا؟
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پالیسی کہ مہاجرین کو مدینہ سے منتقل نہ ہونے دیا جائے، میں تبدیلی کے باعث مہاجرین و انصار کی ایک بڑی تعداد دوسرے شہروں میں منتقل ہو چکی تھی۔ باغیوں نے حملے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا، جب مسلمانوں کی کثیر تعداد حج کے لیے روانہ ہو چکی تھی۔ ان باغیوں کی تعداد اگرچہ دو یا تین ہزار سے زائد نہ تھی لیکن ان کے مقابلے پر مدینہ میں بھی سات سو کے قریب افراد موجود تھے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرام تو اپنے سے کئی گنا بڑی فوج سے ٹکرا جایا کرتے تھے، اس وقت ان سات سو افراد نے مقابلہ کیوں نہ کیا؟ اس کی سب سے بڑی وجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حلم تھا۔ آپ کسی کو یہ اجازت دینے کو تیار نہ تھے کہ آپ کی جان بچانے کے لیے باغیوں پر حملے میں پہل کی جائے۔ حضرت علی، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم نے بارہا آپ سے مقابلے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ان حضرات نے اپنے جواں سال بیٹوں حضرت حسن، حسین، محمد بن طلحہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو آپ کے گھر پر پہرے پر مقرر کیا لیکن حضرت عثمان نے انہیں خدا کے واسطے دے دے کر لڑائی نہ کرنے پر مجبور کیا۔ اہل مدینہ آپ کے پاس اکٹھے ہو کر گئے کہ آپ باغیوں کا مقابلہ کرنے کی اجازت دیں لیکن آپ نے قسمیں دے کر انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ ( ایضاً ۔ 3/1-440)
یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات آپ کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ پھر جب حملہ آوروں نے آپ کے گھر پر حملہ کیا، تو حضرت حسن ، عبداللہ بن زبیر، محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہم دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ایک موقع پر انہی حضرات نے باغیوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور اس میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ زخمی بھی ہوئے۔ اس کے بعد قاتلین دیوار پھاند کر آئے اور آپ کو شہید کر دیا۔ جب تک ان حضرات کو خبر ہوتی، قاتل اپنا کام کر کے جا چکے تھے۔
تاریخ کے طالب علموں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عثمان نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب ہابیل اور قابیل کے قصے میں ہے۔ جیسے قابیل نے جب ہابیل کو قتل کی دھمکی دی تو انہوں نے یہ کہا تھا : لَئِنْ بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِي إِلَيْكَ لأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. “تم اگر مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاؤ گے تو میں تمہیں قتل کرنے کے لیے (پہلے) اپنا ہاتھ نہ اٹھاؤں گا کیونکہ میں اللہ، رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔”( المائدہ 5:28)۔ یہی ہابیلی مزاج حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا تھا۔ آپ ہرگز اس بات کو درست نہ سمجھتے تھے کہ اپنی جان بچانے کے لیے کسی ایک مسلمان کا خون بہائیں ورنہ اہل مدینہ تو اپنے خون کا آخری قطرہ بھی آپ کے لیے بہانے کو تیار تھے۔ بالکل یہی مزاج حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پایا تھا اور وہ اپنے رشتے کے تایا اور خالو (حضرت عثمان) کے اس طرز عمل سے بہت متاثر تھے۔
حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ نے حضرت عثمان کے دفاع میں کیا اقدامات کیے؟
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چلیے، جنگ نہ سہی لیکن حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع میں کیا اقدامات کیے؟ تاریخی روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے لیے جنگ کے علاوہ اور جو کچھ بھی ممکن تھا، وہ کر گزرے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
1۔ باغیوں کا ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ حضرت علی، طلحہ یا زبیر رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کو خلافت کا لالچ دےکر ساتھ ملا لیا جائے اور ان کی مدد سے حضرت عثمان کو معزول کر دیا جائے۔ اس طرح جو الزام ہے، وہ ان صحابہ پر آئے اور ان کا مقصد پورا ہو جائے۔ چنانچہ جب انہوں نے مدینہ سے باہر ذو المروہ، ذو خشب اور اعوص نامی مقامات پر پڑاؤ ڈالا تو ان بزرگوں کے پاس پہنچ کر یہی منصوبہ پیش کیا۔ اہل مصر حضرت علی، اہل بصرہ حضرت طلحہ اور اہل کوفہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ وہ ان حضرات کو خلیفہ بنانے پر تیار ہیں۔ حضرت علی نے جب ان کی تجویز سنی تو آپ ان پر چلائے اور انہیں لعنت ملامت کرتے ہوئے فرمایا: “نیک لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ذو المروہ اور ذو خشب کے لشکر پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ تم واپس جاؤ، اللہ تمہاری صحبت سے مجھے بچائے۔” اہل بصرہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہی بات رکھی تو انہوں نے فرمایا: “اہل ایمان کو یہ بات معلوم ہے کہ ذو المروہ، ذو خشب اور اعوص کی فوجوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔” حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی جواب دیا۔( طبری۔ 3/399)
2۔ حضرت علی نے اپنے بیٹوں حسن اور حسین، حضرت طلحہ نے اپنے بیٹوں محمد اور موسی اور حضرت زبیر نے اپنے بیٹے عبداللہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی حفاظت کے لیے بھیجا۔ یہ وہ وقت تھا جب باغی مدینہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور کسی بھی وقت خلیفہ وقت کو شہید کر سکتے تھے۔ اس طرح ان جلیل القدر صحابہ نے اپنے جوان بیٹوں کو ایک نہایت ہی پرخطر کام پر لگا دیا۔ ان تمام نوجوان صحابہ کی عمر اس وقت تیس سال کے قریب ہو گی۔( ایضاً ۔ 3/399)۔ جب حضرت علی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کی اطلاع ملی تو وہ دوڑے آئے اور اپنے بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو مارا اور عبداللہ بن زبیر اور محمد بن طلحہ کو برا بھلا کہا اور فرمایا کہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ سانحہ کیسے پیش آ گیا۔( بلاذری۔ 6/186)
3۔ چونکہ مصری باغیوں کی اکثریت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دار تھی، اس وجہ سے آپ بار بار ان کے پاس گئے اور جا کر یہ کوشش کی کہ ان میں پھوٹ پڑ جائے اور یہ واپس چلے جائیں۔ ایک موقع پر آپ مہاجرین و انصار کے پورے وفد کو لے گئے۔ مہاجرین کی جانب سے حضرت علی اور انصار کی طرف سے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہما نے ایسی گفتگو کی کہ باغیوں میں جو لوگ محض پراپیگنڈا کا شکار ہو کر چلے آئے تھے، واپس جانے پر رضا مند ہو گئے۔
4۔ متعدد صحابہ و تابعین جن میں سعید بن عاص، ابوہریرہ، عبداللہ بن سلا م اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم شامل تھے، نے باغیوں کو سمجھانے بجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ امہات المومنین نے بھی خلیفہ مظلوم کا ساتھ دیا جن میں سیدہ عائشہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نمایاں تھیں۔ سیدہ عائشہ نے اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ سیدہ ام حبیبہ ، خلیفہ شہید کو پانی پہنچاتے ہوئے خود شہید ہوتے ہوتے بچیں۔
۴۔حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے باہمی تعلقات
باغی راویوں کی پوری کوشش رہی ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو معاذ اللہ ایک دوسرے کا دشمن ثابت کیا جائے۔ کبھی وہ ان کی زبان سے ایک دوسرے پر لعنت کہلواتے ہیں، کبھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہلواتے ہیں اور ان کے اسلام میں شک کرواتے ہیں۔ درحقیقت یہ ان کے اپنے جذبات ہیں جنہیں وہ زبردستی حضرت علی یا معاویہ رضی اللہ عنہما کی زبان سے کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی تمام روایات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی سند میں کوئی نہ کوئی جھوٹا راوی جیسے ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر یا واقدی ضرور موجود ہو گا۔ یہاں ہم چند روایات اور کچھ نکات پیش کر رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کی ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے تھی؟
1۔ حضرت علی کے بھائی عقیل اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان ، حضرت علی کے قریبی ساتھی تھے اور آپ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ ایک بار عقیل، معاویہ کے پاس بیٹھے تھے تو معاویہ نے جی کھول کر علی کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا: ’’اے ابو یزید(عقیل)! میں علی بن ابی طالب کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں۔ علی قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں۔علی میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں۔‘‘ عقیل نے یہ سن کر کہا: ’’امیر المومنین! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی۔‘‘( ابن عساکر۔ 42/416)
2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے بعد جو خط شہروں میں بھیجا، اس میں فرمایا: ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم میں اور اہل شام میں مقابلہ ہوا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اس معاملے میں نہ وہ ہم سے زیادہ تھے اور نہ ہم ان سے۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ ( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58)
3۔ ایک شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی دینی سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس بارے میں علی بن ابی طالب سے پوچھ لیجیے، وہ مجھ سے زیادہ بڑے عالم ہیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’امیر المومنین! آپ کی رائے، میرے نزدیک علی کی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’آپ نے تو بہت ہی بری بات کی اور آپ کی رائے بہت ہی قابل مذمت ہے۔ کیا آپ ان صاحب (علی) کی رائے کو ناپسند کر رہے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم سے عزت بخشی ہے؟ آپ نے انہیں فرمایا تھا:’علی! آپ میرے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ موسی کے نزدیک ہارون (علیہما الصلوۃ والسلام) کی تھی۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘ ‘‘( ابن عساکر۔ 42/170)
4۔ خوارج نے حضرت علی ، معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں شہید کرنے کا منصوبہ بنایا۔ حضرت معاویہ نے اپنے حملہ آور کو پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا: “میرے پاس ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ خوش ہو جائیں گے۔ اگر میں آپ سے وہ بیان کر دوں تو آپ کو بہت نفع پہنچے گا۔ ” آپ نے فرمایا: “بیان کرو۔” کہنے لگا: “آج میرے بھائی نے علی کو قتل کر دیا ہو گا۔” آپ نے فرمایا: “کاش! تمہارا بھائی ان پر قابو نہ پا سکے۔”( طبری۔ 3/2-357)
5۔ جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “لوگو! آپ لوگ معاویہ کی گورنری کو ناپسند مت کریں۔ اگر آپ نے انہیں کھو دیا تو آپ دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جیسے حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے۔‘‘( ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ 14/38850)
6۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی تو علی اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا۔‘‘( ابن عساکر۔ 59/139)
ان تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں ذاتی نوعیت کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ دونوں میں صرف اسٹریٹجی پر اختلاف تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ باغیوں کی قوت کو اچھی طرح کچل دیا جائے جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ اگر ان باغیوں سے اس وقت انتقام لیا گیا تو ان کے قبائل اٹھ کھڑے ہوں گے جس سے بہت بڑی خانہ جنگی پیدا ہو گی۔ باغی چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکومتی معاملات پر قبضہ کیے بیٹھے تھے، اس وجہ سے انہوں نے پوری کوشش کی کہ شام پر حملہ کر کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قوت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس کی وجہ سے جنگ صفین ہوئی جسے مخلص مسلمانوں نے بند کروا دیا۔ اس طرح سے باغیوں کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

 

 

 

 

 

تحریرو تحقیق : محمد مبشر نذیر

بشکریہ پروفیسر محمد عقیل

جی نیوز سال 2012میں

The WordPress.com stats helper monkeys prepared a 2012 annual report for this blog.

Here’s an excerpt:

600 people

reached the top of Mt. Everest in 2012.

This blog got about 3,300 views in 2012. If every person who reached the top of Mt. Everest viewed this blog, it would have taken 6 years to get that many

یاشیخ۔۔۔۔۔؟؟؟

پاکستان پر غیر ملکی یلغار کے نئے سپہ سالار شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری نئے ایجنڈے اور نئے حلیہ میں سامنے آئے ہیں۔ لمبا چوغہ اور مصری علماء کی طرز کی ٹوپی اب ان کے لباس کا حصہ ہے۔ ویسے اسی قبیل کی ٹوپی ویٹی کن میں اعلی مناسب پر تعینات پادری بھی اوڑھتے ہیں۔ حضرت چونکہ کئی سالوں سے اپنے آپ کو وسیع المشرب ثابت کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا ہو سکتا ہے اس خصوصی طور پر ڈایزئن کردہ ٹوپی کے ذریعے ایک ہی تیر سے جامعہ الازہر اور ویٹی کن کا شکار مقصود ومطلوب ہو۔
علامہ طاہر القادری کی شخصیت اس قدر ہمہ جہت ہے کہ قدم قدم پر ان کی ذات بابرکات سے وابستہ واقعات بکھرے ہیں۔ ان کی پی ٹی وی پر مذہبی تقاریر سے وابستہ ایک واقعہ سن لیں پھر آگے چلیں گے ۔80 کی دہائی میں علامہ صاحب سرکاری ٹی وی کی سکرین پر جلوہ گر ہوئے، کیسے؟ یہ تومعلوم نہیں، لیکن پہلا پروگرام ریکارڈ ہوا۔ حضرت گرامی قدر نے پروڈیوسر سے آن ائر ہونے کا وقت پوچھا۔ پروڈیوسر نے دن وقت اور ریپٹ سلاٹ کا بتا دیا۔ مقررہ وقت پر کوئی ایسا واقعہ ہوا کہ علامہ طاہرالقادری کا پروگرام روک کر کوئی اور آئیٹم چلانی پڑی، لیکن اگلی صبح ایک حیران کن واقعہ ہوا پی ٹی وی کے استقبالیہ عملہ نے متعلقہ پروڈیوسر کو بتایا کہ ڈاک وصول کرنے والے شعبہ میں پروگرام کے حوالے سے توصیفی خطوط کا انبار پڑا ہے۔ ان خطوط کو ٹھکانے لگانے کیلئے متعلقہ عملہ کو خاصا تر دد کرنا پڑا۔ ’نئی بات‘ کے کسی باخبر رپورٹر نے علامہ طاہرالقادری کے ایک مربی سعید کا ذکر کیا ہے، یہ بھی لکھا ہے کہ کیسے علامہ طاہرالقادری سارے کام چھوڑ چھاڑ کنونشن سنٹر سے ملحقہ ایک سڑک پر تادیر کالے شیشوں والی گاڑی کے منتظررہے۔ بے خبرعلامہ صاحب کو ہرگزمعلوم نہ تھا کہ ان سے چندگزدور درختوں کے پیچھے چھپے دوستم ظریف صحافی ان کی بیقراری سے لطف اندوز ہور ہے ہیں۔ تفریح کے متلاشی صحافیوں کا دل بھرا تو ملاقات کی منسوخی کا فون آیا۔ کوئی ان ستم ظریفوں کا نام بوجھ لے تو کھانا میری طرف سے ۔
اپنے تقویٰ، علم وفضل کی بنیاد پر شیخ الاسلام سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اور صرف اس بھٹکی ہوئی قوم کی راہنمائی کیلئے اس فانی دنیا میں تشریف لائے ہیں۔یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے، لیکن یہ بات ووٹروں کے ریوڑ کو کون سمجھائے، بارہ اکتوبر 1999ء کو بھگوڑے کمانڈو پرویز مشرف نے آئین سے بغاوت کی تو آئین کے غیرملکی محافظ علامہ طاہرالقادری اس آئین شکنی کا حصہ بننے والے پہلے پاکستانی (تب)تھے، اسی شام لاہور پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس ختم ہوئی، ابھی رخصتی کی تیاری تھی کہ علامہ طاہرالقادری کی ویسٹ کوٹ کی جیب میں سویا سیل فون جاگ اٹھا، مارشل لاء لگتے ہی سیلولر کمپنیوں کا منہ بند کر دیا گیا تھا، لیکن یہ تو علامہ صاحب تھے، ان کا خون جاگ پڑا۔ علامہ صاحب نے ہجوم سے قدرے دور جاکر فون سنا، آواز دھیمی رکھی، لیکن کوشش کی کہ لفظ ’’جنرل‘‘ صاحب سب لوگ سن لیں، فون ختم ہوا تو حاضرین سے معذرت چاہی اور بتایا کہ جنرل مشرف لائن پر تھے، کسی ضروری مشورہ کے طالب تھے ، لیکن یہ لاہور کا پریس کلب تھا، حاضرین لاہور کے خود سر اور بے باک صحافی تھے ، پوچھا یہ کون سی سروس ہے، ہمارے سیل فون تو بند ہیں۔ یہ خصوصی انتظام تھا، جواب ملا۔ بس پھر اللہ دے اور بندہ لے، آخر کار علامہ صاحب کو موقع سے کھسکنا پڑا۔
پرویز مشرف نے ریفرنڈم کا اعلان کیا تو علامہ صاحب کو بھی وزارت عظمیٰ کا جھانسہ دیا، علامہ صاحب نے جواب میں پاکستان عوامی تحریک ان کی جھولی میں ڈال دی ، اب علامہ صاحب اپنے آپ کوسچ مچ کا وزیراعظم سمجھنے لگے ۔ 2002ء کے الیکشن میں تین سیٹوں جھنگ، گوجر خان اور لاہور سے الیکشن لڑا۔ جھنگ اور گوجر خان سے بری طرح ہارے، البتہ گوجر خان میں علامہ صاحب کی یورپ سے آئی رضاکار مریدنیوں کے بدیشی جلووں کے طفیل خاصی رنگینی رہی، لاہور سے علامہ صاحب نصیر بھٹہ اور علیم خان کو شکست دینے میں الیکشن کی اگلی صبح کامیاب رہے۔ منتخب ہوتے ہی بیک وقت کنگز پارٹی اور اپوزیشن دونوں ڈیروں کے درمیان گھمن گیر ی بن گئے، وزارت عظمیٰ تو نہ ملی البتہ اپنا ووٹ ظفراللہ جمالی کی جھولی میں ڈال دیا۔ اس دوران موصوف ملکی و غٖیر ملکی حلقوں کو یہ باور کراتے رہے کہ میری انگلش بہت اچھی ہے، وزیر خارجہ کیلئے یہ سب سے بڑی کوالٹی ہے، لیکن یہ آرزو بھی ناتمام رہی، اس دوران مولانا اعظم طارق کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، ان کی سیٹ خالی ہوئی ، موروثی سیاست کے دشمن علامہ صاحب نے اپنے بڑے صاحبزادے کو الیکشن کی آگ میں جھونک دیا، نو عمر صاحبزادے نے شیخ وقاص اکرم کے ہاتھوں شکست کھائی، نہایت مایوس ہوئے۔ لیکن ابھی وزارت مذہبی امور کی شکل میں امید کی ایک کرن باقی تھی ، پارلیمنٹ لاجز کے فٹ پاتھ پر ایک سہانی شام چہل قدمی کرتے ہوئے علامہ طاہر القادی نے اس خاکسار سے کہا کہ وزارت مذہبی امور مل جائے تو اتحاد بین المسلمین کی دیرینہ آرزو پوری ہو سکتی ہے لیکن یہا ں ایم ایم اے کے دیوبندی علماء آڑے آئے اوریوں اتحاد بین المسلمین کا تاریخی موقع بھی ضائع ہو گیا ، 2004میں جس دن اعجازالحق نے وزارت مذہبی امور کا حلف اٹھایا ،اس سے اگلے دن حضرت علامہ نے سیاست کا بھاری پتھرجوان کے بوسوں سے سفیدی مائل ہوگیا تھا کو الوداعی بوسہ دیا۔ اپنی شوری سے معافی مانگی۔ طاغوت کے لائے سامراجی نظام جمہوریت پر تین حرف بھیجے اور عازم یورپ ہوئے۔ ایسے نظام میں سیاست بے معنی۔ جہاں بندوں کو تولنے کی بجائے گنا جائے، ویسے جوگنتی میں بھی کم ہوں اور تول میں بھی ’’ہولے‘‘ نکلیں، ان کا کیا مصرف؟
ناروے، برطانیہ، جرمنی میں تبلیغ اسلام کے بعد آخرکار کینیڈا کے برف زار آخری منزل قرار پائے، برسبیل تذکرہ علامہ طاہرالقادری ان دنوں فرانس میں ’’بین‘‘ہیں۔ کفار سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔علامہ طاہرالقادری تقریباً دو سال قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔اتوار کے روزوہ جعلی ڈگری پر معترض تھے ۔ جعلی ڈگری ہولڈروں کے خوب لتے لیے۔ ان کے ممدوح پرویز مشرف کی ٹیلرمیڈ اسمبلی میں نوے جعلی ڈگری ہولڈر تھے۔ علامہ صاحب نے کبھی ایک لفظ نہ بولا، قومی اسمبلی کا مائیک ان کے ہاتھوں کے لمس کا منتظر رہا۔ لیکن شاید’’ مقصود تھا پردہ تیرا‘‘ اب شیخ الاسلام نئی ٹوپی ، نئے چوغے ، نئی شناخت اور نئی پہچان لیکر لاہور اترے ہیں، ایک غیر ملکی شہری، میری سرزمین پر ریاست بچانے اترا ہے، وطن عزیز کے قبائلی علاقے ازبک، تاجک، یمنی دہشت گردوں سے اٹے پڑے ہیں، یہ دہشت گرد ریاست اور سیاست سمیت ہر چیز کے درپے ہیں۔ نئی ٹوپی، نئے حلیے اور کینیڈا سے وفا کا حلف اٹھا کر ایک سیاسی آبلہ پا میری آپ کی سر زمین پر اترا ہے۔ صرف لاہور کے ایک جلسہ پر، علامہ طاہر القادری کی آمد اور اس سے قبل تشہیری مہم پر 30کروڑ خرچ ہوچکے۔ اب یہ صاحب اسلام آباد کی طرف یلغار کیلئے تیار ہیں۔ ریاستی ادارے اس غیر حملہ آور کو روکیں۔ ایسا ’’داعی‘‘ جو موروثی سیاست کا ناقد ہے، لیکن صاحبزادہ اول حسن محی الدین منہاج القرآن کی سپریم کونسل کا سربراہ، بڑی بہو محترمہ غزالہ حسن محی الدین شعبہ خواتین کی انچارج ، پسر خورد حسین محی الدین وفاقی کونسل کا سربراہ، سنتا جا، شرماتاجا۔ غازئ گفتار کا اقتدار کے سومنات پریہ چوتھا ناکام حملہ ہے، میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری شیخ الاسلام کے صاحبزادگان کیلئے ایک ایک سیٹ کا اعلان کردیں، غازئ گفتار کا لشکرفصیل شہر کو بوسہ دے کر لوٹ جائے گا۔

ایک انقلابی کی کتھا

( میرے بھتیجے)ندیم کو فریال نامی ایک اسماعیلی لڑکی سے عشق بھی ہو گیا تھا۔

ندیم فلمیں دیکھنے اور ناول پڑھنے کا تو ویسے ہی شوقین تھا اِسلیے ا س نے اِس نام نہاد عشق کو دل پر لے لیا تھا۔ ان دونوں باتوں کا خمیازہ اسے باپ کا گھر چھوڑ کربھرنا پڑا تھا۔ اب اس نے چڑیا گھر کے نزدیک گارڈن ٹاؤن میں ایک گھر کرائے پر لے لیا تھا جس میں اُس کے علی پور سے عارضی طور پر آئے ہو ئے دو ایک دوست بھی تھے۔ میں بھی وہیں ٹھہرا تھا۔ دن کو ندیم کے ہمراہ دفتر چلا جا تا تھا ۔ شام تک چوہدری اظہار اپنے نیلام گھر کے چکر سے آجایا کرتا تھا۔ فریال بھی آجاتی تھی اور ہم چاروں کسی ریستوران یا کیفے میں جا بیٹھتے تھے۔ فریال کو سبھی فیری کہتے تھے جس کے بارے میں ریاض کہاکرتا تھا:

فیری ہیرا پھیری
نہ تیری نہ میری
جب فیری یعنی پری اڑ جاتی تھی تو میں اور ندیم جنوں کی طرح شہر میں پیدل گھوما کرتے تھے اور دنیا جہان کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ندیم میری ذہانت سے متاثر تھا، اور میں اس کی فطانت کو سراہا کرتا تھا۔ اگرچہ اُس نے ابتدائی تعلیم لاسال سکول لائل پور میں حاصل کی تھی مگر وہاں سے والد کے حیدرآباد منتقل ہو جانے کے باعث علی پور ہائی سکول میں آکرپڑھنے لگا تھا اور جب وہ سبھی کراچی منتقل ہوئے تو اس کے باپ نے میٹرک پاس بچے کو دھاگہ کاٹنے کی مز دوری پر مل میں بھرتی کروا دیا تھا۔

وہ اپنی لگن اور محنت سے سی کام کر کے فاروق ٹیکسٹائل کے محمدی ہاؤس آئی آئی چندریگر روڈ پہ واقع ہیڈ آفس میں اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر جا پہنچا تھا۔ پھر جب تھوڑا عرصہ گزر جانے کے بعد ان کے بہاری چیف اکاؤنٹنٹ نے اپنا عہدہ چھوڑا تویہ فرائض اس نے سرانجام دینے شروع کر دیے تھے۔ ندیم ادھر ادھر سے بھی کما لیتا تھا اور دفتر میں بھی ہاتھ صاف کرتا تھا، اسلیے ندیم کے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہوتی تھی اور وہ انہیں خرچ کرنے میں بھی دریادلی کا ثبوت دیا کرتا تھا۔

یوں ہماری گذر بسر اچھی ہو جایاکرتی تھی۔ ندیم کے دوست شاید اپنے گھروں کو چلے گئے تھے بہرحال وہ ندیم کے گھر سے غائب تھے۔ کھاناکبھی گھر سے یا کبھی نزدیک کے ایرانی ریستوران میں کھایا جا تاتھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر گھنٹے دو گھنٹے بعد ہم بور ہو جاتے تھے۔ رات کو توویسے بھی چوکڑی جم جاتی تھی۔ تاش کے عام کھیل یا فلاش کھیلی جاتی تھی۔ رنگ کھیلنا میں نے سیکھ لیا تھا لیکن اس سے جلد اکتاجاتا تھااِسلیے ندیم نے مجھے فلاش کھیلنے سے منع کر دیا تھا۔ایک دن بوریت دور کرنے کیلیے ندیم نے تجویز پیش کی کہ چلو ہندوستانی فلم دیکھنے چلتے ہیں۔

تب ویڈیو اتنے عام نہیں ہوئے تھے اس لیے کمروں میں ویڈیو شو ہوتے تھے۔ فلم دیکھنے کی غرض سے ندیم وہیں لے گیا تھا جس علاقے میں ہم دو چار بار گانا سننے اور حجرا دیکھنے کے لیے جا چکے تھے۔ اس روزوہاں اتفاق سے پولیس کا چھاپہ پڑا تھا اِسلییسارے ہی وڈیو والے رفو چکر ہو گئے تھے۔

ہم فلم کی جستجومیں تھے لیکنہمارے پیچھے ایک دلال پڑ گیا تھا جو اپنے ’’ مال ‘‘ کی تعریف میں کسر اٹھا نہیں رکھ رہا تھا۔ہم چائے پینے کی خاطر ایک ریستوران میں گھس گئے تھے مگر اُ سنے وہاں بھی پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ بالآخر ہم نے ہار مان لی تھی اور ندیم مال دیکھنے کے لیے چلا گیاتھا اور متاثر ہو کر آیا تھا۔

جب ہم دونوں نے اپنے پیسے گنے تو وہ طلب کردہ رقم سے کم تھے۔ طَے یہ ہوا کہ ہم دونوں گھر واپس جاتے ہیں ندیم مجھے وہاں چھوڑکر اور پیسے لے کر آئے گا یوں’’ مال‘‘ ہمراہ لیتاجائے گا۔ اس زمانے تک شمعون اور صلاح الدین درانی نے مجھے حشیشی کر دیا تھا،ویسے یہ الزام سرا سر غلط ہے۔ در حقیقت مجھے خمار کی اس دیوی کے گن پتہ چل گئے تھے جو کوچوانوں کے معروف فقرے یا نام نہاد شعر یعنی:

یہ چرس نہیں یہ قہر ہے
سینہ تو جل جاتا ہے
پر آنکھوں میں لہر ہے

سے قطعی مختلف تھے۔ اس کا استعمال حسن کوفزوں تر اور حزن کو فروتر کرتاتھا۔ انسانوں کے ساتھ تعلقات کو خالصتاً انسانی کر دیتا تھا۔ مصوری سنی جا سکتی تھی اور موسیقی دیکھی جا سکتی تھی۔ میں نے حسن کوفزوں تر کرنے کی خاطر ندیم کے آنے سے پہلے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا ۔

جب ندیم’’ مال‘‘ کا ہاتھ پکڑے ہوئے گھر میں داخل ہوا تھا تو میں صحن پر بچھی چارپائی پر دراز تھا۔ وہ واقعی خوبصورت تھی اور شاید جوان بھی۔ اس کا رنگ زرد تھا مگر غیر صحت مند نہیں تھا۔ وہ بکنے والے مال کی طرح غازے اور سرخی سے نہیں لپی ہوئی تھی۔اس کی ہلکی سی سرخی بھی اس کی اپنی ہی لگ رہی تھی ۔ اس کے چہرے پر بلا کا خون تھا جس نے مجھے لمحے بھر میں اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

میں بہت دیر تک اس سے باتیں کرتا رہا تھا۔ اس نے مجھے بتا یاتھا کہ اس کی خدمات کے معاوضے کوچار حصوں میں بانٹا جا تا ہے جس کا ایک حصہ اس کو دیاجا تا ہے اور باقی تین حصے پولیس، کوٹھے دار اور دلال میں تقسیم ہوتے ہیں ۔ اس نے بڑے دکھ سے کہا تھا کہ میر اپتہ لے لیں جب ضرورت ہو تو مجھے اپنے طور پر بلا کر کچھ زیا دہ دے دیاکریں۔استحصال کی اِس غیرانسانی نوعیت کا سن کر میری ذہنی کیفیت اتھل پتھل ہو کر رہ گئی تھی۔ میں اس سے بھلاکیاوعدہ کرتا میں توویسے ہی اِس راہ کا مسافر نہیں تھا اور تسلی بھلاکیسے دے سکتاتھا جب خود اسے خریدنے کے عمل میں حصے دار بن چکا تھا۔ دل بوجھل تھا اور جسم انکاری۔

الٹا اُ س نے میرے دکھ کے ساتھ ہمدردی شروع کر دی تھی اور مجھے اپنے ترحم میں پناہ دی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اِس دکھ، ترحم اور پناہ کے عمل کی کیفیات سے میں بے بہرہ سا رہا تھا۔ چاند چمک رہاتھا۔ دور کی کسی مسجدکے لاؤڈ سپیکر سے موذن کی صدا صلاح اور فلاح کی جانب پکار رہی تھی۔ مال کو مثانہ ہلکا کرنے کی احتیاج تھی مگر وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی۔ جھجکے جھجکتے کہا ’’ مجھے سہارا دے کر باتھ روم لے چلیں‘‘۔

میں نے پوچھے بغیر سہا را دے دیا تھا یوں پتہ چلا کہ اس کی ایک ٹانگ استعمال سے خاصی حد تک عاری تھی۔ اب میری جان نکل گئی تھی، مجھے غصہ آگیاتھا۔اُس پر، اپنے آپ پر،خواہش پر، نفس پر، سماج پر، دلا ل پر،استحصال پر، ہر چیز پر۔ بہتری اسی میں جانی کہ اُسے چلتا کیا جائے اور پھربھولنے کی کوشش کی جائے، باوجود اِس کے کہ مجھے پتہ تھا کہ بھولنے کی کوشش یاد کو کوڑا دکھاتی ہے۔

اِس طرح کا یہ میرا دوسراتجربہ تھا۔پہلا تجربہ ملتان میں دو برس پہلے کاتھا۔ تب تک میں ’’بومن جی ‘‘ کی شراب کی دکان سے بیئر خرید کر پینے کی ہمت کرنے لگا تھا اور اگر کبھی جیب اجازت دے دیتی تو ادھاّ، پوّا بھی لے لیا کرتا تھا۔ میرا ساتویں جماعت سے دوست، غلام نبی اپنے چچا زاد بھائی اور دوست عبدا لعزیز لشاری کے ساتھ ملتان آیا تھا۔ اب غلام نبی 1971میں ایک ٹریفک حادثے میں اپنے بھائی بشیر خان لشاری کی ناگہانی موت کے بعد اس کی بیوہ اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کے سلسلے میں اپنی ایل ایل بی کی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر اپنے دوسرے بھائی غلام قادر عرف لمبھر خان کے ساتھ کارو بار کرنے لگا تھا۔

غلام نبی اور عزیز تفریح کی خاطر آئے تھے۔ میں تفریح کی ایک ہی صنف سے شناسا تھا یعنی دخت رز سے۔ میں نے اِسی کی دعوت دی تھی لیکن غلام نبی کی منطق یہ تھی کہ شراب پینے سے گناہ ہوتا ہے۔ لڑکی لے آتے ہیں۔ اس سے بحث کرنا فضول تھا۔ زمیندار بچے تھے۔ مزارعین کی بیٹیوں اور کپاس چننے والیوں کے ساتھ دھونس ، لالچ ااور دھوکے سے ہر طرح کی دادعیش دینے کے عادی تھے بلکہ عزیز لشاری نے تو یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ ان عورتوں کی بیٹیوں کے ساتھ اس کے جسمانی تعلقات ہیں جن سے اس کے باپ کے جسمانی تعلقات رہے تھے اور یہ کہ ساحر لدھیانوی کا وہ شعر صحیح بھی ہو سکتا ہے کہ نہ جانے ان برباد حال جھونپڑیوں کے باسی اتنی خوبصورت بیٹیوں کو کہاں سے جنم دے لیتے ہیں۔ خون کے ناجائزرشتوں سے ناجائز تعلقات کے شاخسانے اتنے ہی عام ہیں جتنے مذہب کی آڑ میں بے ایمانی، بد دیانتی، زیادتی، زبردستی اور جنسی تشدد کے واقعات۔

میں نے ان کے ہمراہ لڑکی تلاش کرنے کی حامی بھر لی تھی مگر مجھے بس سنی سنائی باتیں ہی پتہ تھیں کیونکہ میرا روم میٹ روشن علی ملک دلوّں اور رنڈیوں کے قصے سنا یاکرتا تھا۔ایک بار میں خود بھی ان کے ساتھ ایسی ایک مہم پہ گیا تھا۔

ضلع کچہری سے ذرا پیچھے ایک محلے کے گھر میں ایک باریش حاجی کے پاس۔جب ہم پہنچے تو وہ نماز پڑھ کرجا نماز تہہ کر رہاتھا۔ روشن اور میاں ذوالفقار کو دیکھ کر کہنے لگا ’’ ابھی بلا تا ہوں‘‘ پھر اُ س نے گلی میں کسے بچے کو آوازدی تھی اور تھوڑی دیر میں چمکدار کپڑوں میں ملبوس چار لڑکیاں آکے قطار میں کھڑی ہو گئی تھیں اور دانت نکال رہی تھیں۔ میں نے چپکے سے ملک سے کہا ’’ اچھی نہیں ہیں‘‘۔یہ بات حاجی نے سن لی تھی اور اس نے ان سب کے سامنے ان کے خفیہ اعضاء کا اتنا کھلے

عام تذکرہ کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اس سے عاری ہیں۔ لفظ بہت عامیانہ استعمال کیاتھا۔ میں اس کا انداز گفتگو سنتے ہی واقعتاًسر پٹ الٹے پاؤں بھاگ کھڑا ہوا تھا اور روشن مجھے آوازیں دیتا رہ گیاتھا ۔پھر جب وہ صبح کو اعضاء شناسی کر کے واپس لوٹا تھا تو اس نے مجھے خوب سنائی تھیں کہ تم بے حد بزدل اور بیکار شخص ہو۔ روشن سے سنے ہوئے مقامات یاد کرکے میں پہلے انہیں گھنٹہ گھر لے گیا تھا۔ وہاں کچھ پسند نہ آیا تو پھر پہلے دکاندار کے کہے پر ڈیرہ اڈا چلے گئے تھے۔

جس ٹوٹے پھوٹے گھر میں رکھا ہوا مال ہمیں دکھانا تھا وہاں بجلی نہیں تھی۔ دلال ماچس کی تیلیاں جلاکر چہروں کے پاس لے جارہا تھا۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میں بغیر دھڑوں کے اُگے ہوئے سر دیکھ رہا ہوں جن کے چہروں پہ لپے غازے سے پیسنے کی لکیریں جھوجھ رہی ہیں اور ان کی آنکھوں میں مرچکی زندگی کی رمق ہے۔ میں نے کہا تھا ’’چلو چلو چلو‘‘۔ اسی قسم کے ایک دو مزید واقعات کے بعد عزیز نے فیصلہ سنایا تھا کہ ڈاکٹر تو یونہی پھراتا رہے گا۔ بس اب جو بھی ہاتھ لگے وہ لے لو۔ میں بھلا کیا کہتا ۔ ایک رکشے والا ہمیں خانیوال اڈے لے گیا تھا ۔

اس نے رکشہ اندھیرے میں کھڑا کردیا تھا پھر اُس نے اتر کر کسی گلی میں جاکر کسی سے بات کی تھی۔ تھوڑی دیر میں رکشے کے پیچھے سے کسی چھوٹے سے بچے کی آواز’’ اماں‘‘ کہنے اور پھر رونے کی صورت میں آئی تھی۔ میں نے جھانک کے دیکھا تو ایک پٹکیباندھے ہوئے شخص ایک کلبلاتے ہوئے بچے کو الٹی سمت میں لے جارہا تھا۔ اتنے میں رکشے کی دوسری طرف سے ایک عورت چھپ سے میرے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی تھی۔ میں لاشعوری طور پر کچھ ادھر کو کھسک گیا تھا۔عورت کے دوسری طرف غلام نبی بیٹھ گیا تھا او ر عزیزلشاری سکڑ کررکشہ چلانے والے کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔

رکشے میں زیرو وولٹ کا ہرا بلب تھا۔ عورت کے نقش مناسب تھے لیکن رنگ کی پہچان نہیں ہورہی تھی۔ عورت کے جسم سے گرمائش کے بھبھکے اٹھ رہے تھے او ر وہ لڑکھڑاتی آواز میں بولتی ہوئی، بے تکلف ہونے کی کوشش میں ادھر اُدھر لڑھک جاتی تھی۔ رکشہ میرے کہنے پر لوہاری دروازے کے پاس الشمس ہوٹل کے قریب آرکا تھا۔

میں کاؤ نٹرپرکمرے بک کروانے لگا او ر یہ تینوں چابیاں لے کر تیسری منزل پرچلے گئے تھے۔ جب میں فارغ ہوکر اوپر گیا تو وہ دونوں ایک کمرے میں بیٹھے تھے۔ باچھیں کھلاتے ہوئے دونوں نے کہا تھا ’’پہلے تم جاؤ‘‘ ۔ میں اِس سب کچھ سے شناسا نہیں تھا۔ ویسے بھی طبعاََ شرمیلا تھا بس و پیش کرتا رہا لیکن انہوں نے مردانگی کے طعنے دے کر مجھے اُس کمرے میں جانے پر مجبور کردیا تھا جہاں ’’وہ ‘‘ بیٹھی تھی۔

جب میں کمرے میں داخل ہوا تو وحشت زدہ ہوگیا تھا۔ کالی سیاہ مریل سی عورت بھنگ کے نشے میں آنکھیں چڑھائے، پلنگ سے ٹانگیں لٹکا کر بیٹھی تھی۔ میں گھبرایا ہوا اس کے پہلو میں اس طرح ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ گیا تھا جیسے بھاگنے کو تیار تھا۔ اس نے میرے جسم کو چھوا تو خوف کی سنسنی سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ اِس احساس میں ہیجان کے کسی پہلو کی آواز گونج رہی تھی۔

اُس نے جب دیکھا کہ میں تو کوئی پیش رفت ہی نہیں کر رہا تھا تو اس نے ملتانی زبان میں مجھے کچھ کرنے کے لیے کہا تھا۔ میں بیساختہ بولا تھا ’’ کیاکروں؟‘‘ بالآخر اُس نے مجھے خود ہی سمجھایا تھا کہ کیا کرنا چاہیے۔ میں ایسا کچھ بھی کرنے کے نہ تو موڈ میں تھا اور نہ ہی حق میں۔ اس نے خود ہی جو کچھ کرنا تھا کیا ، مجھے زبردستی ملوث ہونا پڑا تھا۔ مجھے لگتا تھا مجھے ابکائی آجائے گی اور میر ا معدہ منہ سے باہر آپڑے گا۔ اُس کی انگلیاں مجھے اپنے جسم پر مکٹری کی خوفزدہ کردینے والی ٹانگوں کی طرح سرسراتی محسوس ہورہی تھیں اور اُس کے جسم پر میں نے اپنی چار اانگلیاں صرف اس لیے رکھی تھیں کہ انسان کی تذلیل میرے بس میں نہیں تھی۔ پھر میں نے صابن کی آدھی ٹکیہ اس حصے کو مسلسل دھونے میں صرف کردی تھی۔میں منہ چھپائے ہوئے تیزی سے باہر نکلا تھا۔ اس کی بڑبڑاہٹ پیچھے رہ گئی تھی۔

مجھے دیکھ کرغلام نبی بے شرموں کی طرح قہقہے لگا رہا تھا جیسے میری آبرو لٹنے پر اسے خوشی
ہورہی ہو۔ پھر عزیز گیا تھا مگر جلد لوٹ آیا تھا۔ آخر میں غلام نبی کی باری تھی۔ اس کے جانے کے بعد عزیز نے غیض کھانا شروع کردیا تھا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ پیسے لے کر لڑکی کی جگہ ’’کٹانی‘‘(جمعدارنی) دے دی گئی ہے۔ مجھے اپنے آپ سے اور اُن دونوں سے مزید کراہت ہورہی تھی۔ غلام نبی کو لوٹنے میں بہت دیر ہوگئی تھی۔ ہم نے کرسی پہ چڑھ کردروازے کے شیشے سے جھانکا تو دیکھا تولگاتھاجیسے غلام نبی نے انسان کو مرغ بنایا ہواتھا اور خود جانورمیں تبدیل ہوکرانسان نمامرغ کے مردہ بدن سے دست و گریبان تھا۔ وہ قوم لوط کا سبق دھرارہا تھا۔ میں ہول کھانے لگا تھا۔

جب وہ آیا تو انہوں نے اس بیچاری کو اپنے کمرے میں بلالیا تھا ۔ اس کو عریاں ہونے کا حکم دیاتھا اور پھر اُس کا ٹھٹھہ اڑانے لگ گئے تھے۔ اس سے کنیزوں کا سلوک کررہے تھے۔ میرے لیے یہ سب کچھ ناقابل برداشت تھا۔ میں انسان کی اِس قدر تحقیر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میں نے فیصلہ صادر کیاتھا،’’بی بی کپڑے پہنواور میرے ساتھ چلو‘‘۔ اس بیچاری نے فوراََ کپڑے پہن لیے تھے۔

جب میں اسے لے جانے لگا تو عزیز نے پستول نکال کر مجھ پر تان لیا تھا اور آنکھوں میں خشونت بھرکے کہا تھا ’’ ڈاکٹر تم اس کو نہیں لے جاسکتے ‘‘۔ میں اپنے آپ میں نہیں تھا۔ میں نے کہا تھا’’ روک سکتے ہو تو روک لو۔ گولی مارنی ہے تو ماردو‘‘ اور پھر اُسے سیڑھیوں سے نیچے سڑک پر لا،جتنے پیسے میری جیب میں تھے نکال کر اُس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے میں نے اُسے رخصت کردیا تھا۔ بعد میں میری اور عزیز کی خوب منہ ماری ہوئی تھی لیکن غلام بنی نے بیچ بچاؤ کرادیاتھا۔ یہ تجربہ میرے لیے بے حد دشت انگیز اور تکلیف دہ تھا۔ اس واقعے پر بعدمیں،میں نے ایک افسانہ بھی لکھا تھا جس کا عنوان تھا’’ پھٹا ہوا بینگن‘‘۔

پولیو سے نیم مردہ ٹانگ پر اٹکی ہوئی خوش شکل بکاؤ انسان کو خرید کرپامال کیے جانے کے تجربے کے بعد میرے اندر کچھ مرگیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کو لوگ ہوش و حواس میں رہتے ہوئے مسلسل اِس طرح کے روح فرسا واقعات سے باربار کسطرح نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔

چوہدری اظہار کو نیلام گھر میں شرکت کی خاطر ایک لمبا عرصہ درکار تھا کیونکہ ذہانت کی خود نمائی کرنے والوں کی ایک طویل قطار تھی۔ امتحان کا نتیجہ آگیاتھا۔ ہم کراچی سے ملتان لوٹ گئے تھے اور اگلے روز بِلونے ہم دونوں کو ایپلائمنٹ ایکسچینج سے حاصل کردہ افواج پاکستان میں شمولیت کے پروانے تھمادیے تھے۔ کوئی ملازمت تو بہرحال کرنی ہی تھی لیکن فوج کا زبردستی دیا پروانہ دل کو اتنا نہیں بھایا تھا۔ دراصل بلو کسی کہ ہمراہ ایکسچینج میں گیا تھا، وہاں جب اُس نے یہ پروانے دیکھے تھے تو دوستی میں ہمارے منہ پر مارنے کی خاطر وصول کر لیے تھے۔ سوچا کہ چلو ہاؤس جاب نہ سہی سی ایم ایچ میں ملازمت ہی سہی۔ ان پروانوں کے ہمراہ ملتان سے راولپنڈی تک ریل کے ایئر کنڈیشنڈ ڈبے کی ٹکٹیں بھی تھیں جس پر تاریخ درج تھی۔

 

دانشور، کالم نگار اور براڈکاسٹرڈاکٹر مجاہد مرزاکی خودنوشت سے اقتباس
ڈاکٹر مرزا نے ایک متحرک زندگی گزاری ہے جس میں مطالعے اور مشاہدے کا خاص عمل دخل رہا ہے۔ ہمیں ان کی خود نوشت کے ذریعے ان سیاسی، سماجی و ثقافتی عوامل جاننے کا موقع ملتا ہے جنہوں نے آج کے پاکستان کو جنم دیا ہے۔ ان کی سوانح کے ابتدائی ابواب پڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو آدمی  اپنے ساتھ رعایت برتنے پر تیار نہ ہو اس سے کسی لگی لپٹی کی توقع نہ رکھیئے گا۔

ملک نعیم اعوان کے ایجنسیوں سے تعلقات اور۔۔۔۔۔۔۔۔

 پاکستان تحریک انصاف ضلع خوشاب کے رہنمائ ملک عمر اسلم اعوان کے ماموں اورسابق وفاقی وزیرملک نعیم اعوان جو عرصہ دراز سے علیل ہیں ملکی سیاست میں انکے خفیہ ایجنسیوں تعلقات و کردار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک کتاب سے اقتباس(صفحے کاعکس) جس کی اشاعت کے دو سال بعد اسکے مصنف، بریگڈئیر امتیاز اور میجر عامر کو بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

بہت جلد

COMING SOON

گھڑی ہوئی پارسائی

وہ چیزجسے سب لوگ سوشل میڈیا کہتے ہیں اسے میں کچھ اورکہا کرتا ہوں۔

اس نے ہماری سماجی زندگی میں ایک انقلاب برپا کرکے رکھ دیا ہے اور جتنا انقلاب برپا کیا ہے، اتنا ہی فتور بھی مچا کے رکھ دیا ہے۔ جس طرح ٹی وی چینلز بریکنگ نیوزکے چکر میں ’’کاتا اور لے دوڑی‘‘ کا نمونہ ہیں اسی طرح سوشل میڈیا بھی کچّے پکّے ذہنوں کا کھیل بنا ہوا ہے۔ اس میں جو خبریں، خیالات اورتصاویر شیئر کی جاتی ہیں وہ آگ کی طرح پھیل پہلے جاتی ہیں، ان کی تصدیق یا تردید بعد میں ہوتی ہے۔

’’فوٹو شاپ‘‘ گرافکس کا ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام ہے جس میں تصاویر کی بڑی حیران کن ایڈیٹنگ کی جاسکتی ہے۔ مختلف تصاویر کو ملا کے، جوڑ کے اور ایک دوسرے میں مدغم کرکے اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح عجیب عجیب تخلیقات سامنے آتی ہیں۔ یہ کام تشہیری اور تفریحی مقاصد کے لیے بھی ہوتا ہے، تخریبی مقاصد کے لیے بھی اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے یا انھیں تسکین پہنچانے کے لیے بھی۔

حقیقت میں ان کی بنیاد ہی جھوٹ ہوتی ہے۔ میں کبھی نہیں سمجھ سکا کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں ان کا مشن کیا ہے؟ شاید یہی وجہ ہے کہ جن چیزوں پر سوشل میڈیا کے متوالے زاروقطار فدا ہورہے ہوتے ہیں میری ان پر ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ آئیے! آپ بھی اس کی کچھ دلچسپ مثالیں دیکھیے۔

ایک تصویر میں ایک بہت بڑا پتھر ہے جو مستقلاً زمین سے ایک فٹ اوپر ہوا میں معلق ہے اور تماشائی اِردگرد کھڑے اسے دیکھ رہے ہیں۔ فیس بُک میں اس تصویر کے نیچے لوگ جذباتی تبصرے کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ! دوسرے منظر میں مسجد کے صحن میں پڑا ہوا ایک گنبد ہے جو خود ہی اُڑتا ہوا جاکے مسجد کے ایک مینار کے اوپر نصب ہوجاتا ہے۔ پبلک دیکھ رہی ہے اور چیخ چیخ کر قدرت کو داد دے رہی ہے۔

اسی طرح گزشتہ دنوں گستاخانہ فلم کا بہت ذکر رہا۔ ابھی تک ہورہا ہے بلکہ یوٹیوب بند ہونے کی وجہ سے میرے جیسے آوارہ مزاج تو روز ہی یاد کرتے ہیں۔ جن دنوں اس واہیات اور گھٹیا فلم کی وجہ سے گلیوں میں توڑ پھوڑ اور سینما گھروں میں آگ کا راج تھا ان دنوں ایک تصویر بڑی تیزی سے شیئر کی جارہی تھی، اس میں کوئی بلڈنگ ڈھے گئی تھی اور چاروں طرف لوگ کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔

خداجانے کہاں کی اور کون سے موقع کی تصویر تھی، لیکن اس کے نیچے لکھا تھا ’’امریکا میں ایک سینما ہال میں گستاخانہ فلم ریلیز ہوئی تو اس جگہ زلزلہ آگیا اور سینما ہال گِر گیا۔‘‘ ایسی خبر پوری دنیا کے میڈیا میں نہ سنی نہ دیکھی، لیکن اس کے باوجود لوگ اس ’’معجزے‘‘ پر واہ واہ کر رہے تھے اور بڑی تیزی سے عبرت پکڑ رہے تھے۔ اب اس کے بارے میں کیا عرض کروں۔ مذہب کا کوئی مضبوط ستون ہی بتا سکتا ہے کہ ایسی جعلسازیوں اور جھوٹ سے لوگوں کے اعمال نامے درست ہونے لگیں تو اسے کیا کہیں گے؟

برما کے مسلمانوں پر بے حساب ظلم ہورہا ہے، ہولو کاسٹ کی کوئی حقیقت تھی کہ نہیں لیکن برما میں معاملہ اس سے بھی بدتر ہے۔ سوشل میڈیا کا ایک حصہ اس کے بارے میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کا کام کر رہا ہے۔ اچھا کر رہا ہے لیکن اس مقصد کے لیے قتلِ عام، زندہ جلانے اور خون خرابے کی جو لاتعداد تصاویر جاری کی جارہی ہیں وہ ہرگز تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ بہت سی فوٹوشاپ کا نتیجہ دکھائی دیتی ہیں اور کچھ یوں لگتا ہے کہ جیسے دنیا بھر کے واقعات کو جمع کرکے انھیں برما کے واقعات قرار دے دیا جاتا ہے تاکہ ہر طرح کی ہمدردیاں اکٹھی کی جاسکیں۔ شاید اسی طرح جیسے رمشا مسیح والے واقعے میں اصلی رمشا کی بجائے دنیا بھر کے میڈیا میں ایک زلزلہ زدہ معصوم کشمیری بچی کی تصویر عام کردی گئی تھی۔ ایسی غلط بیانی یہ کرتے ہیں تو اپنا مفاد دیکھ کے ’’وہ‘‘ بھی کر ڈالتے ہیں۔

اٹلی کا خوابناک شہر وینس، اس کے مکانوں کے دَر پانی میں کھلتے ہیں، جہاں کار کی بجائے کشتی بندھی ہوتی ہے، یہ سمندر کا پانی ہے، ظاہر ہے کہ گہرا بھی ہے، اس شہر کی ایک تصویر شایع ہوئی جس کے نیچے سائبر ملّاؤں نے بہت جذباتی نعرے مارے ہوئے تھے۔ لکھا تھا ’’وینس کی مقامی حکومت نے مسلمانوں کو پہلی بار سرِ عام نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس پر جوق دَر جوق اکٹھے ہوگئے اور پانی بھری گلیوں میں نمازی ہی نمازی بھر گئے۔‘‘ تصویر میں ہر طرف لوگ گھٹنوں تک پانی میں ڈوبے ہوئے سجدہ ریز تھے۔ اب جس نے وینس دیکھا ہے یا جو اس کے بارے میں جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ وہاں کی گلیوں میں صرف چھ انچ پانی نہیں ہوتا۔

دوسرا یہ کہ سارے شہر کی گلیاں پانی نہیں ہیں، خشک میدان بھی بہت ہیں اور پھر وہاں یکدم ہزاروں مسلمان کہاں سے نکل کے آگئے؟ پھر بھی یہ تصویر شایع ہوتی چلی جارہی ہے اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ اس کے پیچھے کون ہے؟ سونامی نوجوانوں کی تو یہ لائن نہیں ہے اور طالبان۔۔۔۔۔؟ ان کے بارے میں کیا کہوں۔سید مبارک علی تاریخ کو کھنگالتے ہوئے وینس کے پانیوں میں اُتریں تو شاید کوئی خبر لائیں۔

چاند کی سیر کو جانااب کوئی عجوبہ نہیں رہا۔ نیل آرمسٹرونگ گئے تو ان سے منسوب اذان کی آوازوں کی خبر اُڑائی گئی۔ پھر کچھ عرصہ پہلے چاند کی سیر کو ایک گاڑی روانہ ہوئی تو اس کا ٹکٹ ایک بھارتی گوری ’’سنیتا ولیمز‘‘ نے بھی لے لیا۔ وہ اس یاترا سے لوٹی توسائبر طالبان کی تخلیقی قوتوں نے فوراً انگڑائی لی اور اللہ اکبر کی صداؤں کے ساتھ ایک نیا تحفہ پیش کردیا گیا۔ کہا گیا کہ ’’پہلی بھارت خلاباز سنیتا ولیمز نے چاند سے واپسی پر اسلام قبول کرلیا ہے، اس نے چاند پر پہنچ کر زمین کی طرف دیکھا تو ہر طرف اندھیرا اور صرف دو جگہیں روشن نظر آئیں، مکّہ اور مدینہ۔ چاند پر تمام فریکوئنسی فیل ہورہی تھی لیکن اذان کی آواز آرہی تھی۔‘‘

آغا وقار تو ممکن ہے کسی نہ کسی طرح پانی سے کار چلا کے سائنس کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دے، لیکن سنیتا ولیمز کو چاند پر صرف دو روشن مقامات دکھانا اور خلاء میں کوئی آواز سنادینا یہ کونسی سائنس ہضم کرے گی؟ بچپن میں جب کسی نے مجھے ایک بزرگ کی کہانی سنائی تھی کہ کس طرح وہ ایک روحانی عمل کے ذریعے بیٹھے بیٹھے، اپنے بازو کو دس بارہ فٹ لمبا کرتے تھے اور پانی کا گلاس اُٹھالیا کرتے تھے تو میں ڈر گیا تھا، میں سنیتا ولیمز سے بھی ڈرگیا ہوں۔

 

طارق محمود میاں

بشکریہ ایکسپریس