ہم جنس پرستوں کے لیے الگ مسجد!!!

اردو میں اختلاف رائے کی بنیاد پر الگ تھلگ ہو جانے والے شخص کے لیے ”اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے” کا محاورہ تو نجانے کب سے مستعمل ہے لیکن اس کی عملی تعبیر فرانس میں جلد سامنے آنے والی ہے اور وہاں ہم جنس پرستوں نے اپنے لیے مخصوص مسجد بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔

فرانس میں مقیم الجزائری مسلمان ہم جنس پرست محمد لودوچ لطفی زاہد نے دارالحکومت پیرس کے نواح میں اپنے ایسے نام نہاد مسلمانوں کے لیے اسی ماہ کے آخر میں ایک مسجد کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس کے بہ قول اس مسجد میں پہلے پہل تو نماز جمعہ ادا کی جائے گی اور پھر وہاں ہم جنس پرستوں کی شادیاں کی جائیں گی۔ نام کے زاہد اس الجزائری مسلمان نے ایک افریقی مسلمان سے ‘شادی’ رچا رکھی ہے۔

اس ہم جنس پرست جوڑے کو فرانس کی مسلم کمیونٹی کی شدید مخالفت کا سامنا ہے مگر ان کے انسانی حقوق کا رونا رونے والوں کا کہنا ہے کہ ان سے امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے جبکہ مسلم اور عرب معاشروں میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو از روئے مذہب معیوب سمجھا جاتا ہے اور شریعت میں ہم جنس پرستی کو فعل شنیع قرار دیا گیا ہے اور اس کی بہت کڑی سزا مقرر ہے۔

زاہد نے اسی ہفتے ترک روزنامے حریت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”عام مساجد میں خواتین پچھلی صفوں میں ہوتی ہیں اور وہ سرپوش اوڑھتی ہیں۔ وہاں ہم جنس پرست مردوں کو زبانی اور جسمانی جارحیت کے خطرے کا سامنا ہوتا ہے۔ حج ادا کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہم جنس پرست مسلمانوں کے لیے الگ ایک مسجد ہونی چاہیے جہاں وہ نمازیں ادا کر سکیں”۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ وہ کہاں مسلم ہم جنس پرست کمیونٹی کے لیے مسجد قائم کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ”اس مقصد کے لیے ہم بدھ متوں کے معبد کے ایک ہال کو استعمال کریں گے۔ اس کا تیس نومبر کو افتتاح کیا جائے گا اور اس نئی مسجد میں مرد اور عورتیں اکٹھے نمازیں ادا کر سکیں گے”۔

زاہد نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے سیاہ فام ہم جنس پرست قیوم الدین سے اسی سال فروری میں ‘اسلامی شریعت کے مطابق شادی’ کی تھی اور موریتانوی ہم جنس پرست امام جمال نے 12فروری 2012ء کو پیرس کے نواحی علاقے سرون میں ان کا نکاح پڑھایا تھا۔ اس سے قبل انھوں نے گذشتہ سال جنوبی افریقہ میں ہم جنس پرستوں کی شادی کے قانون کے تحت شادی کی تھی۔

واضح رہے کہ فرانس میں ہم جنس پرستوں کو آپس میں شادی کی اجازت نہیں ہے اور فرانس کے ایک شہر میں گذشتہ ہفتے کے روز ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے ہم جنس پرستوں کو باہمی شادی کی اجازت دینے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

فرانسیسی حکام نے زنخے زاہد کی اپنے ہم جنس پرست ساتھی سے شادی کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔ اب اس کا کہنا ہے کہ اسے مسلمانوں کی مخالفت کے علاوہ فرانسیسی قانون کی رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ البتہ اسے اس تمام کارروائی میں اپنے خاندان کی حمایت اور سر پرستی حاصل رہی ہے۔

زاہد کا کہنا ہے کہ اسے انیس سال کی عمر میں یہ پتا چلا تھا کہ وہ ایڈز کے موذی مرض میں مبتلا ہے، مگر اس بیماری نے اسے زندگی کا نیا مقصد اور مفہوم عطا کیا تھا۔ وہ مذہب کی طرف راغب ہو گیا۔ اس نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اللہ کی عبادت شروع کر دی، اس نے پہلے عمرہ اور اس کے بعد دو مرتبہ حج کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ‘خاوند’ کے ساتھ کسی عرب یا مسلم ملک میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ وہاں انھیں امتیازی سلوک کا سامنا ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s