ضلع خوشاب ایک شکار گاہ یا چراگاہ

(جی نیوز)ضلع خوشاب کا شمار پنجاب کے پس ماندہ اضلاع میں ہوتا ہے،تعلیم،صحت اور معیشت کے شعبہ ہائے جات کی پسماندگی پینے کے پانی کی قلت سڑکوں کی بری حالت شائد اسی لیے اس ضلع کی خدمت کے بلند وبانگ دعوے اور عوام کے درد می

ں مبتلا اور ضلع کے عوام کے ووٹوں سے منتخب چھ اراکین اسمبلی میں سے صرف ایک رکن اسمبلی ہی ایسا ہے جو کہ عملی طور پر ضلع خوشاب میں رہائش پذیر

ہے باقی پانچ اراکین اسمبلی اپنے بچوں سمیت اس پسماندہ ضلع میں رہنا پسند نہیں کرتے اور انکا ضلع خوشاب سے محض ڈومیسائل یا اپنے کاروبار کی حد تک ہی تعلق ہے جبکہ وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سرگودھا،لاہور یا اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔تفصیلات کے مطابق حلقہ این اے 69سے رکن قومی اسمبلی سمیرا ملک جو کہ نواب آف کالا باغ امیر محمد خان مرحوم کی پوتی ،سابق صدر مملکت سردار فاروق خان لغاری کی بھانجی ہیں اور سابق وفاقی تجارت ملک نعیم اعوان کے بھانجے طاہر سرفراز(جو کہ بیوریو کریٹ ہیں) کی اہلیہ ہیں ۔اور وہ مستقل طور پر پہلے لاہور اور اب اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں اور انکے بچے اسلام آباد کے مہنگے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔سمیرا ملک کا ضلع خوشاب سے تعلق محض اتنا ہی ہے کہ انکے خاوند کا ڈومیسائل(پدھراڑ) خوشاب کا ہے اور انکی مائینز یا آبائی زمین یہاں پر ہے اور اسی نسبت سے سمیرا ملک حلقہ این اے 69 سے الیکشن لڑتی ہیں۔جبکہ سمیرا ملک کے سیاسی حریف عمر اسلم اعوان بھی ملک نعیم اعوان کے ہی بھانجے ہیں اور انکی مستقل رہائش سرگودھا/لاہور میں ہے ۔ وہ بھی ضلع خوشاب میں اپنی مائنز یا سیاست کی حد تک ہی دلچسپی رکھتے ہیں انکے بیوی بچے اور وہ خود بھی ضلع خوشاب میں رہنا پسند نہیں کرتے۔حلقہ این اے 69سے ہی ٹوانہ گروپ کے حمایت یافتہ ملک تنویر سلطان اعوان بھی حصہ لیتے رہے ہیں اور انکے تو اہل خانہ نے شائد ضلع خوشاب دیکھا بھی نہ ہو کیونکہ وہ خودالیکشن کے

This slideshow requires JavaScript.

دوران کے علاوہ کبھی ضلع خوشاب میں دیکھے بھی نہیں گئے۔2002کے ضلع ناظم کے الیکشن میں وادی سون سے تعلق رکھنے والے جنرل محمد شفیق نمودار ہوئے تھے اور پھر شکست کے بعد شائد ہی کسی کو معلوم ہو کہ وہ کہاں گئے۔حلقہ این اے70سے رکن قومی اسمبلی ملک شاکر بشیر اعوان بھی پردیسی ہیں۔ 2008میں جب انہوں نے اس حلقہ سے الیکشن لڑا تو غالباً انکا ووٹ بھی یہاں درج نہیں تھا موصوف کی مستقل رہائش بھی سرگودھا میں ہے البتہ خوشاب میں انکا کاروبار ہے یا پھر سیاست ۔این اے 70سے ہارنے والے اور سابق ضلع ناظم خوشاب ملک احسان اللہ ٹوانہ بھی اہلخانہ سمیت سرگودھا میں مستقل رہائش پذیر ہیں اور انکا بھی ضلع خوشاب سے اتنا ہی تعلق ہے کہ انکا ڈومیسائل یہاں کا ہے یا پھر انکے آباؤ اجداد ہموکہ ضلع خوشاب کے رہنے والے تھے۔اور احسان ٹوانہ کی ضلع خوشاب سے صرف سیاست کی حد تک وابستگی ہے۔انکے بڑے بھائی ملک غلام محمد ٹوانہ جو کہ رکن اسمبلی اور ضلع ناظم خوشاب رہے کے اہل خانہ بھی ضلع خوشاب میں نہیں رہتے۔2002ء میں سیف اللہ ٹوانہ کو جن کا ضلع خوشاب کے عوام نے پہلے نام بھی نہیں سنا تھا غلام محمد ٹوانہ اور ملک خدا بخش ٹوانہ کی بی اے نہ ہونے کی وجہ سے لاہور سے بلا کر میدان میں اتارے گئے اور این اے 70 سے ایم این اے بھی منتخب ہوئے الیکشن کے بعد شائد ہی کسی نے انہیں ضلع خوشاب میں دیکھا ہو اور انہوں نے ضلع خوشاب کے باسیوں کو دیکھا ہو۔این اے 70سے تعلق رکھنے والے سردار شجاع خان بلوچ کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے اور وہ بھی الیکشن کی حد تک ضلع خوشاب کے رہنے والے ہیں۔البتہ این اے 70سے 2002ء میں الیکشن لڑنے والے ڈاکٹر غوث نیازی جن کا آبائی ضلع تو میانوالی ہے وہ مستقل طور پر اپنی فیملی سمیت ضلع خوشاب میں رہائش پذیر ہیں لیکن انکی رہائش بھی انکی ضلع خوشاب کی عوام سے کسی ہمدردی یا پیار کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کاروبار کی نوعیت کی وجہ سے ہے۔پی پی 39سے رکن صوبائی اسمبلی ملک جاوید اعوان جو کہ ملک شاکر بشیر اعوان کے چچا ہیں انکی صورتحال بھی اپنے بھتیجے شاکر بشیر اعوان سے مختلف نہیں ہے اور وہ کبھی کبھار ہی ضلع خوشاب میں تشریف لاتے ہیں ،اپنی فیملی سمیت اس پسماندہ ضلع میں رہائش رکھنا انکو بھی پسند نہیں۔پی پی 40سے رکن صوبائی اسمبلی ملک کرم الہی بندیال جزوی حد تک ہی ضلع خوشاب میں رہتے ہیں۔جبکہ سابق صوبائی وزیر ملک صالح محمد گنجیال بھی اہل خانہ سمیت سرگودھا ، لاہور یا اسلام آباد میں رہنا پسند کرتے ہیں۔پی پی 41سے رکن صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاء البتہ ضلع کے واحد رکن اسمبلی ہیں جو دو مرتبہ ایم پی اے منتخب ہونے کے باوجود مکمل طور پر ضلع خوشاب میں رہائش پذیر ہیں اور اسمبلی اجلاس یا پارٹی میٹنگز میں شمولیت کے بعد لاہور سے فوراً اپنے گھر خوشاب لوٹنے کو ترجیح دیتے ہیں۔پی پی41سے ہی سابق رکن صوبائی اسمبلی و سابق صدر مسلم لیگ ن تصور علی خان بھی اصلی اور سُچے ضلع خوشاب کے رہائشی ہیں حتی کہ انکے بچوں نے وسائل ہونے کے باوجود اپنی زیادہ تر تعلیم ضلع خوشاب کے تعلیمی اداروں سے ہی حاصل کی۔انکے چھوٹے صاحبزادے حسن خان ابھی بھی جوہرآباد کے ہی ایک سرکاری تعلیمی ادارے کے ریگولر طالب علم ہیں۔پی پی 41اس لحاظ سے خوش قسمت حلقہ ہے کہ اس کے تقریباً تمام سیاستدان (سوائے ٹوانہ بردران کے) بشمول کیپٹن (ر) ڈاکٹر رفیق، حاجی شریف خان بلوچ اپنی فیملیوں سمیت ضلع خوشاب میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ 2002کے الیکشن میں ملک عبدالرحمن ٹوانہ کو بھی گریجو ایشن کی مجبوری کی وجہ سے فیصل آباد سے لا نا پڑا تھا اور پھر الیکن ہارنے کے بعد وہ بھی اپنے اصلی گھر لوٹ گئے۔پی پی 42سے رکن صوبائی اسمبلی ملک وارث کلو کی حیثیت بھی ایک پردیسی کی سی ہے کیونکہ وہ یہاں اپنی سیاست کی وجہ سے ہی کبھی کبھار دورے پر آتے ہیں انکی فیملی سمیت رہائش لاہور میں ہے۔ضلع کے بزرگ اور پرانے سیاستدان ہونے کے باوجود ملک خدا بخش ٹوانہ کا دل بھی ضلع خوشاب میں نہیں لگتا اور انہوں نے لاہور میں مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ضلع خوشاب کی عوام کی نمائندگی کے ان دعویداروں اور خدمت کے سے لبریز جذبات رکھنے والوں کی حالت نہ جانے کیوں اس شکاری کی سی محسوس ہوتی ہے جو کسی شکار گاہ میں محض شکار کھیلنے جاتا ہے اور شکار مل جائے تو بھی اور نہ ملے تو بھی اپنے گھر کو لوٹ جاتا ہے۔جیسے پیشہ ور لوگ کسی دفتر یا ملازمت کی جگہ پر اپنا کام ختم کرکے شام کو اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ سیر کے شوقین کسی سیرگاہ میں سیر سے لطف اندوز ہونے کے بعد باالآخر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ اور ضلع خوشاب کو اب کیا سمجھا جائے کہ یہاں سے سیاست کرنے والے کسی کے لیے یہ شکار گاہ ہے تو کسی کے لیے اسکی روزی روٹی کی جگہ اور کسی کے لیے شاید اس کی حیثیت سیرگاہ سے زیادہ نہیں۔اور حیران کن امر یہ ہے کہ اس پسماندہ ضلع کے پسماندہ لوگوں کے ساتھ رہنا یہ عوام کے ہمدرد بے شک رہنا پسند نہ کرتے ہوں۔ یہ عوام کے غم خوار اپنے بچوں کو پسماندہ ضلع خوشاب کے عوام کے بچوں کے ساتھ یہاں کے تعلیمی اداروں میں پڑھانا پسند کریں یا نہ کریں یہاں سے بار بار کبھی ایم این اے کبھی ایم اپی اے کبھی ضلع ناظم منتخب ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی نہ جانے کب تک ہوتے رہیں گے۔لیکن اسکی وجہ ضلع خوشاب کے عوام کی ناخواندگی، سادہ لوحی یا بے بسی (کہ کوئی اور آپشن نہ ہونا) کیا نام دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s