جنرل کیانی کیا چاہتے ہیں؟

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یوم آزادی کے موقع پر ملٹری اکیڈمی کاکول میں جو تقریر کی ہے اگر ہمسایہ ملک بھارت سمیت کسی بھی جمہوری ملک میں فوج کے سربراہ نے اس طرح کا سیاسی خطاب کیا ہوتا تو اب تک گھر بٹھا دیا گیا ہوتا، لیکن یہ پاکستان ہے جہاں سب چلتا ہے۔ جرنیل کھلے عام سیاسی باتیں کرسکتے ہیں اور جج بار ایسوسی ایشنز اور افطار پارٹیوں سے خطاب کے بہانے منتخب حکومت کو آئین کے تحفظ کے نام پر درپردہ دھمکیاں دیتے ہیں کہ چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے انصاف کی فراہمی سے نہیں روکا جا سکتا۔ انصاف کے ڈھول کا پول تو ارسلان افتخار کیس میں کھل گیا ہے، اس پر مزید تبصرہ بیکار ہے۔ جنرل کیانی نے ملک کے اقتصادی حالات سے لیکر قانون سازی اور فرقہ واریت تک کہیں براہ راست اور کہیں ڈھکے چھپے انداز میں ہر مسئلے پر بات کی۔ آئیڈیل صورتحال میں جرنیلوں یا دوسرے سرکاری ملازمین بشمول جج صاحبان کو صرف اپنے کارمنصب کے حوالے سے بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور وہ بھی آئے دن نہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور یورپ میں بہت سے وکیل بھی شاید اپنے ملک کے چیف جسٹس کا نام نہ جانتے ہوں، لیکن پاکستان میں پچھلے پانچ سالوں میں الیکٹرونک میڈیا نے ملک کے بچے بچے کو منصف اعلیٰ اور ان کے ساتھیوں کے نام رٹوا دیے ہیں۔ ____________________ دہشتگردی کو شکست نہ ہوئی تو خانہ جنگی کا خطرہ: کیانی ____________________ لیکن کیا اس سے تحصیل اور ضلع کی سطح پر انصاف سستا ہوا؟ کیا وکیلوں نے اپنے مؤکلوں کی کھال اتارنا چھوڑ دی؟ اس پر حالات حاضرہ کے راوی خاموش ہیں۔ کیا جنرل کیانی نے دہشتگردوں کوسزا نہ ملنے پر قانونی نظام پر جو  اس طرح کا سیاسی خطاب کیا ہوتا تو اب تک گھر بٹھا دیا گیا ہوتا، لیکن یہ پاکستان ہے جہاں سب چلتا ہے۔ جرنیل کھلے عام سیاسی باتیں کرسکتے ہیںسوال اٹھائے ہیں ان پر بات ہوگی؟ انتظار ہی کرتے رہیے۔اگر اس موضوع پر بات کرائی بھی گئی تو شیخ رشید اور وینا ملک سے کرائی جائے گی۔ دہشتگردی کے خلاف مؤثر قوانین موجود ہیں لیکن عدلیہ نہ صرف انتہاپسندوں کو سزا دینے سے کتراتی ہیں بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور منصف اعلیٰ کے چہیتے جسٹس خواجہ شریف بھاگ کر ممتاز قادری کے وکیل بن جاتے ہیں۔ جنرل کیانی کی تقریر بنیادی طور پر صدر آصف علی زرادری یا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو کرنی چاہیے تھی۔ لیکن ان دونوں کی توجہ عدالت اور پھر آنے والے عام انتخابات کی طرف ہے۔ ویسے بھی منتخب نمائندوں نے جب بھی اہم ملکی و بین الاقوامی امور پر لب کشائی کی ہے تو انہیں لینے کے دینے پڑے ہیں، کیونکہ ان معاملات میں فیصلہ کن قوت جی ایچ کیو ہے پارلیمان نہیں۔ سیاستدان فروعی مسائل میں پھنسے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہی بھلے۔ اعلیٰ اخلاق اور ملک کو درپیش چیلینجز کی بات جرنیلوں اور ججوں کے منہ سے ہی جچتی ہے کہ آزادی کے پینسٹھ سالوں میں یہی مستقل حکمران اور ایک دوسرے کے دست و بازو رہے ہیں۔ اس لیے جنرل کیانی کی تقریر کے مندرجات کو سراہا جانا چاہیے کہ چلیے ملک کے اصل حکمرانوں کو احساس تو ہوا کہ دہشتگردی پاکستان کا مسئلہ ہے۔بزور بندوق اپنی مرضی کا اسلام تھوپنادہشتگردی ہے اور صرف خدا کی ذات کی کو علم ہے کہ کون سچا ہے، انسان ناقص العقل ہے وہ یہ فیصلہ نہیں کرسکتا۔ اتنی بھلی باتیں کہ سماعت کو موسیقی لگیں۔ جنرل صاحب نے یہ بھی کہا کہ غلطیاں سب سے ہوئیں، کسی سے کم کسی سے زیادہ، لیکن اب ماضی کے ماتم کا کوئی فائدہ نہیں، آگے بڑھنا چاہیے۔ لیکن آگے کیسے بڑھا جائے؟ کیا پاکستان برانڈ کشمیری مجاہدین کی سرپرستی چھوڑ دی جائے گی؟کیا افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ رکھنے کے لیے طالبان اور ایسے دوسرے مجاہدین گروہوں کو خدا حافظ کہہ دیا جائے گا جن کے ڈانڈے پاکستان میں فرقہ واریت میں ملوث تنظیموں سے ملتے ہیں؟کیا بلوچستان میں منتخب نمائندوں کو بااختیار کیا جائے گا؟ کیا بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی سیاسی قیادت کی کوششوں کو کسی اورکارگل کی بھینٹ نہیں چڑھایا جائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا فوج صرف اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پرہی توجہ رکھے گی؟ جنرل کیانی نے کھلے عام سویلین معاملات پر اپنے تفکرات کا اظہار کرکے اس پاکستان کی نفی کی ہے جس کی خواہش کا وہ اظہار کرتے سنے گئے ہیں۔ ان کی تقریر سے یہ واضح تاثر گیا ہے کہ انچارج کون ہے۔ان کی تقریر ٹی وی چینلز کے ذریعے پورے ملک میں نشر کی گئی اور لوگوں نے دیکھا کہ جو وہ سیاسی قیادت سے سننا چاہتے ہیں وہ فوج کا سربراہ کہہ رہا ہے۔ تبھی بین الاقوامی طاقتیں پاکستان میں منتخب نمائندوں کی بجائے آرمی ہاؤس راولپنڈی کے ’ون ونڈو آپریشن‘ کو ترجیح دیتی ہیں۔یہ اور بات ہے کہ مشرف جیسے فنکار انہیں چکما دے جاتے ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہوگا کہ جن مسائل کی نشاندہی جنرل کیانی نے کی ہے وہ ان کے حل کے لیے منتخب اداروں کے تابع رہتے ہیں یا خود ہی آگے بڑھ کر ان چیلنجز کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s