احتجاج وانتقام اور اسلامی اخلاقیات

غصہ، نفرت اور انتقام کے جذبات دوسرے تمام جذبات کی طرح انسانی فطرت میں پیوست ہیں اور ان کا اظہار انسانی زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ خدا کے پیغمبر جب انسان کو اپنے پیغام کا مخاطب بناتے اور انسانی شخصیت کی تعمیر وتہذیب کی بات کرتے ہیں تو ان فطری جذبات کی نفی نہیں کرتے اور نہ انھیں غیر فطری طو رپر دبا دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ ان جذبات کے اظہار کے جائز اور مشروع مواقع کون سے ہیں اور ان کا اظہار کرتے ہوئے انسان کو کون سے اخلاقی حدود کا پابند رہنا چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیرۂ عرب میں مبعوث کیا گیا تو عرب معاشرہ غصے اور انتقام کے جذبات کے اظہار کے حوالے سے سنگین قسم کی ناہمواریوں اور بے اعتدالیوں کا شکار تھا۔ مثال کے طو رپر حریف قبائل کے مابین لڑائی او رکشمکش کی فضا میں یہ بات عام تھی کہ اگر ایک قبیلے کے آدمی نے دوسرے قبیلے کے کسی آدمی کو قتل کر دیا ہو تو مقتول کے ورثا کا یہ حق سمجھا جاتا تھا کہ وہ براہ راست قاتل تک رسائی حاصل نہ کر سکے تو وہ اس کے کسی قریبی عزیز اور یا پھر اس کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کو جہاں موقع ملے، قتل کر دے۔ یہ قصاص اور بدلے کا ایک مسلمہ قاعدہ تھا جس پر پورے عرب معاشرے میں عمل جاری تھا۔ یہ طریقہ نفسیاتی طو رپر اگرچہ باعث تسکین تھا اور اس سے مقتول کے ورثا کے جذبات بھی بڑی حد تک ٹھنڈے ہو جاتے تھے، لیکن ظاہر ہے کہ اخلاقی لحاظ سے اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ چنانچہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو انتقام اور بدلے کے اس جاہلانہ ضابطے کو قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا اور حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب معاشرت کی اصلاح کے حوالے سے جہاں دوسرے بہت سے امور کا ذکر کیا، وہاں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ :
لا یؤخذ الرجل بجریرۃ أخیہ ولا بجریرۃ أبیہ (طبرانی، المعجم الاوسط، 2144)
’’کسی شخص کو اس کے بھائی یا باپ کے جرم میں نہ پکڑا جائے۔‘‘
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے یہ بھی واضح فرمایا کہ عدل وانصاف اور معاشرتی اخلاقیات کی پاس داری صرف مسلمانوں کے باہمی معاملات میں نہیں، بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات میں بھی ضروری ہے، یہاں تک کہ اگر کسی گروہ کا اجتماعی رویہ واضح طو رپر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ عناد، دشمنی اور مخاصمت کا مظہر ہو، تب بھی مسلمانوں کی طرف سے ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ شریعت کے بیان کردہ اخلاقی اصولوں کی پابندی کی جائے گی۔ سورۂ مائدہ کی آیت ۲ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ. (المائدہ۵: ۸)
’’ ایمان والو، اللہ کی خاطر عدل وانصاف کے گواہ بن کر کھڑے ہو جاؤ، اور ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی تمھیں برانگیختہ کر کے ناانصافی پر آمادہ کردے۔ عدل پر قائم رہو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمھارے اعمال کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
سیرت نبوی اور سیرت صحابہ میں ہمیں اس اخلاقی ہدایت کی پاس داری کی نہایت روشن مثالیں ملتی ہیں۔ چنانچہ دیکھیے، عہد نبوی کے یہودیوں کے متعلق قرآن مجید نے یہ تصریح کی ہے کہ وہ ۔اہل ایمان کے ساتھ سب سے بڑھ کر دشمنی رکھنے والا گروہ ہیں۔ (سورۂ مائدہ، آیت ۸۲) اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی طرف سے ان کے ساتھ جس اعلیٰ درجے کا اخلاقی معاملہ کیا گیا، اس کا اندازہ درج ذیل دو واقعات سے لگایا جا سکتا ہے:
فتح خیبر کے بعد ایک موقع پر دو انصاری صحابی عبد اللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر کی طرف گئے اور اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ کچھ دیر کے بعد محیصہ نے عبد اللہ بن سہل کو اس حالت میں پایا کہ انھیں قتل کر دیا گیا تھا اور وہ خون میں لت پت ایک جگہ پڑے ہوئے تھے۔ چنانچہ عبد اللہ بن سہل کے ورثا اپنا مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور یہود سے قصاص لینے کا مطالبہ کیا۔ آپ نے ان سے کہا کہ تم میں سے پچاس آدمی قسم اٹھالیں (کہ یہ قتل فلاں یہودی نے کیاہے) تو میں ملزم کو تمھارے حوالے کر دو ں گا۔ انصار نے کہا کہ ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ قاتل کو دیکھے بغیر قسم اٹھالیں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر یہودیوں سے کہتے ہیں کہ وہ تمھیں قسمیں دے دیں کہ وہ اس جرم سے لا تعلق ہیں، لیکن مقتول کے ورثا نے کہا کہ ہم ان کی قسموں پر کیونکر اعتبار کر سکتے ہیں؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدمے کو نمٹانے کے لیے اس انصاری کی دیت بیت المال سے ادا کردی تاکہ اس کا خون رائیگاں نہ جائے۔ (بخاری، رقم 3002)
خیبر کا یہ سارا علاقہ یہودیوں کا تھا اور بدیہی طو رپر یہ کام انھی میں سے کسی کا تھا، بلکہ بعض روایات کے مطابق یہودیوں نے اس قضیے میں اس بات کی قسمیں دینے سے بھی انکار کر دیا تھا کہ ہمارا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ان قرائن اور یہود کے سابقہ کردار کی روشنی میں اس کی ذمہ داری ان پر ڈال سکتے تھے، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا اور وہی طریقہ اختیار فرمایا جس کی شریعت اور قانون اجازت دیتے تھے۔
خیبر کی فتح کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے یہودیوں کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ زمین مسلمانوں کے بیت المال کی ملکیت ہوگی، لیکن عملاً یہود کے تصرف میں رہے گی اور وہ اس کی فصل یہودیوں اور مسلمانوں کے کے مابین تقسیم ہوگی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن رواحہ کو وہاں بھیجا جنھوں نے وہاں کی فصل کا جائزہ لے کر مقدار کا اندازہ کیا اور پھر یہود سے کہا کہ:
’’ اے قوم یہود، تم اللہ کی مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ مبغوض ہو۔ تم نے اللہ کے نبیوں کو قتل کیا اور اللہ کے خلاف جھوٹ کی نسبت کی۔ لیکن تمہارے ساتھ یہ نفرت مجھے اس پر آمادہ نہیں کرتی کہ میں تم پر کوئی زیادتی کروں۔ میں نے کھجوروں کا اندازہ بیس ہزار وسق لگایا ہے۔ اگر تمھیں منظور ہو تو ٹھیک ورنہ یہ محض میرا اندازہ ہے۔ یہود نے کہا: اسی انصاف کے سہارے تو زمین وآسمان قائم ہیں۔‘‘ (مسند احمد، رقم 14425)
یہی طرز عمل مسلمانوں نے مشرکین کے ساتھ بھی اختیار کیا۔ امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی خبیب انصاری اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بعض مشرک کے قبائل کے ہاتھوں گرفتار ہو کر قریش مکہ کی قید میں پہنچ گئے جنھوں نے انھیں غزوۂ بدر میں حار ث بن عامر کو قتل کرنے کے بدلے میں قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب مقررہ دن خبیب کو قتل کرنے کے لیے لوگ جمع ہوئے اور خبیب کو بھی اس کی اطلاع دے دی گئی تو انھوں نے شہادت پانے سے پہلے اپنے جسم کی صفائی کے لیے ان سے استرا مانگا۔ حارث بن عامر کی بیٹی بتاتی ہیں کہ میری بے دھیانی میں میرا ایک بچہ کھیلتا کھیلتا خبیب کے پاس جا پہنچا اور جب میری نظر پڑی تو استرا خبیب کے ہاتھ میں تھا اور میرا بچہ ان کی گود میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں یہ منظر دیکھ کر گھبرا گئی جسے خبیب نے بھی بھانپ لیا اور مجھ سے کہا کہ کیا تم ڈر رہی ہو کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ نہیں، میں ایسا نہیں کر سکتا۔ (بخاری، رقم 2880)
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ زمانہ مسلمانوں اور قریش کے مابین تعلقات کے تناؤ کے عروج کا زمانہ تھا اور جنگ بدر ابھی حال ہی میں رونما ہوئی تھی۔ مشرکین عرب، جیسا کہ معلوم ہے، اخلاقیات کی پاس داری کرنے والا کوئی گروہ نہیں تھے۔ وہ اسلام دشمنی میں توہین رسالت، بے گناہ لوگوں کی قتل وغارت اور خواتین کی بے حرمتی سمیت ان تمام شنیع جرائم کا بالفعل مرتکب تھے جو کوئی بھی گروہ کسی گروہ کے خلاف کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود خبیب کی اخلاقیات نے اس کی اجازت نہیں دی کہ وہ ان کے ان جرائم اور خاص طو رپر اپنے قتل کا انتقام ایک معصوم بچے سے لیں اور اپنے جذبہ انتقام کو اس گھٹیا اور سفلی طریقے سے تسکین پہنچانے کا سامان کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی قوم کا نمائندہ بن کر آنے والے سفیروں کے بارے میں اس مسلمہ عالمی عرف کی بھی تائید وتصدیق فرمائی کہ انھیں جان کا تحفظ حاصل ہوتا ہے اور وہ جس قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس کے ساتھ کیسا ہی تنازع اور اختلاف کیوں نہ ہو، اس کے بھیجے ہوئے سفیروں پر کوئی دست درازی نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ مسیلمہ کے بھیجے ہوئے سفیروں نے جب مسیلمہ کے نبی ہونے پر اپنے ایمان کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ ضابطہ نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ (ابو داود، 2741)
اس ضمن میں کسریٰ کے بھیجے ہوئے قاصدوں کا واقعہ زیادہ قابل توجہ اور سبق آموز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد جزیرۂ عرب کے گرد ونواح میں مختلف سلطنتوں کے سربراہوں کو اسلام قبول کرنے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سر اطاعت خم کر دینے کے پیغام پر مشتمل خطوط لکھے تو فارس کے بادشاہ یزدگرد نے آپ کے لیے سخت توہین آمیز کلمات استعمال کرتے ہوئے نہایت تحقیر کے ساتھ آپ کے خط کو پھاڑ دیا اور یمن میں اپنے گورنر باذان کو حکم بھیجا کہ حجاز میں جو مدعی نبوت پیدا ہوا ہے، اس کو گرفتار رکر کے میرے پاس بھیج دو۔ باذان نے کسریٰ کا یہ حکم تحریری طور پر اپنے دو قاصدوں کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج دیا۔ یہ قاصد کسریٰ کا حکم نامہ لے کر رسول اللہ کے پا س آئے تو آپ نے ان کے خلاف کوئی دار وگیر نہیں فرمائی اور صرف یہ کہہ کر ان کو واپس بھیج دیا کہ جا کر باذان کو بتا دو کہ گزشتہ رات اللہ نے کسریٰ کو قتل کر وا دیا ہے۔ (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ۲/۱۸۰)
آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم مغربی حکومتوں کی مسلم کش سیاسی پالیسیوں کا انتقام لینے کے لیے ان کے عام اور بے گناہ شہریوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس پر یہ شرعی جواز بھی گھڑ رہے ہیں کہ چونکہ ان ممالک کے عوام اپنی حکومتوں کو ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس لیے وہاں کے تمام شہری ’’مقاتلین‘‘ میں شمار ہوتے ہیں اور ان کو قتل کرنا جائز ہے۔یہی معاملہ امریکہ میں بننے والی کسی فلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مختلف مسلم ممالک میں امریکی سفارت خانوں کو جلانے اور سفارتی عملے کو قتل کرنے کے حالیہ واقعات کا ہے اور فقہ وشریعت کے کسی بھی طالب علم کے لیے یہ بات بالکل ناقابل فہم ہے کہ بے لگام غصے اور اشتعال کی کیفیت میں اس طرح کے اقدامات کا کیا شرعی یا اخلاقی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہماری قیادت میں کوئی ایسا نہیں ہے جو غصے اور نفرت کے اس اظہار کو، جو حدود سے قطعی طور پر متجاوز ہے، غیرت کا خوب صورت عنوان دے کر اپنی عوامی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے بجائے اس نازک موقع پر حق کی گواہی دیتے ہوئے مسلمانوں کو شرعی اخلاقیات کی یاد دہانی کرائے اور سیرت نبوی وسیرت صحابہ کی روشن مثالوں کا حوالہ دے کر ان کے دلوں میں اس احساس کو بیدار کرنے کی کوشش کرے کہ:

تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے؟

Advertisements

One comment on “احتجاج وانتقام اور اسلامی اخلاقیات

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s