گیلری

صحافیوں اور ججوں سے سوال کرنا منع ہے

پاکوں کے دیس پاکستان میں ایک عجب رحجان مشاہدے میں آ رہا ہے کہ آپ سیاستدانوں، کاروباری حضرات اور حتیٰ کہ بعض اوقات فوجی افسروں کی مبینہ بدعنوانی کو اخبارات اور ٹی وی چینلز پر رپورٹ کر کے داد سمیٹ سکتے ہیں لیکن اگر آپ نے ’نئے پاکستان‘ کے علمبردار ججوں اور صحافیوں کے بارے میں کچھ کہہ یا لکھ دیا تو آپ کسی سازش کا حصہ قرار دیے جائینگے، ایسے ہی جیسے فوج اصلاح احوال کی بجائے کسی زمانے میں اپنے ادارے میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی خبروں اور رپورٹس کے پیچھے دشمن کی سازش تلاش کرنے میں لگ جاتی تھی۔

قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے نہ جانے بلف کیا یا واقعی ان کے پاس کچھ ایسی معلومات تھیں کہ حکومت نے روپے کی چمک دکھاکر کچھ چینلز اور اینکرز کو ورغلا لیا ہے، لیکن تب سے ہر اینکر اور مقبول عام صحافی گلا پھاڑ پھاڑ کر انہیں چیلنج کرتا سنائی دے رہا ہے کہ صاحب بکے ہووں کے نام بتائیں تاکہ ان کی پارسائی ثابت ہوسکے وگرنہ عوام انہیں بھی کرپٹ سمجھنا شروع ہوجائے گی۔ایک صاحب نے تو اپنی نئی ملازمت کے پہلے پروگرام کو صحافت کے موضوع پر سٹڈی سرکل بناتے ہوئے اعلان کردیا کہ صحافی اب اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کو برداشت نہیں کرینگے۔

موصوف ابتدائے کیرئیر میں مغربی این جی اوز کے لیے پاکستانی صحافیوں کے تربیتی کتابچے لکھا کرتے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک اس کیفیت سے نکل نہیں پائے۔ ان کو فکر لاحق ہے کہ پاکستان کا مقدمہ کون لڑے گا اور تھیسز ان کا یہ ہے کہ مضبوط دفاع اور معیشت جمہوریت سے زیادہ اہم ہیں۔ کیا یہی مؤقف ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کا نہیں ہوتا؟ اور پھراگر کوئی یہ کہے کہ موصوف آبپارہ کا لکھا سکرپٹ پڑھتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ ان کی صلاحتیوں پر شک کیا جا رہا ہے۔ دفاع کے لیے آپ نے ایٹم بم بنالیا اب اور کیا چاہتے ہیں؟ ملک کو اب صحت، تعلیم، سائینس اور کھیل کے میدان میں بھی ترقی کرنے دیں۔

پاکستان کا مقدمہ لڑنے کی سعی کرنے والے یہ صاحب بقول وکی لیکس امریکی سی آئی اے کے لیے معلومات اکھٹی کرنے والے ادارے ’سٹریٹفر‘ کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔اس مفتی صحافت کے علاوہ کئی دوسرے عالم صحافی بھی سر جوڑ کر اپنے خلاف ہونے والی سازش کا ’کھرا‘ تلاش کرتے ٹی وی سکرینوں پر دیکھے جا رہے ہیں۔ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کو ان کے اداروں نے سونے میں تولہ ہوا ہے لیکن کوشش ان کی یہ ہے کہ ملبہ مالکان پر گرا دیا جائے کہ صاحب وہ پاور بروکر (اقتدار کے کھیل میں حصہ دار) بن چکے ہیں اور ہم مجبور محض۔

مالکان بہت سے صحافیوں کو اپنے مفادات کے لیےPitbull کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن پھر یہی نوازے بھی جاتے ہیں۔ میدان صحافت میں اب ایسے صحافی انگلیوں پر ہی گنے جاسکتے ہیں جو اپنے مالکان یا اقتدار کے کھیل کا حصہ نہ بننے کے باوجود نام اور دام کما رہے ہیں صرف اور صرف اپنے کام کی بنیاد پر۔

قاری اور سامعین اتنے بھی بے شعور نہیں کہ یہ اندازہ نہ لگا سکیں کہ کون آزادانہ لکھ رہا ہے اور کون زاویہ نگاری کر رہا ہے۔اب کچھ چھپ نہیں سکتا، سب کچھ دکھائی دیتا ہے، مین سٹریم میڈیا میں اگر کچھ سنسر ہو جائے گا توسوشل میڈیا (یا انٹرنیٹ) پر آجائے گا۔

ایک فقرہ جو اینکرز کے منہ سے بار بار سننے کو ملتا ہے وہ ہے کہ ’دوہزار سات کے بعد سے عدلیہ اور میڈیا پہلے سے نہیں رہے‘۔ یقیناًدونوں بہت vocal ہوگئے ہیں، لیکن کیا ان کا آہنگ عوام اور ان کے مسائل ہیں؟ دونوں اداروں نے آپس میں ’این آر او‘ کر لیا ہو ہے اور ایک دوسرے کو حاجی حاجی کہتے نہیں تھکتے۔ عدالت کی آئینی مہم جوئی پر سیاسی رنگ غالب تھا تو ’فیملی گیٹ‘ پر ججوں کے طرزعمل نے ایک مافیا کو سا تاثر دیا ہے۔

فیصل رضا عابدی ثبوت دکھاتا ہے تو شرمندہ ہونے کی بجائے اس سے الٹا سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کو یہ کس نے فراہم کیے؟ آپ کسی بڑی سازش کا حصہ ہیں؟

بھئی آپ اپنا کام نہیں کرینگے تو پھر دوسرے کرینگے۔ عابدی صاحب کو اینکرز اپنے پرگراموں میں بلا تو رہے ہیں لیکن جو ثبوت وہ ’فیملی گیٹ‘ کے حوالے سے دکھاتے ہیں مجال ہے کسی صحافی نے انہیں سے lead لے کر کوئی مزید کام کیا ہوکہ دیکھا جائے کہ ان ثبوتوں میں کتنی حقیقت اور کتنا افسانہ ہے۔

عدلیہ اور میڈیا ’نئے پاکستان‘ میں قومی مفاد اور معاشرتی اقدار کے محافظ ہیں، دونوں کا زور سر چڑھ کے بول رہا ہے لہذا ان سے سوال کرنا منع ہے۔

Advertisements

One comment on “صحافیوں اور ججوں سے سوال کرنا منع ہے

  1. بھائی جان۔ آپ کا غصہ بجا ہے ، مگر آپ دیکھیں گے کہ بہت جلد صحافیوں پر کڑی تنقید کی جائے گی ۔ اور وہ دن دور نہیں جب حقیقی صحافت معرض وجود میں آجائےگی ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s