عدالت، زرداری کی چالیں اور بینظیر قبر کا ٹرائل

( عدالت اور حکومت تین سال کی رسہ کشی کے بعد این آر او کیس کے فیصلے کے نتیجے میں سوئس حکام کو خط لکھنے کے مطالبے پر درمیانی راستہ اختیار کرنے یعنی اپنے اپنے سخت مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نظر آتے ہیں تبھی منگل کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی سپریم کورٹ پیشی پر ماحول خوشگوار بتایا گیا،انہیں پیش ہونے سے استثنیٰ بھی مل گیا اور انہوں نے سوئس حکام کو خط لکھنے کا عندیہ بھی دے دیا۔

وزیراعظم نے یہ کہہ کر فی الحال اپنی جان بخشوا لی ہے کہ انہوں نے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو خط لکھنے کی ہدایت کردی ہے، عدالت نے مجوزہ خط کا ڈرافٹ دیکھنے کی فرمائش کر کے ایک طرح سے معاملہ قدرے لٹکا دیا ہے۔ یوں بات اب لکھنے یا نہ لکھنے سے نکل کر خط کے مضمون کی طرف چل نکلی ہے، جس پر آئندہ دنوں، ہفتوں اور شاید مہینوں تک مباحثے اور پیشنگوئیاں ہوتی رہیں گی کہ کیا لکھا جائے گا اور کیالکھنے سے اجتناب کیا جائے گا۔

عدالت اور حکومت کے اس کھیل تماشے میں اگر نقصان ہوا ہے تو خواص میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیر قانون بابر اعوان کا جبکہ عوام میں ہم سب کا، بالکل اسی طرح جیسے ایک دیہاتی پہلی دفعہ میلہ دیکھنے گیا اور اپنی چادر گنوا بیٹھا، واپسی پر اپنے دوستوں کو آپ بیتی سناتے ہوئے اس نے کہا یار میلے کا تو بہانہ تھا مقصد میری چادر چرانا تھا۔

جو کچھ راجہ پرویز اشرف اور فاروق نائیک مان رہے ہیں وہ گیلانی اور اعوان نے کیوں نہ مانا؟ کیا سوئس اکاؤنٹس سے ان کا بھی کوئی لینا دینا تھا یا وہ صدر آصف علی زرداری کا ٹرائل ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے جبکہ راجہ اور نائیک کو اس کی پرواہ نہیں؟

گیلانی اور اعوان نے عدلیہ اور میڈیاکی دھواں دھار باؤلنگ کا سامنا بغیر ہیلمٹ پہنے کیا ، چوکے چھکے بھی لگائے لیکن ریٹائرڈ ہرٹ ہوکر میدان سے ایسے باہر گئے کہ فوری واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ گیلانی فاروق لغاری اور شاہ محمود قریشی کی شکل میں سرائیکی علاقے کی پیپلزپارٹی سے بیوفائیوں کا داغ دھونے کے چکر میں ایوان صدر کی دیوار میں چن دیے گئے جبکہ اعوان کو خوداعتمادی نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ صدر زرداری نے جس طرح ان دونوں کو ’ورتا‘ ہے ان کی آنے والی نسلیں بھی اس سے سبق حاصل کرینگی۔

لیکن بینظیر بھٹو کی قبر کو اس کھیل تماشے میں استعمال کرناشاید صدر زرداری کے بھی گلے میں پڑ جائے، کیونکہ کبھی بقول ان کے سوئس حکام کو خط لکھنا ’بی بی شہید‘ کی قبر کے ٹرائل کے مترادف ہوگا۔ ویسے بیگم نصرت بھٹو کی رحلت کے بعد ان کی قبر کو بھی اس ٹرائل میں شامل کرلینا چاہیے۔ پیپلزپارٹی کا ووٹر خاص طور پر جیالا اس بات کو ہضم نہیں کرسکے گا کہ جب اسے اب تک یہی کہا جاتا رہا کہ عدالت سے پھڈے بازی بینظیر کی تکریم کے لیے ہے۔

پیپلزپارٹی نے اب تک جو تاثر بنایا تھا کہ عدالتیں اس کو نشانہ بناتی ہیں اور یہ کہ عدالتی قربان گاہ پر وزراء اعظم کو بلی چڑھا دیا جائے گا لیکن بینظیر کی قبر کاٹرائل نہیں ہونے دیا جائے گا وہ زائل ہوجائے گا ،اور اپنی بری کارگردگی کے باجود پیپلزپارٹی عدالتی مظلوم بن کر انتخابی اکھاڑے میں معرکہ مارنا چاہتی تھی وہ اب ممکن نہیں ہوگا۔ موجودہ عدلیہ کی فعالیت پر تالیاں بجانے والے پیپلزپارٹی کے ووٹرز نہیں ہیں اور اس طویل عدالتی Soap Opera کے بعد اگر صدر زرداری یا ان کے مشیر یہ سمجھتے ہیں کہ سوئس احکام کو خط لکھ کر وہ عدالت نواز حلقوں میں اپنے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا کر لینگے تو یہ ان کی خام خیالی ثابت ہوگی۔

ٹھیک ہے کہ آپ حیلے بہانے سے پانچ سال پورے کرنے جا رہے ہیں جو کہ ملک میں جمہوریت کے لیے ایک نیک شگون ہوگا ، آئینی ترامیم کے ذریعے جمہوریت اور پارلیمان کو مضبوط کرنے کی کوششیں بھی صائب لیکن کیا اس کی بنیاد پر الیکشن جیتا جا سکتا ہے؟ گلی میں کھڑے کسی بھی فرد سے پوچھ کر دیکھئے جواب مل جائے گا۔ آپ کے پاس ’عدالتی بہانہ‘ تھا جو کہ گھٹنے ٹیکنے اور’ بینظیر کی قبر کے ٹرائل‘ کے بعد کھوٹا سکہ ہوگا۔

صدر زرداری نے ایک دفعہ کہا تھا کہ سیاسی وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے کہ ان سے روگردانی نہ کی جا سکے۔ اسی طرح شاید اب وہ سوچتے ہوں کہ مصلحتاً ’شہید بی بی‘ کی قبر کا ٹرائل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ شیخ رشید سمیت بہت سارے کل وقتی سیاسی پنڈت اکثر صدر زرداری کی سیاسی چالوں کی داد دیتے نظر آتے ہیں لیکن شطرنج کی بساط پر کھلاڑی کی مہارت کا اندازہ اختتام کھیل کے نزدیک ہی ہوتا ہے جب شاہ کو خود پوزیشن لینی ہوتی ہے۔آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی کے شاہ کی پوزیشن آئندہ الیکشن میں اس پارٹی کیپوزیشن بھی واضح کر دے گی۔

(بشکریہ ٹاپ سٹوری)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s