مجھے ایران سے کیوں نکال باہر کیا گیا؟ ایک صحافی کی روداد

دبئی ( حسن فحص) یہ 9 ستمبر 2008ء کا دن تھا۔ مجھے ایران کی وزارت سراغرسانی اور قومی سلامتی کی ہدایات پر تہران سے نکال دیا گیا تھا اور میں اپنی بیٹی کو ساتھ لیے دبئی جا رہا تھا۔ مجھے یہ بھی موقع نہیں دیا گیا تھا کہ میں اپنے تمام خاندان کی تہران سے واپسی کا بندوبست کر سکتا۔ چنانچہ میں اپنی بیوی اور بیٹے کو وہیں چھوڑ کر آ گیا تھا۔ میں یہ بالکل بھی نہیں جانتا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو گا؟

مجھے اس لیے نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ میں العربیہ ٹی وی چینل کے لیے کام کر رہا تھا اور اس پر مسلسل ایران دشمن ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا تھا۔ اس کا آغاز مارچ 2008ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات سے ہوا تھا۔ اس دوران ہمارے ادارے کی نیوز رپورٹس کو ”باغیانہ” اور ”غلط” قرار دیا جاتا رہا تھا۔

اسی ماہ ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی نے مجھ سے ملاقات کی اور حکام کی العربیہ سے ناراضی کا سبب بتایا۔ انھوں نے شام میں حزب اللہ کے کارکن عماد مغنیہ کے قتل کےواقعہ کی العربیہ میں کوریج پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور ان کا بڑا اعتراض یہ تھا کہ عماد مغنیہ کو متعدد افراد کے قتل، اغوا اور ہائی جیکنگ کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں دنیا کے سب سے مطلوب دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ سعید جلیلی نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ عماد مغنیہ ایک سرخ لکیر (ریڈ لائن) ہے۔

اسی لمحے مجھے احساس ہو گیا تھا کہ العربیہ کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے فوری بعد ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے تحت العربیہ کے نمائندوں اور اس کے عملے پر ایوان صدر میں ہونے والی کسی بھی سرگرمی کی کوریج پر پابندی لگا دی گئی۔

حتیٰ کہ اگر ایران کے محکمہ ثقافتی ورثہ اور سیاحت کے زیر اہتمام صدر کی سرپرستی میں کوئی تقریب منعقد ہوتی اور ہمیں اس میں شرکت کے لیے مدعو کیا بھی جاتا تو ہمیں ایوان صدر کے میڈیا آفس کی جانب سے فون کال آ جاتی کہ اس میں العربیہ کا کوئی نمائندہ شرکت نہیں کرے گا۔
تقاریب میں شرکت پر پابندی
اس کے فوری بعد ایران کی وزارت خارجہ کی سرگرمیوں میں ہماری شرکت کو محدود تر کر دیا گیا اور ہم پر قومی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی پابندی عاید کر دی گئی۔ ایران میں کام کرنے والے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے معاملات کی ذمے دار وزارت ثقافت اور رہنمائی ان پابندیوں کے خلاف ہماری درخواستوں پر بے دست وپا دکھائی دیتی تھی۔

اس صورت حال نے ہمارے لیے ایران کی پیشہ ورانہ اور درست انداز میں کوریج کو ایک چیلنج بنا دیا تھا۔ البتہ میں ایرانی اور غیر ملکی صحافیوں سے اپنے روابط کی بنا پر ایوان صدر اور وزارت خارجہ سے متعلق معلومات اور خبریں حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

ایرانی صدر کے قریب سمجھے جانے والے ایک شخص نے مجھے یہ کہا کہ ”اگر میں ایوان صدر کے بعض عہدے داروں کے خلیجی شخصیات سے سیاست نہیں بلکہ تجارتی مقاصد کے لیے روابط استوار کرا دوں تو العربیہ کا مقاطعہ ختم کیا جا سکتا ہے”۔

تاہم صورت حال اس وقت اور زیادہ سنگین ہو گئی جب العربیہ نے ایرانی بلوچستان میں جنداللہ ملیشیا کے ہاتھوں پاسداران انقلاب کے دو افسروں کے قتل کی ویڈیو نشر کر دی۔

مجھے وزارت ثقافت اور رہنمائی کے غیر ملکی پریس ڈویژن کے سربراہ کی جانب س صبح دم ایک فون کال موصول ہوئی۔ انھوں نے مجھ سے کہا میں فوراً ان کے دفتر پہنچوں۔ جونھی میری ان سے ملاقات ہوئی اور اس سے پہلے کہ میں نشست پر بیٹھتا۔ وہ صاحب چلائے اور کہا: ”میرا جی چاہتا کہ العربیہ کے تمام عملے کو یہاں بلا لوں اور انھیں قتل کرنے کی دھمکی دوں یا انھیں حقیقی طور پر گولی مار دوں تاکہ وہ اس مواد کو نشر کرنا بند کر دیں؟”

میں نے انھیں ٹھنڈا کرنے اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ چینل تو صرف اپنا کام کر رہا ہے۔”یہ العربیہ نہیں تھا جس نے آپ کے لوگوں کو اغوا یا قتل کیا ہے؟” میں نے ان صاحب سے کہا۔ انھوں نے پھر مجھے ایک حکم نامہ دکھایا جس پر داخلی سلامتی کے سپریم لیڈر کے دستخط تھے۔ اس میں وزارت داخلہ کا العربیہ کے دفتر کو بند کرنے اور اس کے تہران میں بیورو چیف کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ درج تھا۔ پھر اس افسر نے کہا کہ ”وہ وزارت کو اس معاملے پر نظرثانی کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اس ضمن میں ایک سرکاری درخواست بھی بھیجیں گے”۔
العربیہ ہی نہیں سب کہہ رہے تھے
مئی 2008ء میں ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے ایڈیٹر انچیف حسن ہانی زادہ نے ان کی ایجنسی کو پاسداران انقلاب کے قریب قرار دینے پر العربیہ کی مذمت کر دی۔ ہم نے انھیں بتایا کہ تمام غیر ملکی میڈیا ادارے مہر نیوز ایجنسی کے بارے میں یہی کہہ رہے ہیں اور صرف العربیہ ہی یہ نہیں کہہ رہا ہے۔

سات مئی 2008ء کو لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حزب اللہ کے قبضے سے متعلق ہماری کوریج پر بھی ایران حکام ناراض ہو گئے تھے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے العربیہ پر الزام عاید کیا کہ وہ حزب اللہ اور ایران کے اتحادیوں کا عمومی طور پر امیج داغدار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ایشو پر ایران کے فوجی کمانڈروں کے اجلاس میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ ان سب کی غالب رائے یہ تھی کہ تہران میں العربیہ کے دفتر کو بند کر دیا جائے۔

اس دوران میں ایرانی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف جنرل غلام علی راشد سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گیا اور کسی حد تک دوطرفہ کشیدگی کو کم کرنے میں بھی کامیاب رہا تھا لیکن العربیہ کے دفتر کو بند کرنے کا معاملہ فوج اور وزارت ثقافت اور رہ نمائی کے درمیان لٹک کر رہ گیا تھا۔

ابھی یہ معاملات چل ہی رہے تھے کہ العربیہ نے بی بی سی کی خمینی اور اسلامی انقلاب سے متعلق ایک دستاویزی فلم نشر کر دی۔ اس پر ایک مرتبہ پھر ہم پر ایران کے امیج کو داغدار کرنے کا الزام لگ گیا۔ ایرانی حکام نے اس فلم کو العربیہ کی جانب سے اعلان جنگ اور ایک میڈیا جنگ قرار دے دیا۔

انہی دنوں مجھے دبئی میں ہمارے ہیڈکوارٹرز سے ایک ای میل موصول ہوئی۔ اس کے ساتھ ایران کے صوبہ سیستان/بلوچستان میں اہل سنت کی ایک مسجد کی مسماری کی تصاویر منسلک تھیں۔ مجھ سے یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا واقعی ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا ہے؟ میں نے اس کا جواب بھیجا کہ ایران میں اس سے بھی بدتر واقعات رونما ہو رہے ہیں لیکن مسجد سے متعلق اسٹوری کو چلاتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ العربیہ کو شیعہ مخالف سمجھا جاتا ہے۔

میں جب بیروت میں اسپتال میں داخل اپنی اہلیہ کی تیمار داری کے لیے موجود تھا تو ایرانی انٹیلی جنس اور اسٹیٹ سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے ایک صحافی نے مجھ سے ملاقات کی۔ اس نے ایک ویب سائٹ کا حوالہ دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میں ایران کے خلاف سعودی انٹیلی جنس کے لیے کام کر رہا تھا۔ میں نے اس ایرانی صحافی کو بتایا کہ یہ ویب سائٹ کینیڈا میں مقیم حزب اللہ کے وفاداروں کی ملکیتی ہے اور مجھ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور توہین آمیز ہیں۔
العربیہ مخالف مہم میں شدت
ایران میں العربیہ اور میرے خلاف مہم تیز کر دی گئی اور اس میں سیاست دان اور پارلیمان کے ارکان بھی کود پڑے تھے۔ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ کمیٹی کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے تہران میں ہمارے دفتر کو بند اور تمام عملے کو ملک سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی کمیٹی کے ایک رکن حامد رضا حاجب عبائی نے بروجردی کے اس مطالبے کی حمایت کی اور ہم پر امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایران کے خلاف سازش میں ملوث ہونے کا الزام عاید کر دیا۔

ان کے علاوہ قدامت پرست گروپ سے تعلق رکھنے والی گیارہ طلبہ تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں وزارت ثقافت اور رہنمائی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ تہران میں العربیہ کے دفتر کو بند کر دیا جائے اور اس کے بیورو چیف کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ انھوں نے العربیہ کے بیورو دفتر کے سامنے مظاہرے کی بھی اپیل کی۔

میں نے اس پر اپنے عملے کا ایک اجلاس طلب کیا اور انھیں بہت محتاط رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب دینے سے گریز کریں۔ میں نے انھیں کہا کہ اگر دفتر کے سامنے کوئی ریلی دیکھیں تو اپنے دروازوں کو بند رکھیں اور عمارت کے اندر ہی رہیں یا پھر چھت پر چلے جاَئیں۔ میں نے انھیں متنبہ کیا کہ اگر دفتر پر حملہ ہوتا ہے تو وہ کسی بھی قسم کی مزاحمت سے گریز کریں۔

اس وقت میرا فارسی ادب میں پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے اندراج ہو چکا تھا اور مجھے آیندہ سمسٹر میں اپنے تعلیمی آغاز کے لیے جامعہ تہران کی جانب سے منظوری بھی مل چکی تھی لیکن جب میں داخلے کے آخری مرحلے میں وزارت تعلیم سے اجازت نامے کے حصول کے لیے گیا تو مجھے ایک اور رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا اور وزارت کے حکام نے مجھ سے سکیورٹی کلئیرینس طلب کر لی۔

میں نے بین الاقوامی طلبہ کے امور کے انچارج سے بات کی۔ اس کا وزارت سراغرسانی اور قومی سلامتی نے براہ راست تقرر کیا تھا۔ ان صاحب کو جب اس حقیقت کا پتا چلا کہ میں ایک لبنانی شیعہ ہوں تو انھوں نے تجویز پیش کی کہ اگر میں ایران کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کروں تو میں بہت جلد ایرانی میڈیا کے حلقوں میں بااثر بن جاؤں گا اور مجھے ایرانی حکام سے تعاون کرنے والے غیر ملکی صحافیوں کو ملنے والی تمام مراعات بھی حاصل ہو جائیں گی۔

ان صاحب نے مزید وضاحت کی کہ اگر میں نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کیا تو مجھے جامعہ میں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ میں نے اس کو یہ جواب دیا کہ ”شیعہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میں ایرانی ایجنٹ بن جاؤں”۔ میں نے اس بلیک میل کو مسترد کر دیا اور اس نے مجھے یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اجازت نامہ دینے سے انکار کر دیا۔

خلیج میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے کام کے حوالے سے مجھ پر ایک مرتبہ پھر الزامات لگائے جانے لگے۔ ایران کے سرکاری روزنامے کیہان نے ایک مضمون شائع کیا جس میں مجھ پر الزام عاید کیا گیا کہ میں ایرانی اصلاح پسندوں اور ایک خلیجی ملک کے سفیر کے درمیان رابطے کا فریضہ انجام دے رہا تھا۔ اس کے جواب میں اصلاح پسندوں کے میڈیا نے میرا اور العربیہ کا دفاع شروع کر دیا۔ اب قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں کے اخبارات میں ایک نئی جنگ شروع ہو گئی تھی۔
ایران سے بے دخلی
یکم ستمبر 2008ء کو میں اس امید کے ساتھ وزارت ثقافت اور رہنمائی کے غیر ملکی پریس ڈویژن میں گیا کہ ایک سفری اجازت نامہ حاصل کر سکوں۔ وہاں مجھے اسسٹنٹ جنرل مینجر نے بتایا کہ وزارت کا محکمہ سکیورٹی اجازت نامہ جاری کرنے سے انکاری ہے۔ اس کے بعد جنرل مینجر نے مجھ سے کہا کہ میں اگلے روز ان سے ملاقات کروں۔ اگلی صبح میں پھر ان کے دفتر میں تھا۔

میں نے انھیں بتایا کہ میں نہ تو سفری اجازت نامہ حاصل کر سکتا تھا اور نہ ایران میں میرے قیام کی تجدید ہو سکتی تھی۔ اس کی مدت دو ماہ میں ختم ہونے والی تھی۔ میں نے ان صاحب کو مجھے دی جانے والی دھمکیوں، بلیک میل اور اپنی کردار کشی کے بارے میں بتایا۔

اس ایرانی افسر نے مجھے بتایا کہ مجھے اب ایران میں مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور میری سفری دستاویزات میری پرواز سے اڑتالیس گھنٹے قبل تک سراغرسانی اور قومی سلامتی کی وزارت کے پاس رہیں گی۔ میں نے اس تمام پیش رفت سے دبئی میں العربیہ کے ہیڈ آفس کو مطلع کیا۔ میں نے یہ بھی بتایا کہ میں جتنا جلد ممکن ہوا، ٹکٹ ملنے پر ایران سے لوٹ آؤں گا۔

ایران سے روانہ ہونے سے صرف ایک روز قبل میں نے اپنے جاننے والے ایک سنئیر افسر سے الوداعی ملاقات کی۔ انھوں نے مجھے کہا کہ انھیں میری ایران بدری پر بہت دکھ ہے اور مجھے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے میں ان سے ان کے دفتر میں ملوں۔

مجھے اس بات کا بھی خدشہ تھا کہ مجھے ایران سے واپس جانے سے روکا جا سکتا تھا۔ اس خدشے کے پیش نظر نو ستمبر ہی کی تاریخ کو میں نے ایک اور پرواز میں اپنی نشست بُک کروا لی۔ میں نے اس ایرانی عہدے دار سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ان کے ساتھ علاء الدین بروجردی بھی موجود تھے۔ انھیں پارلیمان کے اجلاس سے خصوصی طور پر بلوایا گیا تھا۔ میرے دوست نے مجھے ایران بدری کے فیصلے کی وجوہ کےبارے میں بتایا۔

میں نے تمام کہانی دُہرائی اور بروجردی کے کردار کا بھی تذکرہ کیا لیکن میں نے ان کا نام نہیں لیا۔ بروجردی نے میرے گفتگو کے انداز پر اعتراض کیا لیکن مجھے جس طرح ڈرایا دھمکایا گیا تھا اور ہراساں کیا گیا تھا، میں اس کی تمام تفصیل بیان کرنا چاہتا تھا۔

میں نے کہا کہ مجھے ایران بدر کرنا ایک چھوٹا قدم تھا کیونکہ ایرانی میڈیا یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ حکام نے العربیہ کے دفتر کو بند کر دیا ہے بلکہ وہ سادہ طور پر یہ کہہ سکتا تھا کہ اس کا نمائندہ ملک سے چلا گیا ہے۔ اس کی میں نے وضاحت کی کہ اس سے دو مقاصد حاصل ہوں گے: العربیہ کا دفتر بند ہو جائے گا اور مسائل پیدا کرنے والے صحافی سے چھٹکارا مل جائے گا۔

میں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے طویل المدت انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ایرانی حکومت بیرون ملک اپنے موقف کو واضح کرنے کے موقع سے محروم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ وہ خود پر کی جانے والی تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکے گی۔

میرے دوست نے کہا کہ وہ وزارت سراغرسانی اور قومی سلامتی کے حکام سے اس فیصلے کو منسوخ کرانے کے لیے بات چیت کریں گے۔تاہم میں ایران چھوڑنے کا غیر متزلزل ارادہ کر چکا تھا کیونکہ مجھے ایران میں مزید برداشت کرنے اور خوش آمدید کہنے سے انکار کیا جا چکا تھا اور میں پہلے ہی اس کے باوجود کچھ زیادہ عرصہ وہاں گزار چکا تھا۔
(بشکریہ العربیہ)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s