ایک دلچسپ اور منفرد ملاقات کا احوال

ہمارے کام میں برکت تب آئی جب ہم اللّٰہ سے جڑ گئےجو اللّٰہ کا کام کرتا ہے اللّٰہ اس کا کام کرتا ہے

ہم ۲۳ سے زائد مملک کو گلاس ایکسپورٹ کرتے ہیں

زندگی کے مثبت پہلوئوں کو دیکھنا ہی ترقی کا باعث بنتا ہے

غنی گروپ فلوٹ گلاس، کنٹینر گلاس بنانے میں %۸۲ مارکیٹ شیئر کے ساتھ سرِفہرست مانا جاتا ہے

ہمارے دنیا بھر میں ایک ہزار سے زاید مطمئن کارپوریٹ کسٹمر ہیں

خاندان کے بچوں کو کاروبار میں آنے پر بالکل نچلی سطح سے آغاز کرایا جاتا ہے

ہم نے طے کیا تھا اگر ملٹی نیشنل کمپنیاں شفاف طریقے سے بزنس کر سکتی ہیں تو ہم بھی ایسا ہی کلچر اپنائیں گے

ہم تجارت کو دنیا کے لیے ہی نہیں آخرت کے لیے بھی اہمیت دیتے ہیں

تین لاکھ ٹن سالانہ گلاس بنانے والے پاکستان کے بڑے صنعتی گروپ غنی گلاس انڈسٹریز کے سی۔ای۔او امتیاز احمد خاں کی باتیں۔ وہ کاروبار کی دنیا میں دنیا کو ایک اور ہی انداز سے دیکھتے ہیں

گاڑی جس تیزی سے ماڈل ٹائون کی طرف رواں تھی، زندگی کی رفتار اس سے بھی کہیں تیز رہی ہوگی، تبھی تو ۱۹۶۳ء میں قائم ہونے والی مائنگ کمپنی، گلاس انڈسٹری میں اور پھر پاکستان کے ایک بڑے صنعتی گروپ میں ڈھل گئی۔ اکثر بڑے کاموں اور بڑی کامیابیوں کے لیے بڑی صلاحیتوں سے زیادہ بڑے خواب اہم ہوتے ہیں جو اس منزل پر پہنچاتے ہیں۔اس لمحے ہماری منزل ماڈل ٹائون کے ایل بلاک میں واقع وہ گھر تھا جس کے ماتھے پہ ۵۰؍ لکھ ا ہے۔ بے شک یہ غنی گروپ کا صدردفتر ہے۔ یہاں پاکستان کے صفِ اول کے گلاس برانڈ کے ساتھ ساتھ غنی آٹوموبائلز کے دفاتر قائم ہیں۔ گروپ کے چیف ایگزیکٹیوآفیسر امتیاز احمد خان سے ملاقات کا وقت ۱۱بجے طے تھا۔ ہم تیزی سے فاصلہ طے کر رہے تھے حالانکہ ایسی تیزی کبھی کبھی فاصلے بڑھانے کا باعث بھی بن جاتی ہے۔غنی گلاس انڈسٹریز کا آغاز و عروج بذات خود ایک دلچسپ داستان ہے۔ جس کا ایک سرا لاہور کے گورنرہائوس سے ملا ہوا ہے جہاں ایک محنتی اور دیانت دار سرکاری ملازم نے اپنے بچے کے لیے سرکاری نوکری کی خواہش کا اظہار کیا اور گورنرہائوس کے خاص مکین اور تب کے گورنر ملک امیر محمد خاں نے کہا ’’نوکری میں کیا رکھا ہے یہ ساری عمر نوکری ہی کرتا رہے گا‘‘۔ کوئی اور دور ہوتا، یہی فرمایش ہوتی تو ممکن ہے ’’اللّٰہ کریسی‘‘ کا تاریخی جواب ملتا۔ مگر امیرمحمدخاں نے ایک انوکھا کام کیا۔ اپنی سوچ اور تعلق کا اظہار یوں کیا کہ کان لیز پہ دینے کا اہتمام کیا۔ اگر صرف نصیحت اور مشورہ ملتا اور عملاً کچھ نہ ہوتا تو آج غنی گروپ اور صفِ اوّل کی غنی گلاس انڈسٹریز بھی شاید وجود میں نہ آتی مگر ساتھ ہی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کانیں تو بے شمارلوگوں کے پاس پہلے بھی تھیں اور اب بھی ہیں۔ کہیں جدی پشتی، کہیں لیز پر، کہیں حصہ داری میں مگر وہ سب تو نہ انڈسٹری میں آئے، نہ صنعت کار ہوئے، آخر اس خاندان میں کچھ تو ایسا خاص رہا ہوگا کہ جس کی وجہ سے اللّٰہ نے اپنی رحمت کا سایہ ان پر کردیا اور وہ دوسروں کی فیکٹریوں کو راک سالٹ، کول اور سلیکا سینڈ جیسا خام مال فراہم کرتے کرتے، گلاس سازی میں آگئے اور اپنی محنت، دیانت اور ذہانت کے بل پہ صفِ اول میں شمار ہونے لگے۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ ملاقات روایتی تعارف کے بغیر ہی شروع ہوگئی۔ تبلیغ اور تبلیغی مصروفیات کا ذکر اس قدر غالب آگیا کہ ہمارا پہلا سوال انہی میں دب گیا۔ ہم نے گفتگو کو خاموشی سے ہونے دیا۔ جب تھوڑا سا وقفہ آیا تو شریکِ گفتگو ہوگیا۔ ’’غنی گلاس انڈسٹریز کا ویژن بہت مختلف ہے۔‘‘ میں نے صاف ستھرے شلوار سوٹ پہ بلیک کوٹ پہنے امتیاز صاحب سے پوچھا تھا۔ انھوں نے اپنی گول ٹوپی نرمی سے سر پہ جماتے ہوئے کہا ’’ہمارا ویژن، ہماری زندگی اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جو اقدار ہم اپنی ذاتی زندگی میں پسند کرتے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ کمپنی بھی انہی خطوط پہ چلے۔ ہم اپنی دنیا کے لیے ہی نہیں آخرت کے لیے بھی اپنے بزنس اور تجارت کو اہمیت دیتے ہیں۔‘‘میں نے بات کو تھوڑا گھمانے کی کوشش کی۔ بے شک منفرد ہے یہ ویژن اور مختلف بھی مگر اس میں تو تبلیغی جماعت کے مخصوص الفاظ تک آگئے ہیں۔ وہ مسکرائے، انھوں نے مجھے دیوار پہ لگے ایک فوٹو پرنٹ کو بار بار پڑھتے پایا تھا۔ بے شک وہ پرنٹ میرے ہاتھ میں بھی تھا۔ عاطف نے بڑی محنت کرکے کمپنی کے بارے میں تمام معلومات جمع کرکے مجھے دی تھیں اور میں نے تبھی سوچا کہ دوسرا سوال یہی کرنا ہے کہ اپنے خیالات کو کمپنی ویژن میں منتقل کرنا لوگوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ آپ نے اس مشکل کو آسان کیسے کیا؟بے شک دیوار پہ چسپاں کاغذ پہ لکھے ویژن کی بجائے کوئی خوب صورت فریم ہونا چاہیے تھا۔ شاید کسی روز جنیدامتیاز یہ کام کر لیں جو ان کے صاحبزادے ہیں اور ملاقات کے اختتام پہ دبئی سے پہنچے تھے۔ دو روز پہلے جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو پتا چلا کہ میرا فون تو دبئی کے اس ہوٹل میں جا ملا ہے۔ جہاں انھیں لاہور سے اچانک پہنچنا پڑا تھا۔ غنی گلاس کی ایک جدید فیکٹری اور پلانٹ دبئی میں بھی کام کر رہا ہے۔ میں نے جنید کو ایک مؤدب بیٹا اور باخبر منتظم پایا۔ اس روز انھوں نے دبئی سے ہی عاصم صاحب کے ذمے لگایا اور اس ملاقات کو ممکن بنایا۔کاغذ پر لکھا تھا، غنی گلاس کا Ultimate Purpose ’’ادارے کا مقصد زندگی کے ہر شعبے میں حضورؐ کے طریقے کو زندہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک مثالی نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ زندگی کے تمام شعبوں کے لوگ اپنے اپنے شعبے میں حضورؐ کی محنت کو اپنی محنت بنائیں۔‘‘ اگلی سطر میں پھر انگریزی کی سرخی تھی Purpose of Vision اور اُردُو میں لکھا تھا:٭ حضورؐ کے امتی ہونے کا احساسِ ذمے داری٭ شعبہ تجارت میں تجربہ اور مہارت٭ شعبہ تجارت میں شدتِ ضرورتامتیاز صاحب نے یقینا دیانت دار تاجروں کے حوالے سے آنحضورؐ کے فرمان کو پڑھ رکھا ہوگا کہ وہ جنت میں انبیا کے ساتھ ہوں گے تبھی تو کہہ رہے تھے کہ تجارت میں آنحضورؐ اور ان کے تیارکردہ لوگوں کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ حضرت ابوبکرؓ مکہ میں ریشم کے کپڑے کا بیوپار کرتے تھے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ بعد کے سالوں میں تجارت کے اسلامی اصولوں کی وجہ سے ارب پتی تاجر بنے تھے۔ میں نے سوچا کہ امتیاز صاحب حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے ماڈل پر چل رہے ہیں کیونکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ تو ایمان لانے کے بعد اور بعد میں خلافت کی ذمے داریوں کے دوران زیادہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے وقت ہی نہیں نکال پاتے تھے۔ اس لیے دُنیاوی اساسوں کے مالک نہ رہے تھے ہاں جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے خوب تجارت کی یہاں تک کہ اللّٰہ نے رزق کے سارے دروازے ان کی طرف کھول دیے۔ اس لیے وہ روتے تھے کہ یہ مال کبھی آزمائش بھی ٹھہرتا ہے۔۵۰؍سالوں کے سف ر کے بعد غنی گلاس کے پاس مشروبات کے لیے استعمال ہونے والی شیشے کی بوتلوں ( Glass Container) کی ملک بھر کی مارکیٹ کا ۷۳فیصد حصہ ہے اور فارماسوٹیکل انڈسٹریز میں %۸۶ حصہ یا مارکیٹ شیئر ’’یہ حصہ پانا اتنا آسان تو نہیں رہا ہوگا۔‘‘امتیاز صاحب ایک لمحے کو چونکے پھر بولے’’ اللّٰہ آسانیاں دیتے ہیں۔ ہم نے طے کیا تھا کہ اگر ملٹی نیشنل کمپنیاں شفاف طرزِعمل، پورے ٹیکس اور دیانت داری کے ساتھ اپنا کلچر بناتی ہیں تو ہم بھی اپنا کلچر بنائیں گے۔ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کوتو میں خود جانتا ہوں کہ ۴؍ سال تک اپنی پراڈکٹ رجسٹرڈ نہیں کرا پائے کہ انھوں نے غلط راستہ اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔‘‘سماجی ذمے داریوں اور چیریٹی کے حوالے سے گفتگو آگے بڑھی تو امتیاز صاحب نے کہا، پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ یہاں بڑے بڑے صنعت کار سماجی بھلائی کے کاموں میں بے حد دلچسپی لیتے ہیں۔ ہم بھی ازمیر میں میسج فائونڈیشن کے نام سے سکول چلا رہے ہیں۔ پسرور میں بھی ایک سکول ہے۔ ڈسپنسری کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اس سلسلے کو دراز کرنے کا ارادہ ہے۔ا متیاز صاحب کے بارے میں مجھے علم ہوا تھا کہ وہ جیلوں میں قید، قیدیوں کی تعلیم اور رہائی کے لیے بھی کوشاں رہتے اور آنے والے دِنوں میں دینی مدارس کے عملے کے لیے ٹیکنیکل تعلیم کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ ان کے باعزت رزق کا انتظام ہو سکے۔ان کا خیال تھا یہ سارا کام عبادت ہے۔ کاروبار و تجارت، عبادت اور ہر اچھے کام کی بنیاد میں دین موجود ہے۔ دین ہمیں کم وسیلہ لوگوں کی مدد کے لیے کہتا ہے۔ اہلِ زر کو کمزور مالی حیثیت والوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ زندگی میں چیزوں کے مثبت پہلوئوں کو دیکھنا چاہیے۔ یہی ترقی کا باعث بنتا ہے۔اچھی سوچ، اچھی تعلیم جتنی بڑھے گی، ملک اتنا ہی آگے بڑھے گا۔ یہاں کے لوگوں میں اداروں میں پھلنے پھولنے کے بہت امکانات ہیں۔ اللّٰہ سے جڑے رہنے اور اس کی باتیں ماننے میں خیر ہے۔ ہمارے تو سارے کاروبار میں یہ خیر آئی ہی تب، جب ہم اللّٰہ سے جڑ گئے۔غنی گلاس انڈسٹریزکے ۴؍ گلاس پلا نٹ ہیں جن کی سالانہ پیداوار ۳؍لاکھ ٹن ہے۔ یہ گروپ فلوٹ گلاس، کینٹینر گلاس بنانے میں سرِفہرست یا نمبر ون سمجھا جاتا ہے۔ راک سالٹ، کول، سلیکا سینڈ کی مائننگ سے تجارتی زندگی کا آغاز کرنے والا یہ گروپ اب آٹوموبائیلز کی صنعت میں بھی آ چکا ہے۔ غنی موٹرسائیکل، غنی رکشا، غنی پک اپ رکشا ان کی معروف مصنوعات ہیں۔ آفس کی ایک دیوار پہ غنی آٹوموبائیلز کا کیلنڈر بھی آویزاں تھا، حالانکہ اس سادہ سے دفتر میں وہ تصاویر بھی کسی فریم میں ہو سکتی تھیں۔ سوال یہ تھا کہ گلاس سے موٹرسائیکل کی تیاری کا سفر کیسے؟’’ہم آٹوموبائلزمیںایسے نہیں آئے۔‘‘ امتیاز صاحب نے پہلے حیرت سے میرا سوال سنا تھا۔ ایسی ہی ہی حیرت کا سامنا گزشتہ ماہ پاکستان کی صفِ اول کی کنسلٹنگ کمپنی اباکس کے چیف ایگزیکٹیوآفیسر اسد علی خاں کو ہوا تھا۔ وہ تو باقاعدہ کہہ اٹھے تھے ’’میرے اور میری کمپنی کے بارے میں آپ خوب پڑھ کر اور تیار ہو کر آئے ہیں۔‘‘’’ہم پہلے مائنر سے خام مال دوسری انڈسٹریز کو سپلائی کرتے تھے۔ پھر خود گلاس انڈسٹری کی طرف آئے۔ یہاں کامیابی کے بعد ہم ٹیکسٹائیل کے بزنس میں گئے۔ تب سبھی یہی کرتے تھے۔ ٹیکسٹائل کے عروج کا زمانہ تھا۔ پھر وہ شعبہ زوال کا شکار ہوگیا۔ ہمارا بھی سلک یونٹ تھا، ہم نے اسے آٹو موبائلز میں بدل لیا۔‘‘ ویسے بھی غنی گروپ میں Sick Units کو خریدنے، زندہ کرنے اور عمدگی سے چلانے کی قابلیت پہلے سے مستحکم ہو چکی تھی۔ اسی لیے فلوٹ گلاس کے بانیوں میں سمجھا جانے والا یہ گروپ فلوٹ گلاس کی مارکیٹ میں ۸۲؍ فیصد حصے کا مالک ہے اور ۲۳ ؍سے زائد ممالک میں فلوٹ گلاس برآمد کرتا ہے۔ ’’آپ ان معدودے چند بزنس گروپس میں سے ہیں جن کے پاس ایک ہزار سے زاید کارپوریٹ کسٹمر ہیں اور وہ بھی مطمئن۔‘‘ ’’یہ اللّٰہ کا بہت احسان ہے۔‘‘ امتیاز صاحب نے پھر سے کہنا شروع کیا ’’جو اللّٰہ کا کام کرتا ہے۔ اللّٰہ اس کا کام کرتا ہے۔‘‘میں نے حیرت سے کہا، آپ تو سنا ہے کام چھوڑ کر چلّے پر چلے جاتے ہیں بلکہ سنا ہے ابھی برازیل، چلی وغیرہ سے ہو کر آئے ہیں کوئی ایک سال کا تبلیغی دورہ کرکے۔ ’’ہاں بالکل‘‘ انھوں نے تصدیق کی۔ میرے تو سارے فیملی والے اس کام میں ہیں اور ہم اکثر جاتے ہیں۔ کام بھی چلتا رہتا ہے بلکہ جب سے ہم اللّٰہ کے کام میں پڑے ہیں اور رسولؐ کی محنت کو اپنی محنت بنایا اور اس پر کام کیا ہے کہ یہ محنت اُمت میں کیسے آ جائے تو ہمارے کام میں تو برکت بے حد نمایاں ہو گئی ہے۔ ’’تو کیا اس برکت کے لیے اگر آپ کے ملازمین بھی لمبے لمبے چلّوں اور دوروں پہ جانا چاہیں تو۔‘‘’’ہاں کئی جاتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اسی جوش و خروش سے جواب دیا۔’’تو کیا آپ اُنہیں تنخواہ پوری دیتے ہیں اس دوران…‘‘ میرا اگلا سوال فطری تھا۔بولے ’’نہیں تنخواہ تو نہیں دیتے بلا تنخواہ جاتے ہیں۔ اولاد، بیوی، بچے سب کو اللّٰہ کے آسرے پر چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘سوال تو کئی سارے ذہن میں آ رہے اور بعض تو اصرار بھی کر رہے تھے مگر بات پھر کسی اور طرف نکل جاتی۔ ہم تو ان کا بزنس ماڈل دیکھنے آئے تھے۔ جاننے آئے تھے کہ دینی پس منظر رکھنے والے لوگ کس طرح بزنس کرتے ہیں۔ کیسے نئی روایت کو جنم دیتے ہیں۔ خود مثال بنتے ہیں یا معاشرے کے چلن کا شکار ہو کر کانِ نمک کا حصہ بن جاتے ہیں۔طیب صاحب نے بہت نفاست اور معصومیت سے اچانک کہا ’’امتیاز صاحب لگتا ہے آپ تو روزے سے ہیں۔‘‘ انھوں نے فوراً پی۔اے کو بلایا اور کہا’’ میں واقعی روزے سے ہوں، مہمانوں کے لیے چائے لائو۔میں کہنا بھول گیا تھا۔‘‘ہم تو سوچ رہے تھے کہ کچھ دیر بعد ازخود چائے آ جائے گی مگر ۲؍ گھنٹے گزر گئے۔ طیب صاحب نے خوب سب کی نمائندگی کردی۔امتیاز صاحب ایک بار پھر تبلیغی سرگرمیوں کے فضائل بتا رہے تھے۔ جب میں نے پوچھا ’’کیا آپ نئے ملازمین کے انٹرویو کرتے ہوئے یہ تعلق اور خوبی بھی دیکھتے ہیں‘‘۔ وہ بات کی تہہ کو پہنچے اور بولے ’’نہیں۔‘‘’’ملازمت دیتے وقت تو ہم اس کی اہلیت اور قابلیت ہی دیکھتے ہیں۔ وہ بغیر ڈاڑھی والا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد تربیت کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس میں بھی زبردستی نہیں ہوتی میں خود لیکچر اور بیان کرتا ہوں۔ مسجد میں تربیت ہوتی ہے۔ ہمارے ملازمین کی ایک بڑی تعداد نماز پڑھتی ہے‘‘۔ اس کا مشاہدہ ہم نے ظہر کی نماز میں کر بھی لیا۔ دفتر کے ایک کمرے میں بنی مسجد نمازیوں سے بھری تھی۔ نماز کے بعد تبلیغی نصاب سے بیان بھی ہوا۔جدید علم اور مہارتوں کی اہمیت بزنس میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ نئے سسٹمز، نئی پریکٹسز تبھی وجود میں آتی ہیں، اسی لیے میں نے پوچھا ، امتیاز صاحب آپ خود کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے کیسے آگاہ رکھتے ہیں؟ کیا سیمینارز اور ورکشاپس میں جاتے ہیں، جیسے دوسرے سی۔ای۔اوز جاتے ہیں۔ ان کا جواب میری توقع سے مختلف تھا۔ بولے’’ باہر کے دوروں کے دوران اپنی معلومات کے اضافے اور تربیت کا موقع ملتا ہے۔ ہم دنیا کی تمام بڑی بڑی نمائشوں میں شرکت کرتے ہیں۔ ۲۳؍ممالک کو گلاس برآمد کر رہے ہیں‘‘۔ میں تو اس لیے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ ان کی کمپنی ماحول دوست حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی سمجھتی ہے۔ یقینا ایچ۔آر کی بڑی بڑی کانفرنسوں اور سیمینارزمیں بھی جاتے ہوں گے۔غنی گروپ کی مینجمنٹ اب آہستہ آہستہ نئی نسل میں منتقل ہو رہی ہے، اس لیے جاننا ضروری تھا کہ یہ مراحل کیسے طے ہو رہے ہیں۔ جو اب ایک حیران کن انکشاف تھا۔ سنا ہے بڑے کاروباری گروپ خاص طور پر میمن اور چنیوٹی شیخ برادری اس پر عمل پیرا ہے۔ امتیاز صاحب نے بتایا ’’ہمارے خاندان کے بچے جب کاروبار میں آتے ہیں تو نچلی سطح سے آغاز کرایا جاتا ہے۔ ہم۴؍ بھائی ہیں۔ ۳ ؍ بھائی گلاس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ بڑے بھائی مائننگ میں ہیں۔ میرے ۲ ؍ بچے بھی اب میرے ساتھ ہیں۔ ایک دبئی کے پلانٹ کو دیکھ رہا ہے۔ جنید میرے ساتھ ہے۔ ہمارے برادران لاء اور ان کے بچے بھی اسی طرح بزنس میں آگے بڑھے ہیں۔‘‘امتیاز صاحب کے صاحبزادے جنید خاں جو اب گروپ کی مارکیٹنگ دیکھتے ہیں، کو یہ تحریر لکھتے ہوئے رات گئے میں نے کال ملائی اور پوچھا آپ نے ابا کو کب جوائن کیا۔ بولے ’’۹۶ء میں مگر انٹرویو تو میرا نہیں تھا پھر۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا بس کنفرم کرنا ہے، آپ نے کس پوزیشن سے کام شروع کیا۔ جواب دلچسپ تھا ’’کلرک کی جاب کی پورے ۶؍ ماہ تک۔ او لیول کرکے آیا تھا۔ ہفتے کے ۵۰۰؍ر وپے ملتے تھے‘‘۔ سپروائزر کون تھا آپ کا۔ جنید نے قہقہہ لگایا۔’’ کیا یاد کرا دیا ہے، ایک لڑکا ہوتا تھا حماد۔ وہ میرا سپروائزر تھا۔‘‘ آج کل کیا ذمے داری ہے، میں نے مزید وضاحت چاہی۔ انھوں نے بتایا ’’اب پورے گروپ کی مارکیٹنگ دیکھتا ہوں۔‘‘یہ سن کر میں نے انھیں بتایا کہ ہم بھی پچھلے دو دنوں سے نیٹ پر امتیاز صاحب کی تصویریں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس روز انھوں نے ہمارے فوٹوگرافر کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی دل توڑ دیا۔ تصویر بنانے ہی نہیں دی۔ اب سوچیں، تصویر کے بنا انٹرویو کیسے آئے۔پتا پہ پوت کے مصداق وہ بولے ’’ایک بار فوٹو کے بغیر انٹرویو دے کر دیکھیں۔‘‘میں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ایک تصویر تو ہم نے ڈھونڈ لی ہے جس میں وہ کسی عرب شیخ کو بریفنگ دے رہے ہیں۔اب آپ تھوڑی زحمت کریں، ان کا کوئی پاسپورٹ والا فوٹو ہی دلا دیں۔ اور وہ بھی انھیں بتائے بغیر۔ انھوں نے صبح کا وعدہ کیا۔ اب دیکھئے کیا گزرتی ہے صبح ہونے تک۔ تصویر مل گئی تو جنید کا شکریہ۔ نہ ملی تو میں نے پہلے ہی پوچھ لیا تھا کہ آپ نے تبلیغی کلچر اور مزاج کب اختیار کیا۔ بولے ’’کہاں اختیار کیا ہے۔ بس ایسے ہی ڈراما ہے۔‘‘ یاد رہے جنید ماشاء اللّٰہ طویل قامت ہی نہیں طویل ڈاڑھی کے مالک بھی ہیں۔ ہم نے تو ان کو اچھا میزبان اور اچھا انسان پایا۔ہمارے کام میں برکت تب آئی جب ہم اللّٰہ سے جڑ گئےجو اللّٰہ کا کام کرتا ہے اللّٰہ اس کا کام کرتا ہے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s