بات اصولوں پر آئے تو ٹکرانا ضروری ہے… زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے۔

 

دنیا میں ایسا کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا جسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ ہو، کردار مٰیں عمل میں چاہے جتنا بھی برا ہو برے سے برے مسلمان کے دل میں بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کہیں نہ کہیں لازمی ہوتی ہے۔ جسطرح امریکی ملعون نے وہ غلیظ فلم بنا کر دنیا کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے اس پر بے شک ہر مسلمان کا دل رنجیدہ ہے مجھہ سمیت تمام مسلمانوں کے جذبات یقینناً یہ ہی ہیں کے اگر وہ ملعون سامنے آجائے تو اپنی جان کی پرواہ کئیے بغیر اسے جہنم رسید کردے۔

اس قبیح فعل پر مسلمانوں کا احتجاج جائز ہے لیکن احتجاج پر امن ہونا چاہئیے ویسا احتجاج نہیں جیسا ہمیں پاکستان میں دیکھنے میں آرہا ہے، اپنے ہی گھر کو آگ لگانے سے تو ایسے لوگوں خوش ہونے کا موقع دے رہے ہیں جیسے لوگوں نے وہ فلم بنائی ہے۔

کچھہ محبتیں اور عقیدتیں اللہ نے دنیا کے ہر انسان کی فطرت میں شامل کر کے اسے دنیا میں بھیجا ہے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کے والدین کی محبت صرف مسلمانوں میں ہی پائی جاتی ہے والدین سے محبت دین فطرت میں شامل ہے دنیا کا ہر انسان اپنے والدین سے محبت کرتا ہے، وطن کی محبت فطری ہے، قوم کی محبت فطری ہے، اچھائی سے محبت کرنا برائی سے نفرت کرنا فطری عمل ہے، حیاء بھی فطری چیز ہے جس وقت انسان نے کپڑا ایجاد نہیں کیا تھا اس وقت بھی انسان کو یہ شعور تھا کے اپنے ستر کو ڈھانپ کے رکھنا ہے اسلئیے اس وقت کے لوگ درختوں کے پتوں سے کپڑے کا کام لیا کرتے تھے، یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام کو دین فطرت بھی کہتے ہیں۔

ہر امت کی اپنے نبی سے محبت اور عقیدت بھی فطری بات ہے، اور میں ایسا سمجھتا ہوں کے ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کی کم از کم تین وجوہات ہیں، پہلی وجہ یہ کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک کی وجہ سے ہی ہمیں دین اسلام ملا، ہمارے دین میں نبی پاک صلی علیہ وسلم کو ہر مسلمان کے باپ کی حیثیت حاصل ہے، ہر مسلمان کے ٹیچر ہونے کی حیثیت حاصل ہے، ہر مسلمان بلکے دنیا کے ہر انسان کے محسن ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ دوسری وجہ خود آقا صلی علیہ وسلم کے حکم مبارک مفہوم ہے کے تمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک تم دنیا کے ہر رشتے اور اپنے والدین سے بھی زیادہ مجھے عزیز نہ رکھو، اسطرح یہ ہمارے دین کا یعنیٰ اللہ کا حکم بن گیا۔ تیسری وجہ کے لئیے مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے ہی محسن نہیں ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم رہتی دنیا تک کے ہر انسان کے محسن ہیں آج پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی لوگ تہذیب کے ساتھہ امن کے ساتھہ رہ رہے ہیں یہ تہذیب یہ امن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی عطا کردا ہے، کوئی نبی پاک صلی علیہ وسلم پر ایمان نہ بھی لائے تب بھی جانتا ہے کے آج اس دنیا میں امن سے رہنے کے جو بھی قوانین ہیں وہ اس ہی ہستی کے عطا کردا ہیں یہ میرے نبی کا ہی نور ہے جسکی روشنی سے آج یہ دنیا جگماگا رہی ہے اسلئیے نبی کی حیثیت سے نہ سہی مگر محسن کی حیثیت سے دنیا کے ہر انسان پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم فرض ہے۔

کسی سے محبت اور عقیدت ظاہر کرنے کا سب سے پہلا اصول ہے کہ انسان اس ہستی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو، یہ ممکن ہی نہیں ہے کے میں یہ دعوہ تو کروں کے میں اپنے باپ کی دل سے عزت کرتا ہوں تعظیم کرتا ہوں اور انکے حکم سے روگردانی کروں، یعنیٰ زبان سے اقرار تو کر رہا ہوں لیکن میرا عمل میرے قول کے بلکل الٹ ہے تو پھر یہ محبت نہ ہوئی منافقت ہوئی۔

آج دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں اور خاص طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان (جو کہ نہ اسلامی ہے نہ ہی جمہوری ہے اور نہ ہی پاک ہے) میں یہ منافقت ہر مسلمان کے عمل میں نظر آئے گی، زبانی محبت میں تو ہم فرشتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور جہاں عمل کا وقت آتا ہے تو ہم دور جہالت کے کفار سے بھی بدتر ہوچکے ہیں، زبان سے تو کہتے ہیں لا الہہ الہ اللہ محمد رسول اللہ لیکن عمل کچھہ اور ہی کہہ رہا ہے ہمارا، ہمارا ایک خدا نہیں کئی ایک خدا ہیں وقت اور ضرورت کے لحاظ سے ہم خدا بدلتے رہتے ہیں، کسی کا خدا الطاف حسین ہے کسی کا خدا نواز شریف ہے کسی کا خدا بھٹو ہے کسی کا خدا قاضی صاحب ہیں تو کسی کا خدا کسی اور سیاسی یا مذہبی رہنماء ہے، کہیں ہمارا خدا منسب بن جاتا ہے کہیں پیسہ ہمارا خدا بن جاتا ہے تو کہیں اختیار اور اقتدار کو ہمارے خدا کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، کئی گھروں میں باپ اور دفتروں میں مالکان یا افسران ہمارے خدا ہوتے ہیں، حقیقت یہ ہی ہے کہ ہم سب منافق ہیں جھوٹے اور بدکردار لوگ ہیں، نبی پاک صلی علیہ وسلم کی حرمت پر جان دینے کے لئیے تیار ہیں جو کہ انہوں نے مانگی بھی نہیں ہے، لیکن جو انہوں نے ہم سے مانگا ہے ہم وہی دینے کے لئیے تیار نہیں ہیں، تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے مجھہ سمیت ہر مسلمان اپنے عمل کا محاسبہ کرلے تو وہ جان لے گا کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جس جہالت سے ہمیں نجات دلانے آئے تھے ہم آج اس ہی جہالت کو اپنے سر کا تاج بنائے زندہ ہیں۔

آج یوم عشق رسول صلی علیہ وسلم منایا جارہا ہے یہ بھی سوائے منافقت کے اور کچھہ بھی نہیں ہے، آج یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھہ لوگ پکنک پر جا کر منائیں کے تو کچھہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں انڈین موویز دیکھہ کر یہ دن منائیں گے، اور جو لوگ جلسے جلوسوں میں جائیں گے وہ بھی وقتی طور پر جذباتی نعرے لگا کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے اور کل سے پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی نافرمانی میں لگ جائیں گے، ہمیں اب بھی یہ توفیق نہیں ہوگی کے عہد کرلیں آج کے بعد رشوت نہیں لیں گے، جھوٹ نہیں بولیں گے، دھوکہ نہیں دیں گے، چوری نہیں کریں گے، ملاوٹ نہیں کریں گے میرے نبی کا واضع فرمان ہے کہ جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں لیکن آج پورے پاکستان سے کسی ایک دکان سے بھی ایک پاو خالص دودھہ بھی نہیں لا سکتے ہم۔ جیسے ہم ویسے ہی ہمارے حکمران ہیں وہ بھی یہ دن منا کے اگلے دن سے ہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو بالائے طاق رکھہ کے شیطان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں گے۔

اگر باپ کی بات نہ ماننے والا سرکش ہے نافرمان ہے تو نبی صلی االلہ علیہ وسلم کے فرمان نہ ماننے والا بھی سرکش ہے نا فرمان ہے گستاخ ہے دوسروں سے کیا گلہ کریں اس زمین پر مسلمانوں سے زیادہ کوئی بھی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے، ایک ریلی ہمیں اپنے خلاف بھی نکالنی چاہئیے۔

آپکا کیا خیال ہے اس بارے میں؟

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s