لاپتہ افراد اور اقوام متحدہ کا وفد

پاکستان میں جبری گمشدگیوں (لاپتہ افراد)کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آئے اقوام متحدہ کے دو رکنی وفد نے اپنے دورے کے اختتام پر اگرچہ اس بات کو  سراہا ہے کہ پاکستانی حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے سے نبٹا چاہتی ہے لیکن اس کے ارکان نے زور دیا ہے کہ اس سے متعلقہ مقدمات کو ’ان کیمرہ‘ سنا جائے تاکہ گواہان پر اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کوئی دباؤ نہ ہو۔
اقوام متحدہ کے وفد کے مطابق ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی عدالتی شنوائی کے وقت ان خفیہ اداروں کے اہلکار بھی کمرہ عدالت میں موجود ہوتے ہیں جن پر جبری گمشدگیوں کا الزام ہے، جس سے متاثرہ افراد کے لواحقین اور گواہان دباؤ میں رہتے ہیں۔ وفد کے ارکان نے اپنے دس روزہ قیام کے دوران حکومتی اہلکاروں سمیت کم و بیش ایک سو افراد سے ملاقاتیں کر کے پاکستان میں جبری گمشدگیوں (لاپتہ افراد) کے مسئلے پر حقائق جاننے کی کوشش کی۔ وفد نے اس دوران اسلام آباد، لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔
تاہم اس مسئلے کے اہم فریق ملٹری انٹیلجنس اور فرنٹئر کور کے ذمہ داران نے اقوام متحدہ کے وفد سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح چیف جسٹس آف پاکستان نے ،جو لاپتہ افراد کے مقدمات سن رہے ہیں، وفد سے ملاقات نہ کرنے کو ترجیح دی، بلکہ وہ اس بات پر خاصے برہم نظر آئے کہ اقوام متحدہ کا وفد کس کی دعوت پر پاکستان آیا۔
وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے ایک بیان میں وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کے وفد کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے وفد نے اپنے دورہ کے اختتام پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے پاکستان کے سکیورٹی مسائل کا احساس ہے لیکن انیس سو بانوے کے اقوام متحدہ کے ایک اعلامیہ کے مطابق جبری گمشدگی انسانی وقار کے خلاف ایک جرم ہے اور اسے ہر گز اختیار نہیں کیا جا سکتا چاہے صورتحال جنگ کی ہو یا سلامتی کواندرونی طور پر کوئی خطرہ ہو۔ ’جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔‘
وفد نے جبری گمشدگیوں (لاپتہ افراد) کے خلاف عدالتی فعالیت کی تعریف کی لیکن اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ متاثرہ خاندانوں کی طرف سے ثبوت فراہم کرنے اور ملزموں کی نشاندہی کرنے کے باوجود ابھی تک کسی بھی ذمہ دار کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ ’لاپتہ افراد کے خاندانوں کا یہ حق ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ان کے پیاروں کے ساتھ کیا ہوا اور ریاست کی اس حوالے سے ذمہ داری ہے کہ وہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے۔‘
اقوام متحدہ کے وفد نے حکومت پاکستان سے استدعا کی کہ جن لوگوں نے اس سے ملاقاتیں کی ہیں ان کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے کیونکہ ملاقاتوں کے دوران بیشتر افراد نے اس خوف کا اظہار کیا تھا کہ انہیں اب سنگین نتائج بھگتنے ہونگے۔ وفد اپنے دورے کے دوران اکٹھی کی گئی معلومات پر مبنی ایک رپورٹ آئندہ برس اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کرے گا۔
(بشکریہ ٹاپ سٹوری)

 

 

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s