مجھے مت مارو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افسانہ

کابینہ کا اجلاس جاری تھا۔ اجلاس میں بہروزخان اور ان کی ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اجلاس کے بعد وزیرِخزانہ اور وزیرِاعظم ون آن ون ملاقات کر رہے تھے۔ بہروز خان مخصوص انداز میں گویا ہوئے۔ ’’ملک میں ابھی کچھ ادارے ایسے ہیں کہ جن پر ہم نے ہاتھ نہیں ڈالا حالانکہ ان کی کرپشن بھی واضح ہے۔ ہمیں آپ کی اجازت درکار ہے تاکہ ان پر بھی شکنجہ کسا جا سکے۔‘‘’’بہروز صاحب! میں آپ کا اشارہ سمجھ رہا ہوں مگر کم از کم ۲ سال تک ہم ان اداروں سے مخاصمت مول نہیں لے سکتے، لہٰذا حکمت و تدبر سے اس قوم کو احتساب کا عادی ہونے دیجیے۔ ان اداروں کی باری بھی آ جائے گی۔‘‘ وزیراعظم نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ ’’سر بالکل درست ہے! فی الحال ایک پیچیدہ مسئلہ بیرونِ ملک بینکوں میں پڑے ہمارے پیسوں کا ہے۔ یہ ۶۰۰ ارب ڈالر قوم کے ہیں اور انھیں سوئس بینکوں میں رکھ کر خزانے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ہمیں اس بارے میں قدم اٹھانا ہوگا۔‘‘’’کیا یہ رقوم واپس لائی جا سکتی ہیں؟ آپ کے ذہن میں کیا لائحہ عمل ہے؟‘‘ وزیراعظم نے استفسار کیا۔ ’سر میرے خیال میں ہمیں سوئس حکومت سے بات کرنے کے بجائے براہِ راست سوئس بینکوں سبات کرنی چاہیے اور وہاں سے اکائونٹ ہولڈرز کی معلومات لے کر انھیں یہاں الٹا لٹکا کر رقوم واپس منگوائی جائیں۔‘‘ بہروزخان کا لہجہ دو ٹوک تھا۔’’سوئس بنک اپنی رازداری کے بارے میں مشہور ہیں۔ اگر وہ معلومات نہ دیں تو کیا راستہ بچے گا؟‘‘ وزیراعظم نے سوال کیا۔’’سر! اس صورتِ حال میں ہم سوئس حکومت کو پریشرائز کریں گے اور اس کے لیے آپ کو مجھے انتہائی اختیارات دینا پڑیں گے۔‘‘ ’’کیسے اختیارات؟‘‘ وزیرِاعظم نے استعجابیہ لہجے میں پوچھا۔ ’’آپ کی سطح کے اختیارات! سفارتی اور فیصلہ کن، اگر سوئس حکومت اجازت نہ دے تو ان کے ساتھ ٹریڈ بند کرنے سے لے کر سفارتی تعلق تک منقطع کرنے کے اختیارات، مگر آپ پریشان نہ ہوں کیونکہ میں انھیں استعمال نہیں کروں گا، یہ صرف دبائو بڑھانے کے ہتھکنڈے ہیں۔‘‘وزیرِاعظم کے چہرے پر تشویش دیکھ کر وزیرِخزانہ نے وضاحت کی۔ وزیرِاعظم نے ایک لمبی سانس لی اور قدرے توقف کے بعد گویا ہوئے ’’یہ بہت مشکل فیصلہ ہے، مجھے سوچنے کا موقع دیجیے اور اسے ابھی خفیہ ہی رکھیے۔‘‘ ’’ضرور سر! یہ سب معاملہ جب تک سوئس حکومت تک نہیں پہنچتا، اسے خفیہ ہی رکھا جائے گا بلکہ میرا دورہ بھی نجی حیثیت میں دکھایا جائے گا۔‘‘ بہروزخان نے جواب دیا۔٭٭ملک میں ۵ سالہ کرپٹ دورِ حکومت کے بعد احتساب اور معاشی بہتری کے ایجنڈے پر الیکشن جیتنے والی جماعت برسرِاقتدار آچکی تھی۔ قوم نے آخری اُمید مانتے ہوئے انھیں بھاری مینڈیٹ دیا تھا کیونکہ ملک معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا اور عالمی مالیاتی ادارے ملک کو ناکام ریاست قرار دے رہے تھے۔ نئے وزیراعظم نے حلف اٹھاتے ہی واضح کردیا تھا کہ احتساب اور معاشی اصلاحات کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ رکھا جائے گا۔نئی کابینہ میں اچھی شہرت کے حامل افراد لائے جانے پر عوام نے ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کی تھی۔ خصوصاً ماہرِمعاشیات بہروزخان کی بطور وزیرِخزانہ و چیئرمین احتساب بیورو تقرری ہر خاص و عام کے لیے قابلِ قبول تھی۔ بہروزخان کئی ملکی اور بین الاقوامی اداروں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے تھے۔ اپنی تقرری کے فوراً بعد وزیرِاعظم کے بھائی کی ٹیکس چور کمپنی کے خلاف کارروائی کرکے انھوں نے واضح کر دیا تھا کہ انھیں یکساں اور بھرپور احتساب کے لیے فری ہینڈ حاصل ہے۔اگلے ۳ ماہ بہت سی خبریں لائے، جہاں ایک طرف پٹرول سے حکومتی لیوی گھٹا کر عوام کو ریلیف دیا گیا وہیں تاجر طبقے کو سیلزٹیکس گھٹا کر خوشی کی نوید دی گئی۔ بڑے جاگیرداروں پر زرعی ٹیکس بڑھایا گیا جبکہ چھوٹے کاشتکاروں کو سبسڈی دی گئی۔ بجلی کے بحران کے حل کے لیے شوگرملوں اور کھاد فیکٹریوں کی اضافی بجلی کے بدلے انھیں ٹیکس میں چھوٹ کا عندیہ دیا گیا۔ بدعنوان سیاستدانوں نے پلی بارگین کے ذریعے ۷۰۰ ارب روپے واپس جمع کروائے۔ٹیکس چوروں اور بے نامی جائیدادوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں۔ منی لانڈرنگ روکنے کے لیے فارن ایکسچینج کمپنیوں کی بیرونِ ملک ترسیلات بند کرکے بذریعہ سٹیٹ بنک ترسیلات لازم قرار دی گئیں۔ ٹیکس کی شرح میں کمی کرکے خدمات پر ٹیکس لگایا گیا۔ ۳ ماہ بعد وہی مالیاتی ادارے دادوتحسین کے ڈونگرے برسا رہے تھے جو کچھ عرصہ قبل ملک کو ناکام ریاست قرار دے رہے تھے۔ زیرِاحتساب سیاستدان حسبِ عادت سیاسی انتقام کا شور مچا رہے تھے مگر عوام پُرسکون تھے کیونکہ انھیں بہتری نظر آ رہی تھی۔٭٭
ء3 ماہ بعد میڈیا پر وزیرِخزانہ کی بمع فیملی نجی دورے پر ترکی روانگی کی خبر چل رہی تھی اور اگلے دن جب مسزبہروزخان ایک مارننگ شو کو فون پر اپنی فیملی ہالیڈے کا بتا رہی تھیں مسٹربہروزخان اکیلے استنبول سے زیورخ کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ زیورخ پہنچنے پرانھیں بغیر پروٹوکول سوئس ریذیڈنسی نامی ہوٹل میں قیام کرنا تھا جس کے بالکل سامنے بینک آف ریورخ کی عمارت تھی۔ اگلے دن صبح مسٹر بہروز بریف کیس اٹھائے بینک میں داخل ہوئے جہاں انھیں بینک کے پریزیڈنٹ سے خصوصی ملاقات کرنا تھی۔ معروف ماہرِمعیشت اور ایک وزیرِخزانہ سے ملاقات کے لیے بینک پریذیڈنٹ کا وقت پر میسر ہونا لازمی بات تھی۔’’جی فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟‘‘ بینک پریذیڈنٹ مسٹر نیوبلر نے رسمی استقبال اور چائے کے بعد استفسار کیا۔ ’’مسٹرنیوبلر! میں اپنے وزیراعظم کی ہدایت اور ان کے قطعی اختیارات کے ساتھ حاضر ہوا ہوں کیونکہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ آپ کے بینک میں ہماری قوم کی لوٹی ہوئی ۶۰۰ ارب ڈالر کی خطیر رقم موجود ہے۔ ہمیں ان اکائونٹ ہولڈرز کی معلومات چاہئیں تاکہ ان پر ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کرسکیں۔‘‘ وزیرِخزانہ نے تفصیلاً مدعا بیان کیا۔’’مسٹربہروز! پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری پالیسی نہیں ہے کہ ہم اکائونٹ ہولڈرز کی معلومات کسی کو دیں اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اس بات سے غرض نہیں کہ کوئی رقم کس طرح کمائی اور لائی گئی ہے۔ لہٰذا میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘ مسٹرنیوبلر نے واضح انکار کے بعد کاروباری معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا۔ ’’مسٹرنیوبلر! آپ حالات کی نزاکت کا اندازہ نہیں کر پا رہے۔ ہمارے خزانے پر ڈکیتی ایک معاشی ناسور بن چکی ہے۔ یہ سرمایہ ہمارے کئی سالوں کے بجٹ کے برابر ہے۔ ہماری ۷۰ فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، آپ کی مدد ان لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔‘‘ بہروزخان نے قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔’’یہ ہمارا مسئلہ نہیں، ہم اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ نیوبلر کا جواب واضح اور لہجہ سپاٹ تھا۔ ’’ہم آپ کی مدد کے عوض سوئٹزرلینڈ سے ٹریڈ کے تمام لیٹر زآف کریڈٹ آپ کے نام لازم کر دیں گے۔ آپ کو بہت نفع ہوگا۔‘‘ بہروز خان نے پیشکش کی۔ ’’مسٹربہروز! آپ کی مہربانی ہوگی مگر ہم معلومات تک رسائی پھر بھی نہیں دے سکتے۔‘‘
’’مسٹرنیوبلر! ہم دوسرے راستے بھی اختیار کر سکتے ہیں، ہم آپ کے بینک کی اپنے ملک میں ٹرانزیکشن روک سکتے اور آپ کا بینکنگ لنک منسوخ کر سکتے ہیں، سوچ لیجیے۔‘‘ وزیرِخزانہ کا لہجہ دھمکی آمیز تھا۔’’مسٹربہروز! مجھے دکھ ہوگا مگر آپ کے ملک سے چندکروڑ ڈالر ماہانہ کے بزنس کے عوض ہم پوری دنیا میں اپنی ساکھ دائو پر نہیں لگا سکتے۔‘‘ ’’ہم آپ کی حکومت کے ذریعے یہ معلومات نکلوالیں گے۔ ہم ٹریڈ بند کرنے سے لے کر سفارتی تعلقات قطع کرنے تک جائیں گے مگر اپنے ملک کی دولت نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ وزیرِخزانہ نے آخری دائو آزمایا۔ ’’مسٹربہروز! یہ سوچنا حکومت کا کام ہے۔ ہمیں اسی حکومت نے معلومات خفیہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔ آپ میرا اور اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔ تشریف آوری کا شکریہ، اب آپ جا سکتے ہیں۔‘‘ پریذیڈنٹ نیوبلر نے اپنا غصہ کنٹرول کرکے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔مگر اگلا لمحہ پریذیڈنٹ کی زندگی کا ناقابلِ یقین لمحہ تھا۔ وزیرِخزانہ نے اپنے کوٹ کی جیب سے پستول نکال کر اس پر تان لیا اور آثار بتا رہے تھے کہ وہ چلانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ نیوبلر کا سرخ و سفید رنگ دہشت سے زرد پڑ چکا تھا۔ وہ ایک ذمے دار آدمی سے ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ مگر یہ حقیقت تھی۔ ون آن ون میٹنگ کے باعث کسی کی آمد متوقع نہ تھی۔’’تمھیں کیا لگتا ہے کہ ہمارے بچے بھوکے مریں گے اور ہم تماشا دیکھتے رہیں گے۔ تم ہماری دولت بینکوں میں رکھ کر کمائو اور ہم لقمے لقمے کو ترسیں گے…؟ نہیں نیوبلر نہیں۔ تم جیسے امیر ملکوں کو اپنا مزاج بدلنا ہوگا۔ تمھارے پاس ۳۰ سیکنڈ ہیں۔ فیصلہ کر لو۔ معلومات یا موت؟‘‘ بہروزخان غصے سے پھنکار رہے تھے اور نیوبلر کو اپنی جان ٹانگوں سے نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔ ’’مم…مم مجھے مار کر تمھیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تم پکڑے جائو گے، یہ پاگل پن ہے۔‘‘ نیوبلر نے ہذیانی کیفیت میں جواب دیا۔ ”۱۰ سیکنڈ۔”’’پاگل تمھارا دماغ چل گیا ہے، سیکریسی برانچ تمھیں کبھی معلومات نہیں دے گی۔ مجھے مت مارو۔‘‘ نیوبلر نے گھگیاتے ہوئے کہا۔ ’’آہ ، اوکے، تم کہتے ہو تو مان لیتے ہیں۔ بیٹھ جائو۔‘‘ بہروزخان نے پستول واپس کوٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا۔ نیوبلر کنفیوژ کھڑا اس کا منہ تک رہا تھا۔ ’’ارے بیٹھو نیوبلر۔ بڑے پکے ہو تم یار۔ ماننا پڑے گا۔‘‘ بہروزخان کا لہجہ ستایشی تھا مگر نیوبلر کنفیوژ کھڑا اس کا منہ تک رہا تھا۔ ’’بیٹھو بیٹھومیرے دوست! میں تو تمھیں چیک کر رہا تھا۔ میں مان گیا کہ تم    واقعی کسی کو نہیں بتائو گے… یہ لو میرے 30 ملین ڈالر بھی جمع کر لو۔‘‘ بہروزخان نے مسکراتے ہوئے بریف کیس نیوبلر کی جانب بڑھا دی

(بشکریہ اردو ڈائجسٹ)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s