چکما کا راجہ،پاکستان کا تاحیات وزیر

ایک تھا راجہ۔ رہتا پاکستان میں تھا مگر ریاست اُس کی بنگلہ دیش میں تھی۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ چٹاگانگ کے پہاڑی سلسلے میں صدیوں سے نہیں بلکہ زمانہ قبل ازتاریخ سے قبائلی آباد ہیں۔ وہ اپنا رشتہ سورج سے جوڑتے اور خود کو سورج کی اولاد سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ صدیوں تک باقی دنیا سے کٹ کراپنے علاقے میں روایتی زندگی بسر کرتے رہے، ہم انہیں چکما قبیلے کے نام سے جانتے ہیں۔
چٹاگانک کے اطراف واقع چکما کےعلاقے کو ‘چٹاگانگ ہِل ٹریکٹس’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
چکما قبیلہ ہمیشہ سے آزاد رہا ہے۔ وہ اپنے راجا کے سائے تلے محدود دنیا میں مگن قبیلہ ہے۔ برِ صغیر کی تاریخ میں اُن کے متعدد حوالے موجود ہیں۔
چکما کا بیرونی دنیا سے پہلا رابطہ مغلوں کے وسطی عہد میں ہوا تھا۔
مغل فرماں روا جلال الدین محمد اکبر نے سن پندرہ سو چوہتّر میں مملکت کی حدود کو بنگال تک وسعت دی۔ شاہ جہاں نے سولہ سو اُنتالیس میں اپنے بیٹے کو گورنر بنگال مقرر کیا۔
اس کے بعد بنگال کے عمل دار شائستہ خان نے سن سولہ سو ساٹھ میں چٹاگانگ کو اپنی حدود میں شامل کرلیا۔ یوں آزاد چکما بیرونی تسلط میں آگئے۔
باہر کی دنیا سے چکما کا تعارف اوربیرونی تسلط کے باوجود یہ تاریخی حقیقت ہے اُن کا علاقہ چٹاگانک کی اس دیوانی کا کبھی حصہ نہ رہا، جسے مغلوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کیا تھا۔
مغلوں اور انگریزوں کے ساتھ متعارف ہونے والی قوم کے ایک راجہ تھے بھوون موہن رائے۔ وہ چکما کے اڑتالیسویں راجہ تھے۔
انہوں نے غیر ملکیوں سے تعلیم کا سبق سیکھا۔ موہن رائے نے ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے قبیلے میں تعلیم کو متعارف کرایا۔ یہ بنگال پرراج کی سرکار والے دنوں کی بات ہے۔
راجہ بھوون کے بعد ان کا بیٹا نالینکشا رائے تخت پر بیٹھا۔ انہوں نے فروغِ تعلیم کے لیے باپ سے دو ہاتھ آگے بڑھ کرکوششیں کیں۔ انہوں نے کولکتہ سے گریجویشن کیا اورعلاقے میں زمینداری کو منظم کیا۔
انہی کے دور میں تقسیمِ ہِند کا قصہ شروع ہوا۔ تقسیم کے وقت راجہ نالینکشا رائے نے راج سے مطالبہ کیا کہ ان کے علاقے کو ‘ریاست’ تسلیم کیا جائے مگر سرکار آمادہ نہ ہوئی۔
اُن دنوں راجہ نالینکشا کا سب سے بڑا بیٹا یعنی راجکمار مغربی بنگال کے مشنری اسکول میں زیرِ تعلیم تھا۔
بعد میں راجکمار کو بار ایٹ لاء کے لیے لندن کی درس گاہ لنکنز اِن بھیج دیا گیا۔ یہ وہی درس گاہ ہے جہاں بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے تعلیم حاصل کی تھی۔
برصغیر کی تقسیم ہوئی اور چکما پاکستان میں شامل ہوگئے۔
دوسری طرف راجہ نالینکشا بدستوراپنے قبیلے کی تنظیم اورانہیں تعلیم سمیت جدید عہد کی تمدنی ضروریات سے لیس کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کوششوں میں رانی بنیتا بھی پورا ساتھ دے رہی تھیں۔
اتفاق سے سن اُنیسو اکیاون میں راجہ نالینکشا کو دل کا دورہ پڑا اور راجکمار کو تعلیم ادھوری چھوڑ کر لندن سے چٹاگانگ واپس پہنچنا پڑا۔
راجکمار نے راج پاٹ سنبھالا اور قبیلے کے پچاسویں راجہ بن گئے۔ ان کی والدہ راج ماتا بنیتا کا انیسو نوّے میں انتقال ہوا۔ وہ بنگلہ دیش کابینہ کی رکن اور فعال سیاسی شخصیت رہی تھیں۔
نوجوان راجہ کو بھی دادا اور والد کی طرح تعلیم کے فروغ سے لگاؤ تھا۔ انہوں نے لندن سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اعلیٰ تعلیم کی اہمیت جانتے تھے۔ اس لیے سن اُنیسّو ساٹھ میں رانگماٹہ گورنمنٹ کالج قائم کیا۔ یہ چکما سرزمین پر پہلا اعلیٰ تعلیم کا ادارہ تھا۔
سن ساٹھ کی ہی دہائی میں منتخب اداروں کا دائرہ چکما سرزمین تک وسعت پایا۔ اس میں راجہ کی کوششوں کا بڑا دخل تھا۔ وہ خود کئی بار یہاں سے صوبائی اورقومی اسمبلی کے نمائندہ منتخب ہوئے۔
سن ساٹھ میں چکما سرزمین پر کپتائی ڈیم بنا۔ جس کی وجہ سے قبیلے کی بڑی تعداد کو بے گھری کا سامنا کرنا پڑا۔ خود راجہ کا محل ڈیم بُرد اوروہ بے محل ہوئے۔
راجہ کو باغبانی سے بہت دلچسپی تھی۔ اپنی سرزمین پر پھلوں کے باغات لگانا چاہتے تھے تاکہ رعایا کی معاشی حالت بہتر ہومگر ڈیم کے پانی میں اُن کے بہت سے خواب بھی ڈوب گئے۔
بعد ازاں ان کی کوششوں سے چٹاگانگ ہِل ٹریکٹس ڈویلپمنٹ پراجیکٹ شروع ہوا، جس کا مقصد باغبانی کو منظم بنیادوں پر فروغ دینا تھا۔
سن چھپن میں نئی دہلی اوراس کے بعد برما کے دارالحکومت رنگون میں، بودھ مت کے بانی مہاتما گوتم بودھ کے پچیس سو سالویں جنم دن تقریبات کی تقریبات منعقد ہوئیں، جس میں راجا نے قبیلے کی نمائندگی کی۔
سن اُنیسّو تریسٹھ میں انہوں نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔
سن اُنیسّو ستّر میں مشرقی و مغربی پاکستان میں انتخابات ہوئے۔ راجہ نے بھی حصہ لیا۔ پورے مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کی۔ صرف دو حلقوں سے آزاد امیدوار کامیاب ہوئے: ایک تھے خود راجہ تو دوسرے نورالامین۔
سن اکہتّر مشرقی پاکستان میں خوں ریزی اورآزادی کا سال تھا۔ ابھی دونوں حصے متحد تھے کہ راجہ مغربی پاکستان آئے۔ اسی دوران مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ رہت راجہ تو وہ اپنی ریاست کو نہ لوٹے۔
دلچسپ قصہ یہ ہے کہ جب بنگلہ دیش نے اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے لیے درخواست دی تو پاکستان نے اُس کی مخالفت کی۔ پاکستان سے اعلٰی سطح کا وفد راجہ کی زیرِ صدارت اقوامِ متحدہ بھیجا گیا تاکہ پاکستانی موقف کا دفاع کیا جاسکے۔
شیخ مجیب کی حکومت نے بھی اپنے دفاع کا مقدمہ لڑنے کے لیے ایک وفد اقوامِ متحدہ بھیجا، جس کی صدارت راجہ کی والدہ اور چکما کی راج ماتا رانی بنیتا جی کررہی تھیں۔ ماں بیٹا آمنے سامنے تھے، ایک دوسرے کے برخلاف اپنا اپنا مقدمہ لیے۔
ذوالفقارعلی بھٹو نے حکومت بنائی توراجہ کو اپنی کابینہ میں وفاقی وزیرِ برائے اقلیتی امور کا عہدہ دیا۔
حالات کے بہاؤ میں بہ کرراجہ وزیر بنا مگر جب اُس کے وزیرِ اعظم کی حکومت پرفوجی جنرل نے شب خون مارا تو چُپ سادھ لی اورگھر میں خاموشی سے بیٹھ گیا۔
وہ راج پاٹ پیچھے چھوڑ آیا تھا مگر پھر بھی ریاست پراُس کا حکم چلتا تھا۔
ہاں تو بڑا عجیب راجہ تھا۔۔۔ قصے کہانیوں کے راجاؤں مہاراجاؤں سے تو اُن کی سگی اولاد تلوار کے زور پر اقتدار چھینتی تھی مگر یہ ہر شے تیاگ دینے پر بہ خوشی تیار۔۔۔
راج سنگھاسن بیٹے کے حوالے کیا۔ اکیاون ویں راجا کی موجودگی میں جیتے جی سابق راجہ بن گیا۔
راجہ گوتم بودھ کا پیروکار تھا۔ طبیعت بھی کچھ اس جیسی پائی تھی۔ بن واسی راجہ اسلام آباد کے ای سیکٹر کے سادہ سے بنگلے میں گوشہ نشین ہوگیا مگر راج نے پیچھا نہ چھوڑا۔
حکومت نے راجہ کواعزاز بخشا۔ اسے تاحیات وفاقی وزیر کا درجہ دیا گیا۔ راجہ نے وزارت کا اعزازی عہدہ لے لیا لیکن تصنیف و تالیف میں مگن ہوگیا۔
اپنے لوگوں کی تاریخ لکھی، بودھ عقیدے پر لکھا، چکما لوگوں سے دنیا کو روشناس کرایا۔
پاکستان کا جغرافیائی خطہ تاریخ میں بودھ مت کا مرکزتھا مگراب بودھ صرف سرکار کی دستاویزمیں ‘اقلیت’ کے خانے تک محدود رہ گئے ہیں۔ راجہ کو پاکستان کی بودھ سوسائٹی کا سربراہ چُنا گیا۔
چکما کے راجہ نے ارجینٹینا اور سری لنکا میں پاکستان کے سفیر کی ذمہ داری بھی نبھائی۔
سن دو ہزار پانچ میں سری لنکا کی حکومت نے بودھ مت کے لیے اُن کی خدمات کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین اعزازسے نوازا۔
ان سب کے باوجود راجا کا لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کی مشہور تصنیف ‘ دُھن کا انتقال’ یعنی ‘دی ڈیپارٹڈ میلوڈی’ ہے۔ انگریزی میں لکھی یہ کتاب چکما کی مستند تاریخ قرار دی جاتی ہے۔
انہوں نے انگریزی میں مختصر کہانیاں بھی لکھیں۔ ان کی کہانیوں کے ایک مجموعے کا اردو ترجمہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن، اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔
اُن کی ایک اور مشہور تصنیف ‘ساؤتھ امریکن ڈائری’ بھی ہے۔
مثل مشہور ہے کہ ماں، محبوب اور مادرِ وطن آخری سانس تک یاد رہتے ہیں۔ راجا کو بھی مادرِ وطن یاد تھی۔
کہتے ہیں کہ راجا نے مشرف دور کے سابق وزیرِاعظم شوکت عزیزکوخط لکھا تھا کہ مرنے کے بعد اُن کا جسدِ خاکی آبائی وطن پہنچادیا جائے مگر یہ خواہش شاید اس لیے پوری نہ ہوسکی کہ چکما کا ‘ہل ٹریکٹس’ سیکورٹی لحاظ سے ویسا ہی علاقہ ہے جیسا پاکستان کا شمالی وزیرستان۔ چکما علاقے میں بنگلا دیشی فوج تک داخل نہیں ہوسکتی۔
تو بات یہ ہے کہ راجہ کو مرضِ دل لاحق ہوا اور گزشتہ پیر کی صبح اکیاسی برس کی عمر میں اُس نے دنیا سے ہی بن واس لے لیا اورخاموشی سے سانس کا بندھن توڑ کر اُفق کے پار چلا گیا۔
وہ راجہ تھا اوریہ لفظ اُس کے مکمل نام کا پہلا لازمی جزو بن چکا تھا۔
پاکستان میں عہدہ تھا وفاقی وزیر کا، چکما قبائل کا حکمراں تھا مگراب کس کو کہاں یاد کہ راجہ تِری دیو رائے کون تھا؟
ہاں۔۔۔ تو وہ ایک بن واسی راجا تھا، آخر کو ایک اور بَن واس لے کر اگلے جہاں کے سفر پہ چلاگیا۔
(بشکریہ ڈان)
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s