‘’بینظیر عمران خان کے کزن سے شادی پر راضی تھی”

عمران خان نے یہ انکشاف کیا ہے کہ بینظیر بھٹو ان کے کزن قمر خان سے شادی کرنے پر تیار ہو گئی تھیں تاہم الذولفقار کے ہاتھوں 1981ء میں پی آئی اے کا طیارہ ہائی جیک ہونے کے بعد جب انہیں جنرل ضیاء نے دوبارہ جیل بھیجا تو بات آگے نہ بڑھ سکی کیونکہ جب تک وہ باہر آئیں ان کا کزن پہلے ہی شادی کر چکا تھا۔ عمران خان نے یہ انکشاف اپنی خود نوشت میں کیا ہے۔

عمران خان نے بینظیر بھٹو کے حوالے سے بہت سی اہم باتیں اپنی اس کتاب میں لکھی ہیں کیونکہ وہ دونوں آکسفورڈ یونیورسٹی میں اکٹھے پڑھتے رہے تھے لہذا عمران نے بینظیر بھٹو سے اپنی ذاتی دوستی اور تعلقات کے حوالے سے بہت اہم باتیں لکھی ہیں جو شاید پاکستان میں اس سے پہلے بینظیر اور عمران کے حوالے سے بہت کم لوگوں کو پتہ ہوں گی۔ تاہم سب سے اہم بات جو عمران نے بینظیر بھٹو کے حوالے سے اپنی کتاب میں لکھی ہے وہ یہ ہے کہ کیسے انہوں نے بینظیر بھٹو اور اپنے کزن قمر خان کو ایک دوسرے سے ملوایا تھا اور وہ دونوں بہت جلد شادی کیلئے راضی ہو گئے تھے تاہم حالات کچھ ایسے پیدا ہو گئے کہ وہ شادی نہ ہو سکی۔ اس واقعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بینظیر بھٹو عمران خان کے بہت قریب تھیں اور وہ ان پر خاصا اعتماد کرتی تھیں اور اسی وجہ سے ہی وہ عمران کے حوالے سے نہ صرف ان کے کزن قمر خان سے ملی تھیں بلکہ شادی کرنے پر بھی راضی ہو گئی تھیں۔
بینظیر بھٹو کے ساتھ اپنے تعلقات اور دوستی کی طویل داستان لکھتے ہوئے عمران خان یہ انکشاف کرتے ہیں کہ جب بینظیر بھٹو جنرل ضیاء کی موت کے بعد پاکستان کی پہلی منتخب وزیر اعظم بنیں تو پاکستان کی عوام کی طرح انہیں بھی ان سے بہت توقعات تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بینظیر بھٹو کو مغربی جمہوری معاشروں کے حوالے سے جہاں بہت زیادہ سوجھ بوجھ تھی وہیں انہوں نے آکسفورڈ اور ہاورڈ سے تعلیم بھی حاصل کی تھی اور اس وجہ سے وہ پاکستان میں ایک نیا شاندار دور شروع کرنے کی پوزیشن میں تھیں۔ ان کے پاس دولت بھی کافی تھی اور انہیں اس پیسے کی ضرورت بھی نہیں تھی جو اقتدار کے ساتھ انسان کے پاس آ جاتی ہے یا پھر یہ ہمارا خیال تھا کہ انہیں پیسوں کی ضرورت نہیں تھی۔ سب کچھ بینظیر بھٹو کے حق میں تھا۔ وہ پاکستان میں بہت مقبول تھیں اور ویسٹ میں مسلمانوں کا ایک ایسا چہرہ جسے سب جانتے تھے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ مغربی میڈیا ان کا دیوانہ تھا کہ وہ پاکستان کے اس سب سے بڑے مقبول عوامی رہنماء کی بیٹی تھیں جسے ایک فوجی آمر نے پھانسی پر چڑھایا تھا۔
اس سے بڑھ کر وہ کسی بھی مسلم ریاست کی پہلی وزیر اعظم تھیں۔ مغربی میڈیا کے سامنے بینظیر بھٹو نے” مشرق کی بیٹی” کا کردار بڑی خوبی سے نبھایا۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے ہی بینظیر بھٹو کے بارے میں وارننگ سائن آنا شروع ہو گئے تھے۔
بینظیر بھٹو نے سب سے بڑا دھوکہ ان ہزاروں لوگوں کے ساتھ کیا جنہوں نے پیپلز پارٹی کیلئے انتھک کام کیا تھا جو ان کے والد نے بنائی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو جنرل ضیاء کے مارشل لاء میں جمہوریت کے نام پر جیلوں میں رہے۔ بینظیر بھٹو نے بڑے آرام سے پیپلز پارٹی کے منشور سے اپنے آپ کو دور کر لیا جس کا نعرہ یہ تھا کہ پورے معاشرے میں مساوات اور سماجی انصاف لائیں گے۔ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کا اس وقت مذاق اڑایا جب انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواز شریف کے ساتھ آزاد امیدوار خریدنے کا مقابلہ شروع کیا۔
کسی نظریے کی عدم موجودگی کی وجہ سے سیاستدانوں کی بولیاں لگیں اور آزاد امیدواروں اور ان کے خاندانوں کو پُر کشش آفرز کی گئیں۔ چھانگا مانگا سیاست یا کلچر پاکستان میں نواز شریف نے متعارف کروایا جس نے حقیقت میں صوبائی اسمبلی کے ممبران کے ایک گروپ کو لاہور سے باہر واقع چھانگا مانگا جنگل کے ایک ریسٹ ہاؤس میں بند کر دیا تاکہ پیپلز پارٹی والے انہیں زیادہ پیسے دیکر نہ خرید لیں۔
’یوں ہم لوگ بینظیر سے جلد ہی مایوس ہونا شروع ہو گئے۔ انہوں نے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم کے بجائے ایک ملکہ کی طرح کا رویہ اختیار کر لیا۔ ان کی موت کے بعد ایک صحافی ولیم نے ان کا نقشہ یوں کھینچا کہ کیسے جب وہ وزیر اعظم پاکستان تھیں اور وہ ان سے انٹرویو کرنے گیا تو وہ شاہانہ انداز میں پیش آ رہی تھی۔ وہ جان بوجھ کر بڑے طریقے سے اسی طرح چلتی تھیں اور شاہی انداز میں لفظ اپنے بارے میں’ میں‘ کی بجائے” ہم “کہتی تھیں۔ میں تو کہوں گا کہ بینظیر بھٹو میں یہ شاہانہ انداز اس وقت سے تھا جب وہ جوان تھیں۔
میں بینظیر بھٹو سے پہلی بار اس وقت ملا جب وہ ایک شخص کا حشر نشر کر رہی تھیں جس نے ان کے سوشلسٹ دعوؤں پر ایک سوال جڑ دیا تھا۔ آکسفورڈ میں پڑھائی کے دوران میں ضیاء ملک کے ساتھ ایک گھر میں رہ رہا تھا۔ ضیاء ملک اداکار آرٹ ملک کا بھائی تھا۔ ایک دن جب میں گھر آیا اور جونہی اپنی موٹر بائیک کو تالہ لگایا تو مجھے اندر سے ایک خاتون کی کسی سے بحث کرتی ہوئی آواز سنائی دی۔ ضیاء نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے والے دوسرے پاکستانی طالبعلموں کو بینظیر بھٹو سے ملوانے کیلئے بلایا ہوا تھا۔ تاہم وہ اپنی اس محترم مہمان کو یہ کہہ کر پہلے ہی غصہ دلا چکا تھا کہ سندھ میں لینڈ ریفارمز کو بہتر انداز میں نہیں کیا گیا تھا۔ بلاشبہ یہ بینظیر بھٹو کیلئے ایک حساس ٹاپک تھا کیونکہ ان کے باپ نے 1972ء کی لینڈ ریفارم کے نام پر طاقتور جاگیرداروں کی طاقت کو محض علامتی طور پر کم کرنے کی کوشش کی تھی۔
میں نے بینظیر بھٹو کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ اس پہلی میٹنگ کے بعد ہم اچھے دوست بن گئے۔ بینظیر بھٹوکے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ گوروں کے ساتھ تو بڑی تہذیب کے ساتھ پیش آتی تھیں لیکن اپنے پاکستانیوں کے ساتھ ان کا رویہ کچھ اچھا نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ 1974ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں ہالینڈ میں پاکستانی سفارتخانے نے ایک تقریب کا انعقاد کیا ہوا تھا۔ بینظیر بھٹو کی عمر صرف بیس برس تھی اور وہ پاکستانی سفیر کو ایسے حکم دے رہی تھی جیسے وہ اس کا ذاتی ملازم ہو۔ پوری ٹیم اس وقت حیران رہ گئی جب وہ بیچارہ سفیر بینظیر بھٹو کیلئے بھاگ بھاگ کر کرسیاں اور میزیں ٹھیک کر رہا تھا۔
یہ بات بڑی واضح تھی کہ بینظیر بھٹو بہت پہلے سے ہی ٹاپ پر جانے کی خواہشمند تھیں۔ جب میں نے آکسفورڈ یونیورسٹی چھوڑی تو بینظیر بھٹو نے وہاں ایک سال مزید لگایا اور میرے ذہن میں ہمیشہ ایک ہی بات آتی تھی کہ وہاں ایک برس مزید گزارنے کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی صدر بننا چاہتی تھیں۔ بینظیر بھٹوکا مسئلہ یہ تھا کہ ان کا پہلی جاب وزیر اعظم پاکستان کی تھی اور وہ وزیر اعظم اس لیے بنیں کیونکہ ان کے والد وزیر اعظم تھے جیسے بینظیر بھٹو کا بیٹا بلاول انیس سال کی عمر میں پیپلز پارٹی کا چیئرمین بن گیا صرف اس وجہ سے کہ وہ بینظیر بھٹو کا بیٹا ہے۔
بینظیر بھٹو نے بہت محنت بھی کی تھی۔ وہ چھ ماہ جیل میں بھی رہی تھیں جبکہ کئی برسوں تک وہ نظر بند ہوتی رہیں لیکن یہ بات ہے کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے اعلیٰ عہدے کیلئے کوئی محنت نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ سیاست کے محاذ پر سب سے آگے تھیں۔ انہوں نے پارٹی کے کاز کیلئے بھی کوئی لڑائی نہیں لڑی تھی۔ میرے ان الفاظ کا مطلب ہرگز بینظیر بھٹو کے ان برسوں کی اذیت کو جھٹلانا نہیں ہے جن کا سامنا ایک جوان عورت نے کیا ہوگا، لیکن یہ کسی حوالے سے بھی ایک ملک کو لیڈ کرنے کیلئے کوئی مناسب تیاری بھی نہیں کہی جا سکتی۔
بھلا آپ کیسے ایک ملک کو چلا سکتے ہیں جب آپ کی پہلی جاب ہی وزیر اعظم کی ہو۔ اس کی لیڈر شپ کو کبھی کسی سخت امتحان میں سے نہیں گزرنا پڑا تھا نہ ہی اس نے کوئی ویژن یا آئیڈیالوجی بنائی تھی اور نہ ہی اس کو اداروں کی تعمیر کرنے کا کوئی تجربہ تھا۔ کسی بھی آرمی میں جنرل یا ایک کمپنی میں چیف ایگزیکٹو بننے کیلئے بہت ساری خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو برسوں کی ریاضت سے آتی ہیں۔ خاندانی سیاست آخر کار نااہل لیڈر پیدا کرتی ہے اور وہیں سے زوال شروع ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں خاندانی سیاست حاوی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں جمہوریت ہمیشہ صحیح طریقے سے پروان نہیں چڑھ سکی۔
ایک طرف بینظیر بھٹو کو اپنی جاب کا کوئی تجربہ نہیں تھا دوسری بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ انہوں نے آصف علی زرداری سے شادی کر لی جو خود ایک جاگیردار فیملی کا سپوت تھا اور اس نے پولو میدان سے ہٹ کر زندگی میں بہت کم کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ تاہم مجھے بینظیر بھٹو کا اس بات کا دفاع کرنے دیں کہ وہ جس حیثیت میں تھیں اس میں یہ ان کیلئے آسان کام نہیں تھا کہ وہ ایک نفیس اور سلجھا ہوا شوہر ڈھونڈتیں۔ جب چونتیس سال کی عمر میں وہ شادی کرنے لگیں تو پاکستانی دلہنوں کے حساب سے وہ لیٹ ہو چکی تھیں۔ اس کے علاوہ جنرل ضیاء ان کے خاندان کے پیچھے لگا ہوا تھا اس لیے لوگ اپنے آپ کو بھٹو خاندان سے دور رکھتے تھے۔ پاکستان میں آپ یہ افورڈ نہیں کر سکتے کہ سیاست کی غلط سائیڈ پر جا کر سیاست کرنے کی کوشش کریں۔ اس لیے بینظیر بھٹو کیلئے یہ بہت مشکل تھا کہ وہ نارمل لوگوں سے مل جل سکتیں۔
میں نے بینظیر بھٹو کو اپنے کزن قمر خان سے متعارف کروایا اور ایک مرحلے پر تو وہ شادی کے بارے میں بھی تیار تھے لیکن انہی دنوں میں ایک الذولفقار تنظیم جو بینظیر بھٹو کے بھائیوں نے اپنے باپ کی پھانسی کا بدلہ لینے کیلئے بنائی تھی، نے 1981ء میں پی آئی اے کا ایک طیارہ اغوا کیا تھا۔ بینظیر بھٹو کو دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ جب تک بینظیر بھٹو جیل سے واپس آئیں قمر خان اپنے خاندان کی پسند پر پہلے ہی شادی کر چکا تھا۔
یوں بینظیر بھٹو کو آخر جو میاں ملا وہ آصف زرداری تھا جس سے وہ اتنی محبت کرتی تھیں کہ اسے اتنا کھلا ہاتھ دیا کہ اس نے ڈٹ کر اپنے حکومتی عہدے کی وجہ سے اتنی دولت کمائی، جتنی کمائی جا سکتی تھی۔ آصف زرداری نے پاکستان کو ذاتی جاگیر سمجھ لیا اور یہ اس نے اپنا جاگیردارانہ حق سمجھا کہ طاقت کا غلط استعمال کرے اور حکومت کے ہر کنٹریکٹ میں کمیشن کی شکل میں اپنا حصہ وصول کرے۔ اس نے فرانس میں جائیدادیں خریدیں اور سرے محل بنایا جس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ پیسہ کہاں جا رہا تھا۔ بہت جلد آصف زرداری کا نام مسٹر ٹین پرسنٹ پڑ گیا۔ اگرچہ میری آصف زرداری سے صرف ایک ملاقات ہوئی ہے لیکن میں پھر بھی یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس کا کمیشن دس پرسنٹ سے زیادہ تھا۔
مجھے آصف زرداری کے طریقہ واردات کا پتہ بہت دیر بعد چلا جب 1989ء میں بینظیر بھٹو کے گھر بلاول ہاؤس کراچی گیا تاکہ اپنے کینسر ہسپتال کیلئے فنڈ ریزنگ میں مدد لے سکوں۔ میں کوشش کر رہا تھا کہ غریب لوگوں کو جو سہولتیں حکومت فراہم نہیں کر سکی تھی وہ میں یہ ہسپتال بنا کر دوں۔ میرا خیال تھا کہ یہ منصوبہ شروع کرنے کیلئے مجھے کچھ مدد بینظیر حکومت سے مل جائے گی۔
بینظیر بھٹو مصروف تھیں تو ہماری آصف زرداری سے ملاقات ہو گئی۔ میری بینظیر بھٹو سے آکسفورڈ کے دنوں کی دوستی تھی لہذا میرا خیال تھا کہ میرے ساتھ اچھا سلوک ہوگا اور میری درخواست کو بڑے ہمدردانہ انداز میں سنا جائے گا۔ اس میٹنگ میں آصف زرداری بہت چارمنگ تھے اور انہوں نے میری بڑی تعریفیں بھی کیں، تاہم مدد کی پیشکش نہیں کی اور زیادہ تر وقت میرے دوست طارق شفیع کے ساتھ باتیں کرتے رہے جو میرے ساتھ گئے ہوئے تھے۔ طارق کا تعلق پاکستان کے سب سے زیادہ طاقتور ٹیکسٹائل گروپ سے ہے لہذا آصف زرداری نے اسے کہا کہ آپ اپنی چند فیکٹریاں سندھ میں قائم کرو کیونکہ انہوں اپنے صوبے میں لوگوں کو نوکریاں دے دی تھیں۔ اس نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر اسے اس بزنس کے بیس فیصد شیئرز دیئے جائیں تو وہ ان ملوں کے قیام کی راہ میں بیورو کریسی کو روڑے نہیں اٹکانے دینگے اور قومی بینکوں سے قرضہ لینے میں بھی مدد کرینگے۔
یہ مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ(اس کے بعد اندازہ ہو گیا کہ) بینظیر بھٹو اور ان کے خاوند سے مجھے ہسپتال کے پراجیکٹ کیلئے کوئی امداد نہیں ملنے والی تھی۔
اس تناظر میں اب آپ میری اس حیرانی کو سمجھنے کی کوشش کریں جب اس واقعے کے پانچ سال بعد میرا ایک پرانا دوست نوید ملک مجھ سے ملنے آیا جس سے میری برسوں سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت 1990ء میں کرپشن کے الزامات پر برطرف ہوئی تھی اور اب وہ دوسری بار 1993ء میں وزیر اعظم بن چکی تھیں۔ نوید ملک میرے لیے بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کا ایک پیغام لایا کہ وہ ہمارے کینسر ہسپتال آ کر افتتاح کا رنگین فیتا کاٹ کر ہمیں عزت افزائی سے نوازنا چاہتے تھے کیونکہ اس وقت تک یہ ہسپتال چھوٹے پیمانے پر چلنا شروع ہو گیا تھا اور ہم نے 29 دسمبر 1994ء کو اس کو باقاعدہ شروع کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔
ہم نے یہ فیصلہ کیا ہو ا تھا کہ اس ہسپتال کی افتتاحی تقریب کا فیتا دس سالہ کینسر کی مریضہ سمیرا یوسف سے کٹوانا تھا ۔ اگرچہ یہ کسی بھی ادارے کیلئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہوتی کہ اس کا افتتاح ملک کا وزیر اعظم آ کر کرے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں نے بینظیر بھٹو اور ان کے خاوند کو ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں آ کر فیتا کاٹنے کی دعوت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ مجھے اس شاہی جوڑے کو اس گستاخی کی قیمت کا بعد میں اندازہ ہوا۔ بینظیر بھٹو کرپشن اسکینڈلز کی وجہ سے غیر مقبول ہو چکی تھیں اور وہ ہمارے ہسپتال آ کر لوگوں میں اپنا کھویا ہوا امیج بحال کرنے کی خواہشمند تھیں۔
اس کے علاوہ میں نے چھ ہفتے جو پاکستان بھر کا دورہ کیا تھا جس میں اس ہسپتال کی تعمیر کیلئے فنڈز اکٹھے کیے تھے اس سے بینظیر اور آصف زرداری مجھے اپنے لیے ایک سیاسی خطرہ بھی سمجھنے لگ گئے تھے۔ میرا ملک بھر کا یہ دورہ ایک طرح سے انتخاب کی مہم لگتا تھا کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں عام پاکستانی مجھے پیسے دینے کیلئے گلیوں میں نکل آئے تھے۔ چند لوگوں نے ہسپتال کیلئے چندہ دیتے وقت مجھے کہا کہ میں سیاست میں آ جاؤں اور پہلی دفعہ پاکستانی میڈیا نے میرے حوالے سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ میں سیاست میں داخل ہونے والا تھا۔

Advertisements

2 comments on “‘’بینظیر عمران خان کے کزن سے شادی پر راضی تھی”

  1. اگر اس تحریر میں بیان کئے گئے الفاظ عمران خان کے ہی ہیں تو بھی قابل مذمت ہیں اور اگر منسوب کئے گئے ہیں تو بھی ، جب کوئی پاکستان کو بچانے کے لئے نہیں آرہا تھا اس وقت بے نظیر نے یہ ذمہ داری سنبھالی ،ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں ایسے الفاظ نہیں بولے جاتے جس طرح اس تحریر میں درج ہیں

    • محترم سبطین صاحب ،یہ اقتباس عمران خان کی کتاب سے لیا گیا ہے۔ کتاب مارکیٹ میں دستیاب ہے آپ خود بھی مطالعہ کرسکتے ہیں ۔عمران خان چونکہ ایک ابھرتی ہوئی سیاسی قوت ہے جبکہ محترمہ بے نظیربھٹو شہیدایک سیاسی لیجنڈ ہیں۔ایک مقبول ہوتا سیاسی رہنماٰ دوسرے بڑے سیاستدان کے بارے کیسے خیا لات رکھتا ہے اس لیے تحریر کو قارئین کی دلچسپی کے لئے اشاعت کے لئے چنا گیا۔باقی اس کے اچھے برے ہونے کا فیصلہ قارئین خودکرسکتے ہیں۔جی نیوز پرشائع کی جانے والی تحریروں کو ذمہ داری سے جانچاجا تاہےاس لیےمنسوب کیےجانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آپ بھی اگر تحریر کوغور سے پڑھیں توآرٹیکل کے شروع میں ہی وضاحت سےبیان کیاگیا ہے کہ

      "عمران خان نے یہ انکشاف اپنی خود نوشت میں کیا ہے۔
      عمران خان نے بینظیر بھٹو کے حوالے سے بہت سی اہم باتیں اپنی اس کتاب میں لکھی ہیں ”

      آپ کی قیمتی رائے کا شکریہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s