خدا بخش ٹوانہ کی خواہش! مسلم لیگ ن میں شمولیت

ڈی سی گروپ اور عوامی گروپ کے اتحاد کی کوششیں
ٹوانہ برادران مسلم لیگ ن میں واپس چلے جائیں گے؟
ملک شاکر بشیر، آصف بھا اور حاجی شریف خان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟
سینیئر مسلم لیگی رہنما، سابق صوبائی وزیر اور ضلعی سیاست کے ایک بڑے گروپ عوامی گروپ کے سربراہ ملک خدا بخش ٹوانہ نے حسن پور ٹوانہ (ہموکہ) میں ملنے کے لیے آئے ہوئے مہمانوں کے سامنے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر میان نواز شریف دوستوں کو آواز دیں تو وہ اب بھی مسلم لیگ ن میں جانے کے لیے تیار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق عید الفطر کے روز عید ملنے کے لیے آنے والے دوستوں کی موجودگی میں ایک سینئر صحافی کی جانب سے کیے گئے اس سوال کے جواب میں کہ عوامی گروپ نے اپنے گذشتہ تین دہائیوں کے دورِ سیاست میں حتی الوسع مسلم لیگ ہی کا ساتھ دیا ہے اور اب تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن کی تیاری مسلم لیگ سے وفاداری کے منافی نہیں ہے۔ اور یہ کہ کیا آپ مسلم لیگ ن میں واپس جا سکتے ہیں۔ ملک خدا بخش ٹوانہ نے ملے جلے انداز میں پہلے یہ کہا کہ میاں نواز شریف سیاست سے ریٹائر ہو چکے ہیں پھر انہوں نے کہا کہ وہ میاں صاحب کے قریبی دوستوں میں شامل ہیں اور اگر میاں صاحب نے دوستوں کو آواز دی تو وہ ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ان کے چھوٹے بھائی اور سابق ضلع ناظم ملک احسان اللہ ٹوانہ ان کے کہنے پر تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ ضلعی سیاسی شطرنج کے سینئر ترین کھلاڑی کی جانب سے اس طرح کا بیان آنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ملک خدا بخش نے ابھی تک مسلم لیگ ن کے لیے ایک کھڑکی کھلی رکھی ہوئی ہے اور ضروری نہیں کھڑکی ہو یہ دروازہ یا بڑا گیٹ بھی ہو سکتا ہے۔ اور انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو تحریک انصاف میں شامل کر کے مسلم لیگ ن کو چیلنج دیا ہو کہ ان کی نہ مانے جانے کی صورت میں وہ حاجی شریف خان بلوچ گروپ سے مل کر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے کر مسلم لیگ کے ٹکٹ ہولڈروں کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ قیاس کیا جاتا ہے ملک خدا بخش ٹوانہ کی طرف سے ضلع کی چھ کی چھ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جو لیگی قیادت نے منظور نہیں کیا اور تین سیٹوں یعنی ایک قومی اور دو صوبائی سیٹوں پر اکتفا کرنے کو کہا گیا ہےاور این انہتر اور پی پی انتالیس اور چالیس سمیرا ملک گروپ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عوامی گروپ (ٹوانہ گروپ) کے مرکزی مشیروں میں اکثریت یہ چاہتی ہے کہ یہ منصوبہ مان کر سمیرا بی بی کے ساتھ اتحاد کر لینا چاہیے۔ بنا برین ٹوانہ گروپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ آخری وقت تک اپنے مطالبے پر ڈٹے رہیں اور جب مزید بہتری کی کوئی گنجائش نہ نکلے تو اسی صورت حال پر اکتفا کر کے تین نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کھڑے کر دیے جائیں۔ اور بقیہ حلقوں میں سمیرا گروپ کی مکمل حمایت کی جائے۔ اس بات کے امکانات نظر آ رہے ہیں کہ آئندہ الیکشن میں ملک خدا بخش ٹوانہ خود ایک نشست سے جو پی پی چالیس بھی ہو سکتی ہے اور بیالیس بھی، صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے۔ اس الیکشن پر اٹھائے گئے جوکھم کا ازالہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر یہ الیکشن لڑا جائے۔ کیونکہ پی ٹی آئی موجودہ متوقع امیدواروں کے تناظر میں اگر خوشاب سے جیت بھی جائے تو پنجاب میں اس کے حکومت بنانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 
دوسری طرف ملک خدا بخش ٹوانہ کے بقول ان کی مرضی سے تحریک انصاف میں جانے والے ملک احسان اللہ ٹوانہ نے اپنے کئی بیانات میں واضح کیا ہے کہ ان کی تحریک انصاف سے وابستگی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ وہ عوامی گروپ کے بڑوں کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر وہ تحریک انصاف میں شامل نہ بھی ہوئے تو ملک احسان اللہ ٹوانہ پھر بھی تحریک انصاف کو نہیں چھوڑیں گے۔ اگر انہیں ٹکٹ دیا گیا تو وہ الیکشن لڑیں گے اور اگر نہ دیا گیا تو تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر کی حمایت کریں گے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ عوامی گروپ کا "ڈی سی گروپ” سے اتحاد ہو جائے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے میں شاکر بشیر اعوان اور ملک آصف بھا موجودہ ممبران اسمبلی کا بنے گا ساتھ ہی حاجی شریف خان بلوچ سابق چیئرمین بلدیہ کا کیا بنے گا جو مسلم لیگ سے اپنی زندگی بھر کی وابستگی کو ٹوانہ گروپ کے کہنے پر بلا وجہ ترک کر کے ٹوانوں کے امیدوار کے طور پر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سامنے آ چکے ہیں۔ کیا وہ بھی تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے اور ٹوانہ برادران انہیں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لے کر دینے میں کامیاب ہو
جائیں گے۔ نیز تحریک انصاف سے یہ علیحدگی کن بنیادوں پر عمل میں آئے گی۔
(بشکریہ ظہیر باقر بلوچ)
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s