سرائیکی جاگیردار سیاستدان یا فصلی بٹیرے

مخدوم احمد عالم انورخاموشی کیساتھ پیپلزپارٹی میں شمولیت کی امید ختم ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے ۔اطلاعات ہیں کہ موصوف میاں محمد نوازشریف کیساتھ ملاقات میں مسلم لیگ( ن) میں شمولیت کا اعلان کرنا چاہتے تھے لیکن آخری وقت میں ان کو بتایاگیاکہ آپ میاں محمد شہبازشریف کیساتھ ہی بیٹھ کر شریف برادران کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کریں۔اس طرح رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے” مولوی مخدوم ”نے خادم اعلی شہبازشریف کیساتھ ریکارڈ کی درستگی کیلئے تصویر بنوائی اور ن لیگ میں اسی طرح شامل ہوگئے جیسے جنرل مشرف کے اقتدارمیں چودھری برادران کی مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوئے تھے ۔ سب چلتاہے !! !

سرائیکی وسیب کی سیاست کے موروثی کردار ہمیشہ اپنے مفادات کی خاطرتخت لاہورسے سمجھوتہ کرکے وہاں کے لوگوں کا سیاسی ،معاشی اور اخلاقی استحصال کرتے ہیں۔ان کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ بہاولپور ،ملتان اور ڈیرہ غازی ڈویثرن کے لوگوں کواکیسویں صدی میں بھی پینے کے صاف پانی تک کی بھی سہولت میسر نہیں ہے۔ عامر جلیل بوبرا سرائیکی دھرتی کے سیاستدانوں کی” تخت لاہور ”کیساتھ وفادار ی پر اس شعر کاسہار الیکر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

دیکھاجو تیر کھاکے کمین گاہ کی طرف ۔۔۔۔ اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

جاوید ہاشمی صاحب تو کہتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کو سمجھنے کیلئے نوازشریف کو پی ایچ ڈی کی ضرور ت ہے لیکن ہمارے خیال میں سرائیکی وسیب کے سیاستدانوں کی سیاست کو سمجھنے کیلئے دراصل اس اعلی ڈگری کی ضرورت ہے ۔جتنی پھرتی کیساتھ یہ خاندان وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں الامان الحفیظ۔زیادہ دور جانے ضرورت نہیں ہے جنرل مشرف کے اقتدار کا جب طوطی بول رہاتھااس وقت رحیم یارخان سے لیکر میانوالی تک سرائیکی وسیب کے سیاستدانوں کی اکثریت چودھریوں کیساتھ مل کر انہیں وردی سمیت صدر بنوارہی تھی۔

دلچسپ صورتحال یوں تھی کہ ان میں سے اکثریت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن ) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئی تھی۔اسوقت ان کیلئے عمران خان اور نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کا ملک میں جمہوریت کا نعرہ بیکار تھا ۔اصولی سیاست ،جمہوریت اور اخلاقیات کے سوال پر الجھ پڑتے تھے ۔ان کو وزرات اور ضلع ناظم شپ کا ایسا چسکا پڑا تھاکہ سب کچھ قربان کررہے تھے۔چودھری شجاعت کی قیادت پر اندھا اعتماد تھا۔

پھر جنرل مشرف اور چودھریوں کے اقتدار سے دورہوتے ہی سرائیکی وسیب کے سیاستدانون کو عمران خان اور نوازشریف کی یاد بے چین کرنے لگی ۔جہانگیر ترین جو ایک وقت میں جنرل مشرف پر صدقے واری ہوتے تھے اب عمران خان کیساتھ پریس کانفرنس میں فوٹو بنوانے کیلئے قریبی کرسی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ادھر ریاض حسین پیرزادہ جو جنرل مشرف کو تاحیات وردی کیساتھ صدر دیکھنا چاہتے تھے آجکل وہ اس بات پر پھولے نہیں سماتے ہیں کہ میاں محمد نوازشریف نے ان کو پریس کانفرنس میں ساتھ بیٹھ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل کرلیاہے۔

سردار فاروق لغاری(مرحوم) کے فرزند جمال لغاری اور اویس لغاری کو بھی اب عمران خان اس ملک کا نجات دہند ہ نظرآتاہے ۔ان کو اب چودھریوں کے ذکر سے الجھن ہوتی ہے ۔ادھر مظفر گڑھ کے ہنجرا جوکہ مشرف دور میں چوہدریوں کے کیمپ میں تھے اور ضلع ناظم مظفرگڑھ تھے ،اب وزیراعلی شہبازشریف کے جانثار ساتھی ہیں۔راجن پور دریشک تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔خانیوال کے ہراج جو کہ مشرف دورمیں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر چودھریوں کیساتھ جاملے تھے اب عمران خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کرنے کیلئے تیاریوں میں مصروف ہیں ۔اب ان کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ چوہدری برادران کو ان کے اس فیصلہ سے تکلیف ہوگی۔

لیہ کے ملک غلام حیدر تھند مشرف دور میں چودھریوں کی مرہون منت ضلع ناظم شپ انجوائے کرچکے ہیں لیکن اب مسلم لیگ (ن) کے ٹرک پر سوار ہوچکے ہیں۔ادھر ملک نیاز جھکڑ جوکہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر جنرل مشرف کے حکم پر چودھری کیساتھ جاملے تھے اب عمران خان کیساتھ معاملات طے کرنے میں مصروف ہیں ۔بھکر کے نوانی مشرف دور میں چودھری کو اپنی سیٹوں پر الیکشن لڑارہے تھے اب مسلم لیگ (ن ) کیساتھ کھڑے ہیں۔

بہاولپور کے مخدوم احمد محمود اپنے تئیں کوشش تو بڑی کرتے ہیں کہ شریف برادران کیساتھ بہاولپور میں برابری کی سطح پر سیاست کرسکیں لیکن آخرکار انہی کے دربارمیں جاکر معاملات کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔مخدوم احمد محمود بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو جنرل مشرف دور میں ضلع ناظم رحیم یارخان رہ چکے ہیں اور مشرف کو وردی کیساتھ صدر دیکھنے کیلئے متحرک تھے ۔جھنگ کے مخدوم فیصل صالح حیات نے بھی مشرف دور میں پیپلزپارٹی کو اچانک جھٹکا دے کر چوہدریوں کا ساتھ دیاتھا اور آجکل ذر اہٹ کر سیاست کرنا چاہتے ہیں لیکن” اب کیاہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ”۔

عامر جلیل بوبراسرائیکی وسیب کے سیاستدانوں کی قلابازیاں دیکھ کر یوں تبصرہ کرتاہے کہ دوست” ان تلوں میں تیل نہیں ہے ”۔یہ تخت لاہورکے ایجنٹ ہیں ۔ان کیلئے سرائیکی دھرتی کا استحصال کوئی معنی نہیں رکھتاہے ۔ان کواقتدار سے غرض ہے ۔ادھر لاہور پر حکمرانوں طبقہ کی نوازشات اور سرائیکی وسیب کیساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک پر عامر جلیل اپنی بات یوں ختم کرتاہے۔

زمیں کا خشک سینہ جل رہاہے
ادھر دریاپہ بارش ہورہی ہے

ویسے یہ تحریر پڑھنے کے بعد ضلع خوشاب کے سیاستدانوں بارے آپ کا کیا خیال ہے?

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s