طالبان کے لیے 101 معذرت نامے

ملالئے یوسف زئی پر تحریکِ طالبان پاکستان کے حملے کی خبر نشر ہونے کی دیر تھی کہ ٹی وی اسکرینوں سے ہمارے دائیں بازو والے سیاستدانوں کا سیلاب بہ نکلا۔ اس سے پہلے کہ بحث شروع ہوتی، انہوں نے اس واقعے کا رخ اپنے سیاسی مقاصد کی جانب گھمانے کا چکر شروع کردیا۔

ہندوستانی، اسرائیلی اور امریکی سازش کا پرچم لہراتے ہوئے سب سے پہلے جماعتِ اسلامی سامنے آئی۔ فوراً بعد ان کا کلین شیو ورژن عمران خان اور ان کی پاکستان تحریک انصاف نمودار ہوئی۔ انہوں نے دکھ کا اظہار کیا، اسے مجرمانہ اور بزدلانہ فعل قرار دیا اور واقعے کی بنیادی وجہ امریکی ڈرون حملوں سے جوڑ دی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں نے بمشکل ‘کفر’ کی مذمت تو کردی لیکن ‘کافر’ کے معاملے پر خاموش رہے۔

بعض ٹی وی اینکرز اور تجزیہ کار بے شرمی کی سب سے کم گہری سطح تک گئے مگر ایک نے آگے بڑھ کر کہا کہ پاکستان کے خلاف جاری پروپیگنڈہ جنگ میں ملالئے ‘پیادہ سپاہی’ ہے۔

ملالئے یوسف زئی کو پیش آنے والے سفاکانہ واقعے کے گرد، غالب اسلامی رنگ لیے اس تمثیل کاری کو دیکھیں تو سہی کہ یہ ‘چکر’ ہے کیا۔

یہاں پر ان چند سمتوں کا جائزہ لیتے ہیں جو طالبان سے معذرت خواہانہ رویے، واقعے کو بگاڑنے اور توجہ ہٹانے پر مبنی ہیں۔

1. ‘جس نے بھی یہ جرم کیا، اسے قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔’

بالکل درست۔ حملے کی مذمت لیکن اس کے ساتھ ہی یہ طالبان کے سکّہ بند مجرمانہ فعل سے توجہ بھٹکانے کی کوشش بھی ہے۔ بہتر ہے کہ ایسے وقت میں کہ جب ‘اچھے’ طالبان سرحد پار افغانستان میں لوگوں کو قتل کرتے پھررہے ہیں، ہم اسے اب ‘جہاد’ کہہ لیں۔

2. ‘ایسی ہی شہرت ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والی خواتین اور بچوں کو کیوں نہیں دی جاتی ہے؟’

معصوم شہری چاہے ڈرون حملوں میں ہلاک کیے جائیں یا پھر طالبان کے ہاتھوں مارے جائیں، دونوں صورتوں میں یہ قابلِ مذمت ہیں۔ دو ‘غلط’ مل کر کبھی بھی ایک ‘درست’ نہیں ہو سکتے۔

بہت سارے لوگوں نے یہ بات محسوس کی ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان نے جو کچھ ملالئے کے ساتھ کیا یا وہ سوات کے بے شمار معصوم بے گناہ شہریوں کے ساتھ کرچکے ہیں، وہ اس کے مقابلے میں بہت کم ہے جو ڈرون ان کے ساتھ کرتے ہیں۔

ملالئے پر اس لیے حملہ کیا گیا کہ اِس نے طالبان کے اُس وژن کو چیلنج کیا تھا جس کے مطابق قائم معاشرے میں نہ تو عورتوں کی کوئی آواز ہے اور نہ ہی اُن کی کوئی مرضی یا پسند۔

3. ‘حقیقت میں یہ حکومت ہی ہے جس کی وجہ سے ملالئے موت کے قریب پہنچی۔ وہ اس لیے کہ حکومت اسے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔’

یہ سچ ہے۔ حکومت ناکام ہوچکی۔ بے شک فوج اور اس کے خفیہ ادارے بھی اس حملے اور بہت سارے دیگر دہشت گرد حملوں کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوچکے مگر ایسے میں طالبان کو اس فیصلے کا اختیار کیسے مل سکتا ہے؟

4. ‘ہمیں طالبان سے لازماً بات کرنی چاہیے۔ پچھلے امن معاہدے اس لیے ناکام ہوئے کہ وہ سبوتاژ پر مبنی تھے۔’

کس سے بات کریں؟ اُن سے بات کریں جو بے گناہ کمسن بچیوں کو ‘سیکولرازم’ پھیلانے کے جرم میں مار رہے ہیں، اُن سے جو انسان کو قتل کرکے اس کا سر بطور ٹرافی سجاتے ہیں یا پھر اُن سے جو اس طرح کے عقائد پر مبنی نظام کے لیے جمہوریت پر غور کرتے ہیں؟

عمران خان اور ان جیسے لوگوں کو یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ طالبان یہاں مفاہمانہ طور پر رہنا نہیں بلکہ اسے فتح کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں سوات میں ہونے والی ڈیل اور فاٹا میں کیے جانے والے دیگر ‘امن معاہدوں’ کو ذہن نشیں رکھنا چاہیے، جن سب کو طالبان نے تہس نہس کیا تھا۔

5. ‘یہ ایسے معاشرے میں قطعی غیر معمولی بات نہیں ہے جہاں عورت کو پسند کی شادی کرنے پر قتل کردیا جاتا ہو۔’

حقیقت میں تو یہ دہشت گردی کا شکار اور پھر اس میں بچ جانے والوں کے لیے تو جارحانہ اقدام ہوتا ہے لیکن چلیں، دلیل کی تلاش میں فرض کرلیتے ہیں کہ ایسے اقدامات درست ہیں۔ تو پھر ہم اُنیّسو سینتالیس اور سن دو ہزار کی دہائی کے درمیان ایک جیسی سفاکانہ کارروائیوں، جیسا کہ بچیوں پر مہلک جاں لیوا حملے، ان کے اسکول تباہ کردینے کے عمل میں، مماثلت کیوں نہیں دیکھتے۔

6. ‘یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں؟’

یہ بات کون طے کرے گا کہ کون مسلمان ہے یا کون نہیں ہے؟ طالبان سمجھتے ہیں کہ وہ صراطِ مستقیم پر ہیں۔ انسانیت کے خلاف اپنے جرائم کو درست ثابت کرنے کے لیے وہ قرآن اور سنت سے حوالے پیش کرتے ہیں۔ تو کیا انہیں اپنے برابر تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرلینی چاہیے۔

یہ اس بات کو کیسے مختلف ثابت کرسکتا ہے کہ دہشت گرد حملوں میں جو مارے گئے، وہ خدا کے نام پر مارے گئے تھے یا اُس کے نام پر نہیں مارے گئے تھے۔

قتل، قتل ہوتا ہے خواہ وہ کسی بھی جواز کی بنیاد پر ہو۔

7. ‘ہم نہیں جانتے کہ جو تحریک طالبان پاکستان سے وابستگی کا دعوٰی کررہے ہیں، حقیقت میں وہ اسی کے لوگ ہیں؟’

یہ خاص طور پر جماعتِ اسلامی کی پسندیدہ دلیل ہے۔ طالبان اپنے ہاتھوں قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اس بدترین استحصال کی وڈیو بھی پیش کرتے ہیں۔ معذرت خواہانہ دلیل دینے والے دائیں بازو کے مذہبی عناصر کو اپنے اس کہے پرکوئی شرم بھی نہیں آتی۔

8. ‘ہندوستانی، یہودی اور امریکی پیسوں سے تحریکِ طالبان پاکستان کی مدد کی جارہی ہے؟’

اس کا ثبوت۔۔۔ صفر۔ بشمول دوسروں کے، پاکستان مسلم لیگ ن کے لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے ایک ٹی وی شو میں دعویٰ کیا تھا کہ ‘یہ لوگ ہندوستانی بندوقیں اور اسرائیلی گولیاں استعمال کررہے ہیں۔’ یقیناً کہہ دینا بہت آسان ہے۔

تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ پاکستان میں مسائل کا پھیلتا ہوا کینسر ہے۔ ایسے میں توجہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ان کے دائیں بازو کے اتحادیوں کی طرف مرکوز کرنی چاہیے۔ فوج نے ہی انہیں ریاستی آلے کے طور پر تشکیل کیا تھا۔

یہاں مسئلہ یہ ہے: اگر یہ ‘اسلام کے دشمن’ اتنے ہی ذہین ہیں کہ اگر ان کے خلاف کچھ کیا گیا تو وہ دوسرے ہی دن پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کرلیں گے تو پھر جنرلوں کو اپنی ٹوپیاں اتار کر گھر چلے جانا چاہیے۔

9. ‘جب امریکا خطّے سے نکل جائے گا تو دہشت گردی کم ہوجائے گی۔’

یہ عمران خان کا پسندیدہ راگ ہے، جسے وہ عموماً الاپتے رہتے ہیں مگر تاریخی اعتبار سے یہ غلط ہے۔

یہ راز کی بات نہیں کہ تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی، جس کی سربراہی پہلے صوفی محمد اور سن دو ہزار دو کے بعد ان کے داماد مُلا فضل اللہ نے سنبھالی، وہ پاکستانی ریاست کے خلاف اسلحہ اٹھا کر نائین الیون سے بھی سات سال پہلے سامنے آئی تھی۔ اس وقت تو خطے میں امریکا موجود نہیں تھا۔

10. ‘لازم ہے کہ مرض کو سمجھا جائے، صرف اس کی علامتی تشخیص نہ کی جائے۔’

یہ ایسی بات ہے کہ جب تک ڈاکٹر مرض کی باقاعدہ تشخیص نہ کرلے تب تک مریض کو خون میں لت پت تڑپتا چھوڑ دینا چاہیے۔ مرض تو موجود تھا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان پر امریکی تسلط کے بعد اس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔

مزیدِ برآں، ہمیں یہ مردِ مجاہدین بتائیں کہ امریکا کے خطے سے نکل جانے کے بعد وہ سوات میں کس طرح طالبان کو بچیوں کے اسکولوں پر حملوں سے روک سکیں گے۔

یہاں اُن سب سے ایک سوال ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ ملالئے اور اس کی دیگر اسکول ساتھیوں پر ہونے والاحملہ غیر ملکی سازش ہے:

اگر ملالئے آپ کی بیٹی ہوتی تو؟ تب کیا آپ مسئلے کی بنیادی جڑیں تلاش کرنے کی بات کرتے؟ کیا اب بھی آپ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے؟ کیا آپ اب بھی طالبان میں ‘اچھے’ اور ‘بُرے’ کا امتیاز کرتے ہیں؟

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s