خوشی کی بات تو ہے لیکن ۔۔۔!!! ڈاکٹر مجاہد مرزا

4 جولائی 1977 کی صبح ملتان چھاؤنی کے ہال میں فوجی افسروں کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔ زبردستی فوج میں ضم کردہ ڈاکٹر ہونے کے ناطے چونکہ میں بھی کیپٹن گنا جاتا تھا، اس لیے مجھے بھی اس اجلاس میں شریک ہونا پڑا تھا۔ ملتان گیریزن کے کمانڈر طویل القامت لیفٹینینٹ جنرل اعجاز عظیم سٹیج پہ آئے تھے، ان کے ہاتھ میں دو صفحات تھے، جن پہ کئی سطریں سرخ رنگ سے واضح کی گئی تھیں۔

انہوں نے ایک دھواں دار تقریر کی تھی، جس کا لب لباب یہ تھا کہ ایک سیاستدان اصغر خان نے فوج کے نام خط لکھ کر حکومت وقت کے خلاف بغاوت پہ اکسانے کی کوشش کی ہے۔ اصغر خان کی جماعت تحریک استقلال بھی چونکہ “نو ستاروں” میں شامل تھی، یوں وہ بھٹو مخالف اتحاد پی این اے کے رہنما تھے۔ میں اس تقریر پر بہت خوش ہوا تھا۔ اس کے برعکس میری یونٹ کے سربراہ لیفٹینیٹ کرنل بشیر احمد( جو مجھے اپنے ہمراہ حکما” اس اجلاس میں لے کر گئے تھے، ویسے بھلا میں کہاں جانے والا تھا اور جو پاکستان قومی اتحاد کے حامی تھے) اپنے دونوں ہاتھوں سے کرسی کی ہتھیوں کو مظبوطی سے تھام کر خود کو تقریر کے خلاف جذباتی ہونے سے بچا رہے تھے۔

اگلے ہی روز یعنی 5جولائی 1977 کو وہی ہال تھا، ویسا ہی ہنگامی اجلاس تھا، وہی جنرل موصوف تھے لیکن آج وہ بھٹو حکومت کی مخالفت اور پی این اے کے حق میں تقریر فرما رہے تھے۔ چند ہی روز بعد مجھے فوج میں مستقلا” رہنے یا نہ رہنے بارے عندیہ دینے کے سلسلے میں ان کے سامنے پیش ہونا تھا۔ پیش ہوا تھا اور فوج میں مزید رہنے سے معذوری ظاہر کر دی تھے۔ جب انہوں نے وجہ پوچھی تو میں نے صاف کہہ دیا تھا کہ “فوج کا کوئی دین ایمان نہیں ہے۔”میرے جنرل یا کم از کم بریگیڈیر ریٹائر ہونے کی راہ میں اسطرح اصغر خان براہ راست حائل ہوئے تھے اور مجھے انجام کار فوج سے حاصل ہونے والے پلاٹوں، کوٹھیوں اور دیگر مراعات سے محروم کرنے کا موجب بنے تھے۔

اگر میں یہ کہوں کہ میں تودراصل بھٹو دوستی میں مارا گیا، یا یہ کہ پروپیگنڈے کا شکار ہو گیا اور یا یہ کہ فوج نے اصغر خان کے خط بارے غلط تاثر دے کر مجھے جذباتی کر دیا تھا تو ان میں سے کوئی بھی بات غلط نہیں ہوگی۔ اصغر خان کے خط کو جذباتی پن سے پڑھے ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا کہ کسی چند روز پیشتر اصغر خان کا وہ خط “فیس بک” پہ لگا دیا۔ ایک ایک لفظ کو غور سے پڑھا۔ بغاوت کرنے کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے البتہ یہ ضرور کہا گیا ہے کہ قانون پر مبنی حکم کو مانا جانا چاہیے۔ قانون کی نفی کرنے والے حکم کو ماننے سے انکار کیا جانا کسی طور بھی بغاوت نہیں کہلاتا۔ یہ اور بات ہے کہ قانون کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے باعث فوج میں شامل لوگوں کی اکثریت بس حکم مانتی ہے کیونکہ فوج میں یہی بتایا اور سکھایا جاتا ہے کہ پہلے حکم مانو اگر کوئی اعتراض یا شکایت ہے تو حکم پر عمل درآمد کرنے کے بعد کرو۔

ایک واقعہ سن لیجیے فوج میں باقاعدہ کام کرتے ہوئے ڈیڑھ دو ماہ ہی ہوئے تھے۔ مقام تعیناتی گوری کوٹ، استور، گلگت تھا۔ اکتوبر نومبر کا مہینہ تھا۔ برف تو نہیں پڑی تھی لیکن کڑاکے کی خشک سردی شروع ہو چکی تھی۔ یونٹ پہنچ کر جیپ سے اترا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سپاہی کی کمر پہ بوجھ لدا ہوا ہے، سر سے اوپر اٹھائے گئے دونوں ہاتھوں میں کوئی بوجھل چیز ہے اورایک حوالدار ا اسے یک محدود جگہ میں بار بار آگے پیچھے دوڑا رہا ہے۔

اس عمل کو دیکھ کر، جو میرے لیے بالکل نیا تھا ،میں نے دفتر میں داخل ہونے کی بجائے حوالدار سے پوچھا تھا،”یہ کیا ہو رہا ہے؟” اس نے پاؤں زمین پر مارتے ہوئے سلیوٹ کیا تھا اور کہا تھا “سر اسے پٹھو پریڈ کی سزا دی جا رہی ہے” میں نے اسے کہا تھا، اس جوان کو کھڑا کرو اور اس پر سے بوجھ اتروا دو۔ حوالدار چیخا تھا،”سر! یہ کرنل صاحب کا حکم ہے۔” ” اب یہ میرا حکم ہے” میں نے جواب دیا تھا۔ وہ ابھی اس جوان کا بوجھ اتروا رہا تھا کہ میرے پیچھے سے میرے کمانڈنگ آفیسر لیفٹینیٹ کرنل انعام نے پوچھا تھا اپنی بھنّائی ہوئی آواز میں استفسار کیا تھا،” یہ کیا ہو رہا ہے؟” وہ میری اور حوالدار کی گفتگو سن کر دبے پاؤں اپنے دفتر سے نکل آئے تھے۔

میں نے مڑ کر سلیوٹ کیا تھا اور کہا تھا “سر اس نوجوان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔” انہوں نے کہا تھا، “اسے سزا دی جا رہی ہے”۔ میں فوجی قوانین سے ہبّہ بھر بھی شناسا نہیں تھا لیکن ماتحت افراد کے سامنے میرے منہ سے یونہی نکل گیا تھا،”سر کیا آپ ایسی سزا کی کوئی شق، کسی آرمی لاء جرنل میں دکھا سکتے ہیں؟” وہ چپ ہو گئے تھے اور اس جوان کو مزید پٹھو پریڈ نہیں کرائی گئی تھی۔ ظاہر ہے یہ قانون نہیں ہوگا، ایک نہ لکھا ہوا قانون ہو سکتا ہے۔ چنانچہ میرا ایسا کرنا نہ تو حکم عدولی تھا اور نہ ہی یہ عمل مبنی بر بغاوت تھا۔

پینتیس سال قبل انہوں نے فوج کو بغاوت پہ اکسایا تھا یا نہیں، یہ بات اب قابل بحث نہیں رہی لیکن سولہ سال پیشتر انہوں نے فوج کے سربراہ اور فوج کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے غیر قانونی سیاسی اعمال کے خلاف سپریم کورٹ میں جو پٹیشن داخل کرائی تھی اور جس کا فیصلہ ابھی ہوا ہے وہ پٹیشن اوراس پہ آنے والا فیصلہ بہت اہم ہو چکے ہیں۔ اس فیصلے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ریٹائرڈ چیف آف سٹاف اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک ریٹائرڈ جرنیل کے خلاف براہ راست کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

سیاسی طور پر کمزور اور فوج کی دست نگر حکومت، چاہے موجودہ حکومت کی بجائے کسی اور پارٹی مثلا” مسلم لیگ، جماعت اسلامی یا تحریک انصاف کی بھی کیوں نہ ہوتی، ان جنرلوں کے خلاف براہ راست قانونی کارروائی کرنے سے گریزاں ہی رہتی۔ زیادہ سے زیادہ وہی کرتی، جو موجودہ حکومت بھی کرے گی کہ یہ فریضہ فوج کے سپرد کر دیتی۔ ان دونوں کے خلاف چاہے صرف فوج میں قانونی کارروائی ہی کیوں نہ کی جائے، جس میں سزا نہ بھی ہو، تب بھی مستقبل میں فوج کا کوئی بھی جنرل لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی خاطر غیر قانونی عمل کرنے سے پہلے سو بار ضرور سوچے گا۔ کڑی مجرمانہ سوچ رکھنے والے تو بہر حال کسی کو کبھی خاطر میں نہیں لائے۔

دوسرا اچھا اثر یہ ہوا ہے کہ اب عام لوگ سیاستدانوں کے علاوہ فوج کے اعلٰی ترین افسروں کے بارے میں بھی کوئی اس قدر ہمدردانہ رویہ نہیں رکھیں گے۔ اس خوشی کی بات کے ساتھ جو بات بہت دیر تک اپنا منفی اثر رکھے گی، وہ سیاستدانوں کے “بکاؤ” ہونے کا تصور ہے۔ چاہے جتنی صفائی کیوں نہ پیش کی جائے، چاہے تحقیقات ہوں یا نہ ہوں، چاہے ان کا جرم ثابت نہ بھی ہو، جو ہوگا بھی مشکل لیکن یہ منفی اثر ان سیاستدانوں کے کھاتے میں جمع ہو چکا ہے، جو اسے دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھا کر ان کی شخصیت کو کھوکھلا کر دینے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ ایسے سیاستدانوں کو جو کسی بھی نوع کی بدعنوانی کے ارتکاب میں ملوّث کیوں نہ ہوں، ننگا ہونا چاہیے لیکن معاملہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاستدانوں کی متبادل کھیپ نہیں ہے۔ لے دے کے اے این پی، متحدہ قومی تحریک تھیں جو علاقائی پارٹیاں ہونے کے باوجود اس قدر بدنام نہیں تھیں،لیکن اقتدار نے انہیں بھی داغدار کر دیا ہے۔

ملک میں سیاسی سماجی عدم توازن کا یہ عالم ہے کہ جب ایوان صدر میں ہونے والے صحافیوں کی تنظیم سیفما کے سیمینار میں افتتاحی تقریر کے اختتام پر سیفما کے جنرل سیکریٹری امتیاز عالم نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ ملک کو بنیاد پرستی کے عفریت سے بچائیں وگرنہ ہم اقوام متحدہ سے کہیں گے کہ وہ آ کر بچائے، تو صدر محترم تلملا گئے تھے اور انہوں نے تقریر کا آغاز ہی یہ کہہ کر کیا تھا کہ اقوام متحدہ میں جانے کا کہہ دینا آسان ہے، پھر انہوں نے حکومت کی بنیاد پرستی کے مقابلے میں کمزوریوں اور مجبوریوں کا تفصیلی ذکر کیا تھا، یہ تک کہا تھا کہ ہمیں تو سلمان تاثیر کے مقدمے کے لیے وکیل تک میسر نہیں آیا جب کہ بنیاد پرست قاتل قادری کی وکالت ہائی کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کر رہے تھے۔

یہ بھی کہا کہ وہ تو مصالحت کو ہی شعار بنائیں گے اور اگر کوئی عسکری کارروائی کرنی بھی ہوگی تو سب کو اعتماد میں لے کر کرنا ہوگی۔ پھر کہا کہ بنیاد پرستوں کے خلاف عسکری کارروائی بارے دوسری پارٹیوں کے اتفاق کے حصول کو تو بھول جائیں، وہ تو دائیں بازو کے سماجی حلقوں سے ووٹ حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسے میں سیاسی پارٹیوں کے سماجی و سیاسی مسائل بارے متفق یا ہم آہنگ ہونے کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں رکھی جا سکتی جبکہ فوج کے اندر کی یک جہتی بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے خدشہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی حکمت عملی کے تضاد کی بناء پر عوام کو فوجی اشرافیہ کی چیرہ دستیوں کے خلاف متحد کرنے میں ناکام رہیں گے کیونکہ نہ تو پاکستان امریکہ ہے اور نہ ہی نواز شریف اور زرداری ، رومنی اور اوبامہ جیسے ہیں کہ جن کی قومی سلامتی بارے حکمت عملی یکساں ہے، چاہے لائحہ عمل تھوڑا بہت مختلف ہی کیوں نہ ہو

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s