میرے عزیز ہم وطنو!

جس طرح عقلمندوں کی خاموشی اور گفتگو دونوں میں مصلحت ہوتی ہے اسی طرح جرنیلوں کی کرپشن اور اس کی تحقیقات دونوں میں قومی مفاد پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس قومی مفاد کے خلاف اگر کچھ ہوتا ہے تو ایڈیٹ صحافی کا وہ سوال جس کے جواب میں جرنیل اسے شٹ اپ کہتے ہیں۔

میں خود کو صحافی تو نہیں کہ سکتا لیکن ایڈیٹ میں ضرور ہوں آپ بھی امید ہے جرنیل نہیں ہیں اس لئے شٹ اپ کہنے سے پہلے یہ تحریر پڑھ لیں۔

ہندوستان کی مثال دینا اگرچہ صحافتی آداب اور قومی مفاد دونوں کے خلاف ہے لیکن جب مجھے یہ پتا چلاکہ گزشتہ دنوں ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ نے بد عنوانی کے خلاف احتجاج کے لئے مشہور سماجی کارکن انّا ہزارے کے ساتھ پریس کانفرنس کرتےہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا، تو میں حیران رہ گیا۔

کیا ملک ہے کہ جہاں فوجی جرنیلوں کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ کرنا پڑتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے یہاں ایسی کوئی بدعت نہیں ہے۔ جرنیل مطالبے کرتے ہیں نہ پریس کانفرنس کے بکھیڑے میں پڑتے ہیں۔ موڈ اچھا ہو تو بلڈی سویلینز عرف عزیز ہموطنوں سے سرکاری ٹیلیویژن پر براہ راست خطاب کرلیتے ہیں ورنہ ہم وطن اتنے سمجھدار تو ہیں کہ نجی ٹی وی چینل بند ہونے سے خود جان جاتے ہیں کے جمہوریت کا صفایا ہو چکا اور کرپشن کا اب ہو گا۔

ہمارے یہاں بھی سماج سدھارتے سدھارتے سیاست کے میدان میں کود پڑنے والے کارکنوں کا ہاتھ کوئی نہ کوئی جرنیل تھام لیتا ہے اور پھر دونوں مل جل کر حکومت کی کرپشن کے خلاف بہت کچھ کرتے ہیں لیکن اس بہت کچھ کا پریس کانفرنس میں اعلان کبھی نہیں کرتے۔ پتا نہیں کیوں؟ شاید قومی مفاد میں۔

ہندوستان اور ہمارے ملک میں ایک فرق یہ بھی ہے کے ان کا جرنیل ریٹائرڈ تھا اور سماجی کارکن حاضر سروس ۔ہمارے ہاں ترتیب عام طور پر اس سے الٹ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کا خواہشمند، سماجی کم سیاسی زیادہ، کارکن عام طور پر سماج کی اصلاح سے مایوس ہو کر ریٹائر ہونے والا ہوتا ہے اور رہے جرنیل تو وہ ہندوستان جیسے عجیب ملکوں میں ہی ریٹائر ہوتے ہیں۔

ہمارے یہاں جرنیل جب این ایل سی کے گھوڑے سٹاک ایکسچینج کے میدان میں دوڑا کر ان پر سٹّہ کھیلنے سے اکتا جائیں تو وردی اتار دیتے ہیں (آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ بھی قومی مفاد میں ہوتا ہے) لیکن اسے ریٹائرمنٹ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ضرورت پڑنے پر وردی دوبارہ بھی پہنی جا سکتی ہے۔

کچھ جرنیل تو ریٹائرمنٹ کی لعنت سے بچنے اور دو دقت کی روٹی کمانے کو پٹواری کا کام بھی سیکھ لیتے ہیں اور کسی ٹھیکیدار کے پاس ملازمت کر لیتے ہیں۔ جو ٹھیکیدار ان جرنیلوں کے گھر کا چولہا جلانے کا ذمہ لیتا ہے اسےعزیز ہم وطن ادب سے رئیل سٹیٹ ڈویلپر کہتے ہیں۔

خیر ذکر ہو رہا تھا ہندوستان کا، جہاں کے کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ ہندوستانی جرنیل کی پریس کانفرنس کو ان کے سیاسی کیرئیر کے آغاز کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسی باتیں کرنے والوں کو سیاسی مبصر کون کہتا ہے۔ خیر جیسا عجیب ملک ویسے عجیب مبصر۔

ہمارے یہاں تو آج تک سیاست کسی ریٹائرڈ جرنیل کا کیرئیر نہیں بنی۔ حاضر سروس کی بات اور ہے۔ ریٹائرمنٹ ہمارے یہاں سیاسی کیرئیر کا اختتام ہوتی ہے، جرنیل کے لئے بھی اور اس کے ساتھ مل کر سیاست کرنے والے سماجی کارکن کیلئے بھی۔ یہ علیحدہ بحث ہے کہ یہ بات آج تک جرنیلوں اور سماجی کارکنوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آسکی؟

سماجی کارکن نہ مل سکیں تو کئی جرنیل ریٹائر نہ ہونے والی صفت کی وجہ سے، جسے ملک دشمن خوش فہمی بھی کہتے ہیں اور ڈھٹائی بھی، وردی اتارنے کے بعد اپنی سربراہی میں سیاسی پارٹی بھی بنا لیتے ہیں۔ لیکن عوام جو جمہوریت یا جہالت میں سے کسی ایک یا شاید دونوں کے عاشق ہیں ووٹ کرپٹ سیاست دانوں کو ہی ڈالتے ہیں۔

جاہل عوام اکثر اپنے مسیحا جرنیل کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچان نہیں پاتے اور مسیحا قومی سلامتی کو خطرے کی وجہ سے اپنے کارنامے کھل کر بیان نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ کہ جرنیل صاحب کے سیاسی مشیر اگر سیانے ہوں تو الیکشن سے پہلے توبہ یعنی بائیکاٹ کروا دیتے ہیں۔ دوسری صورت میں پوشیدہ صلاحیتوں کے مالک جرنیل عوام کو جن لفظوں میں یاد کرتے ہیں وہ پوشیدہ ہی رہیں تو بہتر ہے۔

ہندوستان کا تو پتا نہیں ہمارے ملک میں سماجی کارکنوں کے طرف جرنیلوں کا جھکاؤ ایک سیاسی تبدیلی ہے۔ شاید اسی لئے اس سیاست کو سماجی کارکن تبدیلی کی سیاست کہتے ہیں۔ اس تبدیلی سے پہلے جرنیل غریب سیاسی کارکنوں کو (اسی قومی مفاد میں) اکھٹا کر کے ان میں امدادی رقم کے لفافے تقسیم کیا کرتے تھے۔ عدالت کو سولہ سال بعد جب اس بات کا پتہ چلا تو اس نے بہت برا مانا۔

یہ تو خیر معلوم ہو گیا کہ وہ جرنیل کون تھے لیکن رقم کس کس غریب کے کام آئی یہ معلوم کرنے میں قومی مفاد آڑے نہ آیا تب بھی میرا اندازہ ہے کے کم سے کم سولہ سال اور لگیں گے۔

ہو سکتا ہے کہ مزید سولہ سال بعد معلوم ہو کہ لوگوں میں اتحاد پیدا کرنا اور غریبوں کی مدد تو ہے ہی قوم کی خدمت۔ اس وقت شاید ہم جیسوں کو محسوس ہو کی قصور ہمارا تھا جو ہم قومی مفاد کو کبھی سمجھ ہی نہ سکے۔ خیر جتنا بھی عرصہ لگے اور جو بھی فیصلہ آئے میں اس ایڈیٹ بلاگ کو ختم کرتا ہوں اس سے پہلے کہ عدالت شٹ اپ کہے، آخر قومی مفاد کی حفاظت اس کی ذمہ داری بھی تو ہے میرے عزیز ہم وطنو!

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s