ہاں آئی جے آئی بنائی تھی،کرلو جو کرنا ہے

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل(ر)حمید گل نے کہا ہے کہ ہاں میں نے ملک میں آئی جے آئی بنائی تھی،ٹرائل کیلئے میری دو شرائط ہیں،ٹرائل اوپن ہونا چاہئے اور مجھے گرفتار نہ کیا جائے،گرفتار اس شخص کو کیا جاتا ہے جس کا خطرہ ہوکہ وہ ملک سے بھاگ جائیگا،یہ میرا ملک ہے،یہ میر ی مٹی ہے ،میں یہاں ہی مروں کا میں اسی مٹی میں ہی دفن ہونگا،ٹرائل ہوا تو یہ ”مدر آف آل ٹرائلز“ہوگا،سیاستدان کرپٹ اور پارلیمنٹ گﺅشالہ ہے،اگر مقصدصرف پیپلز پارٹی کو ہرانا ہوتا تو اس پارٹی کاوجود بھی نہ ہوتا،بی بی کو بتادیا کہ آئی جے آئی بنائی ہے یہ میرا فرض بنتا تھا،آئی جے آئی کا کریڈٹ اسلم بیگ کو جاتا ہے لیکن میں بھی اسکا معاون تھا،کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے میں معاشرے میں شرمندہ ہوں،کوئی ایسا کام نہیں کرتا جس میں میری مرضی نہ ہو،آئی جے آئی بنانا کسی اور کا بھی خیال تھا لیکن میں نے اس کو بنایا،میں اس کام سے پہلے ہی مسعتفی ہوجاتا ہوں جس میں میری اپنی مرضی شامل نہیں ہوتی،90ءکے انتخابات میں میرا کوئی کرردار نہیں تھا،ٹرائل کرو،پھانسی چڑہادو میں شہید پاکستان بننے کیلئے تیار ہوں۔تفصیلات کیمطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل(ر)حمید گل نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہاں میں نے ملک میں آئی جے آئی بنائی تھی،ملک بچانے کیلئے میں نے اپنی حیثیت نے آئی جے آئی بنائی،انہوں نے مزید کہاکہ ٹرائل کیلئے میری دو شرائط ہیں،ٹرائل اوپن ہونا چاہئے اور مجھے گرفتار نہ کیا جائے،انہوں نے پیپلز پارٹی کو للکارتے ہوئے کہاکہ اگر اسیاستدانوں میں جرا¿ت ہے تو یہ میرا ٹرائل کریں،ایک سوال کے جواب میں جنرل (ر)حمید گل کا کہنا تھاکہ میرا ٹرائل ہوا تو یہ ”مدر آف آل ٹرائلز“ہوگا،سیاستدان کرپٹ اور پارلیمنٹ گﺅشالہ ہے،اگر مقصدصرف پیپلز پارٹی کو ہرانا ہوتا تو اس پارٹی کاوجود بھی نہ ہوتا،بی بی کو بتادیا کہ آئی جے آئی بنائی ہے یہ میرا فرض بنتا تھا،انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کب کہا کہ میں نے آئی جے آئی نہیں بنائی میں تو ہی سب سے پہلے کہا تھا کہ میں نے آئی جے آئی بنائی انکوائری کروں میں نے سپریم کورٹ سے بھی کہا کہ ٹرائل ہونا چاہئے ،ٹرائل سے ہی پتہ چل سکے گا کہ امریکہ کا کیا کردار رہاہے،انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدان کیا فوج کو کنٹرول کرینگے بلکہ فوج نے خود اپنے آپ کو روکا ہوا ہے،سیاستدانوں کے کردار کے پہیوں پر جمہوریت چلاکرتی ہے،جب تک انکا کردار درست نہیں ہوگا جمہوریت نہیں چل سکتی اور فوج کا عمل دخل رہے گا، جب پارلیمنٹیرین ہی لیٹرے ،چوڑ اور ڈاکو ہونگے تو جمہوریت کیا خاک چلے گی،ایک سوال کے جواب میں جنرل (ر)حمید گل کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ طوفانوں کی زد میں رہا ہے،نہیں سمجھتا تھاکہ بنگلہ دیش ایک الگ ملک ہے،بی بی نے ملک میں آکر میرے کاﺅنٹ کی چھان بین کی لیکن ان کو ایک پیسے کی بھی ہیرا پھیری نہیں ملی،میری ایمانداری کا سٹرٹیفکیٹ سی آئی اے نے خود دیا،جو مرضی آرٹیکل لگائیں یہ آئین ملک کیلئے ہی ہے،زیادہ سے زیادہ آرٹیکل مجھے پھانسی دیدے گا،اگر ملک کو خطرہ ہوگا تو کسی بھی آرٹیکل کی پروا نہیں کرونگا،کائرہ صاحب اپنی کائیں کائیں بند کریں ،میں کہتا ہوں کہ میرا ٹرائل ہونا چاہئے،ٹرائل کریں تو میں بتاﺅں گا کہ سیاستدان کیا کرتے رہے ہیں،میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں،یہی بھانگے گے،ٹرائل کریں تو میں بتاﺅں گا کہ کیا ہوتارہاہے،کائرہ صاحب نے خود کہا ہے کہ وہ ٹرائل کرینگے وہ ٹرائل کریں میں ان کو سٹرکوں پر گھسیٹوں گا اور پوری قوم دیکھے گی،کیا میں نے پاکستان کیلئے مرنے کی قسم نہیں کھائی،جو کچھ کیا میں نے اپنی حیثیت سے کیا ہے،میں اس وقت تک مجرم نہیں ہوں جب تک مجھ پر الزامات ثابت نہیں ہوتے اس وقت تک میں صرف ملزم ہوں،پیپلز پارٹی کی حکومت میرا ٹرائل کریں تو میں ان کا کالا منہ پوری قوم کے سامنے بے نقاب کرونگا،یہ لوگ بھٹو کے فلسفے کے خلاف چل رہے ہیں،پیپلز پارٹی والے ذوالفقار علی بھٹو کے ایجنڈے کے بالکل مخالف چل رہے ہیں،جس جس نے بی بی سمیت امریکہ کی مخالفت کی اس نے سزا پائی،امریکہ میرا نام دہشتگروں کی لسٹ میں ڈالنا چاہتا تھا،چین نے نہیں ڈالنے دیا،کونسا ادارہ ہے جس نے غلطی نہیں کی،اگر سیاستدانوں کا کردار خراب ہوگا تو فوج مداخلت کریگی،سیاستدان لیٹرے ہیں پاکستان کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں،یہ چاہتے ہیں فوج بالکل نہ آئے اور وہ اقتدار کے مزے لوٹتے رہےں،بی بی نے مرنے سے پہلے پیغام بھیجا کہ اب میں آپ کی طرح سوچتی ہوں،افغانستان کا جہاد ابھی ختم نہیں ہوا، تاریخ نے ابھی فیصلہ سنانا ہے،سیاستدان کیا فوج کو کنٹرول کرینگے بلکہ فوج نے خود اپنے آپ کو روکا ہوا ہے،سیاستدانوں کے کردار کے پہیوں پر جمہوریت چلاکرتی ہے،جب تک انکا کردار درست نہیں ہوگا جمہوریت نہیں چل سکتی اور فوج کا عمل دخل رہے گا، جب پارلیمنٹیرین ہی لیٹرے ،چوڑ اور ڈاکو ہونگے تو جمہوریت کیا خاک چلے گی۔

Advertisements