بے نظیر بھٹو ‘سیکورٹی خطرہ’ کیوں تھیں؟

 اصغر خان کیس کے تفصیلی فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ انیس سو نوے میں فوجی قیادت کے ذہن میں کیا تھا اور وہ کیوں بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ایک ‘سیکورٹی خطرہ’ سمھجتے تھے۔

ملٹری انٹیلیجنس کے سابق سندھ چیف بریگیڈیئر (ر) حامد سعید نے متعلقہ کیس میں سپریم کورٹ میں اپنے جمع کرائے گئے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو نے عالمی طاقتوں کے لیے نامنظور حد تک  یورینیم کی افزودگی پر فوج کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ان کے اِس بیان کا تزکرہ تفصیلی فیصلے میں کیا گیا ہے۔

اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے سولہ اگست انیس سو نوے میں آئین کی شق اٹھاون ٹو – بی کے تحت بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی تھی۔

حامد سعید کے دعوؤں کو اب بالعموم غلط سمجھا جاتا ہے اور لوگوں کا خیال ہے کہ الزامات کا مقصد محض سابق وزیر اعظم کو بدنام کرنا تھا۔

بریگیڈیئر (ر) سعید انیس سو نوے میں ڈی آئی خان میں آرٹلری بریگیڈ کی کمانڈ کر رہے تھے۔

اُس وقت ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں  بڑھتی ہوئی مزاحمت کی وجہ سے دونوں ملکوں نے اپنی سرحدوں پر فوج کی تعداد میں اضافہ کر دیا تھا۔

ایسے میں حامد سیعد کو سندھ میں سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے کراچی میں ملٹری انٹیلیجنس میں بھیج دیا گیا تھا۔

بریگیڈیئر سیعد نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ بینظیر بھٹو نے بی بی سی کو اپنے انٹرویو میں خالصتان تحریک ختم کرنے کے لیے ہندوستانی حکومت کو اپنی حمایت ظاہر کی تھی۔

کچھ عرصے بعد وزیر اعظم نے فوج کی جانب سے صوبہ سندھ میں ان کی مرضی کے بغیر سالانہ مشقیں کرنے پر تنقید کی۔

جس پر بعد ازاں، فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے ایک جاری بیان کے ذریعے وضاحت کی کہ قانون کے تحت فوج ملک کے کسی بھی حصے میں مشقیں کرنے کے لیے اجازت لینے کی پابند نہیں۔

سابق بریگیڈیئر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اُسی سال، حکومت نے الذوالفقار کے کارکنوں کو ریلوے، پی آئی اے، کسٹم ، کے پی ٹی، ایکسائیز اور دوسرے محکموں میں پرُکشش ملازمتیں دے کر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا تھا۔

بیان کے مطابق، الذوالفقار کے کارکنوں کو ہندوستان میں سبوتاژ، دنگوں، بم دھماکوں، قتل عام اور دہشت گردی کی دوسری کارروائیوں کے لیے تربیت فراہم کی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اُس وقت عام تاثر یہ تھا کہ حکمراں جماعت کے پاس مینڈیٹ تو ہے لیکن وہ ملک چلانے کی اہل نہیں۔

بریگیڈیئر سیعد نے مزید کہا کہ انیس سو نوے میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کے بعد پی پی پی کے کارکنوں نے تشدد کا سہارا لیتے ہوئے ایم کیو ایم کو سیاسی دھوکہ دینے پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا، جس پر ایم کیو ایم نے اپنے مسلح کارکنوں کی مدد سے بھر پور ردعمل ظاہر کیا۔

‘ اُس دور میں پی پی پی، ایم کیو ایم، جے آئی اور جے ایس ایم کے کارکن ایک دوسرے کو بے رحمی سے قتل کر رہے تھے اور ہر روز ہی تقریباً سو سے ایک سو دس تک لوگ ہلاک ہو رہے تھے’۔

‘پی ایس ایف، اے پی ایم ایس او، آئی جے ٹی اور جسقم کے کارکن حریف جماعتوں سے وابستہ لوگوں کو اغواء کرنے کے بعد بہیمانہ تشدد کرتے تھے۔ اُن کے گھٹنوں میں ڈرل مشین سے سوراخ کرنے کے علاوہ اُن کے نازک حصوں کو بجلی کی سولڈرنگ مشینیوں سے جلایا جاتا تھا’۔

بریگیڈیئر سعید کے بیان کے مطابق، انہوں نے ایم کیو ایم کے مرحوم رہنماؤں طارق عظیم، ڈاکڑ عمران فاروق اور سلیم شہزاد، جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور، جے ایس ایف کی حمیدہ کھوڑو اور ممتاز بھٹو، جسقم کے عبدالوحید اڑیسر اور پی پی آئی کے مختار اعوان سے ملاقاتیں کیں اور انہیں سخت پیغام دیا کہ اگر انہوں نے قتل وغارت، دنگے اور لوٹ مار بند نہ کی تو فوج امن قائم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال پر مجبور ہو گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدا میں تو ان تنظیموں نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا لیکن جب انہیں ناقابل تردید شواہد دکھائے گئے تو انہوں نے ہمارے سخت پیغام کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا۔

بیان کے مطابق، اس کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر ہلاکتوں کی تعداد سو سے کم ہو کر بیس اور تیس کے درمیان رہ گئی۔

‘بعد ازاں، ایک دوسرے کے اغواء ہونے والے کارکنوں کو ان کی متعلقہ تنظیوں کے حوالے کرنے کے انتظامات کیے گئے اور حوالگی کا یہ عمل کراچی کارپس کے ہیڈ کواٹر میں ہوا’۔

سابق بریگیڈیئر کے مطابق  یہ سب کچھ مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا گیا، اس دوران نہ تو گولی چلی، نہ ہی کسی کو غیر قانونی طور پر زیر حراست رکھا گیا اور نہ ہی معلومات حاصل کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت تک ملک کی اندرونی سیکورٹی نے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر لی تھی۔

‘ بعد میں صوبائی حکومت نے اُس وقت اردو بولنے والوں کے خلاف پکا قلعہ، حیدر آباد میں پولیس آپریشن شروع کر دیا جب وزیر اعظم ، آرمی سربراہ اور کراچی کارپس کمانڈر بیرون ملک دورے پر اور فوجی یونٹ سالانہ مشقوں میں مصروف تھے’۔

‘اس آپریشن میں پولیس نے درجنوں  آدمیوں، عورتوں اور بچوں کو ہلاک کیا۔ اعلٰی ایوانوں کو اس معاملے سے آگاہ کرنے پر صدر اسحاق نے فوج کو مداخلت کرتے ہوئے اس آپریشن کو روکنے کا حکم دیا’۔

‘جس پر حیدر آباد کے اسٹیشن کمانڈر نے فوجی مشقوں میں نہ جانے والے اور حفاظتی ڈیوٹیوں پر معمور تقریباً تین سو فوجیوں کو جمع کیا اور پکا قلعہ پہنچ گئے جس کے بعد پولیس کو علاقے سے جانا پڑا تھا’۔

‘بینظیر بھٹو نے وطن واپسی پر ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق ‘فوج نے پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں بنایا گیا اسلحہ مہاجروں کو فراہم کیا’ اور پولیس نے یہ اسلحہ برآمد کرنے کے لیے پکا قلعہ میں آپریشن کیا تھا’۔

وزیر اعظم کے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ جب پولیس اسلحے کے ذخیرے کے قریب پہنچی تو فوج مداخلت کرتے ہوئے اسلحہ اپنی گاڑیوں میں لے گئی۔

بریگیڈیئر سعید کے مطابق، بے نظیر بھٹو کے اس بیان پر سب ہی حیرت زدہ تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں،  مہاجر رابطہ کمیٹی نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ وہ اس خون ریزی کے بعد اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہندوستان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ہندوستان نے موقع گنوائے بغیر کہا کہ مہاجر ان کے سابق شہری ہیں اور ان کو ریاستی دہشت گردی اور نسل کشی سے بچانا اور تحفظ فراہم کرنا ہندوستان پر فرض ہے۔

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s