تیرا کیا ہو گا کالیا؟

ویسے تو ہماری افغان پالیسی پردہ اسرار میں لپٹی ہوئی راولپنڈی اور آبپارہ کے بند کمروں کے پیچھے بیٹھے ٹھیکہ داروں کا ہی شغل ہے لیکن کبھی کبھی اس میں کی گئی تبدیلیوں کو عوامی دیدار کے لئے بھی پیش کر دیا جاتا ہے.

ظاہر ہے کہ عوامی نماندے کینیا، کینیڈا، مالدیپ اور بھوٹان جیسے “اہم” ممالک سے معاملات طے کرنے میں مصروف ہوتے ہیں تو بھارت، امریکا اور افغانستان جیسے چھوٹے موٹے ملکوں کے معاملات بحالت مجبوری عسکری حلقوں کے گلے پڑ گئے ہیں۔

خیر یہ تذکرہ تو ویسے ہی نکل آیا تھا اصل میں مقصد آپ کو اس خوشخبری میں شریک کرنا تھا جو اس وقت منظر عام پر آئی جب پیچھلے دنوں افغان امن کونسل پاکستان یاترا پر آئی اور بات چیت کے بعد طالبان قیدیوں کی رہائی کا مژدہ سننے میں آیا۔

یہ وہی طالبان ہیں جو کسی زمانے میں ہمارے دوست ہوتے تھے اور پھر ہماری ترجیحات تبدیل ہونے کے بعد پاکستان کے گلی کوچوں میں  ’دوست دوست نہ رہا’ کا رونا روتے پھرتے تھے اور ہمارے پالیسی سازوں  نے امن کی خاطر کچھ کو جیل میں اور کچھ کو اببٹ آباد میں بطور مہمان ٹھہرا دیا تھا۔ ابھی بھی ان میں سے کچھ کراچی اور کوئٹہ میں کسمپرسی اور گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور صرف اسلحہ، سیٹلائٹ فون، مرغن کھانوں اور انٹرنیٹ جیسی ناکافی سہولیات پر گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

مہمان نوازی کے تقاضے پورے نہ کرنے پر ہم آپ سے شرمندہ ہیں اور معافی کے طلبگار ہیں۔ اگرچہ آپکی تفریح طبع کے لئے ہم نے پورے پاکستان بلخصوص کراچی اور کوئٹہ میں موٹے تازے اور کچھ دبلے پتلے لوگ رکھے ہوۓ ہیں آپ انہیں سفر آخرت پر روانہ کر کے دل بہلائیے تب تک ہم ذرا افغانستان میں امن و امان بحال کروا لیں۔

طالبان قیدیوں کی رہائی اس پس منظر میں دیکھنے میں آئی ہے جب افغانستان میں طالبان سے مزاکرات کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں اور  شائد ہمارے بھرپور اصرار پر مزاکرات کی میز پر ہماری بھی جگہ بنا دی گئی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے کی جانب بڑھتی ہی دکھائی دے رہی ہے جہاں امریکا اپنا بوریا بستر لپیٹ کر اپنے گھر چلا جائے گا اور پاکستان، افغانستان میں امن اور شانتی کی بہار آ جائے گی کیونکہ کہا تو یہی جاتا ہے کہ ایک پر امن افغانستان پر امن پاکستان کی ضمانت ہے اسی لئے پاکستان امن کے علمبرداروں یعنی حقانی نیٹ ورک اور طالبان قیادت وغیرہ کو زمانے کے نرم و گرم سے بچائے ہوۓ ہے۔ اب اگر امریکا کی نیت خراب ہو جائے اور وہ 2014 کے بعد بھی افغانستان میں ایک دو بیس رکھنے پر مصر ہو تو یہ اسکی بدنیتی کا مظہر ہو گا۔

خیر افغانستان میں تو ہماری کوششوں سے امن بحال ہو ہی جائے گا لیکن پاکستان میں طالبان گروپوں کا کیا کیا جائے جو افغانستان میں امریکا کی موجودگی نہیں بلکہ پاکستان میں اسلامی نظام (جس کی تعریف اور حدود و قیود وہ خود طے کریں گے) قائم کرنے کی بنیاد پر اسلحہ اٹھائے ہوۓ ہیں۔ ان گروپس کی پیدائش اور پرورش کی بحث سے قطع نظر کیا پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان سے امریکا کی واپسی کے بعد یہ گروپس توبہ کر کے پر امن شہریوں کی طرح رہنا شروع ہو جائیں گے؟

کیا افغان طالبان اگر افغانستان میں اپنی عملداری یا افغان حکومت میں اپنا حصّہ وصول کرنے کے بعد پاکستان کے طالبان گروپس (جو ملا عمر کو اپنا بھی امیر مانتے ہیں،) سے ہتھیار ڈالنے کی کسی اپیل کو خاطر میں نہیں لاتے تو اس صورت میں ہمارا کیا ہو گا؟ کیونکہ افغانستان میں امن کے قیام کے پیچھے ہمارا مقصد تو یہی ہے کہ اسکے ذریعے پاکستان میں ان گروپس کو لگام ڈالی جائے۔

کیا پاکستان کے پاس اس صورتحال کے لئے بھی کوئی حکمت عملی ہے جب افغان طالبان افغانستان میں خوش و خرم ہوں گے اور یہاں کے طالبان ایک زور کا قہقہہ لگا کر کہیں گے،”تیرا کیا ہو گا کالیا”؟

آخر میں طالبان کی جانب سے  سی آیی اے کے سابق سربراہ ڈیوڈ پٹریس کے سیکس سکینڈل پر انھیں سنگسار کرنے کا جو مطالبہ سامنے آیا ہے اس پر ہم بطور قوم طالبان کو سلام پیش کرتے ہیں اور سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ بلکہ اس معاملے کو خود نہ اٹھانے کی بھول کی پاداش میں اور امریکا کی بگڑتی ہی اخلاقیات پر تاسف کا اظہار کرتے ہوۓ  اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ انشاللہ اگلے سال حکومت پاکستان امریکی حکومت بشمول صدر اوبامہ کو اپنے خرچے پر حج کروائے گی۔

 

بشکریہ ڈان

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s