حادثہ مخرنہ کر بلا

حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا واقعہ تاریخ اسلام میں ہمیشہ خون آلود حرفوں میں لکھا گیا اوراشک بارآنکھوں سے پڑھا گیاہے۔ لیکن اس دردانگیز واقعہ اور ماتم خیز حادثہ کے اندرشریعت اسلامیہ کی بے شمار بصیرتیں مضمرتھیں جن کو خون کی ان چادروں نے چھپادیا۔ اور ہزاروں اسوہ ہائے حسنہ مخفی تھے جن کو آنسوئوں کے سیلاب بہا لے گئے۔ اس لئے اب ہم کو قدیم زمانے کی مجلس ہائے ماتم میں ایک نئے حلقہ ماتم کا اضافہ کرنا چاہیے اورخون آلودہ آنسوئوں کا جو چشمہ ہمارے زخم رسیدہ دلوں سے ابل رہا تھا، اس کو کچھ دیر کیلئے ملتوی کرکے خود واقعہ شہادت کو اسرار شریعت اسلامیہ کا سرچشمہ بنانا چاہیے۔ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت پر ماتم کرنے کا یہ ایک نتیجہ خیز طریقہ ہوگا اور شریعت نے امت محمدیہ کو اسی قسم کے طریق ماتم کی ہدایت فرمائی ہے۔ دنیا میں اسلاف پرستی کا فطری مادہ ہر قوم کے اندر ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اسی بنا پر تمام قوموں نے اپنے اسلاف کا ماتم مختلف طریقوں سے منایا ہے۔ اور ان کے اعمال کو آئندہ نسل کی عبرت وبصیرت کیلئے زندہ رکھنا چاہا ہے۔ لیکن ان تمام طریقوں میں جو طریقہ سب سے زیادہ مقبول ہوا ہے، وہ وہی ہے جس کی بنیاد دنیا کی بت پرستی نے رکھی اور دراصل اصنام پرستی کی زنجیر عمل کی پہلی اور آخری کڑی اسی کو سمجھنا چاہیے۔ پہلی اس لئے کہ بسااوقات انسانوں نے اسی راہ سے اصنام پرستی کی منزل پائی اور آخری اس لیے کہ بت پرستی خود تو چلی گئی مگر اپنا نقش قدم اس شکل میں اب تک چھوڑ گئی ہے۔ ہمارا اشارہ اسلاف پرستی کے اس طریقہ کی طرف ہے جس کی بناپر مشاہیر ملک و قوم کے مجسمے (اسٹیچوز) بنائے جاتے ہیں اور ان کو اس لیے نصب کیا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ قوم کو ہمیشہ مشاہیر کی یاد دلائی جائے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت ملے۔ اگرچہ اسلاف پرستی کا یہ نہایت قدیم طریقہ تھا، اور حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک اس قسم کے متعدد مجسمے قائم ہوچکے تھے اور ان کی علانیہ پرستش کی جاتی تھی لیکن یونان و مصر نے ان مجسموں پر تمدن وتہذیب کا آب ورنگ چڑھا کر ان کو اور بھی شاندار ودل فریب بنادیا۔ آج یورپی بانیان تہذیب وتمدن کے مجسموں کی جو نمائش کررہا ہے اس کے اندر یونان کی اس قدیم تہذیب کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ ہندوئوں کی مذہبی سطح پر بھی تصویروں کی جو صفیں نظر آرہی ہیں ان میں بھی اس کی جھلک پائی جاتی ہے۔ لیکن اسلام ایک دین خالص تھا۔ جوکہ خالص تصور عبادت کو قائم کرنا چاہتا تھا۔ اور انسانی عظمت کی ان تمام راہوں کا ہمیشہ کیلئے دروازہ بند کردینا چاہتا تھا جو کسی حال میں بھی الٰہی عظمت کے نقطہ تک پہنچ سکتی تھیں یا قریب ہوسکتی تھیں پس وہ کسی طرح بھی قیام ذکر وبقاء عظمت کا ایسا طریقہ اختیار نہیں کرسکتا تھا جس میں پڑ کر دنیا بار بار ٹھوکر کھاچکی تھی۔ اسلام نے ظاہر ہوتے ہی دنیا کے تمام اعمال و معمولات پر نظر ڈالی اور ہرعمل کی حقیقت وروح کو لے لیا اور غیرمناسب وغیرموزوں جسم ولباس کو چھوڑ دیا۔ وحشت نے جن حقیقتوں کو تاریک پردوں میں چھپا دیا تھا وہ دفعتاً چاک ہوگئے۔ جہالت نے جن موتیوں کو پتھروں کے ڈھیر میں گم کردیا تھا، وہ ان سے الگ ہوکر دنیا کے دامن مراد میں آگئے۔ غیرمعتدل تمدن نے جن کھلی ہوئی بصیرتوں کو خوش نما چادروں کے آب ورنگ میں راز سربستہ کی طرح مقفل کردیا تھا وہ یکسر فاش ہوگئے اور حقیقت آفتاب کی طرح علانیہ بے نقاب ہوکر ہرانسان کو نظرآئی۔ قرآن حکیم نے اسی انقلاب کو ان مختصر لفظوں میں بیان فرمایاہے: ’’خدامسلمانوں کا دوست اورساتھی ہے۔ ان کو ہرطرح کی انسانی تاریکیوں سے نکال کر فطرت صالح کی ربانی روشنی میں لاتا ہے مگر کفار کے دوست ان کے طاغوت ہیں جو ان کو خدا کی بخشی ہوئی روشنی سے نکال کر جہل و ضلالت کی اندھیری کی طرف لے جاتے ہیں۔‘‘ یہ ایک عظیم الشان انقلاب تھا جس کی جھلک اسلام کی تمام تعلیمات میں نظرآتی ہے اور مشاہیر پرماتم کرنے کاطریقہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں چنانچہ قدما کی یادگار قائم کرنے اور ان کے اعمال و آثار کے زندہ رکھنے کا جو طریقہ زمانہ قدیم سے چلا آتا تھا، اسلام نے اس میں بھی ایک روحانی انقلاب پیدا کردیا۔ اس نے مسلمانوں کو مجسموں کی شکل میں اسلاف پرستی کی اجازت نہیں دی۔ کیوںکہ وہ بت پرستی تک پہنچ جاتی ہے اوراسلام زندہ انسانوں کے شرف کو پتھروں کے آگے نہیں جھکانا چاہتا، مگر اس نے مشاہیر کرام اور اسلاف صالحین کے نمونوں کے فوائد عظیمیہ کو بھی ضائع ہونے نہ دیا اور ان کے اثر کو اس طرح ہی قائم کردیا کہ ہرمومن کے آگے ان کے عملی زندگی کے نمونے پیش کردیئے اور کہا کہ دن میں پانچ بار جب خدا کے حضور آئو تو صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت مانگو۔ ساتھ ہی تشریح کردی کہ صراط مستقیم انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی راہ علم وعمل ہے اور اس لیے ان کے نمونے ہروقت تمہارے سامنے رہنے چاہئیں ۔ پس ماتم کی رسم پر وحشت نے جن تاریک پردوں کو ڈال کراصل حقیقت کو چھپا دیا تھا اور تمدن وتہذیب نے ان پردوں کو نظر فریب رنگ چڑھا کر جن بصیر توں کو گم کر دیا تھا، اسلام نے ان سب کو چاک چاک کردیا اور مغز حقیقت جن چھلکوں میں چھپا ہوا تھا ان سے نکل کر علانیہ آشکار ہوگیا۔ قرآن حکیم میں انبیائے سابقین کے جو قصص مذکور ہیں ان کے اندر درحقیقت انہی بصائرو حکم کی روح مضمر ہے جو مجسموں کے قالب میں حلول کر کے بالکل بے اثر، اور محض ظاہر فریب ہو جاتی تھی۔ قرآن مجید قدماء واعاظم رجال کی یادگاروں کے قائم کرنے کے اصل مقصد کو اسوۂ حسنہ کے جامع لفظ سے تعبیر کرتا ہے اور مسلمانوں کو جابجا اس پر توجہ دلاتا ہے چنانچہ اس نے حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کے نمونہ حیات کو مسلمانوں کا قبلہ وجوہ و کعبہ انظار قرار دیا۔ ’’تمہارے لیے حضرت ابراہیم کی حیات طیبہ میں اور ان کی زندگی میں جو ان کے ساتھی ہیں، پیروی کیلئے بہترین نمونہ رکھا گیا ہے۔‘‘ اس بناپر اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جو اسلاف پرستی کے صحیح اصول پر اسلامی تعلیم دیتا ہے اور اسی صحیح اصول کے مطابق چاہیے کہ حضرت امام حسینؓ کے واقعہ شہادت کے اندر عزم واستقلال، صبر، ثبات، استبداد شکنی، قیام جمہوریت ، امربالمعروف ونہی عن المنکر کی جو عظیم الشان بصیرتیں موجود ہیں، ان کی یاد کو ہروقت تازہ رکھیں اور کم ازکم سال میں ایک باراس مذہبی قربانی کی روح کو تمام قوم میں جاری وساری کردیں۔ لیکن ان بصیرتوں کے علاوہ حضرت امام حسینؓ کی ذات میں ایک عظیم الشان بصیرت بھی موجود ہے، جس کا سلسلہ مذہب کی ابتدائی تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور اس کی آخری کڑی اسلام کی تکمیل سے جاکر مل جاتی ہے۔ دنیا کی مذہبی تاریخ کی ابتداء عجیب بے کسی کی حالت میں ہوئی۔ ہم نے دنیا کے سخت سے سخت معرکوں میں باپ کو بیٹے کا شریک، بھائی کو بھائی کا حامی ، بی بی کو شوہر کا مددگار پایا ہے، لیکن صرف مذہب ہی کا روحانی عالم دنیا میں ایسا عالم ہے، جہاں باپ کو بیٹے نے، بھائی کو بھائی نے، شوہر کو بی بی نے چھوڑ دیا ہے ، بلکہ ان کی مصیبتوں میں اور بھی اضافہ کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ خاندان نبوت ہمیشہ اعزہ واقارب کی اعانت سے محروم رہا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ایک مدت تک شب وروز اپنی قوم کو دعوت توحید دی اور قوم نے فرط بغض وعناد سے ان کی دعوت حق کو رد کردیا، ان سے علیحدگی اختیار کرلی اور کانوں میں انگلیاں تک دے ڈالیں۔ ’’نوح نے عرض کیا، خداوند میں نے شب وروز دعوت حق دی لیکن اس کا الٹا اثر یہ ہوا کہ لوگ مجھ سے اور زیادہ بھاگنے لگے۔ میں نے جب ان کو تیری مغفرت کیلیے پکارا، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ڈالیں، اپنے کپڑوں میں لپٹ گئے کہ ان تک تیری آواز نہ پہنچ جائے، لیکن آہ!یہ حق ناشناس قوم ہمیشہ سخت ہٹ دھرمی اور باطل پرستانہ گھمنڈکا اظہارکرتی رہی‘‘! لیکن اس پیغمبرانہ آواز کی صدائے بازگشت صرف ان کی قوم ہی کے دردودیوار سے ٹکراکرناکامیاب واپس نہیں آئی، بلکہ خود ان کے گھر کے دردودیوار نے بھی اس کو ٹھوکر لگائی اور خاندان نوح کے چشم وچراغ یعنی ان کے بیٹے نے بھی اس نورکو قبول نہ کیا۔ آخری وقت میں نوح علیہ السلام نے پھر اپنے بیٹے کو خدا کی پناہ میں بلایا، لیکن اس وقت بھی اس کا گوش نصیحت آشنا نہ ہوا۔ اس لیے وہ بھی تمام قوم کے ساتھ عذاب الٰہی کی طوفان خیرموجوں میں بہہ گیا۔ ’’اور نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو جو اپنی شامت اعمال کی وجہ سے ان سے علیحدہ تھا۔ پکارا کہ اے بیٹے ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اورکافروں کا ساتھ نہ دے۔ اس نے کہا میں پہاڑ پر چڑھ جائوں گا اور وہ مجھے اس طوفان سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا تو کس ضلالت عقل میں مبتلا ہے؟ آج خدا کے عذاب سے کوئی بھی نہ بچاسکے گا چنانچہ نوح کی پکار کچھ بھی سود مند نہ ہوئی اور اس کے بیٹے کے درمیان موج حائل ہوگئی اور تمام لوگوں کے ساتھ وہ بھی ڈوب گیا۔‘‘ حضرت لوط علیہ السلام کے تمام خاندان نے اگرچہ ان کا ساتھ دیا لیکن خود ان کی بیوی ان سے علیحدہ ہو کر تمام قوم کے ساتھ عذاب الٰہی میں شامل ہو گئی۔ ’’فرشتگان عذاب نے کہا، ہم اس گناہ گار قوم کو اس کے اعمال بد کا نتیجہ دکھلانے کیلیے بھیجے گئے ہیں۔ ہمارے عذاب سے صرف لوط کا خاندان محفوظ رہے گا، اور ان میں سے بھی ان کی بیوی تمام قوم کے ساتھ عذاب الٰہی میں شامل کر لی جائے گی کیونکہ وہ بھی کافرہ ہے۔‘‘ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے خاندان نبوت میں ایک عظیم الشان انقلاب پیدا ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا ان سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بی بی نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی لیکن دور ابراہیمی میں بیٹے نے باپ کی، بی بی نے شوہر کی، بھائی نے بھائی کی دعوت حق پر لبیک کی صدا بلند کی اور اس دعوت کی اشاعت میں جو جو مصیبتیں ان پر پیش آئیں، ان میں برابر کے شریک رہے۔ سب سے پہلے حضرت ہاجرہ نے اس جہاد روحانی کی طرف قدم بڑھایا اور شوہر کے ساتھ اپنے لخت جگر کو ایک ’’وادی غیر ذی زرع‘‘ میں ڈال دیا، جہاں کئی سو میل تک آب و گیاہ کا پتہ نہ تھا، یہ اسی سخت امتحان کی پہلی منزل تھی جس کیلیے خداوند تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو انتخاب کیا تھا؛ چنانچہ جب اس آخری امتحان کا وقت آیا تو انہوں نے باپ کے آگے سر اطاعت خم کر دیا۔ ’’جب اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے تو انہوں نے ایک دن کہا: اے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا تمہیں راہ حق میں ذبح کر رہا ہوں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ تم بھی اس پر غور کرو کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ بیٹے نے بلا تامل کہا اے میرے باپ، اس خواب سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ایک اشارہ ہے۔ پس آپ حکم الٰہی کو پورا کیجئے۔ مجھے انشاء اللہ صبر کرنے والوں اور ثابت قدموں میں سے پایئے گا۔ جب باپ بیٹے (دونوں) خدا کے آگے جھک گئے اور باپ نے ذبح کرنے کیلیے بیٹے کو زمین پر پچھاڑا تو اس وقت ہم نے آواز دی۔ اے ابراہیم! بس کرو، تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، ہم صاحبان احسان کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ دراصل یہ ایک بہت ہی بڑی قربانی تھی جس کی تعمیل کیلیے تم تیار ہو گئے تھے۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی ان کے خاندان کی اعانت ورفاقت شریک رہی؛ چنانچہ جب ان کو شعلہ طور کی زبان نے بشارت نبوی دی تو ان کی بی بی ان کے ساتھ تھیں۔ بلکہ انہیں کیلیے وہ آتش کدہ طور سے آگ لینے گئے تھے۔ ’’جب موسیٰ اپنی بی بی کو لے کر چلے تو ان کو کوہ طور کے دامن میں آگ کی روشنی نظر آئی۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا یہیں ٹھہرو۔ میں نے ایک آگ دیکھی ہے اس کا پتہ لگاتا ہوں، تاکہ تمہارے تاپنے کیلیے آگ حاصل کر سکوں۔‘‘ لیکن وادی ایمن میں جا کر معلوم ہوا کہ یہ آگ کا شعلہ نہ تھا بلکہ وہ ایک برق تھی جو فرعون کے خرمن ظلم و استبداد پر گرنا چاہتی تھی؛ چنانچہ جب خدا نے عصا اور یدبیضا کی صورت میں ان کو یہ صالقہ ہلاکت دیا اور انہوں نے اپنے بھائی ہارون کی اعانت کا سوال کیا، تو خدا نے اس کو پورا کیا۔ ’’خدا نے کہا میں تیرے دست و بازو کو تیرے بھائی کی اعانت سے قوی کر دوں گا اور تم دونوں کو فرعون پر غالب کر دوں گا۔‘‘ چنانچہ حضرت ہارون علیہ السلام نے آغاز کار سے انجام کار تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساتھ دیا اور وہ دعوت موسوی کے ہمیشہ شریک و امین رہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اس سلسلہ کو اور ترقی ہوئی۔ پہلے خدا کے ایک صالح بندے نے اپنے بیٹے کو خدا کی مرضی پر قربان کرنا چاہا تھا لیکن اب وہ وقت آیا کہ خود حضرت مسیح علیہ السلام نے قربانی کے جام مقدس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور ان کیلیے سولی کا جو تختہ تیار کیا تھا، اس کی طرف بلا کسی باک کے بڑھے۔ ’’اور ان لوگوں نے نہ تو عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ پھانسی دی بلکہ ان پر اس قربانی کی حقیقت مشتبہ ہو گئی۔‘‘ لیکن اسلام کے زمانہ تک خدا کی راہ میں جو قربانیاں ہوئی تھیں، وہ محض شخصی حیثیت رکھتی تھیں۔ یعنی انبیاء نے شخصی طور پر خدا کی ذات پر اپنی اولاد کو یا اپنے آپ کو قربان کر دیا تھا۔ جہاد کی یہ ابتدا تھی مگر اس کی تکمیل شریعت، اسلام پر موقوف تھی؛ چنانچہ اسلام نے جس طرح جہاد کی حقیقت کو اور بھی مکمل اور واضح کر دیا، اب تک کسی پیغمبر کے خاندان نے جہاد میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ شخصی طور پر بھی جو قربانیاں کی گئیں وہ راہ ہی میں روک لی گئیں۔ حضرت ابراہیم نے اپنے لخت جگر کو خدا کی نذر کرنا چاہا لیکن اس کا موقع ہی نہ آیا۔ حضرت عیسیٰ سولی کی طرف بڑھے لیکن بچا لیے گئے۔ آج تک تمام خاندان نبوت نے متفقہ طور پر اس میں شرکت بھی نہیں کی تھی اور اس کی نظیر تمام سلسلہ انبیاء میں نہیں نظر آتی تھی کہ صرف بھائی، صرف بیٹا، صرف بیوی ہی نے مقصد نبوت میں ساتھ نہ دیا ہو بلکہ لاتمیز خاندان نبوت کے اکثر اعضاء و ارکان راہ حق میں قربان ہوئے ہوں۔ یزید کی شخصی خلافت کی بیعت کیلیے جو ہاتھ بڑھے تھے، وہ اسلام کی جمہوریت کا قلع قمع کرنا چاہتے تھے اور مذہب کی قربانیاں صرف امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہی کیلیے ہوا کرتی تھیں۔ اس لیے جب اسوۂ ابراہیمی کے زندہ کرنے کا ٹھیک وقت آ گیا تو خاندان نبوت کے زن و مرد، بال، بچے، غرض ہر فرد نے اس میں حصہ لیا اور جن قربانیوں کے پاک خون سے زمین کی آغوش اب تک خالی تھی ان سے کربلا کا میدان رنگ گیا۔ پس حضرت حسین ؓ کا واقعہ کوئی شخصی واقعہ نہیں ہے۔ اس کا تعلق صرف اسلام کی تاریخ ہی سے نہیں بلکہ اسلام کی اصل حقیقت سے ہے۔ یعنی وہ حقیقت جس کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذات سے ظہور ہوا تھا اور وہ بتدریج ترقی کرتی ہوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات تک پہنچ کر گم ہو گئی تھی اس کو حضرت حسینؓنے اپنی سرفروشی سے مکمل کر دیا۔ خاندان نبوت دنیا کے آباد کرنے کیلیے ہمیشہ اجڑتا رہا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت کی، حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے گھر بار چھوڑا، حضرت عیسی علیہ السلام نے جہاں گردی کی اور نبوت محمدیؐ کے متبعین میں سے حضرت حسین ؓ نے میدان کربلا کے اندر اس خانہ ویرانی کو مکمل کر دیا۔

 

مولاناابوالکام آزاد

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s