ایک انقلابی کی کتھا

( میرے بھتیجے)ندیم کو فریال نامی ایک اسماعیلی لڑکی سے عشق بھی ہو گیا تھا۔

ندیم فلمیں دیکھنے اور ناول پڑھنے کا تو ویسے ہی شوقین تھا اِسلیے ا س نے اِس نام نہاد عشق کو دل پر لے لیا تھا۔ ان دونوں باتوں کا خمیازہ اسے باپ کا گھر چھوڑ کربھرنا پڑا تھا۔ اب اس نے چڑیا گھر کے نزدیک گارڈن ٹاؤن میں ایک گھر کرائے پر لے لیا تھا جس میں اُس کے علی پور سے عارضی طور پر آئے ہو ئے دو ایک دوست بھی تھے۔ میں بھی وہیں ٹھہرا تھا۔ دن کو ندیم کے ہمراہ دفتر چلا جا تا تھا ۔ شام تک چوہدری اظہار اپنے نیلام گھر کے چکر سے آجایا کرتا تھا۔ فریال بھی آجاتی تھی اور ہم چاروں کسی ریستوران یا کیفے میں جا بیٹھتے تھے۔ فریال کو سبھی فیری کہتے تھے جس کے بارے میں ریاض کہاکرتا تھا:

فیری ہیرا پھیری
نہ تیری نہ میری
جب فیری یعنی پری اڑ جاتی تھی تو میں اور ندیم جنوں کی طرح شہر میں پیدل گھوما کرتے تھے اور دنیا جہان کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ندیم میری ذہانت سے متاثر تھا، اور میں اس کی فطانت کو سراہا کرتا تھا۔ اگرچہ اُس نے ابتدائی تعلیم لاسال سکول لائل پور میں حاصل کی تھی مگر وہاں سے والد کے حیدرآباد منتقل ہو جانے کے باعث علی پور ہائی سکول میں آکرپڑھنے لگا تھا اور جب وہ سبھی کراچی منتقل ہوئے تو اس کے باپ نے میٹرک پاس بچے کو دھاگہ کاٹنے کی مز دوری پر مل میں بھرتی کروا دیا تھا۔

وہ اپنی لگن اور محنت سے سی کام کر کے فاروق ٹیکسٹائل کے محمدی ہاؤس آئی آئی چندریگر روڈ پہ واقع ہیڈ آفس میں اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر جا پہنچا تھا۔ پھر جب تھوڑا عرصہ گزر جانے کے بعد ان کے بہاری چیف اکاؤنٹنٹ نے اپنا عہدہ چھوڑا تویہ فرائض اس نے سرانجام دینے شروع کر دیے تھے۔ ندیم ادھر ادھر سے بھی کما لیتا تھا اور دفتر میں بھی ہاتھ صاف کرتا تھا، اسلیے ندیم کے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہوتی تھی اور وہ انہیں خرچ کرنے میں بھی دریادلی کا ثبوت دیا کرتا تھا۔

یوں ہماری گذر بسر اچھی ہو جایاکرتی تھی۔ ندیم کے دوست شاید اپنے گھروں کو چلے گئے تھے بہرحال وہ ندیم کے گھر سے غائب تھے۔ کھاناکبھی گھر سے یا کبھی نزدیک کے ایرانی ریستوران میں کھایا جا تاتھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر گھنٹے دو گھنٹے بعد ہم بور ہو جاتے تھے۔ رات کو توویسے بھی چوکڑی جم جاتی تھی۔ تاش کے عام کھیل یا فلاش کھیلی جاتی تھی۔ رنگ کھیلنا میں نے سیکھ لیا تھا لیکن اس سے جلد اکتاجاتا تھااِسلیے ندیم نے مجھے فلاش کھیلنے سے منع کر دیا تھا۔ایک دن بوریت دور کرنے کیلیے ندیم نے تجویز پیش کی کہ چلو ہندوستانی فلم دیکھنے چلتے ہیں۔

تب ویڈیو اتنے عام نہیں ہوئے تھے اس لیے کمروں میں ویڈیو شو ہوتے تھے۔ فلم دیکھنے کی غرض سے ندیم وہیں لے گیا تھا جس علاقے میں ہم دو چار بار گانا سننے اور حجرا دیکھنے کے لیے جا چکے تھے۔ اس روزوہاں اتفاق سے پولیس کا چھاپہ پڑا تھا اِسلییسارے ہی وڈیو والے رفو چکر ہو گئے تھے۔

ہم فلم کی جستجومیں تھے لیکنہمارے پیچھے ایک دلال پڑ گیا تھا جو اپنے ’’ مال ‘‘ کی تعریف میں کسر اٹھا نہیں رکھ رہا تھا۔ہم چائے پینے کی خاطر ایک ریستوران میں گھس گئے تھے مگر اُ سنے وہاں بھی پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ بالآخر ہم نے ہار مان لی تھی اور ندیم مال دیکھنے کے لیے چلا گیاتھا اور متاثر ہو کر آیا تھا۔

جب ہم دونوں نے اپنے پیسے گنے تو وہ طلب کردہ رقم سے کم تھے۔ طَے یہ ہوا کہ ہم دونوں گھر واپس جاتے ہیں ندیم مجھے وہاں چھوڑکر اور پیسے لے کر آئے گا یوں’’ مال‘‘ ہمراہ لیتاجائے گا۔ اس زمانے تک شمعون اور صلاح الدین درانی نے مجھے حشیشی کر دیا تھا،ویسے یہ الزام سرا سر غلط ہے۔ در حقیقت مجھے خمار کی اس دیوی کے گن پتہ چل گئے تھے جو کوچوانوں کے معروف فقرے یا نام نہاد شعر یعنی:

یہ چرس نہیں یہ قہر ہے
سینہ تو جل جاتا ہے
پر آنکھوں میں لہر ہے

سے قطعی مختلف تھے۔ اس کا استعمال حسن کوفزوں تر اور حزن کو فروتر کرتاتھا۔ انسانوں کے ساتھ تعلقات کو خالصتاً انسانی کر دیتا تھا۔ مصوری سنی جا سکتی تھی اور موسیقی دیکھی جا سکتی تھی۔ میں نے حسن کوفزوں تر کرنے کی خاطر ندیم کے آنے سے پہلے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا ۔

جب ندیم’’ مال‘‘ کا ہاتھ پکڑے ہوئے گھر میں داخل ہوا تھا تو میں صحن پر بچھی چارپائی پر دراز تھا۔ وہ واقعی خوبصورت تھی اور شاید جوان بھی۔ اس کا رنگ زرد تھا مگر غیر صحت مند نہیں تھا۔ وہ بکنے والے مال کی طرح غازے اور سرخی سے نہیں لپی ہوئی تھی۔اس کی ہلکی سی سرخی بھی اس کی اپنی ہی لگ رہی تھی ۔ اس کے چہرے پر بلا کا خون تھا جس نے مجھے لمحے بھر میں اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

میں بہت دیر تک اس سے باتیں کرتا رہا تھا۔ اس نے مجھے بتا یاتھا کہ اس کی خدمات کے معاوضے کوچار حصوں میں بانٹا جا تا ہے جس کا ایک حصہ اس کو دیاجا تا ہے اور باقی تین حصے پولیس، کوٹھے دار اور دلال میں تقسیم ہوتے ہیں ۔ اس نے بڑے دکھ سے کہا تھا کہ میر اپتہ لے لیں جب ضرورت ہو تو مجھے اپنے طور پر بلا کر کچھ زیا دہ دے دیاکریں۔استحصال کی اِس غیرانسانی نوعیت کا سن کر میری ذہنی کیفیت اتھل پتھل ہو کر رہ گئی تھی۔ میں اس سے بھلاکیاوعدہ کرتا میں توویسے ہی اِس راہ کا مسافر نہیں تھا اور تسلی بھلاکیسے دے سکتاتھا جب خود اسے خریدنے کے عمل میں حصے دار بن چکا تھا۔ دل بوجھل تھا اور جسم انکاری۔

الٹا اُ س نے میرے دکھ کے ساتھ ہمدردی شروع کر دی تھی اور مجھے اپنے ترحم میں پناہ دی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اِس دکھ، ترحم اور پناہ کے عمل کی کیفیات سے میں بے بہرہ سا رہا تھا۔ چاند چمک رہاتھا۔ دور کی کسی مسجدکے لاؤڈ سپیکر سے موذن کی صدا صلاح اور فلاح کی جانب پکار رہی تھی۔ مال کو مثانہ ہلکا کرنے کی احتیاج تھی مگر وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی۔ جھجکے جھجکتے کہا ’’ مجھے سہارا دے کر باتھ روم لے چلیں‘‘۔

میں نے پوچھے بغیر سہا را دے دیا تھا یوں پتہ چلا کہ اس کی ایک ٹانگ استعمال سے خاصی حد تک عاری تھی۔ اب میری جان نکل گئی تھی، مجھے غصہ آگیاتھا۔اُس پر، اپنے آپ پر،خواہش پر، نفس پر، سماج پر، دلا ل پر،استحصال پر، ہر چیز پر۔ بہتری اسی میں جانی کہ اُسے چلتا کیا جائے اور پھربھولنے کی کوشش کی جائے، باوجود اِس کے کہ مجھے پتہ تھا کہ بھولنے کی کوشش یاد کو کوڑا دکھاتی ہے۔

اِس طرح کا یہ میرا دوسراتجربہ تھا۔پہلا تجربہ ملتان میں دو برس پہلے کاتھا۔ تب تک میں ’’بومن جی ‘‘ کی شراب کی دکان سے بیئر خرید کر پینے کی ہمت کرنے لگا تھا اور اگر کبھی جیب اجازت دے دیتی تو ادھاّ، پوّا بھی لے لیا کرتا تھا۔ میرا ساتویں جماعت سے دوست، غلام نبی اپنے چچا زاد بھائی اور دوست عبدا لعزیز لشاری کے ساتھ ملتان آیا تھا۔ اب غلام نبی 1971میں ایک ٹریفک حادثے میں اپنے بھائی بشیر خان لشاری کی ناگہانی موت کے بعد اس کی بیوہ اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کے سلسلے میں اپنی ایل ایل بی کی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر اپنے دوسرے بھائی غلام قادر عرف لمبھر خان کے ساتھ کارو بار کرنے لگا تھا۔

غلام نبی اور عزیز تفریح کی خاطر آئے تھے۔ میں تفریح کی ایک ہی صنف سے شناسا تھا یعنی دخت رز سے۔ میں نے اِسی کی دعوت دی تھی لیکن غلام نبی کی منطق یہ تھی کہ شراب پینے سے گناہ ہوتا ہے۔ لڑکی لے آتے ہیں۔ اس سے بحث کرنا فضول تھا۔ زمیندار بچے تھے۔ مزارعین کی بیٹیوں اور کپاس چننے والیوں کے ساتھ دھونس ، لالچ ااور دھوکے سے ہر طرح کی دادعیش دینے کے عادی تھے بلکہ عزیز لشاری نے تو یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ ان عورتوں کی بیٹیوں کے ساتھ اس کے جسمانی تعلقات ہیں جن سے اس کے باپ کے جسمانی تعلقات رہے تھے اور یہ کہ ساحر لدھیانوی کا وہ شعر صحیح بھی ہو سکتا ہے کہ نہ جانے ان برباد حال جھونپڑیوں کے باسی اتنی خوبصورت بیٹیوں کو کہاں سے جنم دے لیتے ہیں۔ خون کے ناجائزرشتوں سے ناجائز تعلقات کے شاخسانے اتنے ہی عام ہیں جتنے مذہب کی آڑ میں بے ایمانی، بد دیانتی، زیادتی، زبردستی اور جنسی تشدد کے واقعات۔

میں نے ان کے ہمراہ لڑکی تلاش کرنے کی حامی بھر لی تھی مگر مجھے بس سنی سنائی باتیں ہی پتہ تھیں کیونکہ میرا روم میٹ روشن علی ملک دلوّں اور رنڈیوں کے قصے سنا یاکرتا تھا۔ایک بار میں خود بھی ان کے ساتھ ایسی ایک مہم پہ گیا تھا۔

ضلع کچہری سے ذرا پیچھے ایک محلے کے گھر میں ایک باریش حاجی کے پاس۔جب ہم پہنچے تو وہ نماز پڑھ کرجا نماز تہہ کر رہاتھا۔ روشن اور میاں ذوالفقار کو دیکھ کر کہنے لگا ’’ ابھی بلا تا ہوں‘‘ پھر اُ س نے گلی میں کسے بچے کو آوازدی تھی اور تھوڑی دیر میں چمکدار کپڑوں میں ملبوس چار لڑکیاں آکے قطار میں کھڑی ہو گئی تھیں اور دانت نکال رہی تھیں۔ میں نے چپکے سے ملک سے کہا ’’ اچھی نہیں ہیں‘‘۔یہ بات حاجی نے سن لی تھی اور اس نے ان سب کے سامنے ان کے خفیہ اعضاء کا اتنا کھلے

عام تذکرہ کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اس سے عاری ہیں۔ لفظ بہت عامیانہ استعمال کیاتھا۔ میں اس کا انداز گفتگو سنتے ہی واقعتاًسر پٹ الٹے پاؤں بھاگ کھڑا ہوا تھا اور روشن مجھے آوازیں دیتا رہ گیاتھا ۔پھر جب وہ صبح کو اعضاء شناسی کر کے واپس لوٹا تھا تو اس نے مجھے خوب سنائی تھیں کہ تم بے حد بزدل اور بیکار شخص ہو۔ روشن سے سنے ہوئے مقامات یاد کرکے میں پہلے انہیں گھنٹہ گھر لے گیا تھا۔ وہاں کچھ پسند نہ آیا تو پھر پہلے دکاندار کے کہے پر ڈیرہ اڈا چلے گئے تھے۔

جس ٹوٹے پھوٹے گھر میں رکھا ہوا مال ہمیں دکھانا تھا وہاں بجلی نہیں تھی۔ دلال ماچس کی تیلیاں جلاکر چہروں کے پاس لے جارہا تھا۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میں بغیر دھڑوں کے اُگے ہوئے سر دیکھ رہا ہوں جن کے چہروں پہ لپے غازے سے پیسنے کی لکیریں جھوجھ رہی ہیں اور ان کی آنکھوں میں مرچکی زندگی کی رمق ہے۔ میں نے کہا تھا ’’چلو چلو چلو‘‘۔ اسی قسم کے ایک دو مزید واقعات کے بعد عزیز نے فیصلہ سنایا تھا کہ ڈاکٹر تو یونہی پھراتا رہے گا۔ بس اب جو بھی ہاتھ لگے وہ لے لو۔ میں بھلا کیا کہتا ۔ ایک رکشے والا ہمیں خانیوال اڈے لے گیا تھا ۔

اس نے رکشہ اندھیرے میں کھڑا کردیا تھا پھر اُس نے اتر کر کسی گلی میں جاکر کسی سے بات کی تھی۔ تھوڑی دیر میں رکشے کے پیچھے سے کسی چھوٹے سے بچے کی آواز’’ اماں‘‘ کہنے اور پھر رونے کی صورت میں آئی تھی۔ میں نے جھانک کے دیکھا تو ایک پٹکیباندھے ہوئے شخص ایک کلبلاتے ہوئے بچے کو الٹی سمت میں لے جارہا تھا۔ اتنے میں رکشے کی دوسری طرف سے ایک عورت چھپ سے میرے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی تھی۔ میں لاشعوری طور پر کچھ ادھر کو کھسک گیا تھا۔عورت کے دوسری طرف غلام نبی بیٹھ گیا تھا او ر عزیزلشاری سکڑ کررکشہ چلانے والے کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔

رکشے میں زیرو وولٹ کا ہرا بلب تھا۔ عورت کے نقش مناسب تھے لیکن رنگ کی پہچان نہیں ہورہی تھی۔ عورت کے جسم سے گرمائش کے بھبھکے اٹھ رہے تھے او ر وہ لڑکھڑاتی آواز میں بولتی ہوئی، بے تکلف ہونے کی کوشش میں ادھر اُدھر لڑھک جاتی تھی۔ رکشہ میرے کہنے پر لوہاری دروازے کے پاس الشمس ہوٹل کے قریب آرکا تھا۔

میں کاؤ نٹرپرکمرے بک کروانے لگا او ر یہ تینوں چابیاں لے کر تیسری منزل پرچلے گئے تھے۔ جب میں فارغ ہوکر اوپر گیا تو وہ دونوں ایک کمرے میں بیٹھے تھے۔ باچھیں کھلاتے ہوئے دونوں نے کہا تھا ’’پہلے تم جاؤ‘‘ ۔ میں اِس سب کچھ سے شناسا نہیں تھا۔ ویسے بھی طبعاََ شرمیلا تھا بس و پیش کرتا رہا لیکن انہوں نے مردانگی کے طعنے دے کر مجھے اُس کمرے میں جانے پر مجبور کردیا تھا جہاں ’’وہ ‘‘ بیٹھی تھی۔

جب میں کمرے میں داخل ہوا تو وحشت زدہ ہوگیا تھا۔ کالی سیاہ مریل سی عورت بھنگ کے نشے میں آنکھیں چڑھائے، پلنگ سے ٹانگیں لٹکا کر بیٹھی تھی۔ میں گھبرایا ہوا اس کے پہلو میں اس طرح ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ گیا تھا جیسے بھاگنے کو تیار تھا۔ اس نے میرے جسم کو چھوا تو خوف کی سنسنی سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ اِس احساس میں ہیجان کے کسی پہلو کی آواز گونج رہی تھی۔

اُس نے جب دیکھا کہ میں تو کوئی پیش رفت ہی نہیں کر رہا تھا تو اس نے ملتانی زبان میں مجھے کچھ کرنے کے لیے کہا تھا۔ میں بیساختہ بولا تھا ’’ کیاکروں؟‘‘ بالآخر اُس نے مجھے خود ہی سمجھایا تھا کہ کیا کرنا چاہیے۔ میں ایسا کچھ بھی کرنے کے نہ تو موڈ میں تھا اور نہ ہی حق میں۔ اس نے خود ہی جو کچھ کرنا تھا کیا ، مجھے زبردستی ملوث ہونا پڑا تھا۔ مجھے لگتا تھا مجھے ابکائی آجائے گی اور میر ا معدہ منہ سے باہر آپڑے گا۔ اُس کی انگلیاں مجھے اپنے جسم پر مکٹری کی خوفزدہ کردینے والی ٹانگوں کی طرح سرسراتی محسوس ہورہی تھیں اور اُس کے جسم پر میں نے اپنی چار اانگلیاں صرف اس لیے رکھی تھیں کہ انسان کی تذلیل میرے بس میں نہیں تھی۔ پھر میں نے صابن کی آدھی ٹکیہ اس حصے کو مسلسل دھونے میں صرف کردی تھی۔میں منہ چھپائے ہوئے تیزی سے باہر نکلا تھا۔ اس کی بڑبڑاہٹ پیچھے رہ گئی تھی۔

مجھے دیکھ کرغلام نبی بے شرموں کی طرح قہقہے لگا رہا تھا جیسے میری آبرو لٹنے پر اسے خوشی
ہورہی ہو۔ پھر عزیز گیا تھا مگر جلد لوٹ آیا تھا۔ آخر میں غلام نبی کی باری تھی۔ اس کے جانے کے بعد عزیز نے غیض کھانا شروع کردیا تھا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ پیسے لے کر لڑکی کی جگہ ’’کٹانی‘‘(جمعدارنی) دے دی گئی ہے۔ مجھے اپنے آپ سے اور اُن دونوں سے مزید کراہت ہورہی تھی۔ غلام نبی کو لوٹنے میں بہت دیر ہوگئی تھی۔ ہم نے کرسی پہ چڑھ کردروازے کے شیشے سے جھانکا تو دیکھا تولگاتھاجیسے غلام نبی نے انسان کو مرغ بنایا ہواتھا اور خود جانورمیں تبدیل ہوکرانسان نمامرغ کے مردہ بدن سے دست و گریبان تھا۔ وہ قوم لوط کا سبق دھرارہا تھا۔ میں ہول کھانے لگا تھا۔

جب وہ آیا تو انہوں نے اس بیچاری کو اپنے کمرے میں بلالیا تھا ۔ اس کو عریاں ہونے کا حکم دیاتھا اور پھر اُس کا ٹھٹھہ اڑانے لگ گئے تھے۔ اس سے کنیزوں کا سلوک کررہے تھے۔ میرے لیے یہ سب کچھ ناقابل برداشت تھا۔ میں انسان کی اِس قدر تحقیر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میں نے فیصلہ صادر کیاتھا،’’بی بی کپڑے پہنواور میرے ساتھ چلو‘‘۔ اس بیچاری نے فوراََ کپڑے پہن لیے تھے۔

جب میں اسے لے جانے لگا تو عزیز نے پستول نکال کر مجھ پر تان لیا تھا اور آنکھوں میں خشونت بھرکے کہا تھا ’’ ڈاکٹر تم اس کو نہیں لے جاسکتے ‘‘۔ میں اپنے آپ میں نہیں تھا۔ میں نے کہا تھا’’ روک سکتے ہو تو روک لو۔ گولی مارنی ہے تو ماردو‘‘ اور پھر اُسے سیڑھیوں سے نیچے سڑک پر لا،جتنے پیسے میری جیب میں تھے نکال کر اُس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے میں نے اُسے رخصت کردیا تھا۔ بعد میں میری اور عزیز کی خوب منہ ماری ہوئی تھی لیکن غلام بنی نے بیچ بچاؤ کرادیاتھا۔ یہ تجربہ میرے لیے بے حد دشت انگیز اور تکلیف دہ تھا۔ اس واقعے پر بعدمیں،میں نے ایک افسانہ بھی لکھا تھا جس کا عنوان تھا’’ پھٹا ہوا بینگن‘‘۔

پولیو سے نیم مردہ ٹانگ پر اٹکی ہوئی خوش شکل بکاؤ انسان کو خرید کرپامال کیے جانے کے تجربے کے بعد میرے اندر کچھ مرگیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کو لوگ ہوش و حواس میں رہتے ہوئے مسلسل اِس طرح کے روح فرسا واقعات سے باربار کسطرح نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔

چوہدری اظہار کو نیلام گھر میں شرکت کی خاطر ایک لمبا عرصہ درکار تھا کیونکہ ذہانت کی خود نمائی کرنے والوں کی ایک طویل قطار تھی۔ امتحان کا نتیجہ آگیاتھا۔ ہم کراچی سے ملتان لوٹ گئے تھے اور اگلے روز بِلونے ہم دونوں کو ایپلائمنٹ ایکسچینج سے حاصل کردہ افواج پاکستان میں شمولیت کے پروانے تھمادیے تھے۔ کوئی ملازمت تو بہرحال کرنی ہی تھی لیکن فوج کا زبردستی دیا پروانہ دل کو اتنا نہیں بھایا تھا۔ دراصل بلو کسی کہ ہمراہ ایکسچینج میں گیا تھا، وہاں جب اُس نے یہ پروانے دیکھے تھے تو دوستی میں ہمارے منہ پر مارنے کی خاطر وصول کر لیے تھے۔ سوچا کہ چلو ہاؤس جاب نہ سہی سی ایم ایچ میں ملازمت ہی سہی۔ ان پروانوں کے ہمراہ ملتان سے راولپنڈی تک ریل کے ایئر کنڈیشنڈ ڈبے کی ٹکٹیں بھی تھیں جس پر تاریخ درج تھی۔

 

دانشور، کالم نگار اور براڈکاسٹرڈاکٹر مجاہد مرزاکی خودنوشت سے اقتباس
ڈاکٹر مرزا نے ایک متحرک زندگی گزاری ہے جس میں مطالعے اور مشاہدے کا خاص عمل دخل رہا ہے۔ ہمیں ان کی خود نوشت کے ذریعے ان سیاسی، سماجی و ثقافتی عوامل جاننے کا موقع ملتا ہے جنہوں نے آج کے پاکستان کو جنم دیا ہے۔ ان کی سوانح کے ابتدائی ابواب پڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو آدمی  اپنے ساتھ رعایت برتنے پر تیار نہ ہو اس سے کسی لگی لپٹی کی توقع نہ رکھیئے گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s