یاشیخ۔۔۔۔۔؟؟؟

پاکستان پر غیر ملکی یلغار کے نئے سپہ سالار شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری نئے ایجنڈے اور نئے حلیہ میں سامنے آئے ہیں۔ لمبا چوغہ اور مصری علماء کی طرز کی ٹوپی اب ان کے لباس کا حصہ ہے۔ ویسے اسی قبیل کی ٹوپی ویٹی کن میں اعلی مناسب پر تعینات پادری بھی اوڑھتے ہیں۔ حضرت چونکہ کئی سالوں سے اپنے آپ کو وسیع المشرب ثابت کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا ہو سکتا ہے اس خصوصی طور پر ڈایزئن کردہ ٹوپی کے ذریعے ایک ہی تیر سے جامعہ الازہر اور ویٹی کن کا شکار مقصود ومطلوب ہو۔
علامہ طاہر القادری کی شخصیت اس قدر ہمہ جہت ہے کہ قدم قدم پر ان کی ذات بابرکات سے وابستہ واقعات بکھرے ہیں۔ ان کی پی ٹی وی پر مذہبی تقاریر سے وابستہ ایک واقعہ سن لیں پھر آگے چلیں گے ۔80 کی دہائی میں علامہ صاحب سرکاری ٹی وی کی سکرین پر جلوہ گر ہوئے، کیسے؟ یہ تومعلوم نہیں، لیکن پہلا پروگرام ریکارڈ ہوا۔ حضرت گرامی قدر نے پروڈیوسر سے آن ائر ہونے کا وقت پوچھا۔ پروڈیوسر نے دن وقت اور ریپٹ سلاٹ کا بتا دیا۔ مقررہ وقت پر کوئی ایسا واقعہ ہوا کہ علامہ طاہرالقادری کا پروگرام روک کر کوئی اور آئیٹم چلانی پڑی، لیکن اگلی صبح ایک حیران کن واقعہ ہوا پی ٹی وی کے استقبالیہ عملہ نے متعلقہ پروڈیوسر کو بتایا کہ ڈاک وصول کرنے والے شعبہ میں پروگرام کے حوالے سے توصیفی خطوط کا انبار پڑا ہے۔ ان خطوط کو ٹھکانے لگانے کیلئے متعلقہ عملہ کو خاصا تر دد کرنا پڑا۔ ’نئی بات‘ کے کسی باخبر رپورٹر نے علامہ طاہرالقادری کے ایک مربی سعید کا ذکر کیا ہے، یہ بھی لکھا ہے کہ کیسے علامہ طاہرالقادری سارے کام چھوڑ چھاڑ کنونشن سنٹر سے ملحقہ ایک سڑک پر تادیر کالے شیشوں والی گاڑی کے منتظررہے۔ بے خبرعلامہ صاحب کو ہرگزمعلوم نہ تھا کہ ان سے چندگزدور درختوں کے پیچھے چھپے دوستم ظریف صحافی ان کی بیقراری سے لطف اندوز ہور ہے ہیں۔ تفریح کے متلاشی صحافیوں کا دل بھرا تو ملاقات کی منسوخی کا فون آیا۔ کوئی ان ستم ظریفوں کا نام بوجھ لے تو کھانا میری طرف سے ۔
اپنے تقویٰ، علم وفضل کی بنیاد پر شیخ الاسلام سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اور صرف اس بھٹکی ہوئی قوم کی راہنمائی کیلئے اس فانی دنیا میں تشریف لائے ہیں۔یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے، لیکن یہ بات ووٹروں کے ریوڑ کو کون سمجھائے، بارہ اکتوبر 1999ء کو بھگوڑے کمانڈو پرویز مشرف نے آئین سے بغاوت کی تو آئین کے غیرملکی محافظ علامہ طاہرالقادری اس آئین شکنی کا حصہ بننے والے پہلے پاکستانی (تب)تھے، اسی شام لاہور پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس ختم ہوئی، ابھی رخصتی کی تیاری تھی کہ علامہ طاہرالقادری کی ویسٹ کوٹ کی جیب میں سویا سیل فون جاگ اٹھا، مارشل لاء لگتے ہی سیلولر کمپنیوں کا منہ بند کر دیا گیا تھا، لیکن یہ تو علامہ صاحب تھے، ان کا خون جاگ پڑا۔ علامہ صاحب نے ہجوم سے قدرے دور جاکر فون سنا، آواز دھیمی رکھی، لیکن کوشش کی کہ لفظ ’’جنرل‘‘ صاحب سب لوگ سن لیں، فون ختم ہوا تو حاضرین سے معذرت چاہی اور بتایا کہ جنرل مشرف لائن پر تھے، کسی ضروری مشورہ کے طالب تھے ، لیکن یہ لاہور کا پریس کلب تھا، حاضرین لاہور کے خود سر اور بے باک صحافی تھے ، پوچھا یہ کون سی سروس ہے، ہمارے سیل فون تو بند ہیں۔ یہ خصوصی انتظام تھا، جواب ملا۔ بس پھر اللہ دے اور بندہ لے، آخر کار علامہ صاحب کو موقع سے کھسکنا پڑا۔
پرویز مشرف نے ریفرنڈم کا اعلان کیا تو علامہ صاحب کو بھی وزارت عظمیٰ کا جھانسہ دیا، علامہ صاحب نے جواب میں پاکستان عوامی تحریک ان کی جھولی میں ڈال دی ، اب علامہ صاحب اپنے آپ کوسچ مچ کا وزیراعظم سمجھنے لگے ۔ 2002ء کے الیکشن میں تین سیٹوں جھنگ، گوجر خان اور لاہور سے الیکشن لڑا۔ جھنگ اور گوجر خان سے بری طرح ہارے، البتہ گوجر خان میں علامہ صاحب کی یورپ سے آئی رضاکار مریدنیوں کے بدیشی جلووں کے طفیل خاصی رنگینی رہی، لاہور سے علامہ صاحب نصیر بھٹہ اور علیم خان کو شکست دینے میں الیکشن کی اگلی صبح کامیاب رہے۔ منتخب ہوتے ہی بیک وقت کنگز پارٹی اور اپوزیشن دونوں ڈیروں کے درمیان گھمن گیر ی بن گئے، وزارت عظمیٰ تو نہ ملی البتہ اپنا ووٹ ظفراللہ جمالی کی جھولی میں ڈال دیا۔ اس دوران موصوف ملکی و غٖیر ملکی حلقوں کو یہ باور کراتے رہے کہ میری انگلش بہت اچھی ہے، وزیر خارجہ کیلئے یہ سب سے بڑی کوالٹی ہے، لیکن یہ آرزو بھی ناتمام رہی، اس دوران مولانا اعظم طارق کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، ان کی سیٹ خالی ہوئی ، موروثی سیاست کے دشمن علامہ صاحب نے اپنے بڑے صاحبزادے کو الیکشن کی آگ میں جھونک دیا، نو عمر صاحبزادے نے شیخ وقاص اکرم کے ہاتھوں شکست کھائی، نہایت مایوس ہوئے۔ لیکن ابھی وزارت مذہبی امور کی شکل میں امید کی ایک کرن باقی تھی ، پارلیمنٹ لاجز کے فٹ پاتھ پر ایک سہانی شام چہل قدمی کرتے ہوئے علامہ طاہر القادی نے اس خاکسار سے کہا کہ وزارت مذہبی امور مل جائے تو اتحاد بین المسلمین کی دیرینہ آرزو پوری ہو سکتی ہے لیکن یہا ں ایم ایم اے کے دیوبندی علماء آڑے آئے اوریوں اتحاد بین المسلمین کا تاریخی موقع بھی ضائع ہو گیا ، 2004میں جس دن اعجازالحق نے وزارت مذہبی امور کا حلف اٹھایا ،اس سے اگلے دن حضرت علامہ نے سیاست کا بھاری پتھرجوان کے بوسوں سے سفیدی مائل ہوگیا تھا کو الوداعی بوسہ دیا۔ اپنی شوری سے معافی مانگی۔ طاغوت کے لائے سامراجی نظام جمہوریت پر تین حرف بھیجے اور عازم یورپ ہوئے۔ ایسے نظام میں سیاست بے معنی۔ جہاں بندوں کو تولنے کی بجائے گنا جائے، ویسے جوگنتی میں بھی کم ہوں اور تول میں بھی ’’ہولے‘‘ نکلیں، ان کا کیا مصرف؟
ناروے، برطانیہ، جرمنی میں تبلیغ اسلام کے بعد آخرکار کینیڈا کے برف زار آخری منزل قرار پائے، برسبیل تذکرہ علامہ طاہرالقادری ان دنوں فرانس میں ’’بین‘‘ہیں۔ کفار سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔علامہ طاہرالقادری تقریباً دو سال قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔اتوار کے روزوہ جعلی ڈگری پر معترض تھے ۔ جعلی ڈگری ہولڈروں کے خوب لتے لیے۔ ان کے ممدوح پرویز مشرف کی ٹیلرمیڈ اسمبلی میں نوے جعلی ڈگری ہولڈر تھے۔ علامہ صاحب نے کبھی ایک لفظ نہ بولا، قومی اسمبلی کا مائیک ان کے ہاتھوں کے لمس کا منتظر رہا۔ لیکن شاید’’ مقصود تھا پردہ تیرا‘‘ اب شیخ الاسلام نئی ٹوپی ، نئے چوغے ، نئی شناخت اور نئی پہچان لیکر لاہور اترے ہیں، ایک غیر ملکی شہری، میری سرزمین پر ریاست بچانے اترا ہے، وطن عزیز کے قبائلی علاقے ازبک، تاجک، یمنی دہشت گردوں سے اٹے پڑے ہیں، یہ دہشت گرد ریاست اور سیاست سمیت ہر چیز کے درپے ہیں۔ نئی ٹوپی، نئے حلیے اور کینیڈا سے وفا کا حلف اٹھا کر ایک سیاسی آبلہ پا میری آپ کی سر زمین پر اترا ہے۔ صرف لاہور کے ایک جلسہ پر، علامہ طاہر القادری کی آمد اور اس سے قبل تشہیری مہم پر 30کروڑ خرچ ہوچکے۔ اب یہ صاحب اسلام آباد کی طرف یلغار کیلئے تیار ہیں۔ ریاستی ادارے اس غیر حملہ آور کو روکیں۔ ایسا ’’داعی‘‘ جو موروثی سیاست کا ناقد ہے، لیکن صاحبزادہ اول حسن محی الدین منہاج القرآن کی سپریم کونسل کا سربراہ، بڑی بہو محترمہ غزالہ حسن محی الدین شعبہ خواتین کی انچارج ، پسر خورد حسین محی الدین وفاقی کونسل کا سربراہ، سنتا جا، شرماتاجا۔ غازئ گفتار کا اقتدار کے سومنات پریہ چوتھا ناکام حملہ ہے، میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری شیخ الاسلام کے صاحبزادگان کیلئے ایک ایک سیٹ کا اعلان کردیں، غازئ گفتار کا لشکرفصیل شہر کو بوسہ دے کر لوٹ جائے گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s