مسلمانوں کی جہالت کا نوحہ

ہمارے مہربان دوست محترم سحر تاب رومانی کا کہنا ہے کہ سچائی اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔

دراصل بہت سی باتوں اور روایتوں کے بارے میں ہمارا یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ سچ ہیں اور ان کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت سی دلیلیں بھی موجود ہوتی ہیں۔

لیکن آپ کو ان کی حقیقت کے بارے میں اگر علم ہوجائے یا آپ کے سامنے کوئی ان کی حقیقت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرے تو شاید آپ کو اس حوالے سے حقیقت کو رد کرنا بہت مشکل ہو جائے۔

یہاں ہم دو مثالیں پیش کرنا چاہیں گے۔ ہمارے ایک پڑوسی جن کا نام فرض کرلیں کہ سلیم ہے۔ ایک روز ہم نے دیکھا کہ سلیم صاحب رات کے وقت لڑکھڑاتے ہوئے سامنے سے چلے آرہے ہیں اور اسی طرح ہمارےسامنے سے گزرے، ہم نے انہیں سلام کیا اور خیریت دریافت کی تو اُنہوں نے ہماری طرف ذرا بھی توجہ نہیں دی۔

سلیم صاحب کے حوالےسے پہلے ہی ہمارے دل میں کچھ خدشات موجود تھے، چنانچہ جب نظر ان کے ہاتھ میں ایک بڑے سائز کی سیاہ رنگ کی بوتل پر پڑی تو یہ یقین ہوچلاکہ سلیم صاحب شراب پیتے ہیں اور آج تو ہم نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا تھا۔

ایک اور صاحب جن کا نام فرض کیجیے کہ شاہد ہے، ہمارے پڑوسی ہیں۔ پکے نمازی اور دیگر مذہبی شعائر کی پابندی کرنے والے، مسجد کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہم نے خود انہیں دیکھا تھا کہ مسجد کی تعمیر میں انہوں نے اپنی جیب سے کافی بڑی رقم خرچ کی تھی۔

یہ وہ سچائیاں تھیں، جن کے ہم بذاتِ خودچشم دید گواہ تھے، لیکن ان دونوں کرداروں کے حوالے سے حقائق ان کی سچائیوں کے بالکل برعکس تھے۔

جی ہاں، جو ہم نے دیکھا، وہ سچ ضرور تھا لیکن حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ  سلیم صاحب اس وقت شدید بخار کے عالم میں کلینک سے دوا لے کر آرہے تھے۔ بخار کی شدّت کی وجہ سے انہیں چلنے میں دشواری ہورہی تھی۔ وہ غریب لیکن خوددار انسان ہیں، دوسری بات یہ کہ  وہ مذہبی شعائر کا اس شدت سے اہتمام نہیں کرتے، جس شدت سے شاہد صاحب کرتے ہیں، اور اکثر بہت سے ایسےسوالات اُٹھاتے رہتے ہیں کہ جن سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ایمان کمزور ہوگیا ہے۔ بعض پنج وقتہ نمازیوں کی ان کے بارے میں یہ رائے ہے کہ وہ ملحد ہوچکے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ ان کے بارے میں پہلے ہی سے ہمارے ذہن میں منفی رائے موجود تھی اور جو کچھ ہم نے دیکھا، اس میں معنی پہنانے کا کام اسی منفی رائے کی روشنی میں ہی انجام پایا۔

دراصل سلیم صاحب بےاولاد ہیں اور ان کی اہلیہ آئے دن بیمار رہتی ہیں، اس روز خود ان کو بھی بخار تھا، لیکن انہیں اپنی ہی نہیں اپنی اہلیہ کی دوا لینے کے لیے بھی گھر سے نکلنا پڑا۔

یوں ہم نے انہیں لڑکھڑاتے قدموں سے آتے دیکھا اور تاریکی میں دوا کی بوتل ان کے ہاتھ میں دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے ہی ان کی مہ نوشی پر مہر تصدیق ہی ثبت کر ڈالی۔

اب آئیے ان نمازی پرہیزگار شاہد صاحب کی اصل حقیقت کی جانب، ان کی حقیقت یہ ہے کہ مسجد کے برابر میں انہوں نے کافی بڑی زمین گھیر کر اس پر پوری مارکیٹ بنا ڈالی ہے، اتنی بڑی جگہ پر ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ دُکانیں اور دکانوں کے اوپر فلیٹ بنا کر کرائے پر دے رکھے ہیں۔ یہ جگہ سروس روڈ کی تھی جس پر انہوں نے ناجائز قبضہ کر لیا۔ ہمیشہ سے غفلت کی نیند سورہی ہماری حکومت کو اچانک خیال آیا کہ اس شاہراہ پر سروس روڈ تعمیر کی جائے، تو شاہد صاحب کو  اپنی دکانیں اور فلیٹس کے گرائے جانے کا  خدشہ لاحق ہوا۔  چنانچہ اس کا بہترین حل انہوں نے یہ نکالا کہ لاکھوں روپے مسجد کی توسیع کے لیے ہدیہ کردیے اور مسجد کی یہ توسیع سروس روڈ کی زمین پر کی گئی۔ حکومتی اہلکاروں نے جب سروس روڈ کی تعمیر شروع کی، تو وہ تعمیر مسجد کے قریب آکر رُک گئی کہ مسجد کو کیوں کر توڑا جائے؟

پھر مسجد کے مولوی نے بڑے بڑے دارالعلوم کے مفتیوں اور علامہ حضرات سے یہ فتویٰ بھی لے لیا کہ مسجد زمین سے لے کر آسمان تک ہوتی ہے، چنانچہ اس کو گرایا نہیں جا سکتا۔

اب کیا تھا وہی لوگ جو سروس روڈ نہ ہونے کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا تھے، مسجد کو گرائے جانے کے خلاف اکھٹا ہوگئے اور ایسے کسی اقدام کی صورت میں  سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگے۔

سروس روڈ مکمل نہیں ہوسکی اور سوسائٹی کے داخلی راستے تک جانے کے لیے بائیک، کار اور دیگر گاڑیوں کو مین شاہراہ  پر اُلٹی سمت چلنا پڑتا ہے۔ اس رانگ سائیڈ ڈرائیو کے نتیجے میں اکثر ایکسیڈنٹ بھی ہوتے ہیں، جن میں کئی مرتبہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن شاہد صاحب کی پارسائی قائم ہے اور شاہد صاحب پر انگلی اُٹھانے والے سلیم صاحب سے صفائی طلب کیے بغیر ان کے بارے میں انتہائی منفی رائے قائم کرلی گئی ہے۔

آپ کو ماننا پڑے گا کہ سچائی اور حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہوسکتا ہے۔ حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے عدالت کا ذہن درکار ہوتا ہے، لیکن یہ بات اُس معاشرے کے لوگ کس طرح سمجھیں گے، جہاں عموماً عدالت کے پاس بھی عدالت کا ذہن موجود نہیں ہوتا۔ یہاں عدالت کے ذہن سے ہماری مُراد غیر جانبدارانہ طرزفکر ہے۔

یہ طویل تمہید ہم نے اس لیے باندھی ہے کہ اگلی سطور میں ہم جن حقائق کی پردہ کشائی  کرنے جارہے ہیں، اس کے بعد بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں قائم سچائیوں کے عظیم الشان محلات کی دیواریں منہدم ہو جائیں گی۔

ایسے تمام افراد سے میری گزارش ہوگی کہ وہ خود تحقیق کرلیں، لیکن افسوس مسئلہ یہ ہے کہ تحقیق کے لیے غیر جانبدار ذہن درکار ہوتا ہے۔

جس کا ماضی پرست افراد کے پاس تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا ان کی خدمت میں انتہائی مؤدّبانہ اور نہایت معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بلاوجہ مشتعل ہوکر اپنا خون نہ جلائیں، بلکہ ہماری گزارشات کو محض ایک ‘‘مجذوب کی بڑ’’ سمجھ کر آگے بڑھ جائیں، کہ یہ ساری گزارشات ان لوگوں کے لیے ہیں جو ماضی پرستی، اسلاف پرستی، عقائد پرستی، لفظ پرستی، روایات پرستی، ملت  پرستی اور کتاب پرستی کی زنجیروں کو توڑ چکے ہیں یا توڑنا چاہتے ہیں۔

*********

سورج کا طلوع ہو کر روشنی اور حرارت پہنچانا، چاند کی کرنوں سے تاریک راتوں کا منور ہونا، برسات، زمین کی زرخیزی، سمندر کی تہہ میں پوشیدہ خزانے، سنگلاخ چٹانوں میں چھپی معدنیات، صحراؤں میں سطح زمین کے نیچے سیال سونا یعنی پیٹرولیم کے اُبلتے چشمے، غرضیکہ دنیا کے سارے وسائل نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے موجود ہیں۔ لیکن یہ وسائل اُن کے ہی کام آتے ہیں جو اِن وسائل کے فوائد حاصل کرنے کے لیے عقل و شعور کا استعمال کرتے ہوئے جدوجہد کرتے ہیں۔

آج سمندر مسلمانوں کے پاس بھی ہے اور ترقی یافتہ اقوام کے پاس بھی، ترقی یافتہ اقوام نے اس کی تہہ کھنگال ڈالی اور سمندر میں موجود غذائی اشیاء، سیپیاں، موتی اور نجانے کن کن قیمتی چیزوں کے ساتھ پیٹرول تک نکال رہے ہیں جبکہ مسلمان سمندر کی بیکراں وسعتوں اور انجانی گہرائیوں سے اپنے بل بوتے پر صرف مچھلیاں  ہی حاصل کرسکتے ہیں، جس کی پیداوار بھی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے۔

زرخیز زمین غیر مسلموں کے پاس ہے  تو مسلمانوں کی دسترس میں بھی کم زرخیززمین نہیں، بلکہ اگر حساب کتاب لگایا جائے تو ممکن ہے یہ بات بھی سامنے آجائے کہ مسلمانوں کی ملکیت میں موجود زمین دیگر اقوام سے زیادہ زرخیز ہے۔

چلیے مان لیتے ہیں  کہ ایسا نہیں ہے تو یہ دیکھنے کی ضرورت تو ہونی چاہیے  کہ اپنی ملکیت میں موجود  زرخیز زمین سے مسلمانوں نے کس قدر فائدہ اُٹھایا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق مسلم ممالک میں صرف 5 کروڑ ہیکڑ رقبے پر کاشت ہورہی ہے اور تقریباً  20 کروڑ ہیکڑ رقبے کی زمین بے آباد اور ویران پڑی ہے۔

بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کو چھوڑیں، رقبے کے اعتبار سے ایک بہت چھوٹے ملک اسرائیل کی مثال لے لیجیے، اس ملک میں پانی کی شدید کمی ہے، پانی کی اس کمی کا حل اسرائیل کے سائنسدانوں نے یہ نکالا کہ اپنے کھیتوں کے درمیان ایک سرے سے دوسرے سرے تک بلند و بالا کھمبے  Pole نصب کیے اور اُس میں باریک جال باندھ دیے۔ کُہر آلود ہوا جب اِس جال سے گزرتی، تو ننھے ننھے شبنمی قطرے جال کے باریک تاروں سے ٹکرا کر نیچے گرنے لگتے۔ قطرہ در قطرہ پانی پختہ نالیوں میں جمع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ جب اس کی مقدار بڑھتی ہے تو بہہ کر کھیتیوں کو سیراب کر دیتا ہے۔

اسرائیل اس سسٹم کے ذریعے اتنی وافر مقدار میں سبزیاں پیدا کررہا ہے، جو اُس کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہیں، لہٰذا یہ سبزیاں پڑوس کے اُن  مسلمان عرب ممالک کو برآمد کردی جاتی ہیں، جہاں کی مسجدوں میں ہر جمعہ کی نماز کے بعد اسرائیل کی بربادیوں کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

یہ تو خیر ایک مثال تھی۔

اگر یہاں ہم اس قسم کی مثالیں بیان کرنا شروع کردیں تو صفحات کے صفحات بھر جائیں گے اور مثالیں ختم نہیں ہوں گی، لیکن ہم یہاں مسلمانوں کی پسماندگی، بے چارگی، قدرتی وسائل کی ناقدری اور جہالت کا محض نوحہ نہیں پڑھنا چاہتے، بلکہ ہماری کوشش ہوگی کہ مسلم قوم  کے زوال کے اسباب پر غیر جانبدار ہوکر  گفتگو کی جائے اور پوشیدہ حقائق تلاش کیے جائیں۔

مسلم اقوام کے زوال کا ایک اہم سبب روشن خیالی کا خاتمہ، علوم و فنون کی اشاعت و ترویج میں اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں سے چشم پوشی بھی ہے۔

کسی بھی تہذیب کی اصل روح اُس کی فکری سرگرمیاں ہوتی ہیں اور جب کسی جگہ فکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں یا ماند پڑجائیں تو تمدّن کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور پھر محض بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی مانند ایک ہجوم باقی رہ جاتا ہے، جن کی آنکھوں پر  خوش فہمیوں کی سیاہ پٹی بندھی ہوتی ہے اور جن کے شب و روز ایک دوسرے کو نوچنے کھسوٹنے میں گزرتے رہتے ہیں۔

غیرجانبدار ہوکر دیکھیے تو آپ کو بھی مغربی اقوام کے بعض دانشوروں کی جانب سے مسلمانوں پر کیا جانے والا یہ اعتراض غلط محسوس نہیں ہوگا کہ مسلمانوں میں تنقید برداشت کرنے کا مادّہ بالکل نہیں ہے، بلکہ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی فکر میں وہ خود مختاری بھی شاید کبھی موجود نہیں رہی کہ وہ زندگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اپنے تجربے اور فکر سے سمجھیں۔ ماضی پرستی کی روایت شاید ہماری بنیادوں میں پیوست ہوچکی ہے۔

ہمارے معاشروں میں تحقیق کرنے والے اذہان کیسے پیدا ہوں گے، جب جائز و ناجائز کا خوف لوگوں کے خون میں رچ بس کر اُن کے جسموں میں دوڑتا ہو؟ یہی وجہ ہے کہ بیشتر حساس موضوعات سوال بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی طرح کنی کترا کر نکل جاتے ہیں۔ بجائے اپنے راستے سے پتھر ہٹانے کے، پتھر کو دیکھ کر اپنا راستہ ہی بدل لیتے ہیں۔

ہمیں تو یہ زعم ہی سر اُٹھانے نہیں دیتا کہ کبھی ہم پوری دنیا پر چھائے ہوئے تھے، لیکن کیا واقعی مسلمانوں نے کبھی اپنے ذہنی افق سے دنیائے علم و ہنر کو زیر نگیں کیا تھا؟

بالفرض یہ بات بھی حقیقت ہو تو آج ہم کیوں اپنی سوچ اور فکر کو ترقی دینے سے گریزاں ہیں؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s