اسلامی اُصول۔۔۔۔۔۔

ہمارے مولوی (بشمُول اُنکے جنہیں ہماری اکثریت عُلماء سمجھتی ہے) اگرچہ مدرسہ سے حاصل کئے گئے “علم” کو ہی اصل علم مانتے ہیں لیکن ان مدارس کے نصاب اور طرزِ تعلیم میں تحقیق، مشاہدے، تجزیے اور منطقی استنباط کا ایسا فقدان ہوتا ہے کہ اگر آپ مختلف مسائل پرانکی رائے طلب کریں توآگے سے ایک مبہم سا جواب ملے گا۔ چونکہ مذہبی طرز تعلیم میں سوالات پُوچھے جانے کا رواج کم اور رٹہ لگانے کی عادت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا آپ مزید تشریح طلب کریں، کوئی ضمنی سوال کریں تو جواب ملنے کے امکانات کم اور اِنکے سیخ پا ہونے کے زیادہ ہوتے ہیں۔ کُچھ نُمائندہ سوالات پیشِ خدمت ہیں جن کے جواب عمُوما” عُلماء اور مُلاوں سے کم وبیش ایسے ہی ملتے ہیں۔

سوال: دہشت گردی اس مُلک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: فرقہ واریت کے عفریت نے اس وقت مُلک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ مُسلمان مُسلمان کو مار رہا ہے۔ آپ لوگ اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: اس وقت دُنیا بھر میں مسلمانوں کا امیج تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے اس میں ہمارا بھی کوئی قصور ہے یا محض ہمیں بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: آپ کے خیال میں خُودکش حملوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: معیشت کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ روپیہ کی قدر مسلسل گِر رہی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں ہمارے معاشی نظام میں خرابی کہاں ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

 سوال: اگلے ہفتے ایڈز کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آپ کا اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال:آپ ویلنٹائن ڈے کی مُخالفت کیوں کرتے ہیں؟ کیا مُحبت ایک غیر فطری یا نا جائز جذبہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: کونسے ایسے اسلامی اُصول ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر آج کا مُسلمان مسائل کے گرداب سے نکل سکے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا آپ وضاحت کریں گے کہ کونسے اُصول ایسے ہیں جن کی بدولت ہمارے مسائل کا حل ممکن ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: جناب میں آپکی بات سے سو فیصدی مُتفق ہوں لیکن کیا آپ اُن اُصولوں کی نشاندہی کرنا مناسب سمجھیں گے؟

جواب: آپ لوگوں کا یہی مسئلہ ہے، پُوری بات سُننے سے پہلے ہی قطع کلامی کرتے ہیں۔ میں کہہ رہاتھا کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: ٹھیک ہے مولانا صاحب ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ اُصول توبتائیں ہمیں۔

جواب: کیا مطلب؟ آپ کو یہی نہیں پتا کہ اسلامی اُصول کونسے ہیں یا آپ کا خیال ہے کہ ایسے کوئی اُصول ہیں ہی نہیں؟ لا حول ولا قوۃ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھیں سب سے پہلے تو آپ اپنے ایمان کی تجدید کریں ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب، میرا ایمان بالکل سلامت ہے۔ میرا آپ سے سوال یہ تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: چھوڑیں یہ دُنیا وی سوالات۔ اُن سوالات کی فکر کریں جن کا جواب آپ نے عالمِ برزخ میں دینا ہے۔ پڑھیں ۔ ۔ ۔ اٰمَنتُ بِاللہِ کَمَا ھُوَ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب میرا ایمان بالکل پُختہ ہے، میرا سوال صرف اِتنا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: میں کسی ایسے شخص کے سوال کا جواب دینا مُناسب نہیں سمجھتا جو دینِ اسلام کی جامعیت اور اکملیت پر یقین نہ رکھتا ہو۔ آپ جیسے کمزور ایمان کے حامل لوگوں کیوجہ سے آج اُمت اس مقام پر ہے۔ انگریزی تعلیم نے آپ کواسلامی اُصول تک بُھلادیے ہیں۔ اور وہ مدارس جو اسلامی علوم اور دینی آگہی کا منبع ہیں، اُن کو بدنام کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔ لعنت ہو ایسی تعلیم پر۔ تُف ہے تم لوگوں کی عقل پر۔

(تحریر خانزادہ)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s