یاشیخ۔۔۔۔۔؟؟؟

پاکستان پر غیر ملکی یلغار کے نئے سپہ سالار شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری نئے ایجنڈے اور نئے حلیہ میں سامنے آئے ہیں۔ لمبا چوغہ اور مصری علماء کی طرز کی ٹوپی اب ان کے لباس کا حصہ ہے۔ ویسے اسی قبیل کی ٹوپی ویٹی کن میں اعلی مناسب پر تعینات پادری بھی اوڑھتے ہیں۔ حضرت چونکہ کئی سالوں سے اپنے آپ کو وسیع المشرب ثابت کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا ہو سکتا ہے اس خصوصی طور پر ڈایزئن کردہ ٹوپی کے ذریعے ایک ہی تیر سے جامعہ الازہر اور ویٹی کن کا شکار مقصود ومطلوب ہو۔
علامہ طاہر القادری کی شخصیت اس قدر ہمہ جہت ہے کہ قدم قدم پر ان کی ذات بابرکات سے وابستہ واقعات بکھرے ہیں۔ ان کی پی ٹی وی پر مذہبی تقاریر سے وابستہ ایک واقعہ سن لیں پھر آگے چلیں گے ۔80 کی دہائی میں علامہ صاحب سرکاری ٹی وی کی سکرین پر جلوہ گر ہوئے، کیسے؟ یہ تومعلوم نہیں، لیکن پہلا پروگرام ریکارڈ ہوا۔ حضرت گرامی قدر نے پروڈیوسر سے آن ائر ہونے کا وقت پوچھا۔ پروڈیوسر نے دن وقت اور ریپٹ سلاٹ کا بتا دیا۔ مقررہ وقت پر کوئی ایسا واقعہ ہوا کہ علامہ طاہرالقادری کا پروگرام روک کر کوئی اور آئیٹم چلانی پڑی، لیکن اگلی صبح ایک حیران کن واقعہ ہوا پی ٹی وی کے استقبالیہ عملہ نے متعلقہ پروڈیوسر کو بتایا کہ ڈاک وصول کرنے والے شعبہ میں پروگرام کے حوالے سے توصیفی خطوط کا انبار پڑا ہے۔ ان خطوط کو ٹھکانے لگانے کیلئے متعلقہ عملہ کو خاصا تر دد کرنا پڑا۔ ’نئی بات‘ کے کسی باخبر رپورٹر نے علامہ طاہرالقادری کے ایک مربی سعید کا ذکر کیا ہے، یہ بھی لکھا ہے کہ کیسے علامہ طاہرالقادری سارے کام چھوڑ چھاڑ کنونشن سنٹر سے ملحقہ ایک سڑک پر تادیر کالے شیشوں والی گاڑی کے منتظررہے۔ بے خبرعلامہ صاحب کو ہرگزمعلوم نہ تھا کہ ان سے چندگزدور درختوں کے پیچھے چھپے دوستم ظریف صحافی ان کی بیقراری سے لطف اندوز ہور ہے ہیں۔ تفریح کے متلاشی صحافیوں کا دل بھرا تو ملاقات کی منسوخی کا فون آیا۔ کوئی ان ستم ظریفوں کا نام بوجھ لے تو کھانا میری طرف سے ۔
اپنے تقویٰ، علم وفضل کی بنیاد پر شیخ الاسلام سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اور صرف اس بھٹکی ہوئی قوم کی راہنمائی کیلئے اس فانی دنیا میں تشریف لائے ہیں۔یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے، لیکن یہ بات ووٹروں کے ریوڑ کو کون سمجھائے، بارہ اکتوبر 1999ء کو بھگوڑے کمانڈو پرویز مشرف نے آئین سے بغاوت کی تو آئین کے غیرملکی محافظ علامہ طاہرالقادری اس آئین شکنی کا حصہ بننے والے پہلے پاکستانی (تب)تھے، اسی شام لاہور پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس ختم ہوئی، ابھی رخصتی کی تیاری تھی کہ علامہ طاہرالقادری کی ویسٹ کوٹ کی جیب میں سویا سیل فون جاگ اٹھا، مارشل لاء لگتے ہی سیلولر کمپنیوں کا منہ بند کر دیا گیا تھا، لیکن یہ تو علامہ صاحب تھے، ان کا خون جاگ پڑا۔ علامہ صاحب نے ہجوم سے قدرے دور جاکر فون سنا، آواز دھیمی رکھی، لیکن کوشش کی کہ لفظ ’’جنرل‘‘ صاحب سب لوگ سن لیں، فون ختم ہوا تو حاضرین سے معذرت چاہی اور بتایا کہ جنرل مشرف لائن پر تھے، کسی ضروری مشورہ کے طالب تھے ، لیکن یہ لاہور کا پریس کلب تھا، حاضرین لاہور کے خود سر اور بے باک صحافی تھے ، پوچھا یہ کون سی سروس ہے، ہمارے سیل فون تو بند ہیں۔ یہ خصوصی انتظام تھا، جواب ملا۔ بس پھر اللہ دے اور بندہ لے، آخر کار علامہ صاحب کو موقع سے کھسکنا پڑا۔
پرویز مشرف نے ریفرنڈم کا اعلان کیا تو علامہ صاحب کو بھی وزارت عظمیٰ کا جھانسہ دیا، علامہ صاحب نے جواب میں پاکستان عوامی تحریک ان کی جھولی میں ڈال دی ، اب علامہ صاحب اپنے آپ کوسچ مچ کا وزیراعظم سمجھنے لگے ۔ 2002ء کے الیکشن میں تین سیٹوں جھنگ، گوجر خان اور لاہور سے الیکشن لڑا۔ جھنگ اور گوجر خان سے بری طرح ہارے، البتہ گوجر خان میں علامہ صاحب کی یورپ سے آئی رضاکار مریدنیوں کے بدیشی جلووں کے طفیل خاصی رنگینی رہی، لاہور سے علامہ صاحب نصیر بھٹہ اور علیم خان کو شکست دینے میں الیکشن کی اگلی صبح کامیاب رہے۔ منتخب ہوتے ہی بیک وقت کنگز پارٹی اور اپوزیشن دونوں ڈیروں کے درمیان گھمن گیر ی بن گئے، وزارت عظمیٰ تو نہ ملی البتہ اپنا ووٹ ظفراللہ جمالی کی جھولی میں ڈال دیا۔ اس دوران موصوف ملکی و غٖیر ملکی حلقوں کو یہ باور کراتے رہے کہ میری انگلش بہت اچھی ہے، وزیر خارجہ کیلئے یہ سب سے بڑی کوالٹی ہے، لیکن یہ آرزو بھی ناتمام رہی، اس دوران مولانا اعظم طارق کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، ان کی سیٹ خالی ہوئی ، موروثی سیاست کے دشمن علامہ صاحب نے اپنے بڑے صاحبزادے کو الیکشن کی آگ میں جھونک دیا، نو عمر صاحبزادے نے شیخ وقاص اکرم کے ہاتھوں شکست کھائی، نہایت مایوس ہوئے۔ لیکن ابھی وزارت مذہبی امور کی شکل میں امید کی ایک کرن باقی تھی ، پارلیمنٹ لاجز کے فٹ پاتھ پر ایک سہانی شام چہل قدمی کرتے ہوئے علامہ طاہر القادی نے اس خاکسار سے کہا کہ وزارت مذہبی امور مل جائے تو اتحاد بین المسلمین کی دیرینہ آرزو پوری ہو سکتی ہے لیکن یہا ں ایم ایم اے کے دیوبندی علماء آڑے آئے اوریوں اتحاد بین المسلمین کا تاریخی موقع بھی ضائع ہو گیا ، 2004میں جس دن اعجازالحق نے وزارت مذہبی امور کا حلف اٹھایا ،اس سے اگلے دن حضرت علامہ نے سیاست کا بھاری پتھرجوان کے بوسوں سے سفیدی مائل ہوگیا تھا کو الوداعی بوسہ دیا۔ اپنی شوری سے معافی مانگی۔ طاغوت کے لائے سامراجی نظام جمہوریت پر تین حرف بھیجے اور عازم یورپ ہوئے۔ ایسے نظام میں سیاست بے معنی۔ جہاں بندوں کو تولنے کی بجائے گنا جائے، ویسے جوگنتی میں بھی کم ہوں اور تول میں بھی ’’ہولے‘‘ نکلیں، ان کا کیا مصرف؟
ناروے، برطانیہ، جرمنی میں تبلیغ اسلام کے بعد آخرکار کینیڈا کے برف زار آخری منزل قرار پائے، برسبیل تذکرہ علامہ طاہرالقادری ان دنوں فرانس میں ’’بین‘‘ہیں۔ کفار سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔علامہ طاہرالقادری تقریباً دو سال قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔اتوار کے روزوہ جعلی ڈگری پر معترض تھے ۔ جعلی ڈگری ہولڈروں کے خوب لتے لیے۔ ان کے ممدوح پرویز مشرف کی ٹیلرمیڈ اسمبلی میں نوے جعلی ڈگری ہولڈر تھے۔ علامہ صاحب نے کبھی ایک لفظ نہ بولا، قومی اسمبلی کا مائیک ان کے ہاتھوں کے لمس کا منتظر رہا۔ لیکن شاید’’ مقصود تھا پردہ تیرا‘‘ اب شیخ الاسلام نئی ٹوپی ، نئے چوغے ، نئی شناخت اور نئی پہچان لیکر لاہور اترے ہیں، ایک غیر ملکی شہری، میری سرزمین پر ریاست بچانے اترا ہے، وطن عزیز کے قبائلی علاقے ازبک، تاجک، یمنی دہشت گردوں سے اٹے پڑے ہیں، یہ دہشت گرد ریاست اور سیاست سمیت ہر چیز کے درپے ہیں۔ نئی ٹوپی، نئے حلیے اور کینیڈا سے وفا کا حلف اٹھا کر ایک سیاسی آبلہ پا میری آپ کی سر زمین پر اترا ہے۔ صرف لاہور کے ایک جلسہ پر، علامہ طاہر القادری کی آمد اور اس سے قبل تشہیری مہم پر 30کروڑ خرچ ہوچکے۔ اب یہ صاحب اسلام آباد کی طرف یلغار کیلئے تیار ہیں۔ ریاستی ادارے اس غیر حملہ آور کو روکیں۔ ایسا ’’داعی‘‘ جو موروثی سیاست کا ناقد ہے، لیکن صاحبزادہ اول حسن محی الدین منہاج القرآن کی سپریم کونسل کا سربراہ، بڑی بہو محترمہ غزالہ حسن محی الدین شعبہ خواتین کی انچارج ، پسر خورد حسین محی الدین وفاقی کونسل کا سربراہ، سنتا جا، شرماتاجا۔ غازئ گفتار کا اقتدار کے سومنات پریہ چوتھا ناکام حملہ ہے، میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری شیخ الاسلام کے صاحبزادگان کیلئے ایک ایک سیٹ کا اعلان کردیں، غازئ گفتار کا لشکرفصیل شہر کو بوسہ دے کر لوٹ جائے گا۔

گھڑی ہوئی پارسائی

وہ چیزجسے سب لوگ سوشل میڈیا کہتے ہیں اسے میں کچھ اورکہا کرتا ہوں۔

اس نے ہماری سماجی زندگی میں ایک انقلاب برپا کرکے رکھ دیا ہے اور جتنا انقلاب برپا کیا ہے، اتنا ہی فتور بھی مچا کے رکھ دیا ہے۔ جس طرح ٹی وی چینلز بریکنگ نیوزکے چکر میں ’’کاتا اور لے دوڑی‘‘ کا نمونہ ہیں اسی طرح سوشل میڈیا بھی کچّے پکّے ذہنوں کا کھیل بنا ہوا ہے۔ اس میں جو خبریں، خیالات اورتصاویر شیئر کی جاتی ہیں وہ آگ کی طرح پھیل پہلے جاتی ہیں، ان کی تصدیق یا تردید بعد میں ہوتی ہے۔

’’فوٹو شاپ‘‘ گرافکس کا ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام ہے جس میں تصاویر کی بڑی حیران کن ایڈیٹنگ کی جاسکتی ہے۔ مختلف تصاویر کو ملا کے، جوڑ کے اور ایک دوسرے میں مدغم کرکے اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح عجیب عجیب تخلیقات سامنے آتی ہیں۔ یہ کام تشہیری اور تفریحی مقاصد کے لیے بھی ہوتا ہے، تخریبی مقاصد کے لیے بھی اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے یا انھیں تسکین پہنچانے کے لیے بھی۔

حقیقت میں ان کی بنیاد ہی جھوٹ ہوتی ہے۔ میں کبھی نہیں سمجھ سکا کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں ان کا مشن کیا ہے؟ شاید یہی وجہ ہے کہ جن چیزوں پر سوشل میڈیا کے متوالے زاروقطار فدا ہورہے ہوتے ہیں میری ان پر ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ آئیے! آپ بھی اس کی کچھ دلچسپ مثالیں دیکھیے۔

ایک تصویر میں ایک بہت بڑا پتھر ہے جو مستقلاً زمین سے ایک فٹ اوپر ہوا میں معلق ہے اور تماشائی اِردگرد کھڑے اسے دیکھ رہے ہیں۔ فیس بُک میں اس تصویر کے نیچے لوگ جذباتی تبصرے کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ! دوسرے منظر میں مسجد کے صحن میں پڑا ہوا ایک گنبد ہے جو خود ہی اُڑتا ہوا جاکے مسجد کے ایک مینار کے اوپر نصب ہوجاتا ہے۔ پبلک دیکھ رہی ہے اور چیخ چیخ کر قدرت کو داد دے رہی ہے۔

اسی طرح گزشتہ دنوں گستاخانہ فلم کا بہت ذکر رہا۔ ابھی تک ہورہا ہے بلکہ یوٹیوب بند ہونے کی وجہ سے میرے جیسے آوارہ مزاج تو روز ہی یاد کرتے ہیں۔ جن دنوں اس واہیات اور گھٹیا فلم کی وجہ سے گلیوں میں توڑ پھوڑ اور سینما گھروں میں آگ کا راج تھا ان دنوں ایک تصویر بڑی تیزی سے شیئر کی جارہی تھی، اس میں کوئی بلڈنگ ڈھے گئی تھی اور چاروں طرف لوگ کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔

خداجانے کہاں کی اور کون سے موقع کی تصویر تھی، لیکن اس کے نیچے لکھا تھا ’’امریکا میں ایک سینما ہال میں گستاخانہ فلم ریلیز ہوئی تو اس جگہ زلزلہ آگیا اور سینما ہال گِر گیا۔‘‘ ایسی خبر پوری دنیا کے میڈیا میں نہ سنی نہ دیکھی، لیکن اس کے باوجود لوگ اس ’’معجزے‘‘ پر واہ واہ کر رہے تھے اور بڑی تیزی سے عبرت پکڑ رہے تھے۔ اب اس کے بارے میں کیا عرض کروں۔ مذہب کا کوئی مضبوط ستون ہی بتا سکتا ہے کہ ایسی جعلسازیوں اور جھوٹ سے لوگوں کے اعمال نامے درست ہونے لگیں تو اسے کیا کہیں گے؟

برما کے مسلمانوں پر بے حساب ظلم ہورہا ہے، ہولو کاسٹ کی کوئی حقیقت تھی کہ نہیں لیکن برما میں معاملہ اس سے بھی بدتر ہے۔ سوشل میڈیا کا ایک حصہ اس کے بارے میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کا کام کر رہا ہے۔ اچھا کر رہا ہے لیکن اس مقصد کے لیے قتلِ عام، زندہ جلانے اور خون خرابے کی جو لاتعداد تصاویر جاری کی جارہی ہیں وہ ہرگز تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ بہت سی فوٹوشاپ کا نتیجہ دکھائی دیتی ہیں اور کچھ یوں لگتا ہے کہ جیسے دنیا بھر کے واقعات کو جمع کرکے انھیں برما کے واقعات قرار دے دیا جاتا ہے تاکہ ہر طرح کی ہمدردیاں اکٹھی کی جاسکیں۔ شاید اسی طرح جیسے رمشا مسیح والے واقعے میں اصلی رمشا کی بجائے دنیا بھر کے میڈیا میں ایک زلزلہ زدہ معصوم کشمیری بچی کی تصویر عام کردی گئی تھی۔ ایسی غلط بیانی یہ کرتے ہیں تو اپنا مفاد دیکھ کے ’’وہ‘‘ بھی کر ڈالتے ہیں۔

اٹلی کا خوابناک شہر وینس، اس کے مکانوں کے دَر پانی میں کھلتے ہیں، جہاں کار کی بجائے کشتی بندھی ہوتی ہے، یہ سمندر کا پانی ہے، ظاہر ہے کہ گہرا بھی ہے، اس شہر کی ایک تصویر شایع ہوئی جس کے نیچے سائبر ملّاؤں نے بہت جذباتی نعرے مارے ہوئے تھے۔ لکھا تھا ’’وینس کی مقامی حکومت نے مسلمانوں کو پہلی بار سرِ عام نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس پر جوق دَر جوق اکٹھے ہوگئے اور پانی بھری گلیوں میں نمازی ہی نمازی بھر گئے۔‘‘ تصویر میں ہر طرف لوگ گھٹنوں تک پانی میں ڈوبے ہوئے سجدہ ریز تھے۔ اب جس نے وینس دیکھا ہے یا جو اس کے بارے میں جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ وہاں کی گلیوں میں صرف چھ انچ پانی نہیں ہوتا۔

دوسرا یہ کہ سارے شہر کی گلیاں پانی نہیں ہیں، خشک میدان بھی بہت ہیں اور پھر وہاں یکدم ہزاروں مسلمان کہاں سے نکل کے آگئے؟ پھر بھی یہ تصویر شایع ہوتی چلی جارہی ہے اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ اس کے پیچھے کون ہے؟ سونامی نوجوانوں کی تو یہ لائن نہیں ہے اور طالبان۔۔۔۔۔؟ ان کے بارے میں کیا کہوں۔سید مبارک علی تاریخ کو کھنگالتے ہوئے وینس کے پانیوں میں اُتریں تو شاید کوئی خبر لائیں۔

چاند کی سیر کو جانااب کوئی عجوبہ نہیں رہا۔ نیل آرمسٹرونگ گئے تو ان سے منسوب اذان کی آوازوں کی خبر اُڑائی گئی۔ پھر کچھ عرصہ پہلے چاند کی سیر کو ایک گاڑی روانہ ہوئی تو اس کا ٹکٹ ایک بھارتی گوری ’’سنیتا ولیمز‘‘ نے بھی لے لیا۔ وہ اس یاترا سے لوٹی توسائبر طالبان کی تخلیقی قوتوں نے فوراً انگڑائی لی اور اللہ اکبر کی صداؤں کے ساتھ ایک نیا تحفہ پیش کردیا گیا۔ کہا گیا کہ ’’پہلی بھارت خلاباز سنیتا ولیمز نے چاند سے واپسی پر اسلام قبول کرلیا ہے، اس نے چاند پر پہنچ کر زمین کی طرف دیکھا تو ہر طرف اندھیرا اور صرف دو جگہیں روشن نظر آئیں، مکّہ اور مدینہ۔ چاند پر تمام فریکوئنسی فیل ہورہی تھی لیکن اذان کی آواز آرہی تھی۔‘‘

آغا وقار تو ممکن ہے کسی نہ کسی طرح پانی سے کار چلا کے سائنس کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دے، لیکن سنیتا ولیمز کو چاند پر صرف دو روشن مقامات دکھانا اور خلاء میں کوئی آواز سنادینا یہ کونسی سائنس ہضم کرے گی؟ بچپن میں جب کسی نے مجھے ایک بزرگ کی کہانی سنائی تھی کہ کس طرح وہ ایک روحانی عمل کے ذریعے بیٹھے بیٹھے، اپنے بازو کو دس بارہ فٹ لمبا کرتے تھے اور پانی کا گلاس اُٹھالیا کرتے تھے تو میں ڈر گیا تھا، میں سنیتا ولیمز سے بھی ڈرگیا ہوں۔

 

طارق محمود میاں

بشکریہ ایکسپریس

یا حسین تیری پیاس کا صدقہ

یہ تب کی بات ہے جب ہم ایک گمراہ ، مشرک ، بدعتی معاشرے میں رہتے تھے۔ اے اللہ مجھے اور میرے مشرک ، گمراہ ، بدعتی پرکھوں اور اس سماج کو معاف کردینا جسے کوئی تمیز نہیں تھی کہ عقیدے اور بدعقیدگی میں کیا فرق ہے۔ اچھا مسلمان کون ہے اور مسلمان کے بھیس میں منافق اور خالص اسلام کو توڑنے مروڑنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے والا سازشی کون ۔

اے میرے خدا میری بدعتی والدہ کو معاف کردینا جو اپنی سادگی میں ہر یکم محرم سے پہلے پڑنے والے جمعہ کو محلے پڑوس کی شیعہ سنی عورتوں کو جمع کرکے کسی خوش الحان سہیلی سے بی بی فاطمہ کی کہانی سننے کے بعد ملیدے کے میٹھے لڈو بنا کر نیاز میں بانٹتی تھی ۔
اسی بارے میں

اے میرے خالق ، میرے والد کو بھی بخش دینا جو حافظِ قران دیوبندی ہونے کے باوجود یومِ عاشور پر حلیم پکواتے تھے تاکہ ان کے یارِ جانی حمید حسن نقوی جب تعزیہ ٹھنڈا کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے ہمراہ بعد از عصر آئیں تو فاقہ شکنی کر پائیں۔

البتہ میری دادی کبھی اس فاقہ شکنی میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ وہ مغرب کی ازان کا انتظار کرتی تھیں تاکہ نفلی روزہ افطار کرسکیں۔ حمید حسن اور انکے اہلِ خانہ تو مغرب کے بعد اپنے گھر چلے جاتے تھے ۔ مگر عشا کی ازان ہوتے ہی ہمارے صحن کے وسط میں کرسی پر رکھے ریڈیو کی آواز اونچی ہو جاتی۔ سب انتظار کرتے کہ آج علامہ رشید ترابی کس موضوع پر مجلسِ شامِ غریباں پڑھیں گے۔ مجھے یا چھوٹی بہن کو قطعاً پلے نہیں پڑتا تھا کہ شامِ غریباں کیا ہوتی ہے ؟ کیوں ہوتی ہے ؟ اور مجلس کے اختتام سے زرا پہلے دادی کی ہچکی کیوں بندھ جاتی ہے ؟ اور کیا یہ وہی دادی ہیں جن کی آنکھ سے گذشتہ برس میرے دادا اور تایا کے یکے بعد دیگرے انتقال پر ایک آنسو نا ٹپکا تھا ؟

اے اللہ شرک و ہدایت ، درست و غلط اور بدعت و خالص میں تمیز نا رکھنے والی میری سادہ لوح واجبی پڑھی لکھی دادی کی بھی مغفرت فرما ۔ اور پھر انہیں آج کی طرح کوئی یہ دینی نزاکتیں سمجھانے والا بھی تو نہیں تھا۔ وہ تو اتنی سادی تھیں کہ یہ فرق بھی نا بتا سکتی تھیں کہ بریلویت کیا چیز ہے اور شیعہ ہم سے کتنے مختلف ہوتے ہیں ؟

وہ تو بھلا ہو اعلی حضرت میاں عبدالغفور کا جنہوں نے ایک دن دادی کو تفصیل سے اہم فرقوں اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری فقہ کے فرق کو سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اماں آپ نجیب الطرفین دیوبندی گھرانے سے ہیں اور بریلوی اور شیعہ ہمارے آپ کے پوشیدہ دشمن اور اسلام دشمنوں کے آلہِ کار ہیں لہذا ان سے ایک زہنی فاصلہ رکھتے ہوئے میل ملاقات رکھیں۔ اور اماں آپ اسلم برکی کے بچوں کو اب عربی قاعدہ نا پڑھایا کریں کیونکہ وہ قادیانی ہیں اور قادیانی کافر ہوتے ہیں اور کافر کو عربی قاعدہ پڑھانا نا صرف گناہِ کبیرہ ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ جب دادی نے قانون اور جرم کا لفظ سنا تب کہیں انہیں معاملے کی سنگینی سمجھ میں آئی۔ خدا میاں غفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

لو میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

بچپن میں عید الضحی گذرنے کے بعد سکول کی چھٹی ہوتے ہی ہماری مصروفیت یہ ہوتی کہ بڑے قبرستان کے کونے میں ملنگوں کے ڈیرے پر نئے تعزیے کی تعمیر دیکھتے رہتے۔ یہ ملنگ روزانہ حسینی چندے کا کشکول اٹھا کر ایک چھوٹے سا سیاہ علم تھامے دوکان دوکان گھر گھر چندہ اکٹھا کرتے اور پھر اس چندے سے زیور ، پنیاں اور کیوڑہ خرید کر تعزیے پر سجاتے اور سورج غروب ہوتے ہی کام بند کرکے بہت زور کا ماتم کرتے۔

میرے کلاس فیلو اسلم سینڈو کے ابا طفیلے لوہار کی تو محرم شروع ہونے سے پہلے ہی چاندی ہوجاتی ۔جس عزا دار کو چھریاں ، قمہ ، برچھی ، مچھلی اور زنجیر تیز کرانی ہوتی وہ طفیلے لوہار کی دوکان کا رخ کرتا ۔کام اتنا جمع ہوجاتا کہ اسلم سینڈو کو بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ البتہ شبِ عاشور طفیلے کی دوکان پر تالا لگ جاتا اور بند دوکان کے باہر ہر سال کی طرح ایک سیاہ بینر نمودار ہو جاتا جس پر لکھا ہوتا ’’ یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ’’۔۔۔دونوں باپ بیٹے دودھ کی سبیل لگا کر ہر آتے جاتے کو بااصرار پلاتے ۔

پھر طفیل مرگیا اور اسلم سینڈو نے سارا کام سنبھال لیا۔ پھر میں نے سنا کہ اسلم نے ایک دن دوکان بند کردی اور غائب ہوگیا۔ کوئی کہتا ہے کشمیر چلا گیا ۔ کوئی کہتا ہے کہ افغانستان آتا جاتا رہا۔ کوئی کہتا ہے اب وہ قبائلی علاقے میں کسی تنظیم کا چھوٹا موٹا کمانڈر ہے اور اس کا نام اسلم نہیں بلکہ ابو یاسر یا اسی سے ملتا جلتا کوئی نام ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کراچی کے نشتر پارک میں سنی تحریک کے جلسے کے بم دھماکے میں وہ پولیس کو چار سال سے مطلوب ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ کوئٹہ پولیس نے اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

لوگ کہتے ہیں مذہبی شدت پسندی اور تشدد قابو سے باہر ہوگیا ہے۔مگر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ قبلہ و ایمان درست کرنے اور قوم کے جسم سے شرک و بدعت و گمرہی کے زہریلے مواد کے اخراج کے لئے تکفیری جہادی نشتر تو لگانا پڑتا ہے۔ انشاللہ عنقریب تمام مشرک ، بدعتی اور منافق جہنم رسید ہوجائیں گے اور ماحول اتنا پرامن اور عقیدہ اتنا خالص ہو جائے گا کہ اس خطہِ پاک کو دنیا پاکستان کے بجائے خالصتان پکارے گی۔۔۔
بس چند دن کی تکلیف اور ہے۔۔۔۔۔۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی

حضرت علی کے دیگر خلفاء سے تعلقات

۱۔کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی؟
اس معاملے میں جو تاریخی روایات بیان ہوئی ہیں اور یہ تین طرح کی ہیں:
• پہلی قسم کی روایات کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوری رضا و رغبت کے ساتھ اگلے دن ہی بیعت کر لی تھی۔
• دوسری قسم کی روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے کچھ پس و پیش کیا تھا لیکن دیگر صحابہ کے سمجھانے پر کچھ ہی عرصہ بعد بیعت کر لی تھی۔
• تیسری قسم کی روایات مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ خود خلیفہ بننا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے بیعت سے انکار کر دیا تھا اور حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا اور ان کا دروازہ جلا دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر بھی تشدد کیا جس سے ان کا حمل ضائع ہوا اور حضرت علی کو مجبور کر کے ان سے بیعت لی گئی۔ اس کے بعد پہلے تین خلفاء راشدین کے زمانے میں خفیہ سازشوں میں مصروف رہے اور ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کرتے رہے۔
پہلے گروپ کی روایات
برضا و رغبت بیعت والی روایتیں متعد دہیں اور یہاں ہم انہیں پیش کر رہے ہیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ , ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ , ثنا وُهَيْبٌ , ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ , ثنا أَبُو نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بعتَ لنے کے لےن منبر پر چڑھے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت علی موجود نہ تھے۔ آپ نے ان کے بارے میں پوچھا۔ انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہیں بلا لائے۔ جب وہ آئے تو ان سے فرمایا: “اے رسول اللہ کے چچا زاد بھائی اور داماد! کان آپ مسلمانوں کے عصا (طاقت) کو توڑنا پسند کریں گے؟” انہوں نے بھی ییُ کہا: “اے رسول اللہ کے خلفہہ! مجھے ملامت نہ کے زا۔” اور پھر ان کی بعتم کر لی۔ پھر آپ نے دیکھا کہ حضرت زبری رضی اللہ عنہ غر حاضر ہںْ۔ آپ نے انہںا بلا بھجا ۔ جب حضرت زبرو آئے تو ان سے فرمایا: “اے رسول اللہ کے پھوپھی زاد بھائی اور آپ کے حواری! کاد آپ مسلمانوں کے عصا (طاقت) کو توڑنا پسند کریں گے؟ ” انہوں نے کہا: “اے رسول اللہ کے خلفہس! مجھے ملامت نہ کےیتں۔ ” پھر کھڑے ہو کر انہوں نے بعتم کر لی۔( بیہقی۔ الاعتقاد الی سبیل الرشاد۔ باب اجتماع المسلمین علی بیعۃ ابی بکر۔ حدیث 325۔ بلاذری، انساب الاشراف۔ 2/267)
حدثنا عبيد الله بن سعد ، قال : أخبرني عمي ، قال : أخبرني سيف ، عن عبد العزيز بن ساه ، عن حبيب بن أبي ثابت: حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ کسی نے انہیں بتایا کہ مسجد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیعت لے رہے ہیں۔ اس وقت حضرت علی نے محض ایک طویل کرتا پہن رکھا تھا اور تہمد نہ باندھ رکھا تھا ۔ آپ دیر ہو جانے کے خوف سے اٹھے اور بغیر تہمد باندھے بھاگم بھاگ مسجد میں پہنچے اور بیعت کر کے صدیق اکبر کے پاس بیٹھ گئے۔ اس کے بعد آپ نے گھر سے بقیہ لباس منگوا کر پہنا۔( ابن جریر طبری۔ حدیث سقفہن۔ 11H/2/1-410)
محمد بن سعد، ثنا محمد بن عمر الواقدي، عن أبي معمر، عن المقبري، و يزيد بن رومان مولى آل زبير، عن ابن شهاب: (سقیفہ کے واقعہ کے بعد) حضرت علی نے ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا: “ابوبکر! آپ جانتے نہیں کہ اس معاملے (مشورہ) میں ہمارا بھی حق تھا؟” انہوں نے فرمایا: “جی ہاں، لیکن مجھے انتشار کا خوف تھا اور مجھ پر بڑا معاملہ آن پڑا تھا۔” علی نے فرمایا: “میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز کی امامت کا حکم دیا تھا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ غار (ثور) میں ثانی اثنین ہیں۔ ہمارا حق تھا (کہ ہم سے مشورہ کیا جائے) لیکن ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ بہرحال اللہ تعالی آپ کو معاف کرے۔” یہ کہہ کر انہوں نے بیعت کر لی۔ ( بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 2/263)
حدثن عن الحسن بن عرفة، عن علي بن هشام بن اليزيد، عن أبيه، عن أبي الجحاف: جب ابو بکر کی لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ نے کھڑے ہو کر تین بار اعلان کیا: “اے لوگو! (اگر آپ چاہیں) تو میری بیعت کو ختم کر سکتے ہیں۔” علی نے کہا: “خدا کی قسم، ہم نہ تو آپ کی بیعت کو ختم کریں گے اور نہ ہی آپ کو استعفی دینے دیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں آپ کو امام بنایا تھا تو پھر کون ہے جو (دنیاوی امور کی امامت) میں آپ سے آگے بڑھے؟” ( ایضاً ۔ 2/270)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی اور زبیر رضی اللہ عنہما نے برضا و رغبت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی۔ بعد میں پہلے تینوں خلفاء کے دور میں وہ جس طرح امور حکومت میں پوری دلجمعی کے ساتھ شریک رہے، اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پوری رضا و رغبت سے بیعت کی تھی۔ سند کے اعتبار سے ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت سب سے زیادہ مستند ہے۔ بقیہ روایتیں اگرچہ سند کے اعتبار سے کمزور ہیں تاہم حضرت علی ا ور زبیر نے پہلے تینوں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے ساتھ جو طرز عمل اختیار کیا، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایتیں بالکل درست ہیں۔
دوسرے گروپ کی روایات
بیعت میں پس و پیش کرنے سے متعلق روایات کے مطابق سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باغ فدک کی وراثت کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ ایک باغ تھا جس کی آمدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان پر خرچ ہوتی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ باغ سرکاری ملکیت ہے، جس کی وجہ سے اس کی وراثت تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ہاں ا س کی آمدنی میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کو حصہ ملتا رہے گا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس بات پر ناراض ہو گئیں اور چھ ماہ بعد اپنی وفات تک انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات نہیں کی۔ باغ فدک کی روایت یہ ہے:
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب قال: أخبرني عروة بن الزبير: أن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أخبرته : سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آپ کی میراث تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے بطور فئی (وہ مال غنیمت جو جنگ کے بغیر حاصل ہو) دیا تھا۔ ابوبکر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہمارا (انبیا کا) ورثہ تقسیم نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔” (ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ) فاطمہ رضی اللہ عنہاغضب ناک ہو گئیں اور ابوبکر کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ پھر وہ ان سے اپنی وفات تک نہ ملیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔( بخاری۔ کتاب خمس۔ حدیث 2926)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں چھ ماہ بند رہے اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی ۔ سیدہ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ان کے پاس گئے اور ان سے گفت و شنید کی۔ دونوں نے ایک دوسرے کے فضائل بیان کیے اور اس کے بعد حضرت علی نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی۔ روایت کچھ یوں ہے:
حدثنا أبو صالح الضرار ، قال : حدثنا عبد الرزاق بن همام ، عن معمر ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة : حضرت فاطمہ اور عباس ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فدک اور خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ ہے، وہ ہمیں دیا جائے۔ ابوبکر نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہمارے املاک میں ورثہ نہیں، جو ہم چھوڑتے ہیں، وہ صدقہ ہے تو ضرور یہ املاک آل محمد کو مل جاتیں۔ ہاں اس کی آمدنی میں سے آپ کو بھی ملے گا۔ بخدا میں ہر اس بات پر عمل کروں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے۔
(زہری نے) بیان کیا کہ اس واقعے کی وجہ سے فاطمہ نے پھر وفات تک اس معاملے سے متعلق ابوبکر سے کوئی بات نہیں کی اور قطع تعلق کر لیا۔ جب فاطمہ کا انتقال ہوا تو علی نے رات میں ان کو دفن کر دیا اور ابوبکر کو نہ تو ان کی وفات کی اطلاع دی اور نہ دفن میں شرکت کی دعوت دی۔ فاطمہ کی وفات کے بعد ان لوگوں کا خیال علی کی طرف پلٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ فاطمہ اور زندہ رہیں اور پھر انہوں نے وفات پائی۔
معمر کہتے ہیں کہ زہری سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا علی نے چھ مہینے تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں کی اور جب تک انہوں نے نہیں کی ، تو بنو ہاشم میں سے کسی نے نہیں کی۔ مگر فاطمہ کی وفات کے بعد جب علی نے دیکھا کہ لوگوں کا وہ خیال باقی نہیں رہا، جو فاطمہ کی زندگی میں تھا تو وہ ابوبکر سے مصالحت کے لیے جھکے اور انہوں نے ابوبکر کو کہلا بھیجا کہ مجھ سے تنہا آ کر ملیے اور کوئی ساتھ نہ ہو۔ چونکہ عمر سخت طبیعت کے آدمی تھے، علی کو یہ بات گوارا نہ تھی کہ وہ بھی ابوبکر کے ساتھ آئیں۔ عمر نے ابوبکر سے کہا کہ آپ تنہا بنو ہاشم کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر نے کہا: “نہیں، میں تنہا جاؤں گا۔ مجھے اس کی توقع نہیں کہ میرے ساتھ کوئی بدسلوکی کی جائے گی۔” ابوبکر، علی کے پاس آئےتو تمام بنو ہاشم جمع تھے۔ علی نے کھڑے ہو کر تقریر کی ۔ اس میں حمد و ثنا کے بعد کہا: ’’اے ابوبکر! آج تک ہم نے آپ کے ہاتھ پر جو بیعت نہیں کی، اس کی وجہ آپ کی کسی فضیلت سے انکار یا اللہ کی آپ کو دی گئی بھلائیوں پر حسد نہ تھا۔ بلکہ ہم اس خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے مگر آپ نے زبردستی اسے ہم سے لے لیا۔‘‘ اس کے بعد علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت اور اپنے حق کو بیان کیا۔ علی نے ان باتوں کو تفصیل سے بیان کیا یہاں تک کہ ابوبکر رو پڑے۔ علی جب خاموش ہوئے تو ابوبکر نے تقریر شروع کی۔ کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالی کے شایان شان حمد و ثنا کے بعد انہوں نے کہا: “واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء مجھے اپنے رشتہ داروں کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہیں۔ میں نے ان املاک کے متعلق جو میرے اور آپ کے درمیان اختلاف کا باعث بنی ہیں، میں صرف واجبی کمی کی تھی۔ نیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت نہیں جو ہم چھوڑیں۔ وہ صدقہ ہے۔ ہاں اس کی آمدنی میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا رہے گا اور میں اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ کسی بات کا ذکر کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو اور خود اس پر عمل نہ کروں۔ “
علی نے کہا: “اچھا! آج شام ہم آپ کی بیعت کریں گے۔” ظہر کی نماز کے بعد ابوبکر نے منبر پر سب کے سامنے تقریر کی اور بعض باتوں کی علی سے معذرت کی۔ پھر علی کھڑے ہوئے او رانہوں نے ابوبکر کے حق کی عظمت اور ان کی فضیلت اور اسلام میں پہلے شرکت کا اظہار اور اعتراف کیا اور پھر ابوبکر کے پاس جا کر ان کی بیعت کی۔ ( طبری۔ ایضا۔ 11H/2/1-411)
اس واقعے کا تجزیہ دو اعتبار سے کیا جا سکتا ہے، ایک سند کے اعتبار سے اور دوسرا درایت کے اعتبار سے اور دونوں اعتبار سے اس میں کچھ مسائل موجود ہیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام روایتوں کی سند میں دیکھیے تو ان میں ابن شہاب الزہری (58-124/678-742) موجود ہیں۔ محدثین کے نزدیک زہری ایک جلیل القدر محدث اور قابل اعتماد راوی ہیں تاہم ان کے ساتھ کچھ مسائل موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ احادیث میں “ادراج ” کیا کرتے تھے۔ ادراج کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرتے ہوئے اس میں اپنی جانب سے تشریحی جملے شامل کر دیے جائیں۔ اس پر زہری کو ان کے معاصر ربیعہ کہتے تھے کہ وہ ایسا نہ کریں کیونکہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ہے۔ اگر ایسا کرنا ضروری بھی ہو تو اسے الگ سے بیان کریں تاکہ ان کی رائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات میں مل نہ جائے۔( بخاری۔ التاریخ الکبیر۔ راوی نمبر 976۔ 3/135۔ http://www.almeshkat.net (ac. 28 Apr 2007) )۔ دوسرے یہ کہ وہ “تدلیس” کیا کرتے تھے یعنی حدیث کی سند میں اگر کوئی کمزوری ہو تو اسے چھپا لیتے تھے۔
باغ فدک سے متعلق جتنی بھی روایات ہیں، ان سب کو اگر اکٹھا کر لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراضی کا ذکر صرف انہی روایات میں ملتا ہے جن کی سند میں زہری موجود ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناراضی والی بات زہری کا ادراج (اضافہ) ہے۔ چھ ماہ تک ناراض رہنے والی بات صرف زہری ہی نے بیان کی ہے جو کہ اس واقعہ کے پچاس سال بعد پیدا ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ زہری اس واقعے کے عینی شاہد تو نہیں تھے۔ انہوں نے یہ بات کس سے سنی اور جس سے سنی، وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا؟ ان کے علاوہ کسی اور نے تو یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ مشہور محدثین جیسے بیہقی اور ابن حجر عسقلانی نے بھی زہری کی اس بات کو منقطع قرار دے کر اسے مسترد کیا ہے۔( ابن حجر عسقلانی۔ فتح الباری شرح بخاری۔ 7/495۔ زیر حدیث 4240۔ ریاض: مکتبہ سلفیہ۔)
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ناراضی والی بات درایت کے نقطہ نظر سے بالکل غلط معلوم ہوتی ہے۔ اس میں تو کوئی اشکال نہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے حصول کا خیال گزرا تو انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے بات کی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ، حضرت صدیق اکبر کو جائز حکمران تسلیم کرتی تھیں، تبھی ان کے پاس مقدمہ لے کر گئیں۔ حضرت ابوبکر نے وضاحت فرما دی کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام مال کو صدقہ قرار دیا تھا اور باغ فدک تو ایک سرکاری جائیداد تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت نہ تھی بلکہ حکومت کی ملکیت تھی۔ اس کی صرف آمدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت پر بطور تنخواہ خرچ ہوتی تھی کیونکہ آپ بطور سربراہ حکومت فل ٹائم کام کرتے تھے اور آپ کی آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس کی آمدنی بدستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت پر خرچ ہو گی۔
حضرت ابوبکر نے دلیل سے بات کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو بطور دلیل پیش کیا تھا۔ اگرسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس سے اختلاف ہوتا تو وہ بھی جوابی دلیل پیش کرتیں لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ آپ کی بات کو سمجھ گئی تھیں۔ سیدہ کے زہد و تقوی ، اعلی کردار اور دنیا سے بے رغبتی کو مدنظر رکھا جائے تو آپ سے ہرگز یہ توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ آپ اس بات پر ناراض ہو جائیں گی کہ آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پیش کیا جائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو زہری کی روایت میں کسی اور نے یہ ناراضی والا جملہ شامل کر دیا ہے یا پھر یہ جملہ خود انہوں نے کسی غلط فہمی کے سبب کہہ دیا ہے۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ باغ فدک کے دعوے داروں میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی نظر آتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ یہ بات بالکل معروف اور متعین ہے کہ قرآن مجید کے قانون وراثت کی رو سے چچا کا میراث میں حصہ نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ان کا دعوی کرنا سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ خاندان کے بزرگ کے طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چلے گئے تھے۔
چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی کو محروم نہ کیا تھا بلکہ ان دونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو بھی اس وراثت سے محروم کیا تھا۔ عام طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بات کو بہت اچھالا گیا ہے لیکن سیدہ عائشہ و حفصہ اور دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا ہے حالانکہ وراثت میں بیوی کا حصہ بھی ہوتا ہے۔
پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہم کو اس کا ٹرسٹی مقرر کر دیا تھا۔ آپ اس کی بطور ٹرسٹ حیثیت کو مانتے تھے تبھی آپ نے اس کا ٹرسٹی بننا قبول کیا۔ اگر باغ فدک واقعی اہل بیت کی ملکیت ہوتا تو آپ کم از کم اپنے دور خلافت میں تو اسے ان کے حوالے کر سکتے تھے۔ ان کا ایسا نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بھی اسے اہل بیت کی ملکیت نہ سمجھتے تھے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس باغ کو مروان بن حکم نے حکومت سے خرید لیا تھا، اس وجہ سے حضرت علی نے ایسا نہ کیا۔ لیکن یہ بات درست نہیں، اگر یہ واقعتاً اہل بیت کا حق تھا تو حضرت علی کو چاہیے تھا کہ وہ اسے اس کے حق داروں تک پہنچاتے اور مروان کو ان کی رقم واپس کروا دیتے۔
چھٹا مسئلہ یہ ہے کہ خود حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پڑپوتے، حضرت زید بن علی بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا: “اگر میں ابوبکر کی جگہ ہوتا تو فدک کے بارے میں وہی فیصلہ کرتا جو انہوں نے کیا تھا۔ ( بیہقی، ایضا۔ حدیث 12744۔ 6/493)
ساتواں مسئلہ یہ ہے کہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے مرد مومن سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ محض ایک باغ کی وجہ سے آپ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہیں اور نماز پڑھنے کے لیے بھی مسجد میں تشریف نہ لائیں؟ آپ نے اسلام کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں، کیا یہ ممکن تھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات جیسے نازک موقع پر پیچھے بیٹھ رہتے جب متعدد عرب قبائل نے بغاوت کا علم بلند کر دیا تھا۔ اگر آپ کو حضرت ابوبکر سے کوئی شکایت تھی تو براہ راست ان کے پاس جا سکتے تھے اور ان سے معاملات پر گفتگو کر سکتے تھے لیکن اس کی بجائے یہ کہنا کہ آپ اٹوانٹی کھٹوانٹی لے کر گھر بیٹھ رہے، یہ بات کسی طرح آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ جب سب کے سب صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت علی ایسا نہ کرتے اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔ حضرت علی کی بیعت نہ کرنے والی روایات دراصل حضرت ابوبکر پر نہیں بلکہ حضرت علی پر بہتان ہیں اور آپ کی کردار کشی کی کوشش ہیں۔
آٹھواں مسئلہ یہ ہے کہ عہد رسالت میں مال غنیمت میں سے جو حصہ بنو ہاشم کے لیے مقرر تھا، اس کی تقسیم کی ذمہ داری حضرت علی ہی کے سپرد تھی۔ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم، برابر اس مال کو حضرت علی ہی کو دیتے رہے جو کہ ان پر اعتماد کی علامت ہے۔ اگر ان کے درمیان عدم اعتماد کی فضا ہوتی تو پھر ایسا نہ ہوتا۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، ثنا يحيى بن أبي بُكير، ثنا أبو جعفر الرَّازي، عن مُطرِّف، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: سمعت عليّاً يقول: حضرت علی نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس کے پانچویں حصے (کی تقسیم) کا ذمہ دار بنایا۔ میں نے اسے رسول اللہ کی حیات طیبہ میں اس کے مخصوص مقامات پر خرچ کیا۔ پھر ابو بکر اور عمر کی زندگی میں بھی اسی طرح ہوتا رہا۔ پھر کچھ مال آیا تو عمر نے مجھے بلایا اور فرمایا: ’’لے لیجیے۔‘‘ میں نے کہا: ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’لے لیجیے، آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے (کہ پہلے ہی ہمارے پاس کافی مال ہے، کسی ضرورت مند کو دے دیجیے۔)‘‘ چنانچہ انہوں نے اسے بیت المال میں جمع کر دیا۔‘‘( ابو داؤد۔ سنن۔ کتاب الخراج و الفئی و الامارہ۔ حدیث 2983)
نواں مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں متعدد ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن کے مطابق صدیق اکبر رضی اللہ عنہ برابر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عیادت کے لیے تشریف لاتے رہے۔ جب سیدہ کا انتقال ہوا تو حضرت علی نے اصرار کر کے حضرت ابوبکر ہی کو نماز جنازہ پڑھانے کے لے کہا ۔ سیدہ فاطمہ کو غسل حضرت ابوبکر کی اہلیہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہم نے دیا۔ اب اگر روایات ہی کو ماننا ہے تو پھر ان روایات کو کیوں نہ مانا جائے جو اصحاب رسول اور اہل بیت اطہار کے کردار کے عین مطابق ہیں۔ روایات یہ ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِىُّ بِنَيْسَابُورَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ: شعبی کہتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ بیمار ہوئیں تو ابوبکر صدیق ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ علی نے کہا: “فاطمہ! یہ ابوبکر آئے ہیں اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں؟” انہوں نے کہا: “آپ کیا انہیں اجازت دینا چاہتے ہیں؟” فرمایا: “ہاں۔” انہوں نے اجازت دے دی تو ابوبکر اندر داخل ہوئے اور سیدہ کو راضی کرنے کی کوشش کی اور فرمایا: “واللہ! میں نے اپنا گھر، مال، اہل و عیال اور خاندان کو صرف اللہ اور اس کے رسول اور آپ اہل بیت کی رضا ہی کے لیے چھوڑا تھا۔ ” پھر وہ انہیں راضی کرتے رہے یہاں تک کہ سیدہ ان سے راضی ہو گئیں۔ ( بیہقی۔ سنن الکبری۔ حدیث 12375۔ 6/491۔ http://www.waqfeya.com (ac. 17 May 2005) )
حافظ ابن کثیر (701-774/1301-1372) نے پہلی اور دوسری قسم کی روایات کو تطبیق (Reconcile) دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہی میں کر لی تھی۔ باغ فدک کی وجہ سے سیدہ رضی اللہ عنہا کے ذہن میں کچھ کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ کشیدگی کا پیدا ہو جانا ایک انسانی معاملہ ہے جو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے خواہ وہ کتنا ہی بلند رتبہ کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب بیمار پڑیں تو ان کی تیمار داری کے باعث حضرت علی زیادہ باہر نہ نکلے ۔ دوسرے یہ کہ آپ قرآن مجید کو نزولی ترتیب سے جمع کرنا چاہتے تھے جو کہ ایک علمی نوعیت کی کاوش تھی۔ اس بات کی تائید بلاذری کی اس روایت سے ہوتی ہے:
حدثنا سلمة بن الصقر، وروح بن عبد المؤمن قالا: ثنا عبد الوهاب الثقفي، أنبأ أيوب، عن ابن سيرين قال: ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابوبکر نے علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: “کیا آپ میرے امیر بننے کو ناپسند کرتے ہیں؟” انہوں نے کہا: “نہیں۔ اصل میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ قسم کھائی ہے کہ جب تک میں قرآن مجید کو نزولی ترتیب سے جمع نہ کر لوں، اس وقت تک باہر نہ آؤں گا۔ (بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 2/269)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے باہر نہ نکلنے سے بعض لوگوں کو گمان گزرا کہ ان حضرات میں کچھ ناراضگی موجود ہے حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے گھر آ کر انہیں راضی کر چکے تھے۔ صدیق اکبر کا فیصلہ شریعت کے عین مطابق تھا تاہم انہوں نے پھر بھی سیدہ کی دلجوئی کی جس سے آپ کی اہل بیت کے لیے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان کے نقطہ نظر کو قبول کیا اور ان سے راضی ہو گئیں۔ (ابن کثیر۔ البدایہ و النہایہ۔ 5/389 )۔ آپ کے انتقال کے بعد حضرت علی نے اس وجہ سے علی الاعلان صدیق اکبر کی دوبارہ بیعت کی تاکہ لوگوں کی غلط فہمی دور ہو جائے اور انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ اصحاب رسول میں کوئی ناراضی نہیں ہے اور وہ یکجان کئی قالب ہیں۔ اس ضمن میں بلاذری نے یہ روایت بیان کی ہے جس سے اس سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کردار واضح ہوتا ہے۔
المدائني، عن عبد الله بن جعفر، عن أبي عون: ابو عون کہتے ہیں کہ جب عربوں نے ارتداد اختیار کیا تو عثمان، علی کے پاس گئے اور علی کہنے لگے: “میرے چچا زاد بھائی! کوئی بھی مجھ سے ملنے نہیں آیا۔” عثمان نے کہا: “یہ دشمن (مرتدین) ہیں اور آپ نے بیعت نہیں کی۔” عثمان، علی کے پاس اس وقت تک بیٹھے رہے جب تک کہ وہ ان کے ساتھ چل نہ پڑے اور ابوبکر کے پاس آ نہ گئے۔ ابوبکر انہیں دیکھ کر کھڑے ہوئے اور ان سے گلے ملے۔ اس کے بعد یہ دونوں حضرا ت روئے اور علی نے ابوبکر کی بیعت کر لی۔ لوگ اب جنگ کے لیے تیار ہو گئے اور لشکر روانہ کیے گئے۔ ( بلاذری۔ 2/570)
تیسرے گروپ کی روایات
جبراً بیعت لی جانے والی روایات روایات بالعموم اہل تشیع کی کتب میں آئی ہیں۔ ان کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے انکار کر دیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور دروازہ جلا دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آگے آئیں تو انہیں گرا دیا جس سے ان کا حمل ضائع ہو گیا اور ان کی پسلی ٹوٹ گئی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مجبور کر کے ان سے زبردستی بیعت لی۔ جبری بیعت والی روایات زیادہ تر ابو مخنف لوط بن یحیی (d. 157/774) سے مروی ہیں جن کا صحابہ کرام کے بارے میں تعصب مشہور ہے اور صحابہ کی کردار کشی سے متعلق جتنی روایات ہمیں ملتی ہیں، ان کا زیادہ تر حصہ انہی سے منقول ہے۔ ابو مخنف سے ہٹ کر صرف ایک روایت ایسی ملتی ہے جو بلاذری نے نقل کی ہے:
المدائني، عن مسلمة بن محارب، عن سليمان التيمي، وعن ابن عون: ابوبکر نے علی کو پیغام بھیجا کہ وہ آ کر بیعت کریں۔ انہوں نے بیعت نہ کی۔ عمر ان کے گھر آئے اور ان کے ہاتھ میں ایک مشعل تھی۔ فاطمہ گھر کے دروازے پر آئیں اور کہنے لگیں: “ابن خطاب! کیا آپ میرے گھر کا دروازہ جلا دیں گے؟” انہوں نے کہا: “ہاں۔ یہ اس سے زیادہ مضبوط طریقہ ہے جو آپ کے والد لے کر آئے تھے۔” اتنے میں علی آ گئے اور انہوں نے بیعت کر لی اور کہا: “میرا تو ارادہ صرف یہ تھا کہ میں اس وقت تک گھر سے نہ نکلوں جب تک کہ قرآن جمع نہ کر لوں۔( ایضاً ۔ 2/268)
اس روایت میں سند میں دو مسائل ہیں:
• مسلمہ بن محارب کے حالات نامعلوم ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کس درجے کے قابل اعتماد راوی ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمہ بن محارب کو مشہور ماہر جرح و تعدیل، ابن حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ یہ ابن حبان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن ان کے علاوہ کسی اور ماہر جرح و تعدیل نے مسلمہ بن محارب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ زیادہ معروف راوی نہیں تھے، جس کی وجہ سے ماہرین کو ان کے حالات کا زیادہ علم نہیں ہو سکا ہے۔
یہ روایت ابن عون بیان کر رہے ہیں جو کہ (d. 151/768) میں فوت ہوئے۔( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلاء۔ شخصیت نمبر 3328۔ ص 2451۔ )
اگر ابن عون کی عمر کو سو سال بھی مان لیا جائے، تب بھی وہ اس واقعے کے عینی شاہد نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ابن عون نے یہ واقعہ کس سے سنا اور جس سے سنا، وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا؟
اس ایک روایت کے علاوہ کسی اور ذریعے سے یہ روایات نہیں ملتی ہیں۔ جس شخص نے بھی جبری بیعت کی یہ روایت گھڑی ہے، اس نے نہ صرف حضرات ابوبکر و عمر بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہم کی شہرت کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسی باتوں کو آپ سے منسوب کیا ہے جو آپ کے شایان شان نہیں ہیں۔ حضرت علی کی شجاعت ضرب المثل ہے۔ کیا ایسا ممکن تھا کہ کوئی آ کر آپ کے گھر پر حملہ کرے اور خاتون جنت کے ساتھ گستاخی کرے اور حضرت علی اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں اور پھر سر جھکا کر بیعت بھی کر لیں؟ ہمارے دور کا کوئی غیرت مند شوہر ایسا برداشت نہ کرے گا، کجا سیدنا علی شیر خدا جیسے عظیم بہادر کے بارے میں یہ تصور کیا جائے؟ روایت کے الفاظ پر غور کیجیے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ کسی طرح بھی آپ کے شایان شان نہیں ہے۔
اب یہ ہر شخص کے اپنے ضمیر پر ہے۔ چاہے تو ان منقطع اور جھوٹی روایتوں کو مانے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بدگمان رہے اور چاہے تو ان روایتوں کے جھوٹ کو جھوٹ مانے اور صحابہ کرام سے متعلق اپنا دل صاف رکھے۔ پہلی صورت میں پھر اسے یہ بھی ماننا ہو گا کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ناکام رہی اور آپ پر جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے آپ کی وفات کے فوراً بعد آنکھیں پھیر لیں اور آپ کے خاندان پر ظلم و ستم ہوتا دیکھتے رہے۔ جو شخص یہ سوچنا چاہے، سوچے لیکن پھر اسے پھر ان ہزاروں روایات کی توجیہ بھی پیش کرنا ہو گی جن میں اصحاب رسول اور اہل بیت کی باہمی محبت اور تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ محبت والی روایتیں ، بغض والی روایتوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ کوئی غیر متعصب غیر مسلم مورخ بھی انہیں نظر انداز کر کے صرف بغض والی روایتوں کو قبول نہیں کر سکتا ہے۔ ان میں سے متعدد روایات ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ ایک اور روایت پیش خدمت ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عْن أَبِيهِ أَسْلَمَ: اسلم عدوی روایت کرتے ہیں: “جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو علی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پا س آئے اور ان سے مشورہ کرنے لگے۔ اس بات کا علم جب عمر رضی اللہ عنہ کو ہوا تو وہ سیدہ کے گھر آئے اور کہنے لگے: “اے رسول اللہ کی بیٹی! ہمارے نزدیک تمام مخلوق میں آپ کے والد سے بڑھ کر کوئی محبت و عقیدت کے لائق نہیں ہے اور آپ کے والد کے بعد کوئی آپ سے بڑھ کر عقیدت کے لائق نہیں ہے۔ ” یہ کہہ کر انہوں نے سیدہ سے گفتگو کی۔ سیدہ نے علی اور زبیر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: “آپ دونوں پلٹ کر ہدایت پا لیجیے۔” یہ دونوں واپس پلٹے اور جا کر (ابوبکر کی) بیعت کر لی۔ ( ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ جلد 21۔ حدیث 38200۔ http://www.almeshkat.net (ac. 23 Feb 2008) )
درایت کے اعتبار سے بھی حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہما پر یہ الزام غلط ہے۔ بے شمار روایات سے معلوم ہے کہ پہلے تینوں خلفاء راشدین کے دور میں حضرت علی ان کے ساتھ رہے، ان کے ساتھ امور سلطنت میں ہاتھ بٹایا اور ان کے ساتھ خیر خواہی کا رویہ اختیار کیا۔ حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اسماء بنت عمیس سے حضرت علی نے شادی کی۔ حضرت ابوبکر کے ان سے ایک بیٹے تھے جن کا نام محمد بن ابی بکر تھا۔ ان کی پرورش حضرت علی نے اپنے بیٹوں کی طرح کی۔ اگر آپ پر جبر و تشدد کر کے بیعت لی گئی ہوتی تو کیا آپ یہ سب کچھ کر سکتے تھے؟ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے بطور تقیہ ایسا کیا تو یہ معاذ اللہ حضرت علی پر ایک تہمت ہو گی کہ آپ دل سے جس بات پر قائل نہیں تھے، اس کے لیے آپ نے پوری جانفشانی سے جدوجہد کی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب یروشلم کی فتح کے لیے خود شام گئے تو اپنے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کو قائم مقام خلیفہ بنا کر گئے جو کہ ان پر اندھے اعتماد کی علامت ہے۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ چاہتے تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اقتدار پر قبضہ کر سکتے تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ نہج البلاغہ کی روایت کے مطابق جب حضرت عمر ایران کو فتح کرنے کے لیے خود جانا چاہتے تھے تو حضرت علی نے خود انہیں روکا۔ حضرت علی نے اپنے بیٹوں کے نام ابو بکر ، عمر اور عثمان رکھے،( مصعب الزبیری (156-236/773-851)۔ نسب قریش۔ باب ولد علی بن ابی طالب۔ 42, 43۔ http://www.waqfeya.com (ac. 14 Aug 2012))۔ جو ان تینوں خلفاء سے ان کی محبت کی علامت ہے اور ان میں سے دو بیٹے ابوبکر اور عثمان سانحہ کربلا میں شہید ہوئے۔( ابن حزم۔ جمہرۃ الانساب۔ 38۔ قاہرہ: دار المعارف)۔ اگر حضرت علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر جبر و تشدد کیا گیا ہوتا تو کیا اس کا امکان تھا کہ آپ پہلے خلفاء کے ساتھ اتنے خلوص اور محبت سے پیش آتے؟
۲۔حضرات ابوبکر و عمر کے دورمیں حضرت علی کا کردار کیا تھا؟
حضرت علی، حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے دور میں مرکزی کابینہ کے رکن تھے۔ اس کابینہ میں ان کے علاوہ حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ، زبیر، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔( ابن سعد۔ 2/302۔ باب اہل العلم و الفتوی من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ )۔ تمام معاملات مشورے سے طے کیے جاتے تھے جس میں حضرت علی پوری دیانتداری سے شریک ہوتے اور ان کے مشورے کو بے پناہ اہمیت دی جاتی۔ یہاں ہم چند مثالیں پیش کر رہے ہیں:
1۔ مرتدین کے خلاف جنگ کے لیے صدیق اکبر بذات خود نکلے تو حضرت علی رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ کہہ کر روکا: ’’اے خلیفہ رسول اللہ! آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ اب میں آپ کو وہی بات کہوں گا جو احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فرمائی تھی۔ اپنی تلوار نیام میں رکھیے اور اپنی ذات کے متعلق ہمیں پریشانی میں مبتلا نہ کیجیے۔ اللہ کی قسم! اگر آپ کے ذات کے سبب ہمیں کوئی مصیبت پہنچی تو آپ کے بعد اسلام کا یہ نظام درست نہ رہ سکے گا۔‘‘( ابن کثیر ۔ 11H/9/446۔ بحوالہ دار قطنی۔ ابن عساکر 30/316۔ بیروت: دار الفکر۔ )
2۔ غزوہ روم کے موقع پر حضرت علی مشورہ میں شریک ہوئے اور بہترین رائے دی جسے حضرت ابوبکر نے پسند کیا۔
3۔ مرتدین کی جانب سے مدینہ پر حملے کا خظرہ ہوا تو حضرت ابوبکر نے مدینہ آنے والے راستوں پر لشکر مقرر کیے جن کے سربراہ حضرت علی، زبیر، طلحہ اور عبداللہ بن مسعود تھے۔ رضی اللہ عنہم۔( طبری۔ 11H/2/2-54)
4۔ حضرت علی، عہد فاروقی میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔( ابن سعد۔ 2/93۔ باب علی بن ابی طالب۔ ابن کثیر۔ 13H/9/602۔ )
6۔ حضرت عمرنے ارادہ کیا کہ ایران کی جنگوں میں وہ خود قیادت کریں۔ حضرت علی نے انہیں منع کیا اور کہا: ’’ ملک میں نگران کی منزل مہروں کے اجتماع [تسبیح] میں دھاگے کی ہوتی ہے کہ وہی سب کو جمع کیے رہتا ہے اور وہ اگر ٹوٹ جائے تو سارا سلسلہ بکھر جاتا ہے اور پھر کبھی جمع نہیں ہو سکتا ہے۔ آج عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی بنا پر کثیر ہیں اور اپنے اتحاد و اتفاق کی بنا پر غالب آنے والے ہیں۔ لہذا آپ مرکز میں رہیں اور اس چکی کو انہی کے ذریعہ گردش دیں اور جنگ کی آگ کا مقابلہ انہی کو کرنے دیں۔ آپ زحمت نہ کریں کہ اگر آپ نے اس سرزمین کو چھوڑ دیا تو عرب چاروں طرف سے ٹوٹ پڑیں گے اورسب اس طرح شریک جنگ ہو جائیں گے کہ جن محفوظ مقامات کو آپ چھوڑ کر گئے ہیں ، ان کا مسئلہ جنگ سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔ان عجمیوں نے اگر آپ کو میدان جنگ میں دیکھ لیا تو کہیں گے کہ عربیت کی جان یہی ہے۔ اس جڑ کو کاٹ دیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راحت مل جائے گی اور اس طرح ان کے حملے شدید تر ہو جائیں گے اور وہ آپ میں زیادہ ہی طمع کریں گے۔۔‘‘( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خطبہ نمبر 146۔ طبری۔ 21H/3/1-139)
7۔ حضرت عمر نے دو مرتبہ شام کا سفر کیا تو دونوں مرتبہ قائم مقام خلیفہ حضرت علی کو بنا کر گئے۔ ( ابن کثیر۔ 9/656۔ طبری۔ 17H/3/1-75)
کتب حدیث و آثار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بے شما رمواقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق فیصلہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے پہلے دونوں خلفاء کے دور میں پوری طرح ان کا ساتھ دیا اور حکومتی معاملات میں شریک رہے۔ اگلے باب میں ہم بیان کریں گے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں تو آپ نائب خلیفہ تھے۔
۳۔حضرت علی اورصحابہ کرام کی موجودگی میں باغیوں نے حضرت عثمان کو شہید کیسے کر دیا؟
تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علی، طلحہ، زبیر، سعداور دیگر بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں حضرت عثمان کو باغیوں نے شہید کیسے کر دیا؟
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پالیسی کہ مہاجرین کو مدینہ سے منتقل نہ ہونے دیا جائے، میں تبدیلی کے باعث مہاجرین و انصار کی ایک بڑی تعداد دوسرے شہروں میں منتقل ہو چکی تھی۔ باغیوں نے حملے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا، جب مسلمانوں کی کثیر تعداد حج کے لیے روانہ ہو چکی تھی۔ ان باغیوں کی تعداد اگرچہ دو یا تین ہزار سے زائد نہ تھی لیکن ان کے مقابلے پر مدینہ میں بھی سات سو کے قریب افراد موجود تھے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرام تو اپنے سے کئی گنا بڑی فوج سے ٹکرا جایا کرتے تھے، اس وقت ان سات سو افراد نے مقابلہ کیوں نہ کیا؟ اس کی سب سے بڑی وجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حلم تھا۔ آپ کسی کو یہ اجازت دینے کو تیار نہ تھے کہ آپ کی جان بچانے کے لیے باغیوں پر حملے میں پہل کی جائے۔ حضرت علی، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم نے بارہا آپ سے مقابلے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ان حضرات نے اپنے جواں سال بیٹوں حضرت حسن، حسین، محمد بن طلحہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو آپ کے گھر پر پہرے پر مقرر کیا لیکن حضرت عثمان نے انہیں خدا کے واسطے دے دے کر لڑائی نہ کرنے پر مجبور کیا۔ اہل مدینہ آپ کے پاس اکٹھے ہو کر گئے کہ آپ باغیوں کا مقابلہ کرنے کی اجازت دیں لیکن آپ نے قسمیں دے کر انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ ( ایضاً ۔ 3/1-440)
یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات آپ کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ پھر جب حملہ آوروں نے آپ کے گھر پر حملہ کیا، تو حضرت حسن ، عبداللہ بن زبیر، محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہم دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ایک موقع پر انہی حضرات نے باغیوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور اس میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ زخمی بھی ہوئے۔ اس کے بعد قاتلین دیوار پھاند کر آئے اور آپ کو شہید کر دیا۔ جب تک ان حضرات کو خبر ہوتی، قاتل اپنا کام کر کے جا چکے تھے۔
تاریخ کے طالب علموں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عثمان نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب ہابیل اور قابیل کے قصے میں ہے۔ جیسے قابیل نے جب ہابیل کو قتل کی دھمکی دی تو انہوں نے یہ کہا تھا : لَئِنْ بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِي إِلَيْكَ لأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. “تم اگر مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاؤ گے تو میں تمہیں قتل کرنے کے لیے (پہلے) اپنا ہاتھ نہ اٹھاؤں گا کیونکہ میں اللہ، رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔”( المائدہ 5:28)۔ یہی ہابیلی مزاج حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا تھا۔ آپ ہرگز اس بات کو درست نہ سمجھتے تھے کہ اپنی جان بچانے کے لیے کسی ایک مسلمان کا خون بہائیں ورنہ اہل مدینہ تو اپنے خون کا آخری قطرہ بھی آپ کے لیے بہانے کو تیار تھے۔ بالکل یہی مزاج حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پایا تھا اور وہ اپنے رشتے کے تایا اور خالو (حضرت عثمان) کے اس طرز عمل سے بہت متاثر تھے۔
حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ نے حضرت عثمان کے دفاع میں کیا اقدامات کیے؟
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چلیے، جنگ نہ سہی لیکن حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع میں کیا اقدامات کیے؟ تاریخی روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے لیے جنگ کے علاوہ اور جو کچھ بھی ممکن تھا، وہ کر گزرے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
1۔ باغیوں کا ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ حضرت علی، طلحہ یا زبیر رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کو خلافت کا لالچ دےکر ساتھ ملا لیا جائے اور ان کی مدد سے حضرت عثمان کو معزول کر دیا جائے۔ اس طرح جو الزام ہے، وہ ان صحابہ پر آئے اور ان کا مقصد پورا ہو جائے۔ چنانچہ جب انہوں نے مدینہ سے باہر ذو المروہ، ذو خشب اور اعوص نامی مقامات پر پڑاؤ ڈالا تو ان بزرگوں کے پاس پہنچ کر یہی منصوبہ پیش کیا۔ اہل مصر حضرت علی، اہل بصرہ حضرت طلحہ اور اہل کوفہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ وہ ان حضرات کو خلیفہ بنانے پر تیار ہیں۔ حضرت علی نے جب ان کی تجویز سنی تو آپ ان پر چلائے اور انہیں لعنت ملامت کرتے ہوئے فرمایا: “نیک لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ذو المروہ اور ذو خشب کے لشکر پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ تم واپس جاؤ، اللہ تمہاری صحبت سے مجھے بچائے۔” اہل بصرہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہی بات رکھی تو انہوں نے فرمایا: “اہل ایمان کو یہ بات معلوم ہے کہ ذو المروہ، ذو خشب اور اعوص کی فوجوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔” حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی جواب دیا۔( طبری۔ 3/399)
2۔ حضرت علی نے اپنے بیٹوں حسن اور حسین، حضرت طلحہ نے اپنے بیٹوں محمد اور موسی اور حضرت زبیر نے اپنے بیٹے عبداللہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی حفاظت کے لیے بھیجا۔ یہ وہ وقت تھا جب باغی مدینہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور کسی بھی وقت خلیفہ وقت کو شہید کر سکتے تھے۔ اس طرح ان جلیل القدر صحابہ نے اپنے جوان بیٹوں کو ایک نہایت ہی پرخطر کام پر لگا دیا۔ ان تمام نوجوان صحابہ کی عمر اس وقت تیس سال کے قریب ہو گی۔( ایضاً ۔ 3/399)۔ جب حضرت علی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کی اطلاع ملی تو وہ دوڑے آئے اور اپنے بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو مارا اور عبداللہ بن زبیر اور محمد بن طلحہ کو برا بھلا کہا اور فرمایا کہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ سانحہ کیسے پیش آ گیا۔( بلاذری۔ 6/186)
3۔ چونکہ مصری باغیوں کی اکثریت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دار تھی، اس وجہ سے آپ بار بار ان کے پاس گئے اور جا کر یہ کوشش کی کہ ان میں پھوٹ پڑ جائے اور یہ واپس چلے جائیں۔ ایک موقع پر آپ مہاجرین و انصار کے پورے وفد کو لے گئے۔ مہاجرین کی جانب سے حضرت علی اور انصار کی طرف سے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہما نے ایسی گفتگو کی کہ باغیوں میں جو لوگ محض پراپیگنڈا کا شکار ہو کر چلے آئے تھے، واپس جانے پر رضا مند ہو گئے۔
4۔ متعدد صحابہ و تابعین جن میں سعید بن عاص، ابوہریرہ، عبداللہ بن سلا م اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم شامل تھے، نے باغیوں کو سمجھانے بجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ امہات المومنین نے بھی خلیفہ مظلوم کا ساتھ دیا جن میں سیدہ عائشہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نمایاں تھیں۔ سیدہ عائشہ نے اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ سیدہ ام حبیبہ ، خلیفہ شہید کو پانی پہنچاتے ہوئے خود شہید ہوتے ہوتے بچیں۔
۴۔حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے باہمی تعلقات
باغی راویوں کی پوری کوشش رہی ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو معاذ اللہ ایک دوسرے کا دشمن ثابت کیا جائے۔ کبھی وہ ان کی زبان سے ایک دوسرے پر لعنت کہلواتے ہیں، کبھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہلواتے ہیں اور ان کے اسلام میں شک کرواتے ہیں۔ درحقیقت یہ ان کے اپنے جذبات ہیں جنہیں وہ زبردستی حضرت علی یا معاویہ رضی اللہ عنہما کی زبان سے کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی تمام روایات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی سند میں کوئی نہ کوئی جھوٹا راوی جیسے ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر یا واقدی ضرور موجود ہو گا۔ یہاں ہم چند روایات اور کچھ نکات پیش کر رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کی ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے تھی؟
1۔ حضرت علی کے بھائی عقیل اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان ، حضرت علی کے قریبی ساتھی تھے اور آپ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ ایک بار عقیل، معاویہ کے پاس بیٹھے تھے تو معاویہ نے جی کھول کر علی کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا: ’’اے ابو یزید(عقیل)! میں علی بن ابی طالب کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں۔ علی قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں۔علی میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں۔‘‘ عقیل نے یہ سن کر کہا: ’’امیر المومنین! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی۔‘‘( ابن عساکر۔ 42/416)
2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے بعد جو خط شہروں میں بھیجا، اس میں فرمایا: ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم میں اور اہل شام میں مقابلہ ہوا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اس معاملے میں نہ وہ ہم سے زیادہ تھے اور نہ ہم ان سے۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ ( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58)
3۔ ایک شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی دینی سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس بارے میں علی بن ابی طالب سے پوچھ لیجیے، وہ مجھ سے زیادہ بڑے عالم ہیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’امیر المومنین! آپ کی رائے، میرے نزدیک علی کی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’آپ نے تو بہت ہی بری بات کی اور آپ کی رائے بہت ہی قابل مذمت ہے۔ کیا آپ ان صاحب (علی) کی رائے کو ناپسند کر رہے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم سے عزت بخشی ہے؟ آپ نے انہیں فرمایا تھا:’علی! آپ میرے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ موسی کے نزدیک ہارون (علیہما الصلوۃ والسلام) کی تھی۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘ ‘‘( ابن عساکر۔ 42/170)
4۔ خوارج نے حضرت علی ، معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں شہید کرنے کا منصوبہ بنایا۔ حضرت معاویہ نے اپنے حملہ آور کو پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا: “میرے پاس ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ خوش ہو جائیں گے۔ اگر میں آپ سے وہ بیان کر دوں تو آپ کو بہت نفع پہنچے گا۔ ” آپ نے فرمایا: “بیان کرو۔” کہنے لگا: “آج میرے بھائی نے علی کو قتل کر دیا ہو گا۔” آپ نے فرمایا: “کاش! تمہارا بھائی ان پر قابو نہ پا سکے۔”( طبری۔ 3/2-357)
5۔ جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “لوگو! آپ لوگ معاویہ کی گورنری کو ناپسند مت کریں۔ اگر آپ نے انہیں کھو دیا تو آپ دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جیسے حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے۔‘‘( ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ 14/38850)
6۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی تو علی اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا۔‘‘( ابن عساکر۔ 59/139)
ان تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں ذاتی نوعیت کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ دونوں میں صرف اسٹریٹجی پر اختلاف تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ باغیوں کی قوت کو اچھی طرح کچل دیا جائے جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ اگر ان باغیوں سے اس وقت انتقام لیا گیا تو ان کے قبائل اٹھ کھڑے ہوں گے جس سے بہت بڑی خانہ جنگی پیدا ہو گی۔ باغی چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکومتی معاملات پر قبضہ کیے بیٹھے تھے، اس وجہ سے انہوں نے پوری کوشش کی کہ شام پر حملہ کر کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قوت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس کی وجہ سے جنگ صفین ہوئی جسے مخلص مسلمانوں نے بند کروا دیا۔ اس طرح سے باغیوں کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

 

 

 

 

 

تحریرو تحقیق : محمد مبشر نذیر

بشکریہ پروفیسر محمد عقیل

ہزارہ – کوئٹہ میں میرے پڑوسی!

کوئٹہ شہر کے مرکز سے دور ڈیلائٹ سینما سے آگے  تغی روڈ پر ہمارا گھر واقع ہے، جہاں ہم آٹھ سالوں تک ہنسی خوشی رہتے رہے۔

انیس سو اڑسٹھ میں شہر چھوڑنے تک کم از کم میں تو یہی سمجھتا تھا۔

1958 سے 1969 تک پاکستان فوج کے کمانڈر ان چیف رہنے والے جنرل محمد موسی کی رہائش گاہ بھی ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر تھی۔ جنرل موسی ہزارہ تھے اور ہمارے علاقے کے تقریباً تمام ہی رہائشی اس برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اس علاقے میں چند ہی ایسے خاندان آباد تھے جو اس برادری سے نہیں تھے اور ہمارا خاندان بھی انہی میں شمار ہوتا تھا۔

ایک چھ سالہ بچے کے طور پر میرا اپنے محلے کے بارے میں پہلا تاثر منفی نوعیت کا تھا۔ میری عمر کے زیادہ تر بچے اپنے خدو خال سے چینی لگتے تھے اور سکول نہیں جاتے تھے۔ مجھے ان کی زبان سمجھنا بھی دشوار لگتا تھا کیونکہ ان کے منہ سے نکلنے والے عجیب و غریب الفاظ میری سمجھ سے بالاتر تھے۔

 بظاہر آوارہ، سخت جان اور سڑکوں پر بے مقصد گھومتے پھرتے ان بچوں سے میں خوف زدہ رہتا تھا۔ یہ بچے اور دوسرے لوگ  ہزارہ برادری سے تعلق نہ رکھنے والوں کو ہمیشہ پنجابی تصور کرتے تھے۔ بعض اوقات یہ بچے گروہ کی شکل میں ‘پنجابی پنجابی ‘ کے نعرے لگاتے ہمارا پیچھا بھی کرتے۔ شاید انہوں نے ساٹھ کی دہائی کے برطانوی مفروضے ‘ ٹیڈی بوائز’ کا تزکرہ سن رکھا تھا، اسی لیے ہر شلوار قمیض نہ پہننے والا بچہ ان کے لیے  ’ٹیڈی بوائے’ اور ٹیڈی گرل’ تھی۔  حتٰی کہ میری والدہ جب کبھی ساڑھی پہن کر بازار جانے کے لیے گھر سے نکلتیں تو انہیں بھی پیچھے سے ‘ٹیڈی گرل’ کی آوازیں سننا پڑتیں۔

 تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے منفی تاثر میں تبدیلی آتی گئی۔ ہزارہ برادری سے میرا پہلا براہ راست واسطہ اس وقت پڑا جب کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک غلط شاٹ کی وجہ سے گیند پڑوس میں ایک خالی پلاٹ میں چلی گئی۔ پلاٹ کے گرد چار دیواری اور ایک دروازہ موجود تھا جس پر ہر وقت تالہ پڑا رہتا تھا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پلاٹ سے چند فاصلے پر موجود اس کے مالک ‘بوڑھے بابا’ کے گھر پر دستک دی اور ان کے باہر آنے پر با ادب انداز میں اپنا مسئلہ بیان کیا۔

 انہوں نے بغیر کوئی ردعمل ظاہر کیے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چابی مجھے تھما دی۔ جس کے بعد میں نے پلاٹ سے گیند اٹھانے کے بعد تالا لگا کر چابی انہیں واپس کر دی۔ اس واقعہ کے ساتھ ہی ہمارے خوبصورت رشتے کا آغاز ہو گیا۔ ہماری گیند بار بار اس پلاٹ میں جاتی بعض اوقات تو دن میں ایک سے زائد مرتبہ بھی ایسا ہو جاتا، لیکن ‘بوڑھے صاحب’ اپنے ماتھے پر بل لائے بغیر ہی ہمیں چابی دے دیتے۔

 بوڑھے صاحب نے کئی بکریاں پال رکھی تھیں اور ہماری والدہ ان بکریوں کے لیے مٹر کے چھلکے ایک تھیلی میں جمع کر کے ہمیں بوڑھے صاحب کو دینے کا کہتیں اور صاحب ہمیشہ ہی  مسکراتے ہوئے تھیلی لے لیتے۔

 ہمارے محلے دار بہت ہی بھلے اور دیکھ بھال کرنے والے تھے۔ ایک مرتبہ سالانہ امتحانات کے دوران ہم اسکول جانے کے لیے تیار ہوئے تو پتا چلا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے، جس پر گھر میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ بالآخر ہمارے والد ‘بوڑھے صاحب’ کے بیٹے محمد علی کے گھر گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا۔ علی فوراً اندر گئے اور اپنی گاڑی کی چابی لے آئے، اسی دوران ‘بوڑھے صاحب’ بھی پہنچ گئے۔ میرے والد نے انہیں بتایا کہ ہمارا اسکول نذدیک ہی واقع ہے اور وہ جلد ہی گاڑی لوٹا دیں گے۔ چہرے پر پریشانی کے تاثرات لیے ہوئے بوڑھے صاحب نے کہا کہ ‘ تم کیوں اس کی پروا کرتا ہے، تم اس کو لندن لے کر جاؤ’۔

مصنف (بایں سے دوسرے) اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ

 میرے چھوٹے بہن بھائیوں اور مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ ہمارا گھر ملک کے فوجی سربراہ کی رہائش گاہ کے قریب واقع تھا۔ اس زمانے میں جب کبھی ہزارہ برادری میں شادی ہوتی تو ایک فوجی بینڈ آتا اور دن رات دھنیں بھکیرتا رہتا۔

اس بینڈ کا سب سے عمدہ شو اس وقت دیکھنے کو ملا جب جنرل موسٰی کی بیٹی کی شادی فلائیٹ لیفٹیننٹ شربت علی خان چنگیزی سے ہوئی، جنہوں نے بعد ازاں انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

ایک بڑی شادی ہونے کی وجہ سے اس کی تقریبات ایک ہفتے تک جاری رہیں۔پہلے تین دن تو نامور بلوچ ریجیمنٹ کے بینڈ نے ہمیں محضوظ کیا۔ تقریبات کا چوتھا روز یادگار ثابت ہوا کیونکہ عین اس وقت جب بلوچ ریجیمنٹ حاظرین کے سامنے دھنیں بجا رہا تھا، اچانک ایک فوجی ٹرک آیا اور اس میں سے پنجاب ریجیمنٹ کا بینڈ نمودار ہوا۔ اس بینڈ نے اس مہارت سے دھنیں بکھیریں اور مارچ کیا کہ پہلے بینڈ کی کارکردگی گہنا کر رہ گئی۔

 مجھے یاد ہے کہ پنجاب بینڈ کی سربراہی ایک لمبا چوڑا اور مستند بینڈ ماسٹر کر رہا تھا۔ جلد ہی دونوں بینڈز میں سبقت لے جانا کا ایسا مقابلہ شروع ہوا کہ حاضرین بالخصوص بچے مبہوت ہو کر رہ گئے۔

 ہمارے علاقے میں محرم الحرام کے دوران بھی ایک مخصوص اور منفرد سماں ہوتا تھا۔ ہر روز ہی سڑکوں پر چھوٹے بڑے ماتمی جلوس برآمد ہوتے تھے اور چونکہ ہم ان جلوسوں میں عزا داری کرنے والے اکثر شرکاء سے واقف ہوتے تھے لہذا ہمیں ان کی فکر بھی رہتی تھی۔

 میں اور میرے چھوٹے بہن بھائی سنی فرقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود جلوسوں کے دوران سینہ کوبی اور نعروں سے اس قدر متاثر ہوتے کہ ہم اپنے گھر کے صحن میں ایک جلوس برآمد کرتے، سینہ کوبی اور دری زبان میں واقعہ کربلا کی ذکر بھی کرتے۔

 کوئٹہ میں رہائش کے دوران مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ہم نے کبھی ماہِ محرم میں دنگے فساد یا پھر لڑائی دیکھی ہو۔

 میرے بچپن کا  یہ خوبصورت دور اس وقت ختم ہو گیا جب ہمارے والد نے کوئٹہ میں بارہ سال گزارنے کے بعد راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ہمارا سارا ساز و سامان اپنی ووکس ویگن بیٹل میں بھرا اور میری ماں اور ہم پانچوں بہن بھائی بھی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ روانگی کے وقت سب ہی افسردہ تھے کچھ کی تو آنکھیں بھی نم تھیں۔

 اس موقع پر میں ‘بوڑھے صاحب’ کی آنکھوں میں آنسو دکھ سکتا تھا۔ سبھی محلے دار ہمیں گلے لگا کر بلند آوازوں میں خدا حافظ کہہ رہے تھے۔ گاڑی روانہ ہونے پر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سب ہی دم بخود کھڑے نظر آئے۔ بالآخر گاڑی کے سڑک پر موڑ کاٹنے کے ساتھ ہی وہ تمات چہرے میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

 میں دوبارہ کبھی اس شہر نہ جا سکا جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔ وہاں جانا اب خاصا تکلیف دہ ہو گا کیونکہ میں آئے روز اخبارات میں ہزارہ برادری  کے لوگوں کی ہلاکتوں کی خبریں پڑتا رہتا ہوں، اس قتل و غارت کے بعض واقعات تغی روڈ پر بھی پیش آئے جہاں ہمارا گھر تھا۔

 شاید انیس سو اڑسٹھ میں جن بچوں کو میں نے الوداع کہا تھا وہ بھی ہدف بننے والوں میں شامل ہوں۔ لیکن میں حمتی طور پر یہ کبھی بھی جان نہیں پاؤں گا۔

 میں امید کرتا ہوں کہ وہ سب مادر وطن سمجھے جانے والی اِس مقتل گاہ کے مقابلے میں اب کہیں اچھی جگہ پر ہوں گے۔

تحریر: وقار احمد
بشکریہ ڈان

 

اچھا ہو یا برا: قومی مفاد کا تعین حکومت نے کرنا ہے

آرمی چیف جنرل کیانی کے ایک تیکھے بیان نے سیاست دانوں اور میڈیا کو اپنی جگہ پر اُسی طرح ساکت کردیا ہے جس طرح ایک محاورے کے مطابق” سب کو سانپ سونگھ گیا ہو“۔ اگرچہ اپنے بیان میں کیانی صاحب نے کسی کا نام تو نہیں لیا مگر اُن کا اشارہ سپریم کورٹ اور میڈیاکی طرف ہی ہے کہ وہ …”اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے دفاعی اداروں کی ساکھ، دائرہ ِ کار اور مورال کو نقصان پہنچا رہے ہیں“۔ سپریم کورٹ کے حوالے سے کیانی صاحب کے بیان کو اس پیرائے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عدالت ِ عظمیٰ نے سابقہ آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی کے بارے میں کہا ہے کہ وہ 1990ء کے انتخابات پر اثر انداز ہو کر اپنی آئینی ذمہ داریوں سے تجاوز کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں چنانچہ عدالت نے حکومت کو ان افسران کا مواخذہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے دفاعی اداروں کو اور بھی کئی حوالوں سے ناراض کر دیا ہے اور یہ ایک غیر معمولی پیشرفت ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان اور فاٹا میں دفاعی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی کا سخت نوٹس لیا ہے اور ایک سے زیادہ مواقع پر ایف سی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کو چیف جسٹس صاحب کی طرف سے سخت وعید سننا پڑی ہے۔
دوسری طرف دفاعی اداروں کا دوٹوک موقف یہ ہے کہ وہ بلوچستان اور فاٹا میں بالترتیب علیحدگی پسندوں، طالبان اور القاعدہ کے سخت جان جنگجوؤں، جن کو غیر ملکی مدد بھی حاصل ہے، کے خلاف نہایت مشکل حالات میں برسر ِ پیکار ہیں مگر اُن کی کوشش اور قربانیوں کا معترف ہونے کی بجائے نہ صرف اُن پر تنقید کی جاتی ہے بلکہ اُن کے راستے میں رکاوٹ بھی ڈالی جاتی ہے۔ فوجی افسران یقینا اس تنقید کے عادی نہیں ہیں اور وہ نہ ہی اسے پسند کرتے ہیں چنانچہ وہ اپنے چیف صاحب کو بتاتے ہوں گے کہ وہ اس صورت حال میں کیا محسوس کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ اور میڈیا دونوں نے سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جاوید ارشد قاضی اور دو اور ریٹائرڈ جنرلوں کی مشرف دور میں کی گئی کچھ منفی سرگرمیوں کو منظرعام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے… اس کا تعلق پاکستان ریلوے کی زمین کو لاہور کے ایک لگژری کلب کو دیئے جانے سے ہے۔ اس متنازع نج کاری، جس پر عوامی سطح پر شدید تنقید بھی کی گئی، کی نیب تفتیش کر رہا ہے کہ یہ سودا کیسے ہوا اور کہیں اس میں کمیشن یا کک بیکس تو وصول نہیں کی گئیں۔ یقینا وہ فوجی افسران غصے سے پیچ و تاب کھا رہے ہوں گے۔ میڈیا بھی دفاعی اداروں کی ناراضی مول لے رہا ہے۔ میڈیا نے ہی وہ معاملہ طشت ازبام کیا تھا جس میں تین ریٹائرڈ جنرلوں، جو این ایل سی کے انچارج تھے، نے مبینہ طور پر عوام کے پیسے سے چار ارب روپے نکال کر اسٹاک ایکسچینج میں لگائے اور وہ رقم ضائع ہو گئی۔ میڈیا میں گاہے بگاہے موجودہ آرمی چیف پر مدت ِ ملازمت میں توسیع لینے کے حوالے سے بھی تنقید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا کے بعض دھڑوں میں کچھ سرگوشیاں بھی سنائی دی ہیں کہ آرمی چیف کے دو بھائیوں کو مبینہ طور پر حکومت کے بہت ہی پرکشش منصوبوں کے ٹھیکے دیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اور معاملات نے بھی جنرل صاحب کو دفاعی قدموں پر لا کھڑا کیا ہے… جیسا کہ ریمنڈ ڈیوس کیس اور دو مئی کو بن لادن کی تلاش میں امریکی کمانڈوز کی ایبٹ آباد تک رسائی۔ ان معاملات میں ہونے والی تنقید کا جواب دینے کے لئے میمو گیٹ اسکینڈل کو ہوا دی گئی مگر اس کا دفاعی اداروں کو الٹا نقصان ہوا کیونکہ اس معاملے کا اہم گواہ قابل ِ اعتماد شخص نہ تھا۔ اسی طرح فوج کی طرف سے سلالہ چوکی پر حملے کے بعد نیٹو سپلائی روکنے اور ملک میں ڈرون حملوں کے خلاف امریکہ مخالف جذبات ابھارنے کا فیصلہ بھی مہنگا پڑا کیونکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے ، جو کہ ہماری معاشی مجبوری ہے، کے لئے سپلائی کھولنا پڑی جبکہ ڈرون حملے اُسی طرح جاری ہیں۔
پچھلے سال جب بن لادن کے ٹھکانے پر حملے کی وجہ سے دفاعی ادارے تنقید کی زد میں تھے تو ایک حلقے نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے ذریعے بلواسطہ طور پر میڈیا کی زبان بندی کرانا چاہی مگر سپریم کورٹ نے اب جا کر کہیں اُس کیس کو نمٹایا ہے جبکہ اس دوران میڈیا پوری توانائی کے ساتھ اپنا کام کرتا رہا۔ اب یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے کہ نو اعلیٰ فوجی افسران، بشمول دو سابق آرمی چیف اور دو سابق ڈی جی آئی ایس آئی،عدالت کے کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں۔ اس کی وجہ سے جنرل کیانی پر اپنے ادارے کی طرف سے دباؤ ہو گا کہ وہ فوج کے خلاف ہونے والی اس طرح کی کارروائیوں کا تدارک کریں اور اس کی کارگزاری کو سویلین اداروں اور احتساب کی زد میں آنے سے روکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے بیان کو ایک ”وارننگ شاٹ“ کے طور پر دیکھا جارہا ہے تاہم کیانی صاحب نے اپنے بیان میں اصول پسندی کی جھلک نمایاں کرنے کے لئے یہ تمہید بیان کی ہے” ہاں فوج سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں…اور قومی مفاد کا تعین کرنا اس کی اجارہ داری نہیں ہے“ تاہم اس بات کا ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ کیا اب دفاعی ادارے سول ملٹری تعلقات کو ایک نئی اور حقیقت پسندانہ جہت دینے اور قومی سلامتی پر اپنی اجارہ داری ختم کرتے ہوئے اس پر بات کرنے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہیں؟
مسئلہ یہ ہے کہ اب پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سول سوسائٹی، حکومت، اپوزیشن، میڈیا ، عدلیہ اور بیوروکریسی میں یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ اس ملک پر صرف دفاعی اداروں کا ہی حکم نہیں چلنا ہے، اس کی بجائے قوم لئے اچھا ہو یا برا، فیصلہ سول حکومت کو ہی کرنا ہے یعنی قومی مفاد کا تعین کرنا اب سول حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں ایک سوچ واضح طور پر پیدا ہو رہی ہے کہ اس نازک دور میں، جس سے پاکستان اب گزر رہا ہے، فوج کو سیاست سے دور رہنا چاہئے اور سب ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں چنانچہ اب عدلیہ ، میڈیا اور فوج کو اپنے اپنے کردار کر جائزہ لینا ہے تاکہ وہ مل کر قومی مفاد میں کام کرسکیں۔

(نجم سیٹھی)

حکومت کا 5 سال پورے کرنا خوش آئند ہے، موجودہ پارلیمنٹ کو سلام پیش کرتا ہوں، چیف جسٹس

چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کا پانچ سال پورے کرنا خوش آئند ہے، منظم قومیں دستور کی پاسداری کرتی ہیں، موجودہ پارلیمنٹ نے آمر کے اقدامات کی توثیق نہیں کی، موجودہ پارلیمنٹ کو سلام کرتا ہوں، چار برسوں میں بہت کچھ ہوا اب سسٹم کو چلنے دیا جائے، تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کیا جائے، ہم سب آئین کے پابند ہیں، ملک میں کوئی بھی ماورائے آئین اقدام عوامی مزاج کیخلاف ہوگا، طاقت کے مراکز تبدیل نہیں ہونگے، آئین پر عمل کرنا ہم سب پر واجب ہے اور آئین کی بالادستی کی وجہ سے موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرنے والی ہے،عدلیہ کا کام قانون کی تشریح ہے قانون سازی نہیں، یہ کام مقننہ کا ہے وہ ہی قانون سازی کا حق رکھتی ہے، عدلیہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور عدلیہ کا ادارہ اپنے اوپر کوئی بھی آنچ نہیں آنے دے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ایبٹ آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام فرنٹیئرہاؤس ایبٹ آباد میں منعقدہ خصوصی استقبالیہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ماضی میں چار اسمبلیاں 58-2/Bکی نذر کر دی گئیں لیکن عدلیہ اور آئین کی مضبوطی کی وجہ سے موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے ایسے میں ہمیں کسی اور نظام کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آئین پاکستان کے تحت ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام حکومت ہی ملک کی مضبوطی کا ضامن ہے، اداروں کی مضبوطی میں ہی دراصل ملک کی مضبوطی کا راز پنہاں ہے ، عدلیہ نے اپنے 104ججز کی قربانی دیکر اپنے ادارے کو مضبوط کیا جو کہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قربانیاں دینے سے ہی قومیں مضبوط ہوتی ہیں اور عدلیہ آزاد رہی تو ملک مشکلات کے بھنور سے نکل جائیگا ، چھوٹے اور بڑے کیلئے الگ الگ قانون بنانے والی قومیں نہ صرف تباہ ہوتی ہیں بلکہ کبھی بھی کامیابی ان کا مقدر نہیں ہوتی ، اصغر خان کیس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس میں جو بھی ذمہ دار ہو گا اسے حساب دینا ہو گا اور اس فیصلے میں یہ کوشش کی ہے کہ پارلیمنٹ اور جمہوری عمل کو مضبوط کیا جائے۔

امت مسلمہ کےلیے مشورہ

پچھلے چند دنوں سے مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بڑی شدت سے یاد آرہا ہے۔ ہماری گلی میں ایک بابا جی رہتے تھے جو غصے کے بہت تیز تھے۔ بے چارے عمر کے اُس حصے میں تھے کہ زیادہ چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔ پتہ نہیں کیسے مگر کسی وجہ سے لفظ “ٹائم” اُن کی چھیڑ بن گیا تھا۔ جب محلے کی بچہ پارٹی کو پتہ چلا تو ہر کسی نے بابا جی کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ کہیں گلی میں دیکھ لیتے تو پاس سے گزرتے ہوئے کوئی ایسا جملہ ضرور کہتے جس میں لفظ “ٹائم” آتا ہو۔ مثلاً:

“یار ٹیوشن کا ٹائم ہو گیا ہے”
“آج اندھیرا اجالا کس ٹائم لگے گا”

“نہیں یار، میرے پاس ٹائم نہیں ہے”

بابا جی لفظ ٹائم سنتے تو آگ بگولا ہو جاتے،ایک ایک کو خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے، ہمیں پکڑنے کی کوشش میں تھوڑا سا دوڑتے پھر کھانستے ہوئے کسی تھڑے پر بیٹھ جاتے یا کسی دیوار سے کے سہارے کھڑے ہو کر سانس بحال کرتے۔ اتنی دیر میں کوئی اور لڑکا کوئی ایسا ہی جملہ کہتے ہوئے گزر جاتا اور بابا جی ایک بار پھر بپھر جاتے۔ کئی بار ہمارے والدین سے شکایتیں بھی لگا چکے تھے اور ہم سب کو اس شرارت پروالدین سے ڈانٹ بھی پڑ چکی تھی، بلکہ خود مجھے تو ابا جی سے جوتے بھی پڑے تھے۔ مگر ہم لوگ بابا جی کو تنگ کرنے سے باز نہ آتے تھے۔

جوں جوں میں امریکہ میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف بننے والی فلم کے خلاف امتِ مسلمہ کا رد عمل دیکھتا ہوں، مجھے وہ بابا جی بڑی شدت سے یاد آتے ہیں۔ امتِ مسلمہ مجھے اُس کمزور بوڑھے شخص جیسی لگتی ہےجس میں اتنی قوت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر نوعمر شریر لڑکوں کو پکڑ کر دو تھپڑ رسید کر دیتا، مگر وہ سب کو چیخ چیخ کر خوفناک تنائج کی دھمکیاں ضرور دیتا تھا۔ بالکل اسی طرح مغربی ممالک میں چھپنے والے کارٹون، کتاب یا فلم کے رد عمل میں کمزور امت مسلمہ کے کچھ جوشیلے مگر زمینی حقائق سے کوسوں دور مولوی امریکہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ جیسے وہ بابا جی بھول جاتے تھے کہ انہوں نے انہی شریر لڑکوں کی مدد سے اپنے گھر کے کئی کام کرنے ہوتے تھے (مثلاً قریبی ٹیوب ویل سے پینے کا پانی بھر کر لانا) بالکل ویسے ہی ہمارے جوشیلے مولوی یہ بھول جاتے ہیں کہ تقریباً ساری مسلم امت امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پر کتنا زیادہ انحصار کرتی ہے۔

جوشیلا مولوی جس سپیکر کے ذریعے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچاتا ہے وہ مغربی ممالک کی دین ہے۔ وہ جس ٹی وی کیمرے کے آگے کھڑا ہوکر امت مسلمہ کے جذبہء ایمانی اور غیرت کو جگانے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی مغربی مملک کی سائنسی ترقی کی دین ہے۔حتیٰ کہ جس مسجد کے منبر پر کھڑا ہو کروہ وعظ کرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے درآمد کردہ ٹیکنالوجی سے مدد لے کر تعمیر کی گئی ہے۔ وہ جس گاڑی میں پھرتا ہے وہ بھی مغربی ممالک سے آئی ہے، اُس کے ساتھ موجود محافظوں کے پاس جو اسلحہ ہے وہ بھی امریکہ کی دین ہے۔

جس طرح وہ بوڑھے بابا جی ہم نو عمر لڑکوں کے پیچھے بھاگنے کی کوشش میں کھانسی کے دورے کا شکار ہو جاتے تھے اور اپنا کام بھول کر تھڑے پر بیٹھ کریا دیوار کا سہارا لے کر اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کرتے تھے بالکل اسی طرح امت مسلمہ بھی اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر، اپنے ہی چند بندے مار کر سانس بحال کرنے بیٹھ جاتی ہے۔

خیر بابا جی کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ آخر لڑکوں نے بابا جی کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ آپ سب حیران ہوں گے کہ ایسا کیوں کر ممکن ہوا ہوگا بلکہ شاید پڑھنے والوں میں سے آدھے تو یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شائد بابا جی وفات پا گئے ہوں گے اس لئے لڑکوں نے تنگ کرنا چھوڑ دیا ہوگا۔ نہیں ایسی بات نہیں۔

ہوا یہ کہ ایک دن دولڑکوں نے بابا جی کے پاس سے گزرتے ہوئے حسبِ عادت “ٹائم” کے حوالے سے کوئی بات کی اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر پیچھے سے نہ تو گالی سنائی دی اور نہ ہی کوئی دھمکی۔ دونوں لڑکے تھوڑی ہی دور جا کر رُک گئے اور مڑ کر دیکھا کہ بابا جی کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔ مگر بابا جی ٹھیک ٹھاک گلی میں چلے جا رہے تھے اورلڑکوں کے ہونق چہروں کو دیکھ کر مسکرا بھی رہے تھے۔ لڑکے ہکا بکا بابا جی کو دیکھ رہے تھے۔ بابا جی اُن کے قریب آئے تو لڑکے ڈر کر پھر پیچھے ہٹ گئے۔ بابا جی بولے، “ارے ڈرو نہیں شیطانوں…اب تم لوگوں کو کُچھ نہیں کہوں گا”۔

بس اُس دن سے بابا جی کو چھیڑنے میں کوئی مزہ نہیں رہا۔نہ وہ ہمارے پیچھے بھاگتے تھے، نہ گالی دیتے تھے، نہ کوئی دھمکی۔ چنانچہ ہم سب نے “ٹائم، ٹائم” کی رٹ چھوڑ دی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ محلے کی مسجد کے امام صاحب نے بابا جی کو مشورہ دیا تھا کہ ان “شیطانوں” کی حرکتوں پر سخت رد عمل نہ دیا کریں، تو یہ خود بخود سدھر جائیں گے۔ بابا جی نے اس مشورے پر عمل کیا اور ہم سب لڑکے سدھر گئے۔ شائد امت مسلمہ کو بھی اسی مشورے کی ضرورت ہے۔ شائد امت مسلمہ کا مسئلہ بھی اسی مشورے پر عمل کر کے حل ہو جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

(یہ ایک لبرل مکتبہ فکر کےلکھاری کی تحریر ہے، جی نیوز کا اس تحریر سے کلی یا جزوی طور پر متفق ہونا ضروری نیہں)

لاپتہ افراد اور اقوام متحدہ کا وفد

پاکستان میں جبری گمشدگیوں (لاپتہ افراد)کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آئے اقوام متحدہ کے دو رکنی وفد نے اپنے دورے کے اختتام پر اگرچہ اس بات کو  سراہا ہے کہ پاکستانی حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے سے نبٹا چاہتی ہے لیکن اس کے ارکان نے زور دیا ہے کہ اس سے متعلقہ مقدمات کو ’ان کیمرہ‘ سنا جائے تاکہ گواہان پر اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کوئی دباؤ نہ ہو۔
اقوام متحدہ کے وفد کے مطابق ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی عدالتی شنوائی کے وقت ان خفیہ اداروں کے اہلکار بھی کمرہ عدالت میں موجود ہوتے ہیں جن پر جبری گمشدگیوں کا الزام ہے، جس سے متاثرہ افراد کے لواحقین اور گواہان دباؤ میں رہتے ہیں۔ وفد کے ارکان نے اپنے دس روزہ قیام کے دوران حکومتی اہلکاروں سمیت کم و بیش ایک سو افراد سے ملاقاتیں کر کے پاکستان میں جبری گمشدگیوں (لاپتہ افراد) کے مسئلے پر حقائق جاننے کی کوشش کی۔ وفد نے اس دوران اسلام آباد، لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔
تاہم اس مسئلے کے اہم فریق ملٹری انٹیلجنس اور فرنٹئر کور کے ذمہ داران نے اقوام متحدہ کے وفد سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح چیف جسٹس آف پاکستان نے ،جو لاپتہ افراد کے مقدمات سن رہے ہیں، وفد سے ملاقات نہ کرنے کو ترجیح دی، بلکہ وہ اس بات پر خاصے برہم نظر آئے کہ اقوام متحدہ کا وفد کس کی دعوت پر پاکستان آیا۔
وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے ایک بیان میں وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کے وفد کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے وفد نے اپنے دورہ کے اختتام پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے پاکستان کے سکیورٹی مسائل کا احساس ہے لیکن انیس سو بانوے کے اقوام متحدہ کے ایک اعلامیہ کے مطابق جبری گمشدگی انسانی وقار کے خلاف ایک جرم ہے اور اسے ہر گز اختیار نہیں کیا جا سکتا چاہے صورتحال جنگ کی ہو یا سلامتی کواندرونی طور پر کوئی خطرہ ہو۔ ’جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔‘
وفد نے جبری گمشدگیوں (لاپتہ افراد) کے خلاف عدالتی فعالیت کی تعریف کی لیکن اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ متاثرہ خاندانوں کی طرف سے ثبوت فراہم کرنے اور ملزموں کی نشاندہی کرنے کے باوجود ابھی تک کسی بھی ذمہ دار کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ ’لاپتہ افراد کے خاندانوں کا یہ حق ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ان کے پیاروں کے ساتھ کیا ہوا اور ریاست کی اس حوالے سے ذمہ داری ہے کہ وہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے۔‘
اقوام متحدہ کے وفد نے حکومت پاکستان سے استدعا کی کہ جن لوگوں نے اس سے ملاقاتیں کی ہیں ان کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے کیونکہ ملاقاتوں کے دوران بیشتر افراد نے اس خوف کا اظہار کیا تھا کہ انہیں اب سنگین نتائج بھگتنے ہونگے۔ وفد اپنے دورے کے دوران اکٹھی کی گئی معلومات پر مبنی ایک رپورٹ آئندہ برس اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کرے گا۔
(بشکریہ ٹاپ سٹوری)