ملالہ کی مکمل کتاب آئی ایم ملالہ

malala-book-cover

click here to download I am Malala

Advertisements

اسلامی اُصول۔۔۔۔۔۔

ہمارے مولوی (بشمُول اُنکے جنہیں ہماری اکثریت عُلماء سمجھتی ہے) اگرچہ مدرسہ سے حاصل کئے گئے “علم” کو ہی اصل علم مانتے ہیں لیکن ان مدارس کے نصاب اور طرزِ تعلیم میں تحقیق، مشاہدے، تجزیے اور منطقی استنباط کا ایسا فقدان ہوتا ہے کہ اگر آپ مختلف مسائل پرانکی رائے طلب کریں توآگے سے ایک مبہم سا جواب ملے گا۔ چونکہ مذہبی طرز تعلیم میں سوالات پُوچھے جانے کا رواج کم اور رٹہ لگانے کی عادت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا آپ مزید تشریح طلب کریں، کوئی ضمنی سوال کریں تو جواب ملنے کے امکانات کم اور اِنکے سیخ پا ہونے کے زیادہ ہوتے ہیں۔ کُچھ نُمائندہ سوالات پیشِ خدمت ہیں جن کے جواب عمُوما” عُلماء اور مُلاوں سے کم وبیش ایسے ہی ملتے ہیں۔

سوال: دہشت گردی اس مُلک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: فرقہ واریت کے عفریت نے اس وقت مُلک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ مُسلمان مُسلمان کو مار رہا ہے۔ آپ لوگ اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: اس وقت دُنیا بھر میں مسلمانوں کا امیج تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے اس میں ہمارا بھی کوئی قصور ہے یا محض ہمیں بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: آپ کے خیال میں خُودکش حملوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: معیشت کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ روپیہ کی قدر مسلسل گِر رہی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں ہمارے معاشی نظام میں خرابی کہاں ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

 سوال: اگلے ہفتے ایڈز کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آپ کا اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال:آپ ویلنٹائن ڈے کی مُخالفت کیوں کرتے ہیں؟ کیا مُحبت ایک غیر فطری یا نا جائز جذبہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: کونسے ایسے اسلامی اُصول ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر آج کا مُسلمان مسائل کے گرداب سے نکل سکے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا آپ وضاحت کریں گے کہ کونسے اُصول ایسے ہیں جن کی بدولت ہمارے مسائل کا حل ممکن ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: جناب میں آپکی بات سے سو فیصدی مُتفق ہوں لیکن کیا آپ اُن اُصولوں کی نشاندہی کرنا مناسب سمجھیں گے؟

جواب: آپ لوگوں کا یہی مسئلہ ہے، پُوری بات سُننے سے پہلے ہی قطع کلامی کرتے ہیں۔ میں کہہ رہاتھا کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: ٹھیک ہے مولانا صاحب ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ اُصول توبتائیں ہمیں۔

جواب: کیا مطلب؟ آپ کو یہی نہیں پتا کہ اسلامی اُصول کونسے ہیں یا آپ کا خیال ہے کہ ایسے کوئی اُصول ہیں ہی نہیں؟ لا حول ولا قوۃ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھیں سب سے پہلے تو آپ اپنے ایمان کی تجدید کریں ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب، میرا ایمان بالکل سلامت ہے۔ میرا آپ سے سوال یہ تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: چھوڑیں یہ دُنیا وی سوالات۔ اُن سوالات کی فکر کریں جن کا جواب آپ نے عالمِ برزخ میں دینا ہے۔ پڑھیں ۔ ۔ ۔ اٰمَنتُ بِاللہِ کَمَا ھُوَ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب میرا ایمان بالکل پُختہ ہے، میرا سوال صرف اِتنا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: میں کسی ایسے شخص کے سوال کا جواب دینا مُناسب نہیں سمجھتا جو دینِ اسلام کی جامعیت اور اکملیت پر یقین نہ رکھتا ہو۔ آپ جیسے کمزور ایمان کے حامل لوگوں کیوجہ سے آج اُمت اس مقام پر ہے۔ انگریزی تعلیم نے آپ کواسلامی اُصول تک بُھلادیے ہیں۔ اور وہ مدارس جو اسلامی علوم اور دینی آگہی کا منبع ہیں، اُن کو بدنام کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔ لعنت ہو ایسی تعلیم پر۔ تُف ہے تم لوگوں کی عقل پر۔

(تحریر خانزادہ)

مسلمانوں کی جہالت کا نوحہ

ہمارے مہربان دوست محترم سحر تاب رومانی کا کہنا ہے کہ سچائی اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔

دراصل بہت سی باتوں اور روایتوں کے بارے میں ہمارا یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ سچ ہیں اور ان کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت سی دلیلیں بھی موجود ہوتی ہیں۔

لیکن آپ کو ان کی حقیقت کے بارے میں اگر علم ہوجائے یا آپ کے سامنے کوئی ان کی حقیقت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرے تو شاید آپ کو اس حوالے سے حقیقت کو رد کرنا بہت مشکل ہو جائے۔

یہاں ہم دو مثالیں پیش کرنا چاہیں گے۔ ہمارے ایک پڑوسی جن کا نام فرض کرلیں کہ سلیم ہے۔ ایک روز ہم نے دیکھا کہ سلیم صاحب رات کے وقت لڑکھڑاتے ہوئے سامنے سے چلے آرہے ہیں اور اسی طرح ہمارےسامنے سے گزرے، ہم نے انہیں سلام کیا اور خیریت دریافت کی تو اُنہوں نے ہماری طرف ذرا بھی توجہ نہیں دی۔

سلیم صاحب کے حوالےسے پہلے ہی ہمارے دل میں کچھ خدشات موجود تھے، چنانچہ جب نظر ان کے ہاتھ میں ایک بڑے سائز کی سیاہ رنگ کی بوتل پر پڑی تو یہ یقین ہوچلاکہ سلیم صاحب شراب پیتے ہیں اور آج تو ہم نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا تھا۔

ایک اور صاحب جن کا نام فرض کیجیے کہ شاہد ہے، ہمارے پڑوسی ہیں۔ پکے نمازی اور دیگر مذہبی شعائر کی پابندی کرنے والے، مسجد کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہم نے خود انہیں دیکھا تھا کہ مسجد کی تعمیر میں انہوں نے اپنی جیب سے کافی بڑی رقم خرچ کی تھی۔

یہ وہ سچائیاں تھیں، جن کے ہم بذاتِ خودچشم دید گواہ تھے، لیکن ان دونوں کرداروں کے حوالے سے حقائق ان کی سچائیوں کے بالکل برعکس تھے۔

جی ہاں، جو ہم نے دیکھا، وہ سچ ضرور تھا لیکن حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ  سلیم صاحب اس وقت شدید بخار کے عالم میں کلینک سے دوا لے کر آرہے تھے۔ بخار کی شدّت کی وجہ سے انہیں چلنے میں دشواری ہورہی تھی۔ وہ غریب لیکن خوددار انسان ہیں، دوسری بات یہ کہ  وہ مذہبی شعائر کا اس شدت سے اہتمام نہیں کرتے، جس شدت سے شاہد صاحب کرتے ہیں، اور اکثر بہت سے ایسےسوالات اُٹھاتے رہتے ہیں کہ جن سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ایمان کمزور ہوگیا ہے۔ بعض پنج وقتہ نمازیوں کی ان کے بارے میں یہ رائے ہے کہ وہ ملحد ہوچکے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ ان کے بارے میں پہلے ہی سے ہمارے ذہن میں منفی رائے موجود تھی اور جو کچھ ہم نے دیکھا، اس میں معنی پہنانے کا کام اسی منفی رائے کی روشنی میں ہی انجام پایا۔

دراصل سلیم صاحب بےاولاد ہیں اور ان کی اہلیہ آئے دن بیمار رہتی ہیں، اس روز خود ان کو بھی بخار تھا، لیکن انہیں اپنی ہی نہیں اپنی اہلیہ کی دوا لینے کے لیے بھی گھر سے نکلنا پڑا۔

یوں ہم نے انہیں لڑکھڑاتے قدموں سے آتے دیکھا اور تاریکی میں دوا کی بوتل ان کے ہاتھ میں دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے ہی ان کی مہ نوشی پر مہر تصدیق ہی ثبت کر ڈالی۔

اب آئیے ان نمازی پرہیزگار شاہد صاحب کی اصل حقیقت کی جانب، ان کی حقیقت یہ ہے کہ مسجد کے برابر میں انہوں نے کافی بڑی زمین گھیر کر اس پر پوری مارکیٹ بنا ڈالی ہے، اتنی بڑی جگہ پر ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ دُکانیں اور دکانوں کے اوپر فلیٹ بنا کر کرائے پر دے رکھے ہیں۔ یہ جگہ سروس روڈ کی تھی جس پر انہوں نے ناجائز قبضہ کر لیا۔ ہمیشہ سے غفلت کی نیند سورہی ہماری حکومت کو اچانک خیال آیا کہ اس شاہراہ پر سروس روڈ تعمیر کی جائے، تو شاہد صاحب کو  اپنی دکانیں اور فلیٹس کے گرائے جانے کا  خدشہ لاحق ہوا۔  چنانچہ اس کا بہترین حل انہوں نے یہ نکالا کہ لاکھوں روپے مسجد کی توسیع کے لیے ہدیہ کردیے اور مسجد کی یہ توسیع سروس روڈ کی زمین پر کی گئی۔ حکومتی اہلکاروں نے جب سروس روڈ کی تعمیر شروع کی، تو وہ تعمیر مسجد کے قریب آکر رُک گئی کہ مسجد کو کیوں کر توڑا جائے؟

پھر مسجد کے مولوی نے بڑے بڑے دارالعلوم کے مفتیوں اور علامہ حضرات سے یہ فتویٰ بھی لے لیا کہ مسجد زمین سے لے کر آسمان تک ہوتی ہے، چنانچہ اس کو گرایا نہیں جا سکتا۔

اب کیا تھا وہی لوگ جو سروس روڈ نہ ہونے کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا تھے، مسجد کو گرائے جانے کے خلاف اکھٹا ہوگئے اور ایسے کسی اقدام کی صورت میں  سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگے۔

سروس روڈ مکمل نہیں ہوسکی اور سوسائٹی کے داخلی راستے تک جانے کے لیے بائیک، کار اور دیگر گاڑیوں کو مین شاہراہ  پر اُلٹی سمت چلنا پڑتا ہے۔ اس رانگ سائیڈ ڈرائیو کے نتیجے میں اکثر ایکسیڈنٹ بھی ہوتے ہیں، جن میں کئی مرتبہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن شاہد صاحب کی پارسائی قائم ہے اور شاہد صاحب پر انگلی اُٹھانے والے سلیم صاحب سے صفائی طلب کیے بغیر ان کے بارے میں انتہائی منفی رائے قائم کرلی گئی ہے۔

آپ کو ماننا پڑے گا کہ سچائی اور حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہوسکتا ہے۔ حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے عدالت کا ذہن درکار ہوتا ہے، لیکن یہ بات اُس معاشرے کے لوگ کس طرح سمجھیں گے، جہاں عموماً عدالت کے پاس بھی عدالت کا ذہن موجود نہیں ہوتا۔ یہاں عدالت کے ذہن سے ہماری مُراد غیر جانبدارانہ طرزفکر ہے۔

یہ طویل تمہید ہم نے اس لیے باندھی ہے کہ اگلی سطور میں ہم جن حقائق کی پردہ کشائی  کرنے جارہے ہیں، اس کے بعد بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں قائم سچائیوں کے عظیم الشان محلات کی دیواریں منہدم ہو جائیں گی۔

ایسے تمام افراد سے میری گزارش ہوگی کہ وہ خود تحقیق کرلیں، لیکن افسوس مسئلہ یہ ہے کہ تحقیق کے لیے غیر جانبدار ذہن درکار ہوتا ہے۔

جس کا ماضی پرست افراد کے پاس تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا ان کی خدمت میں انتہائی مؤدّبانہ اور نہایت معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بلاوجہ مشتعل ہوکر اپنا خون نہ جلائیں، بلکہ ہماری گزارشات کو محض ایک ‘‘مجذوب کی بڑ’’ سمجھ کر آگے بڑھ جائیں، کہ یہ ساری گزارشات ان لوگوں کے لیے ہیں جو ماضی پرستی، اسلاف پرستی، عقائد پرستی، لفظ پرستی، روایات پرستی، ملت  پرستی اور کتاب پرستی کی زنجیروں کو توڑ چکے ہیں یا توڑنا چاہتے ہیں۔

*********

سورج کا طلوع ہو کر روشنی اور حرارت پہنچانا، چاند کی کرنوں سے تاریک راتوں کا منور ہونا، برسات، زمین کی زرخیزی، سمندر کی تہہ میں پوشیدہ خزانے، سنگلاخ چٹانوں میں چھپی معدنیات، صحراؤں میں سطح زمین کے نیچے سیال سونا یعنی پیٹرولیم کے اُبلتے چشمے، غرضیکہ دنیا کے سارے وسائل نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے موجود ہیں۔ لیکن یہ وسائل اُن کے ہی کام آتے ہیں جو اِن وسائل کے فوائد حاصل کرنے کے لیے عقل و شعور کا استعمال کرتے ہوئے جدوجہد کرتے ہیں۔

آج سمندر مسلمانوں کے پاس بھی ہے اور ترقی یافتہ اقوام کے پاس بھی، ترقی یافتہ اقوام نے اس کی تہہ کھنگال ڈالی اور سمندر میں موجود غذائی اشیاء، سیپیاں، موتی اور نجانے کن کن قیمتی چیزوں کے ساتھ پیٹرول تک نکال رہے ہیں جبکہ مسلمان سمندر کی بیکراں وسعتوں اور انجانی گہرائیوں سے اپنے بل بوتے پر صرف مچھلیاں  ہی حاصل کرسکتے ہیں، جس کی پیداوار بھی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے۔

زرخیز زمین غیر مسلموں کے پاس ہے  تو مسلمانوں کی دسترس میں بھی کم زرخیززمین نہیں، بلکہ اگر حساب کتاب لگایا جائے تو ممکن ہے یہ بات بھی سامنے آجائے کہ مسلمانوں کی ملکیت میں موجود زمین دیگر اقوام سے زیادہ زرخیز ہے۔

چلیے مان لیتے ہیں  کہ ایسا نہیں ہے تو یہ دیکھنے کی ضرورت تو ہونی چاہیے  کہ اپنی ملکیت میں موجود  زرخیز زمین سے مسلمانوں نے کس قدر فائدہ اُٹھایا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق مسلم ممالک میں صرف 5 کروڑ ہیکڑ رقبے پر کاشت ہورہی ہے اور تقریباً  20 کروڑ ہیکڑ رقبے کی زمین بے آباد اور ویران پڑی ہے۔

بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کو چھوڑیں، رقبے کے اعتبار سے ایک بہت چھوٹے ملک اسرائیل کی مثال لے لیجیے، اس ملک میں پانی کی شدید کمی ہے، پانی کی اس کمی کا حل اسرائیل کے سائنسدانوں نے یہ نکالا کہ اپنے کھیتوں کے درمیان ایک سرے سے دوسرے سرے تک بلند و بالا کھمبے  Pole نصب کیے اور اُس میں باریک جال باندھ دیے۔ کُہر آلود ہوا جب اِس جال سے گزرتی، تو ننھے ننھے شبنمی قطرے جال کے باریک تاروں سے ٹکرا کر نیچے گرنے لگتے۔ قطرہ در قطرہ پانی پختہ نالیوں میں جمع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ جب اس کی مقدار بڑھتی ہے تو بہہ کر کھیتیوں کو سیراب کر دیتا ہے۔

اسرائیل اس سسٹم کے ذریعے اتنی وافر مقدار میں سبزیاں پیدا کررہا ہے، جو اُس کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہیں، لہٰذا یہ سبزیاں پڑوس کے اُن  مسلمان عرب ممالک کو برآمد کردی جاتی ہیں، جہاں کی مسجدوں میں ہر جمعہ کی نماز کے بعد اسرائیل کی بربادیوں کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

یہ تو خیر ایک مثال تھی۔

اگر یہاں ہم اس قسم کی مثالیں بیان کرنا شروع کردیں تو صفحات کے صفحات بھر جائیں گے اور مثالیں ختم نہیں ہوں گی، لیکن ہم یہاں مسلمانوں کی پسماندگی، بے چارگی، قدرتی وسائل کی ناقدری اور جہالت کا محض نوحہ نہیں پڑھنا چاہتے، بلکہ ہماری کوشش ہوگی کہ مسلم قوم  کے زوال کے اسباب پر غیر جانبدار ہوکر  گفتگو کی جائے اور پوشیدہ حقائق تلاش کیے جائیں۔

مسلم اقوام کے زوال کا ایک اہم سبب روشن خیالی کا خاتمہ، علوم و فنون کی اشاعت و ترویج میں اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں سے چشم پوشی بھی ہے۔

کسی بھی تہذیب کی اصل روح اُس کی فکری سرگرمیاں ہوتی ہیں اور جب کسی جگہ فکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں یا ماند پڑجائیں تو تمدّن کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور پھر محض بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی مانند ایک ہجوم باقی رہ جاتا ہے، جن کی آنکھوں پر  خوش فہمیوں کی سیاہ پٹی بندھی ہوتی ہے اور جن کے شب و روز ایک دوسرے کو نوچنے کھسوٹنے میں گزرتے رہتے ہیں۔

غیرجانبدار ہوکر دیکھیے تو آپ کو بھی مغربی اقوام کے بعض دانشوروں کی جانب سے مسلمانوں پر کیا جانے والا یہ اعتراض غلط محسوس نہیں ہوگا کہ مسلمانوں میں تنقید برداشت کرنے کا مادّہ بالکل نہیں ہے، بلکہ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی فکر میں وہ خود مختاری بھی شاید کبھی موجود نہیں رہی کہ وہ زندگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اپنے تجربے اور فکر سے سمجھیں۔ ماضی پرستی کی روایت شاید ہماری بنیادوں میں پیوست ہوچکی ہے۔

ہمارے معاشروں میں تحقیق کرنے والے اذہان کیسے پیدا ہوں گے، جب جائز و ناجائز کا خوف لوگوں کے خون میں رچ بس کر اُن کے جسموں میں دوڑتا ہو؟ یہی وجہ ہے کہ بیشتر حساس موضوعات سوال بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی طرح کنی کترا کر نکل جاتے ہیں۔ بجائے اپنے راستے سے پتھر ہٹانے کے، پتھر کو دیکھ کر اپنا راستہ ہی بدل لیتے ہیں۔

ہمیں تو یہ زعم ہی سر اُٹھانے نہیں دیتا کہ کبھی ہم پوری دنیا پر چھائے ہوئے تھے، لیکن کیا واقعی مسلمانوں نے کبھی اپنے ذہنی افق سے دنیائے علم و ہنر کو زیر نگیں کیا تھا؟

بالفرض یہ بات بھی حقیقت ہو تو آج ہم کیوں اپنی سوچ اور فکر کو ترقی دینے سے گریزاں ہیں؟

ملک نعیم اعوان کے ایجنسیوں سے تعلقات اور۔۔۔۔۔۔۔۔

 پاکستان تحریک انصاف ضلع خوشاب کے رہنمائ ملک عمر اسلم اعوان کے ماموں اورسابق وفاقی وزیرملک نعیم اعوان جو عرصہ دراز سے علیل ہیں ملکی سیاست میں انکے خفیہ ایجنسیوں تعلقات و کردار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک کتاب سے اقتباس(صفحے کاعکس) جس کی اشاعت کے دو سال بعد اسکے مصنف، بریگڈئیر امتیاز اور میجر عامر کو بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

بہت جلد

COMING SOON

’اس نے تو ابھی مسکرنا ہی سیکھا تھا’

جہاد مشراوی اپنے گیارہ ماہ کے بچے عمر کی جلی ہوئی لاش اٹھائے ہوئے ہیں جو ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گیا۔

غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں سرحد کے دونوں جانب شہریوں کی ہلاکت انتہائی افسوس ناک بات ہے بطور خاص جب ہلاک ہونے والوں میں معصوم بچے بھی شامل ہوں۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسن نے بہت ہی قریب سے ایک ایسے ہی اندوہ ناک واقعے کو دیکھا۔

میرے ایک ساتھی جہاد مشراوی عام طور پر غزہ بیورو میں سب سے آخر میں گھر جانے والوں میں ہوتے ہیں۔ وہ انتہائی محنتی اور نرم گفتار ہیں اور دفتر میں دیر تک رکتے اور لیپ ٹاپ پر کام کرتے رہتے ہیں جو کہ ان سے ایک ہاتھ کے فاصلے پر رکھا ہوتا ہے۔

وہ ٹھنڈے دل و دماغ کے مالک ہیں اور جب ہم جیسے لوگ ان کے سامنے بھاگ دوڑ رہے ہوتے ہیں یا چھیڑ چھاڑ کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت بھی وہ سنجیدہ ہوتے ہیں۔ وہ ویڈیوایڈیٹر ہیں اور بی بی سی عربی سروس کے ایک مقامی سٹاف ہیں جن کی وجہ سے آفس کا کام چلتا رہتا ہے۔

اندازاً دو ہفتے قبل جب غزہ میں لڑائی شروع ہو ئی تھی اور اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں حماس کے فوجی کمانڈر احمد الجعبری مارے گئے تھے تو اس وقت جہاد اپنے ایڈیٹنگ کے کمرے سے چیختے ہوئے باہر نکلے تھے۔

وہ اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے زینے سے نیچے اترے اور ان کے چہرے پر فکر اور صدمے کے اثرات واضح تھے۔

کسی نے انھیں تھوڑی دیر پہلے فون پر بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ان کے گھر پر بمباری کی تھی اور ان کا گیارہ ماہ کا لڑکا عمر اس میں جاں بحق ہو گیا تھا۔

جہاد کا گیارہ ماہ کا بچہ عمرجہاد کا گیارہ ماہ کے لڑکے عمر نے تو ابھی صرف مسکرانا ہی سیکھا تھا۔

کسی بھی باپ سے آپ پوچھیں تو وہ یہی کہے گا کہ اس کے بچے خوبصورت ہیں لیکن عمر تو ’پوسٹر بے بی‘ یعنی تصویروں کی کتاب میں شائع ہونے والے بچوں جیسا تھا۔

اپنے مکان کے ملبے پر کھڑے ہوکر جہاد نے مجھے اپنے موبائل پر کچھ دن قبل لی گئی اپنے بچے کی تصویر دکھائی، ایک گول مٹول بچے کی جو کہ ڈینم کی نیلی ڈانگری میں ملبوس پرام میں لیٹا تھا، کالی آنکھیں، چوڑی پیشانی، نفیس بھورے بال جو اس کی پیشانی پر آ رہے تھے۔

جہاد نے مجھ سے کہا ’اس نے ابھی صرف مسکرانا سیکھا تھا‘ اور پھر ہم دونوں اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر نے لگے جو امڈ رہے تھے۔

جہاد نے کہا ’عمر کو ابھی صرف دو الفاظ بابا اور ماما کہنے آتے تھے۔‘

جہاد کے فون میں دوسری تصویر بھی تھی جو کہ ایک دلدوز چھوٹی سی جلی ہوئی مسخ شدہ لاش کی تھی، جس میں عمر کا مسکراتا پھول سا چہرہ جو تقریبا جل چکا ہے اور وہ بال جو اس کی پیشانی پر جھوما کرتے تھے وہ اس جلے سر سے چپک ہوئے ہیں۔

اس حملے میں جہاد کی سالی حبہ بھی ہلاک ہوگئی ہیں۔ جہاد نے کہا کہ ’ہمیں ابھی تک ان کا سر نہیں ملا ہے‘۔ اور اس کا بھائی بری طرح جلی ہوئی حالت میں ابھی بھی ہسپتال میں ہے اور اس کے بچنے کی موہوم سی امید ہے۔

جہاد کا ایک بیٹا علی بھی ہے جو چار سال کا ہے اور وہ بھی معمولی زخمی ہے۔ وہ پوچھتا رہتا ہے کہ اس کا چھوٹا بھائی کہاں چلا گیا ہے۔

گیارہ افراد پر مشتمل یہ مشراوی خاندان غزہ کے شبرہ ضلعے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا۔ ایک کمرے میں پانچ افراد سویا کرتے تھے۔

اور اب اس کے بستر صرف تارکول کے لیے ہیں اور الماریاں ملبے اور بچوں کے گرد میں اٹے کپڑوں سے بھری ہیں۔

باورچی خانے کے سلیب پر پلاسٹک کے پگھلی ہوئی بوتلیں ہیں جس میں فلسطینی مسالے ہوا کرتے تھے ان کی شکل بگڑ چکی ہے جیسا کہ نیچے ٹوٹے ہوئے شیشوں سے نظر آرہا تھا۔

داخل ہوتے ہی ملنے والے ہال کی آہنی چھت میں دو فٹ چوڑا سوراخ ہے جہاں میزائل آکر لگا تھا۔

ہرچند کہ تمام شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اسرائیلی حملہ ہے تاہم کچھ بلاگ لکھنے والوں نے کہا ہے کہ یہ حماس کے راکٹ سے ہوا ہے جو کہ غلطی سے ادھر چلا گیا ہوگا۔

لیکن اسرائیل آپریشن کے بعد اسرائیل فوج نے کہا تھا کہ غزہ سے مارٹر داغے گئے ہیں اور بہت کم راکٹ برسائے گئے۔ جہاد کے گھر میں مارٹر سے اتنی تباہی نہیں ہو سکتی تھی۔

دوسرے بلاگروں نے لکھا ہے کہ جہاد کے گھر پر ہونے والا حملہ اسرائیل کا معمول کا حملہ نہیں ہے لیکن بی بی سی نے اس ہفتے ان مقامات کا دورہ کیا جہاں اسرائیل نے قبول کیا ہے کہ وہ ان کے ’سرجیکل حملے‘ کے نشانے تھے اور دونوں میں کافی مماثلت ہے۔

جہاد کے گھر پر ہونے والے حملے میں تعمیرات کو تو کم نقصان ہوا ہے لیکن لوگوں کو شدید طور پر جلی ہوئی اور زخمی حالت میں باہر نکالا گیا ہے۔

زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ عمر کی موت ان بیس حملوں میں ہوئی ہوگی جو اسرائیل نے شروع میں غزہ پر کیے تھے۔

ابراہیم دالوابراہیم دالو کی عمر بھی گیارہ ماہ ہی تھی۔

عمر دہشت گرد نہیں تھا۔ پھر بھی سرحد کے دونوں جانب عام شہریوں کی ہلاکت قابل افسوس ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ابتدا سے کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہلاک ہونے والے ایک سو اٹھاون لوگوں میں ایک سو تین عام شہری ہیں۔

ان میں سے تیس بچے ہیں اور ان میں سے بارہ بچے دس سال سے کم عمر کے ہیں۔ اس کے علاوہ ان حملوں میں ایک ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جہاد کا بچہ ابتدائی حملے میں ہلاک ہونے والا شاید پہلا بچہ تھا۔ اور آخری بچہ چھ سال کا عبدالرحمان نعیم تھا جو امن معاہدے سے قبل اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوا تھا۔

عبدالرحمٰن کے والد ڈاکٹر مجدی غزہ شہر کے شفا ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹر ہیں۔

انہیں اپنے بچے کی موت کا اس وقت علم ہوا جب وہ ایک مریض کا علاج کرنے کے لیے گئے تھے وہاں انھوں نے دیکھا کہ وہ انہی کا لخت جگر تھا۔

بظاہر ڈاکٹر مجدی نے کئی دنوں سے اپنے بچے کو نہیں دیکھا تھا، زخمیوں کے علاج کے سے انہیں فرصت ہی نہیں ملی تھی۔

جہاد کا گھر چھوڑنے سے قبل جہاں وہ ایک الاؤ کے پاس دوسرے غمزدہ افراد کے ساتھ بیٹھے تھے میں نے ان سے ایک احمقانہ سوال پوچھا کہ ’کیا انھیں عمر کی موت پر غصہ ہے؟‘

اپنے بچے کی تصویر پر نظر ڈالتے ہوئے ان کے جبڑے سخت ہو گئے اور انھوں نے کہا، ’ہاں، بہت زیادہ غصہ ہے؟‘

یہ اس شخص نے کہا جس نے کبھی بھی غصے میں اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی۔۔۔

مجھے خدا حافظ کہنے سے پہلے جہاد نے مجھ سے گلے ملتے ہوئے کہا کہ ’میں بہت شرمندہ ہوں جون کہ مجھے رکنا ہو گا اور جب آپ کو میری ضرورت ہے میں آپ کے پاس نہیں ہوں گا۔

بشکریہ بی بی سی

تیرا کیا ہو گا کالیا؟

ویسے تو ہماری افغان پالیسی پردہ اسرار میں لپٹی ہوئی راولپنڈی اور آبپارہ کے بند کمروں کے پیچھے بیٹھے ٹھیکہ داروں کا ہی شغل ہے لیکن کبھی کبھی اس میں کی گئی تبدیلیوں کو عوامی دیدار کے لئے بھی پیش کر دیا جاتا ہے.

ظاہر ہے کہ عوامی نماندے کینیا، کینیڈا، مالدیپ اور بھوٹان جیسے “اہم” ممالک سے معاملات طے کرنے میں مصروف ہوتے ہیں تو بھارت، امریکا اور افغانستان جیسے چھوٹے موٹے ملکوں کے معاملات بحالت مجبوری عسکری حلقوں کے گلے پڑ گئے ہیں۔

خیر یہ تذکرہ تو ویسے ہی نکل آیا تھا اصل میں مقصد آپ کو اس خوشخبری میں شریک کرنا تھا جو اس وقت منظر عام پر آئی جب پیچھلے دنوں افغان امن کونسل پاکستان یاترا پر آئی اور بات چیت کے بعد طالبان قیدیوں کی رہائی کا مژدہ سننے میں آیا۔

یہ وہی طالبان ہیں جو کسی زمانے میں ہمارے دوست ہوتے تھے اور پھر ہماری ترجیحات تبدیل ہونے کے بعد پاکستان کے گلی کوچوں میں  ’دوست دوست نہ رہا’ کا رونا روتے پھرتے تھے اور ہمارے پالیسی سازوں  نے امن کی خاطر کچھ کو جیل میں اور کچھ کو اببٹ آباد میں بطور مہمان ٹھہرا دیا تھا۔ ابھی بھی ان میں سے کچھ کراچی اور کوئٹہ میں کسمپرسی اور گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور صرف اسلحہ، سیٹلائٹ فون، مرغن کھانوں اور انٹرنیٹ جیسی ناکافی سہولیات پر گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

مہمان نوازی کے تقاضے پورے نہ کرنے پر ہم آپ سے شرمندہ ہیں اور معافی کے طلبگار ہیں۔ اگرچہ آپکی تفریح طبع کے لئے ہم نے پورے پاکستان بلخصوص کراچی اور کوئٹہ میں موٹے تازے اور کچھ دبلے پتلے لوگ رکھے ہوۓ ہیں آپ انہیں سفر آخرت پر روانہ کر کے دل بہلائیے تب تک ہم ذرا افغانستان میں امن و امان بحال کروا لیں۔

طالبان قیدیوں کی رہائی اس پس منظر میں دیکھنے میں آئی ہے جب افغانستان میں طالبان سے مزاکرات کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں اور  شائد ہمارے بھرپور اصرار پر مزاکرات کی میز پر ہماری بھی جگہ بنا دی گئی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے کی جانب بڑھتی ہی دکھائی دے رہی ہے جہاں امریکا اپنا بوریا بستر لپیٹ کر اپنے گھر چلا جائے گا اور پاکستان، افغانستان میں امن اور شانتی کی بہار آ جائے گی کیونکہ کہا تو یہی جاتا ہے کہ ایک پر امن افغانستان پر امن پاکستان کی ضمانت ہے اسی لئے پاکستان امن کے علمبرداروں یعنی حقانی نیٹ ورک اور طالبان قیادت وغیرہ کو زمانے کے نرم و گرم سے بچائے ہوۓ ہے۔ اب اگر امریکا کی نیت خراب ہو جائے اور وہ 2014 کے بعد بھی افغانستان میں ایک دو بیس رکھنے پر مصر ہو تو یہ اسکی بدنیتی کا مظہر ہو گا۔

خیر افغانستان میں تو ہماری کوششوں سے امن بحال ہو ہی جائے گا لیکن پاکستان میں طالبان گروپوں کا کیا کیا جائے جو افغانستان میں امریکا کی موجودگی نہیں بلکہ پاکستان میں اسلامی نظام (جس کی تعریف اور حدود و قیود وہ خود طے کریں گے) قائم کرنے کی بنیاد پر اسلحہ اٹھائے ہوۓ ہیں۔ ان گروپس کی پیدائش اور پرورش کی بحث سے قطع نظر کیا پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان سے امریکا کی واپسی کے بعد یہ گروپس توبہ کر کے پر امن شہریوں کی طرح رہنا شروع ہو جائیں گے؟

کیا افغان طالبان اگر افغانستان میں اپنی عملداری یا افغان حکومت میں اپنا حصّہ وصول کرنے کے بعد پاکستان کے طالبان گروپس (جو ملا عمر کو اپنا بھی امیر مانتے ہیں،) سے ہتھیار ڈالنے کی کسی اپیل کو خاطر میں نہیں لاتے تو اس صورت میں ہمارا کیا ہو گا؟ کیونکہ افغانستان میں امن کے قیام کے پیچھے ہمارا مقصد تو یہی ہے کہ اسکے ذریعے پاکستان میں ان گروپس کو لگام ڈالی جائے۔

کیا پاکستان کے پاس اس صورتحال کے لئے بھی کوئی حکمت عملی ہے جب افغان طالبان افغانستان میں خوش و خرم ہوں گے اور یہاں کے طالبان ایک زور کا قہقہہ لگا کر کہیں گے،”تیرا کیا ہو گا کالیا”؟

آخر میں طالبان کی جانب سے  سی آیی اے کے سابق سربراہ ڈیوڈ پٹریس کے سیکس سکینڈل پر انھیں سنگسار کرنے کا جو مطالبہ سامنے آیا ہے اس پر ہم بطور قوم طالبان کو سلام پیش کرتے ہیں اور سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ بلکہ اس معاملے کو خود نہ اٹھانے کی بھول کی پاداش میں اور امریکا کی بگڑتی ہی اخلاقیات پر تاسف کا اظہار کرتے ہوۓ  اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ انشاللہ اگلے سال حکومت پاکستان امریکی حکومت بشمول صدر اوبامہ کو اپنے خرچے پر حج کروائے گی۔

 

بشکریہ ڈان

بے نظیر بھٹو پر اعتماد کرکےمیں نے بہت بڑی غلطی کی

پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا کہنا ہے کہ نوے کی دہائی میں سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کی گئی تھیں لیکن یہ آئین کے خلاف تھا یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

ایک غیرملکی نشریاتی ادارے کے ایک پروگرام  میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اسد درانی کا کہنا تھا کہ اس طرح کا کوئی بھی کام قانون دیکھ کر نہیں کیا جاتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سنہ انیس سو نوے میں بینظیر کی حکومت قانون کے ہی مطابق صدر کے اختیار اٹھاون ٹو بھی کے تحت ختم کی گئی تھی۔

اسد درانی کے بقول اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سمجھتے تھے کہ پیپلز پارٹی حالات کے مطابق صحیح نہیں جار ہی اس لیے انہوں نے اسے سبق سکھانے کے لیے ایسا کیا۔

سیاستدانوں میں تقسیم کی جانے والی رقم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ رقوم کراچی کی تاجر برادری نے اکھٹی کی تھی۔ بقول ان کے ’سب کو فوج پر بھروسہ تھا اس لیے تقسیم کی ذمہ داری فوج کو دی گئی‘۔

اسد درانی کے بقول افسران کے حکم پر انہوں نے رقوم تقسیم کرنے کے لیے بعض لوگوں کو ذمہ داری سونپی تھی۔

اسد درانی کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کا فوج کو پوری طرح علم تھا۔ ’ایسا کرنے کے لیے ملک کی سپریم کمانڈ نے کہا۔‘

اسد درانی کے بقول اس وقت سب کچھ ایک اصول کے تحت ہو رہا تھا۔

اس سوال پر کہ وہ یہ کام کرنے سے انکار بھی کرسکتے تھے تو ایسا کیوں نہیں کیا؟ اسد درانی کا کہنا تھا کہ حکم بجا لانا فوج کی تربیت میں شامل ہوتا ہے۔ حکم عدولی کی صورت میں بھی ان کے خلاف کوئی نہ کوئی کارروائی ہونا تھی۔

رقوم تقسیم کیے جانے کے طریقہ کار سے متعلق اسد درانی کا کہنا تھا کہ ’کسے کتنی رقم دینا ہے اس کی ہدایت اس وقت کے فوجی سربراہ اسلم بیگ دیا کرتے تھے۔ چونکہ فیصلہ ایوانِ صدر کرتا تھا اس لیے بعض دفعہ ہدایات وہاں سے بھی آتی تھیں۔‘

بقول اسد درانی اس وقت یہ تمام عمل شفاف طریقہ سے ہوا۔ رقوم کی تقسیم کی ذمہ داری سویلین لوگوں کی تھی جو جا کر یہ رقم سویلین لوگوں کے حوالے کر دیا کرتے۔

اس سوال پر کہ رقوم کیا کہہ کر دی جاتی تھی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ رقم لے جانے والے کہتے ’یونس حبیب کی کمیونیٹی نے الیکشن کے لیے ڈونیشن دیے ہیں۔ آپ اسے اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کریں۔‘

آئی جی آئی کی تشکیل کے حوالے سے اسد درانی نے کہا یہ یہ اتحاد انیس سو اٹھاسی میں جنرل ضیاء الحق کے انتقال کے بعد بنا۔

اسد درانی کے بقول آئی جی آئی کے بنائے جانے کے پیچھے یہی نظریہ تھا کہ جمہوریت چلانے کے لیے ملک میں دو بڑی پارٹیاں ہونی چاہئیں چونکہ اس وقت پیپلز پارٹی مضبوط حیثیت اختیار کر چکی تھی اس لیے دیگر سیاسی دھڑوں کو متحد کر کے ایک پارٹی بنائی جائے۔

آئی جی آئی کے تخلیق کاروں کے بارے میں اسد درانی کا کہنا تھا کہ ان میں حمید گل، پاکستان کے سابق صدر غلام اسحاق خان، اور پاکستان فوج کے سابق سربراہ اسلم بیگ شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایک آدمی کا کام نہیں تھا اس کے پیچھے کئی لوگوں کی سوچ شامل تھی۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو کیا وہ اس کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ بقول اسد درانی انہیں یہی سکھایا گیا ہے کہ ’اگر کوئی کام کریں تو اس کی ذمہ داری بھی لیں‘۔

انہوں نے کہا: ’جو بات اسے قبول کیا ہے اور باقی کی باتیں تفتیش کے موقع کے لیے سنبھال کر رکھی ہیں‘۔

اسد درانی کا کہنا تھا کہ جب وہ تمام معاملات سے پردہ اٹھا دیں گے تو لوگ خود فیصلہ کریں گے کہ کیا صحیح تھا اور کیا غلط۔

اسد درانی کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کا فوج کو پوری طرح علم تھا۔ ’ایسا کرنے کے لیے ملک کی سپریم کمانڈ نے کہا۔‘

اسد درانی کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی منظر نامے پر کسی دوسری پارٹی کو موقع دینے کی تجویز معقول لگی تھی۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر اٹھاون ٹو بی کے استعمال اور اس وقت کے انتخابات کے انعقاد کو قانون کے مطابق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت انتخابات کے لیے ’ڈونیشن‘ دینا بھی غلط نہیں تھا۔‘

اسد درانی کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برس سے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کو بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بقول ان کے ایسا نہ صرف اپنے ملک میں ہو رہا ہے بلکہ امریکہ اور مغرب میں بھی ایسا کیا جا رہا ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے بقول ’امریکہ کی خطے کے لیے جو پالیسی ہے اس میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی بڑی رکاوٹ ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اصغر خان کیس کی دوبارہ سماعت کے لیے بھی یہی وجوہات دی گئیں کہ فوج کے خلاف مقدمات کیوں نہیں کھولے جاتے‘۔

اسد درانی نے کہا کہ ’میں نے بہت بڑی غلطی کی۔ فوجیوں کو سیاسی معاملات کی سمجھ نہیں آتی، اس لیے بطور سفیر حکومت پر اعتبار کیا۔‘

اسدر درانی کے بقول ان سے کہا گیا کہ جو بھی تفصیل ہے وہ دے دیں جو ایک خفیہ عمل کا حصہ ہے۔ ’بہت اصرار پر انتہائی خفیہ معلومات وزیرِ اعظم (بینظیر بھٹو) کو دیں۔ یہ علم نہیں تھا آگے چل کر سیاسی مفاد کے لیے انہیں اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا‘۔

جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا رقوم کی تقسیم کے معاملے میں انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ ان کی خواہش کے مطابق تھا۔ لیکن یہ ان کا انفرادی فیصلہ تھا یا اجتماعی اس کا فیصلہ تفتیش کے بعد ہو گا۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو حرام ہے: سعودی مفتیٔ اعظم

سعودی عرب کے مفتیٔ اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ مسلم سر زمین پر انتشار اور افراتفری پھیلانے کے خواہاں غیر ملکی میڈیا سے رابطے اور تعاون حرام اور غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

انھوں نے فتوے میں لوگوں پر زوردیا ہے کہ وہ غیر ملکی میڈیا سے رجوع کرنے کے بجائے اپنے تحفظات کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام کو براہ راست لکھیں۔

شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے دارالحکومت ریاض میں ایک مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ملک کے رازوں اور معلومات کے افشاء کے لیے غیر ملکی میڈیا سے رابطے نہیں کرنے چاہئیں کیوں کہ ان میڈیا ذرائع کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا اور قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ غیر ملکی میڈیا سے تعاون غداری اور سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مفتیٔ اعظم نے ملک کی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب بننے والوں کو پناہ دینے پر بھی انتباہ کیا اور کہا کہ اس کی اجازت نہیں ہے اور ایسا کرنے والوں کے اقدام کو دشمن کی معاونت سمجھا جائے گا۔

سعودی روزنامے عکاظ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق شیخ عبدالعزیز آل شیخ کا کہنا تھا کہ ”ایک صاحب ایمان کو اپنی قوم اور کمیونٹی کی سکیورٹی کو برقرار رکھنے اور دین کے تحفظ کے لیے تعاون کرنا چاہیے”۔ انھوں نے سرکاری اداروں میں بھی کام کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشے سے متعلق رازوں کا تحفظ کریں۔