‘پاکستانی پہلوان کا چیلنج کرنا حیران کن تھا’

انوکی جاپان میں متعین پاکستانی سفیر نور محمد جادمانی اور پاکستانی نژاد خاور کھوکھر کے ہمراہ۔—تصویر بشکریہ مصنف

ماضی میں جاپان کے نامور پہلوان انوکی انتونی عرف محمد حسین اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے۔

اسلامی دنیا میں خود کو محمد حسین انوکی کہلوانے والے پہلوان کے اس دورے کے لئے انتظامات  مکمل کر لیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے انوکی نے جاپان میں متعین پاکستانی سفیر نور محمد جادمانی کے ساتھ ملاقات بھی کی ہے۔

ستر سالہ انوکی نے بتایا کہ انیس سو چھہتر میں ان کو پاکستانی پہلوان اکرم عرف اکّی کی طرف سے چیلنج کیا گیا، جو کہ ان کے لئے بڑا حیران کن تھا۔

اس تاریخی دنگل کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس دنگل کو دیکھنے کے لئے تقریباً پچاس ہزار تماشائی آئے تھے۔

انوکی نے بتایا کہ مختلف کلچر اور کشتی کے اصولوں کے باوجود دنگل ہوا اور دنگل کا ماحول کچھ اس طرح ہو گیا کہ زندگی اور موت کی جنگ کا منظر لگ رہا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ “میری کلائی پر آج بھی اکیّ پہلوان کے دانتوں کا نشان موجود ہے۔ اکی پہلوان نے میری کلائی منہ میں دبوچی تھی جس کو چھڑانے کے لئے میں نے ان کی آنکھوں میں انگلیاں چبھو دیں”۔

انوکی کا کہنا ہے کہ اکیّ پہلوان کے ساتھ دنگل میں جیت، کبھی بھی ان کے لئے باعث فخر نہیں رہی۔

بعد میں اکیّ پہلوان کے بھتیجے زبیر عرف جھارا سے کشی کے متعلق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “یہ دنگل برابر رہا تھا، لیکن میں نے کشتی کے بعد جھارے کا ہاتھ پکڑ کر اوپر اٹھا دیا”۔

اگلے ہفتے پاکستان کے دورے کے متعلق انوکی نے بتایا کہ وہ کئی سالوں سےاکی پہلوان کی قبر پر فاتحہ کے لئے جانا چاہتےتھےلیکن مصروفیت کی وجہ سے نہ جا سکے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ “میں انیس سو نوے میں مسلمان ہوا تھا۔ کربلا کی سیر کو گیا۔ میں نے مسجد میں اسلام قبول کیا اور دو دنبوں کا صدقہ بھی دیا”۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب لوگوں نے انہیں اپنا عربی نام رکھنے کا کہا تو ایک نام محمد علی بھی تجویز کیا گیا، لیکن اس تجویز کو قبول نہ کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ نام عظیم باکسر محمد علی کا تھا، جن  سےمیرا ایک مقابلہ بھی ہو چکا تھا۔

اس لئے ایک اور نام محمد حسین پر اتفاق ہوا، جس میں “حسین ” اس دور کے عراقی صدر صدام حسین سے لیا گیا تھا۔

محسن عباس

Advertisements

’اس نے تو ابھی مسکرنا ہی سیکھا تھا’

جہاد مشراوی اپنے گیارہ ماہ کے بچے عمر کی جلی ہوئی لاش اٹھائے ہوئے ہیں جو ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گیا۔

غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں سرحد کے دونوں جانب شہریوں کی ہلاکت انتہائی افسوس ناک بات ہے بطور خاص جب ہلاک ہونے والوں میں معصوم بچے بھی شامل ہوں۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسن نے بہت ہی قریب سے ایک ایسے ہی اندوہ ناک واقعے کو دیکھا۔

میرے ایک ساتھی جہاد مشراوی عام طور پر غزہ بیورو میں سب سے آخر میں گھر جانے والوں میں ہوتے ہیں۔ وہ انتہائی محنتی اور نرم گفتار ہیں اور دفتر میں دیر تک رکتے اور لیپ ٹاپ پر کام کرتے رہتے ہیں جو کہ ان سے ایک ہاتھ کے فاصلے پر رکھا ہوتا ہے۔

وہ ٹھنڈے دل و دماغ کے مالک ہیں اور جب ہم جیسے لوگ ان کے سامنے بھاگ دوڑ رہے ہوتے ہیں یا چھیڑ چھاڑ کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت بھی وہ سنجیدہ ہوتے ہیں۔ وہ ویڈیوایڈیٹر ہیں اور بی بی سی عربی سروس کے ایک مقامی سٹاف ہیں جن کی وجہ سے آفس کا کام چلتا رہتا ہے۔

اندازاً دو ہفتے قبل جب غزہ میں لڑائی شروع ہو ئی تھی اور اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں حماس کے فوجی کمانڈر احمد الجعبری مارے گئے تھے تو اس وقت جہاد اپنے ایڈیٹنگ کے کمرے سے چیختے ہوئے باہر نکلے تھے۔

وہ اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے زینے سے نیچے اترے اور ان کے چہرے پر فکر اور صدمے کے اثرات واضح تھے۔

کسی نے انھیں تھوڑی دیر پہلے فون پر بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ان کے گھر پر بمباری کی تھی اور ان کا گیارہ ماہ کا لڑکا عمر اس میں جاں بحق ہو گیا تھا۔

جہاد کا گیارہ ماہ کا بچہ عمرجہاد کا گیارہ ماہ کے لڑکے عمر نے تو ابھی صرف مسکرانا ہی سیکھا تھا۔

کسی بھی باپ سے آپ پوچھیں تو وہ یہی کہے گا کہ اس کے بچے خوبصورت ہیں لیکن عمر تو ’پوسٹر بے بی‘ یعنی تصویروں کی کتاب میں شائع ہونے والے بچوں جیسا تھا۔

اپنے مکان کے ملبے پر کھڑے ہوکر جہاد نے مجھے اپنے موبائل پر کچھ دن قبل لی گئی اپنے بچے کی تصویر دکھائی، ایک گول مٹول بچے کی جو کہ ڈینم کی نیلی ڈانگری میں ملبوس پرام میں لیٹا تھا، کالی آنکھیں، چوڑی پیشانی، نفیس بھورے بال جو اس کی پیشانی پر آ رہے تھے۔

جہاد نے مجھ سے کہا ’اس نے ابھی صرف مسکرانا سیکھا تھا‘ اور پھر ہم دونوں اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر نے لگے جو امڈ رہے تھے۔

جہاد نے کہا ’عمر کو ابھی صرف دو الفاظ بابا اور ماما کہنے آتے تھے۔‘

جہاد کے فون میں دوسری تصویر بھی تھی جو کہ ایک دلدوز چھوٹی سی جلی ہوئی مسخ شدہ لاش کی تھی، جس میں عمر کا مسکراتا پھول سا چہرہ جو تقریبا جل چکا ہے اور وہ بال جو اس کی پیشانی پر جھوما کرتے تھے وہ اس جلے سر سے چپک ہوئے ہیں۔

اس حملے میں جہاد کی سالی حبہ بھی ہلاک ہوگئی ہیں۔ جہاد نے کہا کہ ’ہمیں ابھی تک ان کا سر نہیں ملا ہے‘۔ اور اس کا بھائی بری طرح جلی ہوئی حالت میں ابھی بھی ہسپتال میں ہے اور اس کے بچنے کی موہوم سی امید ہے۔

جہاد کا ایک بیٹا علی بھی ہے جو چار سال کا ہے اور وہ بھی معمولی زخمی ہے۔ وہ پوچھتا رہتا ہے کہ اس کا چھوٹا بھائی کہاں چلا گیا ہے۔

گیارہ افراد پر مشتمل یہ مشراوی خاندان غزہ کے شبرہ ضلعے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا۔ ایک کمرے میں پانچ افراد سویا کرتے تھے۔

اور اب اس کے بستر صرف تارکول کے لیے ہیں اور الماریاں ملبے اور بچوں کے گرد میں اٹے کپڑوں سے بھری ہیں۔

باورچی خانے کے سلیب پر پلاسٹک کے پگھلی ہوئی بوتلیں ہیں جس میں فلسطینی مسالے ہوا کرتے تھے ان کی شکل بگڑ چکی ہے جیسا کہ نیچے ٹوٹے ہوئے شیشوں سے نظر آرہا تھا۔

داخل ہوتے ہی ملنے والے ہال کی آہنی چھت میں دو فٹ چوڑا سوراخ ہے جہاں میزائل آکر لگا تھا۔

ہرچند کہ تمام شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اسرائیلی حملہ ہے تاہم کچھ بلاگ لکھنے والوں نے کہا ہے کہ یہ حماس کے راکٹ سے ہوا ہے جو کہ غلطی سے ادھر چلا گیا ہوگا۔

لیکن اسرائیل آپریشن کے بعد اسرائیل فوج نے کہا تھا کہ غزہ سے مارٹر داغے گئے ہیں اور بہت کم راکٹ برسائے گئے۔ جہاد کے گھر میں مارٹر سے اتنی تباہی نہیں ہو سکتی تھی۔

دوسرے بلاگروں نے لکھا ہے کہ جہاد کے گھر پر ہونے والا حملہ اسرائیل کا معمول کا حملہ نہیں ہے لیکن بی بی سی نے اس ہفتے ان مقامات کا دورہ کیا جہاں اسرائیل نے قبول کیا ہے کہ وہ ان کے ’سرجیکل حملے‘ کے نشانے تھے اور دونوں میں کافی مماثلت ہے۔

جہاد کے گھر پر ہونے والے حملے میں تعمیرات کو تو کم نقصان ہوا ہے لیکن لوگوں کو شدید طور پر جلی ہوئی اور زخمی حالت میں باہر نکالا گیا ہے۔

زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ عمر کی موت ان بیس حملوں میں ہوئی ہوگی جو اسرائیل نے شروع میں غزہ پر کیے تھے۔

ابراہیم دالوابراہیم دالو کی عمر بھی گیارہ ماہ ہی تھی۔

عمر دہشت گرد نہیں تھا۔ پھر بھی سرحد کے دونوں جانب عام شہریوں کی ہلاکت قابل افسوس ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ابتدا سے کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہلاک ہونے والے ایک سو اٹھاون لوگوں میں ایک سو تین عام شہری ہیں۔

ان میں سے تیس بچے ہیں اور ان میں سے بارہ بچے دس سال سے کم عمر کے ہیں۔ اس کے علاوہ ان حملوں میں ایک ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جہاد کا بچہ ابتدائی حملے میں ہلاک ہونے والا شاید پہلا بچہ تھا۔ اور آخری بچہ چھ سال کا عبدالرحمان نعیم تھا جو امن معاہدے سے قبل اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوا تھا۔

عبدالرحمٰن کے والد ڈاکٹر مجدی غزہ شہر کے شفا ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹر ہیں۔

انہیں اپنے بچے کی موت کا اس وقت علم ہوا جب وہ ایک مریض کا علاج کرنے کے لیے گئے تھے وہاں انھوں نے دیکھا کہ وہ انہی کا لخت جگر تھا۔

بظاہر ڈاکٹر مجدی نے کئی دنوں سے اپنے بچے کو نہیں دیکھا تھا، زخمیوں کے علاج کے سے انہیں فرصت ہی نہیں ملی تھی۔

جہاد کا گھر چھوڑنے سے قبل جہاں وہ ایک الاؤ کے پاس دوسرے غمزدہ افراد کے ساتھ بیٹھے تھے میں نے ان سے ایک احمقانہ سوال پوچھا کہ ’کیا انھیں عمر کی موت پر غصہ ہے؟‘

اپنے بچے کی تصویر پر نظر ڈالتے ہوئے ان کے جبڑے سخت ہو گئے اور انھوں نے کہا، ’ہاں، بہت زیادہ غصہ ہے؟‘

یہ اس شخص نے کہا جس نے کبھی بھی غصے میں اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی۔۔۔

مجھے خدا حافظ کہنے سے پہلے جہاد نے مجھ سے گلے ملتے ہوئے کہا کہ ’میں بہت شرمندہ ہوں جون کہ مجھے رکنا ہو گا اور جب آپ کو میری ضرورت ہے میں آپ کے پاس نہیں ہوں گا۔

بشکریہ بی بی سی

یا حسین تیری پیاس کا صدقہ

یہ تب کی بات ہے جب ہم ایک گمراہ ، مشرک ، بدعتی معاشرے میں رہتے تھے۔ اے اللہ مجھے اور میرے مشرک ، گمراہ ، بدعتی پرکھوں اور اس سماج کو معاف کردینا جسے کوئی تمیز نہیں تھی کہ عقیدے اور بدعقیدگی میں کیا فرق ہے۔ اچھا مسلمان کون ہے اور مسلمان کے بھیس میں منافق اور خالص اسلام کو توڑنے مروڑنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے والا سازشی کون ۔

اے میرے خدا میری بدعتی والدہ کو معاف کردینا جو اپنی سادگی میں ہر یکم محرم سے پہلے پڑنے والے جمعہ کو محلے پڑوس کی شیعہ سنی عورتوں کو جمع کرکے کسی خوش الحان سہیلی سے بی بی فاطمہ کی کہانی سننے کے بعد ملیدے کے میٹھے لڈو بنا کر نیاز میں بانٹتی تھی ۔
اسی بارے میں

اے میرے خالق ، میرے والد کو بھی بخش دینا جو حافظِ قران دیوبندی ہونے کے باوجود یومِ عاشور پر حلیم پکواتے تھے تاکہ ان کے یارِ جانی حمید حسن نقوی جب تعزیہ ٹھنڈا کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے ہمراہ بعد از عصر آئیں تو فاقہ شکنی کر پائیں۔

البتہ میری دادی کبھی اس فاقہ شکنی میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ وہ مغرب کی ازان کا انتظار کرتی تھیں تاکہ نفلی روزہ افطار کرسکیں۔ حمید حسن اور انکے اہلِ خانہ تو مغرب کے بعد اپنے گھر چلے جاتے تھے ۔ مگر عشا کی ازان ہوتے ہی ہمارے صحن کے وسط میں کرسی پر رکھے ریڈیو کی آواز اونچی ہو جاتی۔ سب انتظار کرتے کہ آج علامہ رشید ترابی کس موضوع پر مجلسِ شامِ غریباں پڑھیں گے۔ مجھے یا چھوٹی بہن کو قطعاً پلے نہیں پڑتا تھا کہ شامِ غریباں کیا ہوتی ہے ؟ کیوں ہوتی ہے ؟ اور مجلس کے اختتام سے زرا پہلے دادی کی ہچکی کیوں بندھ جاتی ہے ؟ اور کیا یہ وہی دادی ہیں جن کی آنکھ سے گذشتہ برس میرے دادا اور تایا کے یکے بعد دیگرے انتقال پر ایک آنسو نا ٹپکا تھا ؟

اے اللہ شرک و ہدایت ، درست و غلط اور بدعت و خالص میں تمیز نا رکھنے والی میری سادہ لوح واجبی پڑھی لکھی دادی کی بھی مغفرت فرما ۔ اور پھر انہیں آج کی طرح کوئی یہ دینی نزاکتیں سمجھانے والا بھی تو نہیں تھا۔ وہ تو اتنی سادی تھیں کہ یہ فرق بھی نا بتا سکتی تھیں کہ بریلویت کیا چیز ہے اور شیعہ ہم سے کتنے مختلف ہوتے ہیں ؟

وہ تو بھلا ہو اعلی حضرت میاں عبدالغفور کا جنہوں نے ایک دن دادی کو تفصیل سے اہم فرقوں اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری فقہ کے فرق کو سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اماں آپ نجیب الطرفین دیوبندی گھرانے سے ہیں اور بریلوی اور شیعہ ہمارے آپ کے پوشیدہ دشمن اور اسلام دشمنوں کے آلہِ کار ہیں لہذا ان سے ایک زہنی فاصلہ رکھتے ہوئے میل ملاقات رکھیں۔ اور اماں آپ اسلم برکی کے بچوں کو اب عربی قاعدہ نا پڑھایا کریں کیونکہ وہ قادیانی ہیں اور قادیانی کافر ہوتے ہیں اور کافر کو عربی قاعدہ پڑھانا نا صرف گناہِ کبیرہ ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ جب دادی نے قانون اور جرم کا لفظ سنا تب کہیں انہیں معاملے کی سنگینی سمجھ میں آئی۔ خدا میاں غفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

لو میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

بچپن میں عید الضحی گذرنے کے بعد سکول کی چھٹی ہوتے ہی ہماری مصروفیت یہ ہوتی کہ بڑے قبرستان کے کونے میں ملنگوں کے ڈیرے پر نئے تعزیے کی تعمیر دیکھتے رہتے۔ یہ ملنگ روزانہ حسینی چندے کا کشکول اٹھا کر ایک چھوٹے سا سیاہ علم تھامے دوکان دوکان گھر گھر چندہ اکٹھا کرتے اور پھر اس چندے سے زیور ، پنیاں اور کیوڑہ خرید کر تعزیے پر سجاتے اور سورج غروب ہوتے ہی کام بند کرکے بہت زور کا ماتم کرتے۔

میرے کلاس فیلو اسلم سینڈو کے ابا طفیلے لوہار کی تو محرم شروع ہونے سے پہلے ہی چاندی ہوجاتی ۔جس عزا دار کو چھریاں ، قمہ ، برچھی ، مچھلی اور زنجیر تیز کرانی ہوتی وہ طفیلے لوہار کی دوکان کا رخ کرتا ۔کام اتنا جمع ہوجاتا کہ اسلم سینڈو کو بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ البتہ شبِ عاشور طفیلے کی دوکان پر تالا لگ جاتا اور بند دوکان کے باہر ہر سال کی طرح ایک سیاہ بینر نمودار ہو جاتا جس پر لکھا ہوتا ’’ یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ’’۔۔۔دونوں باپ بیٹے دودھ کی سبیل لگا کر ہر آتے جاتے کو بااصرار پلاتے ۔

پھر طفیل مرگیا اور اسلم سینڈو نے سارا کام سنبھال لیا۔ پھر میں نے سنا کہ اسلم نے ایک دن دوکان بند کردی اور غائب ہوگیا۔ کوئی کہتا ہے کشمیر چلا گیا ۔ کوئی کہتا ہے کہ افغانستان آتا جاتا رہا۔ کوئی کہتا ہے اب وہ قبائلی علاقے میں کسی تنظیم کا چھوٹا موٹا کمانڈر ہے اور اس کا نام اسلم نہیں بلکہ ابو یاسر یا اسی سے ملتا جلتا کوئی نام ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کراچی کے نشتر پارک میں سنی تحریک کے جلسے کے بم دھماکے میں وہ پولیس کو چار سال سے مطلوب ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ کوئٹہ پولیس نے اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

لوگ کہتے ہیں مذہبی شدت پسندی اور تشدد قابو سے باہر ہوگیا ہے۔مگر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ قبلہ و ایمان درست کرنے اور قوم کے جسم سے شرک و بدعت و گمرہی کے زہریلے مواد کے اخراج کے لئے تکفیری جہادی نشتر تو لگانا پڑتا ہے۔ انشاللہ عنقریب تمام مشرک ، بدعتی اور منافق جہنم رسید ہوجائیں گے اور ماحول اتنا پرامن اور عقیدہ اتنا خالص ہو جائے گا کہ اس خطہِ پاک کو دنیا پاکستان کے بجائے خالصتان پکارے گی۔۔۔
بس چند دن کی تکلیف اور ہے۔۔۔۔۔۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی

حادثہ مخرنہ کر بلا

حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا واقعہ تاریخ اسلام میں ہمیشہ خون آلود حرفوں میں لکھا گیا اوراشک بارآنکھوں سے پڑھا گیاہے۔ لیکن اس دردانگیز واقعہ اور ماتم خیز حادثہ کے اندرشریعت اسلامیہ کی بے شمار بصیرتیں مضمرتھیں جن کو خون کی ان چادروں نے چھپادیا۔ اور ہزاروں اسوہ ہائے حسنہ مخفی تھے جن کو آنسوئوں کے سیلاب بہا لے گئے۔ اس لئے اب ہم کو قدیم زمانے کی مجلس ہائے ماتم میں ایک نئے حلقہ ماتم کا اضافہ کرنا چاہیے اورخون آلودہ آنسوئوں کا جو چشمہ ہمارے زخم رسیدہ دلوں سے ابل رہا تھا، اس کو کچھ دیر کیلئے ملتوی کرکے خود واقعہ شہادت کو اسرار شریعت اسلامیہ کا سرچشمہ بنانا چاہیے۔ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت پر ماتم کرنے کا یہ ایک نتیجہ خیز طریقہ ہوگا اور شریعت نے امت محمدیہ کو اسی قسم کے طریق ماتم کی ہدایت فرمائی ہے۔ دنیا میں اسلاف پرستی کا فطری مادہ ہر قوم کے اندر ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اسی بنا پر تمام قوموں نے اپنے اسلاف کا ماتم مختلف طریقوں سے منایا ہے۔ اور ان کے اعمال کو آئندہ نسل کی عبرت وبصیرت کیلئے زندہ رکھنا چاہا ہے۔ لیکن ان تمام طریقوں میں جو طریقہ سب سے زیادہ مقبول ہوا ہے، وہ وہی ہے جس کی بنیاد دنیا کی بت پرستی نے رکھی اور دراصل اصنام پرستی کی زنجیر عمل کی پہلی اور آخری کڑی اسی کو سمجھنا چاہیے۔ پہلی اس لئے کہ بسااوقات انسانوں نے اسی راہ سے اصنام پرستی کی منزل پائی اور آخری اس لیے کہ بت پرستی خود تو چلی گئی مگر اپنا نقش قدم اس شکل میں اب تک چھوڑ گئی ہے۔ ہمارا اشارہ اسلاف پرستی کے اس طریقہ کی طرف ہے جس کی بناپر مشاہیر ملک و قوم کے مجسمے (اسٹیچوز) بنائے جاتے ہیں اور ان کو اس لیے نصب کیا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ قوم کو ہمیشہ مشاہیر کی یاد دلائی جائے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت ملے۔ اگرچہ اسلاف پرستی کا یہ نہایت قدیم طریقہ تھا، اور حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک اس قسم کے متعدد مجسمے قائم ہوچکے تھے اور ان کی علانیہ پرستش کی جاتی تھی لیکن یونان و مصر نے ان مجسموں پر تمدن وتہذیب کا آب ورنگ چڑھا کر ان کو اور بھی شاندار ودل فریب بنادیا۔ آج یورپی بانیان تہذیب وتمدن کے مجسموں کی جو نمائش کررہا ہے اس کے اندر یونان کی اس قدیم تہذیب کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ ہندوئوں کی مذہبی سطح پر بھی تصویروں کی جو صفیں نظر آرہی ہیں ان میں بھی اس کی جھلک پائی جاتی ہے۔ لیکن اسلام ایک دین خالص تھا۔ جوکہ خالص تصور عبادت کو قائم کرنا چاہتا تھا۔ اور انسانی عظمت کی ان تمام راہوں کا ہمیشہ کیلئے دروازہ بند کردینا چاہتا تھا جو کسی حال میں بھی الٰہی عظمت کے نقطہ تک پہنچ سکتی تھیں یا قریب ہوسکتی تھیں پس وہ کسی طرح بھی قیام ذکر وبقاء عظمت کا ایسا طریقہ اختیار نہیں کرسکتا تھا جس میں پڑ کر دنیا بار بار ٹھوکر کھاچکی تھی۔ اسلام نے ظاہر ہوتے ہی دنیا کے تمام اعمال و معمولات پر نظر ڈالی اور ہرعمل کی حقیقت وروح کو لے لیا اور غیرمناسب وغیرموزوں جسم ولباس کو چھوڑ دیا۔ وحشت نے جن حقیقتوں کو تاریک پردوں میں چھپا دیا تھا وہ دفعتاً چاک ہوگئے۔ جہالت نے جن موتیوں کو پتھروں کے ڈھیر میں گم کردیا تھا، وہ ان سے الگ ہوکر دنیا کے دامن مراد میں آگئے۔ غیرمعتدل تمدن نے جن کھلی ہوئی بصیرتوں کو خوش نما چادروں کے آب ورنگ میں راز سربستہ کی طرح مقفل کردیا تھا وہ یکسر فاش ہوگئے اور حقیقت آفتاب کی طرح علانیہ بے نقاب ہوکر ہرانسان کو نظرآئی۔ قرآن حکیم نے اسی انقلاب کو ان مختصر لفظوں میں بیان فرمایاہے: ’’خدامسلمانوں کا دوست اورساتھی ہے۔ ان کو ہرطرح کی انسانی تاریکیوں سے نکال کر فطرت صالح کی ربانی روشنی میں لاتا ہے مگر کفار کے دوست ان کے طاغوت ہیں جو ان کو خدا کی بخشی ہوئی روشنی سے نکال کر جہل و ضلالت کی اندھیری کی طرف لے جاتے ہیں۔‘‘ یہ ایک عظیم الشان انقلاب تھا جس کی جھلک اسلام کی تمام تعلیمات میں نظرآتی ہے اور مشاہیر پرماتم کرنے کاطریقہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں چنانچہ قدما کی یادگار قائم کرنے اور ان کے اعمال و آثار کے زندہ رکھنے کا جو طریقہ زمانہ قدیم سے چلا آتا تھا، اسلام نے اس میں بھی ایک روحانی انقلاب پیدا کردیا۔ اس نے مسلمانوں کو مجسموں کی شکل میں اسلاف پرستی کی اجازت نہیں دی۔ کیوںکہ وہ بت پرستی تک پہنچ جاتی ہے اوراسلام زندہ انسانوں کے شرف کو پتھروں کے آگے نہیں جھکانا چاہتا، مگر اس نے مشاہیر کرام اور اسلاف صالحین کے نمونوں کے فوائد عظیمیہ کو بھی ضائع ہونے نہ دیا اور ان کے اثر کو اس طرح ہی قائم کردیا کہ ہرمومن کے آگے ان کے عملی زندگی کے نمونے پیش کردیئے اور کہا کہ دن میں پانچ بار جب خدا کے حضور آئو تو صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت مانگو۔ ساتھ ہی تشریح کردی کہ صراط مستقیم انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی راہ علم وعمل ہے اور اس لیے ان کے نمونے ہروقت تمہارے سامنے رہنے چاہئیں ۔ پس ماتم کی رسم پر وحشت نے جن تاریک پردوں کو ڈال کراصل حقیقت کو چھپا دیا تھا اور تمدن وتہذیب نے ان پردوں کو نظر فریب رنگ چڑھا کر جن بصیر توں کو گم کر دیا تھا، اسلام نے ان سب کو چاک چاک کردیا اور مغز حقیقت جن چھلکوں میں چھپا ہوا تھا ان سے نکل کر علانیہ آشکار ہوگیا۔ قرآن حکیم میں انبیائے سابقین کے جو قصص مذکور ہیں ان کے اندر درحقیقت انہی بصائرو حکم کی روح مضمر ہے جو مجسموں کے قالب میں حلول کر کے بالکل بے اثر، اور محض ظاہر فریب ہو جاتی تھی۔ قرآن مجید قدماء واعاظم رجال کی یادگاروں کے قائم کرنے کے اصل مقصد کو اسوۂ حسنہ کے جامع لفظ سے تعبیر کرتا ہے اور مسلمانوں کو جابجا اس پر توجہ دلاتا ہے چنانچہ اس نے حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کے نمونہ حیات کو مسلمانوں کا قبلہ وجوہ و کعبہ انظار قرار دیا۔ ’’تمہارے لیے حضرت ابراہیم کی حیات طیبہ میں اور ان کی زندگی میں جو ان کے ساتھی ہیں، پیروی کیلئے بہترین نمونہ رکھا گیا ہے۔‘‘ اس بناپر اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جو اسلاف پرستی کے صحیح اصول پر اسلامی تعلیم دیتا ہے اور اسی صحیح اصول کے مطابق چاہیے کہ حضرت امام حسینؓ کے واقعہ شہادت کے اندر عزم واستقلال، صبر، ثبات، استبداد شکنی، قیام جمہوریت ، امربالمعروف ونہی عن المنکر کی جو عظیم الشان بصیرتیں موجود ہیں، ان کی یاد کو ہروقت تازہ رکھیں اور کم ازکم سال میں ایک باراس مذہبی قربانی کی روح کو تمام قوم میں جاری وساری کردیں۔ لیکن ان بصیرتوں کے علاوہ حضرت امام حسینؓ کی ذات میں ایک عظیم الشان بصیرت بھی موجود ہے، جس کا سلسلہ مذہب کی ابتدائی تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور اس کی آخری کڑی اسلام کی تکمیل سے جاکر مل جاتی ہے۔ دنیا کی مذہبی تاریخ کی ابتداء عجیب بے کسی کی حالت میں ہوئی۔ ہم نے دنیا کے سخت سے سخت معرکوں میں باپ کو بیٹے کا شریک، بھائی کو بھائی کا حامی ، بی بی کو شوہر کا مددگار پایا ہے، لیکن صرف مذہب ہی کا روحانی عالم دنیا میں ایسا عالم ہے، جہاں باپ کو بیٹے نے، بھائی کو بھائی نے، شوہر کو بی بی نے چھوڑ دیا ہے ، بلکہ ان کی مصیبتوں میں اور بھی اضافہ کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ خاندان نبوت ہمیشہ اعزہ واقارب کی اعانت سے محروم رہا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ایک مدت تک شب وروز اپنی قوم کو دعوت توحید دی اور قوم نے فرط بغض وعناد سے ان کی دعوت حق کو رد کردیا، ان سے علیحدگی اختیار کرلی اور کانوں میں انگلیاں تک دے ڈالیں۔ ’’نوح نے عرض کیا، خداوند میں نے شب وروز دعوت حق دی لیکن اس کا الٹا اثر یہ ہوا کہ لوگ مجھ سے اور زیادہ بھاگنے لگے۔ میں نے جب ان کو تیری مغفرت کیلیے پکارا، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ڈالیں، اپنے کپڑوں میں لپٹ گئے کہ ان تک تیری آواز نہ پہنچ جائے، لیکن آہ!یہ حق ناشناس قوم ہمیشہ سخت ہٹ دھرمی اور باطل پرستانہ گھمنڈکا اظہارکرتی رہی‘‘! لیکن اس پیغمبرانہ آواز کی صدائے بازگشت صرف ان کی قوم ہی کے دردودیوار سے ٹکراکرناکامیاب واپس نہیں آئی، بلکہ خود ان کے گھر کے دردودیوار نے بھی اس کو ٹھوکر لگائی اور خاندان نوح کے چشم وچراغ یعنی ان کے بیٹے نے بھی اس نورکو قبول نہ کیا۔ آخری وقت میں نوح علیہ السلام نے پھر اپنے بیٹے کو خدا کی پناہ میں بلایا، لیکن اس وقت بھی اس کا گوش نصیحت آشنا نہ ہوا۔ اس لیے وہ بھی تمام قوم کے ساتھ عذاب الٰہی کی طوفان خیرموجوں میں بہہ گیا۔ ’’اور نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو جو اپنی شامت اعمال کی وجہ سے ان سے علیحدہ تھا۔ پکارا کہ اے بیٹے ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اورکافروں کا ساتھ نہ دے۔ اس نے کہا میں پہاڑ پر چڑھ جائوں گا اور وہ مجھے اس طوفان سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا تو کس ضلالت عقل میں مبتلا ہے؟ آج خدا کے عذاب سے کوئی بھی نہ بچاسکے گا چنانچہ نوح کی پکار کچھ بھی سود مند نہ ہوئی اور اس کے بیٹے کے درمیان موج حائل ہوگئی اور تمام لوگوں کے ساتھ وہ بھی ڈوب گیا۔‘‘ حضرت لوط علیہ السلام کے تمام خاندان نے اگرچہ ان کا ساتھ دیا لیکن خود ان کی بیوی ان سے علیحدہ ہو کر تمام قوم کے ساتھ عذاب الٰہی میں شامل ہو گئی۔ ’’فرشتگان عذاب نے کہا، ہم اس گناہ گار قوم کو اس کے اعمال بد کا نتیجہ دکھلانے کیلیے بھیجے گئے ہیں۔ ہمارے عذاب سے صرف لوط کا خاندان محفوظ رہے گا، اور ان میں سے بھی ان کی بیوی تمام قوم کے ساتھ عذاب الٰہی میں شامل کر لی جائے گی کیونکہ وہ بھی کافرہ ہے۔‘‘ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے خاندان نبوت میں ایک عظیم الشان انقلاب پیدا ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا ان سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بی بی نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی لیکن دور ابراہیمی میں بیٹے نے باپ کی، بی بی نے شوہر کی، بھائی نے بھائی کی دعوت حق پر لبیک کی صدا بلند کی اور اس دعوت کی اشاعت میں جو جو مصیبتیں ان پر پیش آئیں، ان میں برابر کے شریک رہے۔ سب سے پہلے حضرت ہاجرہ نے اس جہاد روحانی کی طرف قدم بڑھایا اور شوہر کے ساتھ اپنے لخت جگر کو ایک ’’وادی غیر ذی زرع‘‘ میں ڈال دیا، جہاں کئی سو میل تک آب و گیاہ کا پتہ نہ تھا، یہ اسی سخت امتحان کی پہلی منزل تھی جس کیلیے خداوند تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو انتخاب کیا تھا؛ چنانچہ جب اس آخری امتحان کا وقت آیا تو انہوں نے باپ کے آگے سر اطاعت خم کر دیا۔ ’’جب اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے تو انہوں نے ایک دن کہا: اے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا تمہیں راہ حق میں ذبح کر رہا ہوں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ تم بھی اس پر غور کرو کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ بیٹے نے بلا تامل کہا اے میرے باپ، اس خواب سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ایک اشارہ ہے۔ پس آپ حکم الٰہی کو پورا کیجئے۔ مجھے انشاء اللہ صبر کرنے والوں اور ثابت قدموں میں سے پایئے گا۔ جب باپ بیٹے (دونوں) خدا کے آگے جھک گئے اور باپ نے ذبح کرنے کیلیے بیٹے کو زمین پر پچھاڑا تو اس وقت ہم نے آواز دی۔ اے ابراہیم! بس کرو، تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، ہم صاحبان احسان کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ دراصل یہ ایک بہت ہی بڑی قربانی تھی جس کی تعمیل کیلیے تم تیار ہو گئے تھے۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی ان کے خاندان کی اعانت ورفاقت شریک رہی؛ چنانچہ جب ان کو شعلہ طور کی زبان نے بشارت نبوی دی تو ان کی بی بی ان کے ساتھ تھیں۔ بلکہ انہیں کیلیے وہ آتش کدہ طور سے آگ لینے گئے تھے۔ ’’جب موسیٰ اپنی بی بی کو لے کر چلے تو ان کو کوہ طور کے دامن میں آگ کی روشنی نظر آئی۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا یہیں ٹھہرو۔ میں نے ایک آگ دیکھی ہے اس کا پتہ لگاتا ہوں، تاکہ تمہارے تاپنے کیلیے آگ حاصل کر سکوں۔‘‘ لیکن وادی ایمن میں جا کر معلوم ہوا کہ یہ آگ کا شعلہ نہ تھا بلکہ وہ ایک برق تھی جو فرعون کے خرمن ظلم و استبداد پر گرنا چاہتی تھی؛ چنانچہ جب خدا نے عصا اور یدبیضا کی صورت میں ان کو یہ صالقہ ہلاکت دیا اور انہوں نے اپنے بھائی ہارون کی اعانت کا سوال کیا، تو خدا نے اس کو پورا کیا۔ ’’خدا نے کہا میں تیرے دست و بازو کو تیرے بھائی کی اعانت سے قوی کر دوں گا اور تم دونوں کو فرعون پر غالب کر دوں گا۔‘‘ چنانچہ حضرت ہارون علیہ السلام نے آغاز کار سے انجام کار تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساتھ دیا اور وہ دعوت موسوی کے ہمیشہ شریک و امین رہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اس سلسلہ کو اور ترقی ہوئی۔ پہلے خدا کے ایک صالح بندے نے اپنے بیٹے کو خدا کی مرضی پر قربان کرنا چاہا تھا لیکن اب وہ وقت آیا کہ خود حضرت مسیح علیہ السلام نے قربانی کے جام مقدس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور ان کیلیے سولی کا جو تختہ تیار کیا تھا، اس کی طرف بلا کسی باک کے بڑھے۔ ’’اور ان لوگوں نے نہ تو عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ پھانسی دی بلکہ ان پر اس قربانی کی حقیقت مشتبہ ہو گئی۔‘‘ لیکن اسلام کے زمانہ تک خدا کی راہ میں جو قربانیاں ہوئی تھیں، وہ محض شخصی حیثیت رکھتی تھیں۔ یعنی انبیاء نے شخصی طور پر خدا کی ذات پر اپنی اولاد کو یا اپنے آپ کو قربان کر دیا تھا۔ جہاد کی یہ ابتدا تھی مگر اس کی تکمیل شریعت، اسلام پر موقوف تھی؛ چنانچہ اسلام نے جس طرح جہاد کی حقیقت کو اور بھی مکمل اور واضح کر دیا، اب تک کسی پیغمبر کے خاندان نے جہاد میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ شخصی طور پر بھی جو قربانیاں کی گئیں وہ راہ ہی میں روک لی گئیں۔ حضرت ابراہیم نے اپنے لخت جگر کو خدا کی نذر کرنا چاہا لیکن اس کا موقع ہی نہ آیا۔ حضرت عیسیٰ سولی کی طرف بڑھے لیکن بچا لیے گئے۔ آج تک تمام خاندان نبوت نے متفقہ طور پر اس میں شرکت بھی نہیں کی تھی اور اس کی نظیر تمام سلسلہ انبیاء میں نہیں نظر آتی تھی کہ صرف بھائی، صرف بیٹا، صرف بیوی ہی نے مقصد نبوت میں ساتھ نہ دیا ہو بلکہ لاتمیز خاندان نبوت کے اکثر اعضاء و ارکان راہ حق میں قربان ہوئے ہوں۔ یزید کی شخصی خلافت کی بیعت کیلیے جو ہاتھ بڑھے تھے، وہ اسلام کی جمہوریت کا قلع قمع کرنا چاہتے تھے اور مذہب کی قربانیاں صرف امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہی کیلیے ہوا کرتی تھیں۔ اس لیے جب اسوۂ ابراہیمی کے زندہ کرنے کا ٹھیک وقت آ گیا تو خاندان نبوت کے زن و مرد، بال، بچے، غرض ہر فرد نے اس میں حصہ لیا اور جن قربانیوں کے پاک خون سے زمین کی آغوش اب تک خالی تھی ان سے کربلا کا میدان رنگ گیا۔ پس حضرت حسین ؓ کا واقعہ کوئی شخصی واقعہ نہیں ہے۔ اس کا تعلق صرف اسلام کی تاریخ ہی سے نہیں بلکہ اسلام کی اصل حقیقت سے ہے۔ یعنی وہ حقیقت جس کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذات سے ظہور ہوا تھا اور وہ بتدریج ترقی کرتی ہوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات تک پہنچ کر گم ہو گئی تھی اس کو حضرت حسینؓنے اپنی سرفروشی سے مکمل کر دیا۔ خاندان نبوت دنیا کے آباد کرنے کیلیے ہمیشہ اجڑتا رہا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت کی، حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے گھر بار چھوڑا، حضرت عیسی علیہ السلام نے جہاں گردی کی اور نبوت محمدیؐ کے متبعین میں سے حضرت حسین ؓ نے میدان کربلا کے اندر اس خانہ ویرانی کو مکمل کر دیا۔

 

مولاناابوالکام آزاد

حضرت علی کے دیگر خلفاء سے تعلقات

۱۔کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی؟
اس معاملے میں جو تاریخی روایات بیان ہوئی ہیں اور یہ تین طرح کی ہیں:
• پہلی قسم کی روایات کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوری رضا و رغبت کے ساتھ اگلے دن ہی بیعت کر لی تھی۔
• دوسری قسم کی روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے کچھ پس و پیش کیا تھا لیکن دیگر صحابہ کے سمجھانے پر کچھ ہی عرصہ بعد بیعت کر لی تھی۔
• تیسری قسم کی روایات مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ خود خلیفہ بننا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے بیعت سے انکار کر دیا تھا اور حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا اور ان کا دروازہ جلا دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر بھی تشدد کیا جس سے ان کا حمل ضائع ہوا اور حضرت علی کو مجبور کر کے ان سے بیعت لی گئی۔ اس کے بعد پہلے تین خلفاء راشدین کے زمانے میں خفیہ سازشوں میں مصروف رہے اور ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کرتے رہے۔
پہلے گروپ کی روایات
برضا و رغبت بیعت والی روایتیں متعد دہیں اور یہاں ہم انہیں پیش کر رہے ہیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ , ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ , ثنا وُهَيْبٌ , ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ , ثنا أَبُو نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بعتَ لنے کے لےن منبر پر چڑھے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت علی موجود نہ تھے۔ آپ نے ان کے بارے میں پوچھا۔ انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہیں بلا لائے۔ جب وہ آئے تو ان سے فرمایا: “اے رسول اللہ کے چچا زاد بھائی اور داماد! کان آپ مسلمانوں کے عصا (طاقت) کو توڑنا پسند کریں گے؟” انہوں نے بھی ییُ کہا: “اے رسول اللہ کے خلفہہ! مجھے ملامت نہ کے زا۔” اور پھر ان کی بعتم کر لی۔ پھر آپ نے دیکھا کہ حضرت زبری رضی اللہ عنہ غر حاضر ہںْ۔ آپ نے انہںا بلا بھجا ۔ جب حضرت زبرو آئے تو ان سے فرمایا: “اے رسول اللہ کے پھوپھی زاد بھائی اور آپ کے حواری! کاد آپ مسلمانوں کے عصا (طاقت) کو توڑنا پسند کریں گے؟ ” انہوں نے کہا: “اے رسول اللہ کے خلفہس! مجھے ملامت نہ کےیتں۔ ” پھر کھڑے ہو کر انہوں نے بعتم کر لی۔( بیہقی۔ الاعتقاد الی سبیل الرشاد۔ باب اجتماع المسلمین علی بیعۃ ابی بکر۔ حدیث 325۔ بلاذری، انساب الاشراف۔ 2/267)
حدثنا عبيد الله بن سعد ، قال : أخبرني عمي ، قال : أخبرني سيف ، عن عبد العزيز بن ساه ، عن حبيب بن أبي ثابت: حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ کسی نے انہیں بتایا کہ مسجد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیعت لے رہے ہیں۔ اس وقت حضرت علی نے محض ایک طویل کرتا پہن رکھا تھا اور تہمد نہ باندھ رکھا تھا ۔ آپ دیر ہو جانے کے خوف سے اٹھے اور بغیر تہمد باندھے بھاگم بھاگ مسجد میں پہنچے اور بیعت کر کے صدیق اکبر کے پاس بیٹھ گئے۔ اس کے بعد آپ نے گھر سے بقیہ لباس منگوا کر پہنا۔( ابن جریر طبری۔ حدیث سقفہن۔ 11H/2/1-410)
محمد بن سعد، ثنا محمد بن عمر الواقدي، عن أبي معمر، عن المقبري، و يزيد بن رومان مولى آل زبير، عن ابن شهاب: (سقیفہ کے واقعہ کے بعد) حضرت علی نے ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا: “ابوبکر! آپ جانتے نہیں کہ اس معاملے (مشورہ) میں ہمارا بھی حق تھا؟” انہوں نے فرمایا: “جی ہاں، لیکن مجھے انتشار کا خوف تھا اور مجھ پر بڑا معاملہ آن پڑا تھا۔” علی نے فرمایا: “میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز کی امامت کا حکم دیا تھا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ غار (ثور) میں ثانی اثنین ہیں۔ ہمارا حق تھا (کہ ہم سے مشورہ کیا جائے) لیکن ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ بہرحال اللہ تعالی آپ کو معاف کرے۔” یہ کہہ کر انہوں نے بیعت کر لی۔ ( بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 2/263)
حدثن عن الحسن بن عرفة، عن علي بن هشام بن اليزيد، عن أبيه، عن أبي الجحاف: جب ابو بکر کی لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ نے کھڑے ہو کر تین بار اعلان کیا: “اے لوگو! (اگر آپ چاہیں) تو میری بیعت کو ختم کر سکتے ہیں۔” علی نے کہا: “خدا کی قسم، ہم نہ تو آپ کی بیعت کو ختم کریں گے اور نہ ہی آپ کو استعفی دینے دیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں آپ کو امام بنایا تھا تو پھر کون ہے جو (دنیاوی امور کی امامت) میں آپ سے آگے بڑھے؟” ( ایضاً ۔ 2/270)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی اور زبیر رضی اللہ عنہما نے برضا و رغبت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی۔ بعد میں پہلے تینوں خلفاء کے دور میں وہ جس طرح امور حکومت میں پوری دلجمعی کے ساتھ شریک رہے، اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پوری رضا و رغبت سے بیعت کی تھی۔ سند کے اعتبار سے ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت سب سے زیادہ مستند ہے۔ بقیہ روایتیں اگرچہ سند کے اعتبار سے کمزور ہیں تاہم حضرت علی ا ور زبیر نے پہلے تینوں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے ساتھ جو طرز عمل اختیار کیا، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایتیں بالکل درست ہیں۔
دوسرے گروپ کی روایات
بیعت میں پس و پیش کرنے سے متعلق روایات کے مطابق سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باغ فدک کی وراثت کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ ایک باغ تھا جس کی آمدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان پر خرچ ہوتی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ باغ سرکاری ملکیت ہے، جس کی وجہ سے اس کی وراثت تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ہاں ا س کی آمدنی میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کو حصہ ملتا رہے گا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس بات پر ناراض ہو گئیں اور چھ ماہ بعد اپنی وفات تک انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات نہیں کی۔ باغ فدک کی روایت یہ ہے:
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب قال: أخبرني عروة بن الزبير: أن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أخبرته : سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آپ کی میراث تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے بطور فئی (وہ مال غنیمت جو جنگ کے بغیر حاصل ہو) دیا تھا۔ ابوبکر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہمارا (انبیا کا) ورثہ تقسیم نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔” (ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ) فاطمہ رضی اللہ عنہاغضب ناک ہو گئیں اور ابوبکر کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ پھر وہ ان سے اپنی وفات تک نہ ملیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔( بخاری۔ کتاب خمس۔ حدیث 2926)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں چھ ماہ بند رہے اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی ۔ سیدہ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ان کے پاس گئے اور ان سے گفت و شنید کی۔ دونوں نے ایک دوسرے کے فضائل بیان کیے اور اس کے بعد حضرت علی نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی۔ روایت کچھ یوں ہے:
حدثنا أبو صالح الضرار ، قال : حدثنا عبد الرزاق بن همام ، عن معمر ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة : حضرت فاطمہ اور عباس ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فدک اور خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ ہے، وہ ہمیں دیا جائے۔ ابوبکر نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہمارے املاک میں ورثہ نہیں، جو ہم چھوڑتے ہیں، وہ صدقہ ہے تو ضرور یہ املاک آل محمد کو مل جاتیں۔ ہاں اس کی آمدنی میں سے آپ کو بھی ملے گا۔ بخدا میں ہر اس بات پر عمل کروں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے۔
(زہری نے) بیان کیا کہ اس واقعے کی وجہ سے فاطمہ نے پھر وفات تک اس معاملے سے متعلق ابوبکر سے کوئی بات نہیں کی اور قطع تعلق کر لیا۔ جب فاطمہ کا انتقال ہوا تو علی نے رات میں ان کو دفن کر دیا اور ابوبکر کو نہ تو ان کی وفات کی اطلاع دی اور نہ دفن میں شرکت کی دعوت دی۔ فاطمہ کی وفات کے بعد ان لوگوں کا خیال علی کی طرف پلٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ فاطمہ اور زندہ رہیں اور پھر انہوں نے وفات پائی۔
معمر کہتے ہیں کہ زہری سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا علی نے چھ مہینے تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں کی اور جب تک انہوں نے نہیں کی ، تو بنو ہاشم میں سے کسی نے نہیں کی۔ مگر فاطمہ کی وفات کے بعد جب علی نے دیکھا کہ لوگوں کا وہ خیال باقی نہیں رہا، جو فاطمہ کی زندگی میں تھا تو وہ ابوبکر سے مصالحت کے لیے جھکے اور انہوں نے ابوبکر کو کہلا بھیجا کہ مجھ سے تنہا آ کر ملیے اور کوئی ساتھ نہ ہو۔ چونکہ عمر سخت طبیعت کے آدمی تھے، علی کو یہ بات گوارا نہ تھی کہ وہ بھی ابوبکر کے ساتھ آئیں۔ عمر نے ابوبکر سے کہا کہ آپ تنہا بنو ہاشم کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر نے کہا: “نہیں، میں تنہا جاؤں گا۔ مجھے اس کی توقع نہیں کہ میرے ساتھ کوئی بدسلوکی کی جائے گی۔” ابوبکر، علی کے پاس آئےتو تمام بنو ہاشم جمع تھے۔ علی نے کھڑے ہو کر تقریر کی ۔ اس میں حمد و ثنا کے بعد کہا: ’’اے ابوبکر! آج تک ہم نے آپ کے ہاتھ پر جو بیعت نہیں کی، اس کی وجہ آپ کی کسی فضیلت سے انکار یا اللہ کی آپ کو دی گئی بھلائیوں پر حسد نہ تھا۔ بلکہ ہم اس خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے مگر آپ نے زبردستی اسے ہم سے لے لیا۔‘‘ اس کے بعد علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت اور اپنے حق کو بیان کیا۔ علی نے ان باتوں کو تفصیل سے بیان کیا یہاں تک کہ ابوبکر رو پڑے۔ علی جب خاموش ہوئے تو ابوبکر نے تقریر شروع کی۔ کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالی کے شایان شان حمد و ثنا کے بعد انہوں نے کہا: “واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء مجھے اپنے رشتہ داروں کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہیں۔ میں نے ان املاک کے متعلق جو میرے اور آپ کے درمیان اختلاف کا باعث بنی ہیں، میں صرف واجبی کمی کی تھی۔ نیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت نہیں جو ہم چھوڑیں۔ وہ صدقہ ہے۔ ہاں اس کی آمدنی میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا رہے گا اور میں اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ کسی بات کا ذکر کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو اور خود اس پر عمل نہ کروں۔ “
علی نے کہا: “اچھا! آج شام ہم آپ کی بیعت کریں گے۔” ظہر کی نماز کے بعد ابوبکر نے منبر پر سب کے سامنے تقریر کی اور بعض باتوں کی علی سے معذرت کی۔ پھر علی کھڑے ہوئے او رانہوں نے ابوبکر کے حق کی عظمت اور ان کی فضیلت اور اسلام میں پہلے شرکت کا اظہار اور اعتراف کیا اور پھر ابوبکر کے پاس جا کر ان کی بیعت کی۔ ( طبری۔ ایضا۔ 11H/2/1-411)
اس واقعے کا تجزیہ دو اعتبار سے کیا جا سکتا ہے، ایک سند کے اعتبار سے اور دوسرا درایت کے اعتبار سے اور دونوں اعتبار سے اس میں کچھ مسائل موجود ہیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام روایتوں کی سند میں دیکھیے تو ان میں ابن شہاب الزہری (58-124/678-742) موجود ہیں۔ محدثین کے نزدیک زہری ایک جلیل القدر محدث اور قابل اعتماد راوی ہیں تاہم ان کے ساتھ کچھ مسائل موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ احادیث میں “ادراج ” کیا کرتے تھے۔ ادراج کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرتے ہوئے اس میں اپنی جانب سے تشریحی جملے شامل کر دیے جائیں۔ اس پر زہری کو ان کے معاصر ربیعہ کہتے تھے کہ وہ ایسا نہ کریں کیونکہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ہے۔ اگر ایسا کرنا ضروری بھی ہو تو اسے الگ سے بیان کریں تاکہ ان کی رائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات میں مل نہ جائے۔( بخاری۔ التاریخ الکبیر۔ راوی نمبر 976۔ 3/135۔ http://www.almeshkat.net (ac. 28 Apr 2007) )۔ دوسرے یہ کہ وہ “تدلیس” کیا کرتے تھے یعنی حدیث کی سند میں اگر کوئی کمزوری ہو تو اسے چھپا لیتے تھے۔
باغ فدک سے متعلق جتنی بھی روایات ہیں، ان سب کو اگر اکٹھا کر لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراضی کا ذکر صرف انہی روایات میں ملتا ہے جن کی سند میں زہری موجود ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناراضی والی بات زہری کا ادراج (اضافہ) ہے۔ چھ ماہ تک ناراض رہنے والی بات صرف زہری ہی نے بیان کی ہے جو کہ اس واقعہ کے پچاس سال بعد پیدا ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ زہری اس واقعے کے عینی شاہد تو نہیں تھے۔ انہوں نے یہ بات کس سے سنی اور جس سے سنی، وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا؟ ان کے علاوہ کسی اور نے تو یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ مشہور محدثین جیسے بیہقی اور ابن حجر عسقلانی نے بھی زہری کی اس بات کو منقطع قرار دے کر اسے مسترد کیا ہے۔( ابن حجر عسقلانی۔ فتح الباری شرح بخاری۔ 7/495۔ زیر حدیث 4240۔ ریاض: مکتبہ سلفیہ۔)
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ناراضی والی بات درایت کے نقطہ نظر سے بالکل غلط معلوم ہوتی ہے۔ اس میں تو کوئی اشکال نہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے حصول کا خیال گزرا تو انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے بات کی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ، حضرت صدیق اکبر کو جائز حکمران تسلیم کرتی تھیں، تبھی ان کے پاس مقدمہ لے کر گئیں۔ حضرت ابوبکر نے وضاحت فرما دی کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام مال کو صدقہ قرار دیا تھا اور باغ فدک تو ایک سرکاری جائیداد تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت نہ تھی بلکہ حکومت کی ملکیت تھی۔ اس کی صرف آمدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت پر بطور تنخواہ خرچ ہوتی تھی کیونکہ آپ بطور سربراہ حکومت فل ٹائم کام کرتے تھے اور آپ کی آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس کی آمدنی بدستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت پر خرچ ہو گی۔
حضرت ابوبکر نے دلیل سے بات کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو بطور دلیل پیش کیا تھا۔ اگرسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس سے اختلاف ہوتا تو وہ بھی جوابی دلیل پیش کرتیں لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ آپ کی بات کو سمجھ گئی تھیں۔ سیدہ کے زہد و تقوی ، اعلی کردار اور دنیا سے بے رغبتی کو مدنظر رکھا جائے تو آپ سے ہرگز یہ توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ آپ اس بات پر ناراض ہو جائیں گی کہ آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پیش کیا جائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو زہری کی روایت میں کسی اور نے یہ ناراضی والا جملہ شامل کر دیا ہے یا پھر یہ جملہ خود انہوں نے کسی غلط فہمی کے سبب کہہ دیا ہے۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ باغ فدک کے دعوے داروں میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی نظر آتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ یہ بات بالکل معروف اور متعین ہے کہ قرآن مجید کے قانون وراثت کی رو سے چچا کا میراث میں حصہ نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ان کا دعوی کرنا سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ خاندان کے بزرگ کے طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چلے گئے تھے۔
چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی کو محروم نہ کیا تھا بلکہ ان دونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو بھی اس وراثت سے محروم کیا تھا۔ عام طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بات کو بہت اچھالا گیا ہے لیکن سیدہ عائشہ و حفصہ اور دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا ہے حالانکہ وراثت میں بیوی کا حصہ بھی ہوتا ہے۔
پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہم کو اس کا ٹرسٹی مقرر کر دیا تھا۔ آپ اس کی بطور ٹرسٹ حیثیت کو مانتے تھے تبھی آپ نے اس کا ٹرسٹی بننا قبول کیا۔ اگر باغ فدک واقعی اہل بیت کی ملکیت ہوتا تو آپ کم از کم اپنے دور خلافت میں تو اسے ان کے حوالے کر سکتے تھے۔ ان کا ایسا نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بھی اسے اہل بیت کی ملکیت نہ سمجھتے تھے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس باغ کو مروان بن حکم نے حکومت سے خرید لیا تھا، اس وجہ سے حضرت علی نے ایسا نہ کیا۔ لیکن یہ بات درست نہیں، اگر یہ واقعتاً اہل بیت کا حق تھا تو حضرت علی کو چاہیے تھا کہ وہ اسے اس کے حق داروں تک پہنچاتے اور مروان کو ان کی رقم واپس کروا دیتے۔
چھٹا مسئلہ یہ ہے کہ خود حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پڑپوتے، حضرت زید بن علی بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا: “اگر میں ابوبکر کی جگہ ہوتا تو فدک کے بارے میں وہی فیصلہ کرتا جو انہوں نے کیا تھا۔ ( بیہقی، ایضا۔ حدیث 12744۔ 6/493)
ساتواں مسئلہ یہ ہے کہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے مرد مومن سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ محض ایک باغ کی وجہ سے آپ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہیں اور نماز پڑھنے کے لیے بھی مسجد میں تشریف نہ لائیں؟ آپ نے اسلام کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں، کیا یہ ممکن تھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات جیسے نازک موقع پر پیچھے بیٹھ رہتے جب متعدد عرب قبائل نے بغاوت کا علم بلند کر دیا تھا۔ اگر آپ کو حضرت ابوبکر سے کوئی شکایت تھی تو براہ راست ان کے پاس جا سکتے تھے اور ان سے معاملات پر گفتگو کر سکتے تھے لیکن اس کی بجائے یہ کہنا کہ آپ اٹوانٹی کھٹوانٹی لے کر گھر بیٹھ رہے، یہ بات کسی طرح آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ جب سب کے سب صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت علی ایسا نہ کرتے اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔ حضرت علی کی بیعت نہ کرنے والی روایات دراصل حضرت ابوبکر پر نہیں بلکہ حضرت علی پر بہتان ہیں اور آپ کی کردار کشی کی کوشش ہیں۔
آٹھواں مسئلہ یہ ہے کہ عہد رسالت میں مال غنیمت میں سے جو حصہ بنو ہاشم کے لیے مقرر تھا، اس کی تقسیم کی ذمہ داری حضرت علی ہی کے سپرد تھی۔ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم، برابر اس مال کو حضرت علی ہی کو دیتے رہے جو کہ ان پر اعتماد کی علامت ہے۔ اگر ان کے درمیان عدم اعتماد کی فضا ہوتی تو پھر ایسا نہ ہوتا۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، ثنا يحيى بن أبي بُكير، ثنا أبو جعفر الرَّازي، عن مُطرِّف، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: سمعت عليّاً يقول: حضرت علی نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس کے پانچویں حصے (کی تقسیم) کا ذمہ دار بنایا۔ میں نے اسے رسول اللہ کی حیات طیبہ میں اس کے مخصوص مقامات پر خرچ کیا۔ پھر ابو بکر اور عمر کی زندگی میں بھی اسی طرح ہوتا رہا۔ پھر کچھ مال آیا تو عمر نے مجھے بلایا اور فرمایا: ’’لے لیجیے۔‘‘ میں نے کہا: ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’لے لیجیے، آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے (کہ پہلے ہی ہمارے پاس کافی مال ہے، کسی ضرورت مند کو دے دیجیے۔)‘‘ چنانچہ انہوں نے اسے بیت المال میں جمع کر دیا۔‘‘( ابو داؤد۔ سنن۔ کتاب الخراج و الفئی و الامارہ۔ حدیث 2983)
نواں مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں متعدد ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن کے مطابق صدیق اکبر رضی اللہ عنہ برابر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عیادت کے لیے تشریف لاتے رہے۔ جب سیدہ کا انتقال ہوا تو حضرت علی نے اصرار کر کے حضرت ابوبکر ہی کو نماز جنازہ پڑھانے کے لے کہا ۔ سیدہ فاطمہ کو غسل حضرت ابوبکر کی اہلیہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہم نے دیا۔ اب اگر روایات ہی کو ماننا ہے تو پھر ان روایات کو کیوں نہ مانا جائے جو اصحاب رسول اور اہل بیت اطہار کے کردار کے عین مطابق ہیں۔ روایات یہ ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِىُّ بِنَيْسَابُورَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ: شعبی کہتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ بیمار ہوئیں تو ابوبکر صدیق ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ علی نے کہا: “فاطمہ! یہ ابوبکر آئے ہیں اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں؟” انہوں نے کہا: “آپ کیا انہیں اجازت دینا چاہتے ہیں؟” فرمایا: “ہاں۔” انہوں نے اجازت دے دی تو ابوبکر اندر داخل ہوئے اور سیدہ کو راضی کرنے کی کوشش کی اور فرمایا: “واللہ! میں نے اپنا گھر، مال، اہل و عیال اور خاندان کو صرف اللہ اور اس کے رسول اور آپ اہل بیت کی رضا ہی کے لیے چھوڑا تھا۔ ” پھر وہ انہیں راضی کرتے رہے یہاں تک کہ سیدہ ان سے راضی ہو گئیں۔ ( بیہقی۔ سنن الکبری۔ حدیث 12375۔ 6/491۔ http://www.waqfeya.com (ac. 17 May 2005) )
حافظ ابن کثیر (701-774/1301-1372) نے پہلی اور دوسری قسم کی روایات کو تطبیق (Reconcile) دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہی میں کر لی تھی۔ باغ فدک کی وجہ سے سیدہ رضی اللہ عنہا کے ذہن میں کچھ کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ کشیدگی کا پیدا ہو جانا ایک انسانی معاملہ ہے جو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے خواہ وہ کتنا ہی بلند رتبہ کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب بیمار پڑیں تو ان کی تیمار داری کے باعث حضرت علی زیادہ باہر نہ نکلے ۔ دوسرے یہ کہ آپ قرآن مجید کو نزولی ترتیب سے جمع کرنا چاہتے تھے جو کہ ایک علمی نوعیت کی کاوش تھی۔ اس بات کی تائید بلاذری کی اس روایت سے ہوتی ہے:
حدثنا سلمة بن الصقر، وروح بن عبد المؤمن قالا: ثنا عبد الوهاب الثقفي، أنبأ أيوب، عن ابن سيرين قال: ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابوبکر نے علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: “کیا آپ میرے امیر بننے کو ناپسند کرتے ہیں؟” انہوں نے کہا: “نہیں۔ اصل میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ قسم کھائی ہے کہ جب تک میں قرآن مجید کو نزولی ترتیب سے جمع نہ کر لوں، اس وقت تک باہر نہ آؤں گا۔ (بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 2/269)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے باہر نہ نکلنے سے بعض لوگوں کو گمان گزرا کہ ان حضرات میں کچھ ناراضگی موجود ہے حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے گھر آ کر انہیں راضی کر چکے تھے۔ صدیق اکبر کا فیصلہ شریعت کے عین مطابق تھا تاہم انہوں نے پھر بھی سیدہ کی دلجوئی کی جس سے آپ کی اہل بیت کے لیے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان کے نقطہ نظر کو قبول کیا اور ان سے راضی ہو گئیں۔ (ابن کثیر۔ البدایہ و النہایہ۔ 5/389 )۔ آپ کے انتقال کے بعد حضرت علی نے اس وجہ سے علی الاعلان صدیق اکبر کی دوبارہ بیعت کی تاکہ لوگوں کی غلط فہمی دور ہو جائے اور انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ اصحاب رسول میں کوئی ناراضی نہیں ہے اور وہ یکجان کئی قالب ہیں۔ اس ضمن میں بلاذری نے یہ روایت بیان کی ہے جس سے اس سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کردار واضح ہوتا ہے۔
المدائني، عن عبد الله بن جعفر، عن أبي عون: ابو عون کہتے ہیں کہ جب عربوں نے ارتداد اختیار کیا تو عثمان، علی کے پاس گئے اور علی کہنے لگے: “میرے چچا زاد بھائی! کوئی بھی مجھ سے ملنے نہیں آیا۔” عثمان نے کہا: “یہ دشمن (مرتدین) ہیں اور آپ نے بیعت نہیں کی۔” عثمان، علی کے پاس اس وقت تک بیٹھے رہے جب تک کہ وہ ان کے ساتھ چل نہ پڑے اور ابوبکر کے پاس آ نہ گئے۔ ابوبکر انہیں دیکھ کر کھڑے ہوئے اور ان سے گلے ملے۔ اس کے بعد یہ دونوں حضرا ت روئے اور علی نے ابوبکر کی بیعت کر لی۔ لوگ اب جنگ کے لیے تیار ہو گئے اور لشکر روانہ کیے گئے۔ ( بلاذری۔ 2/570)
تیسرے گروپ کی روایات
جبراً بیعت لی جانے والی روایات روایات بالعموم اہل تشیع کی کتب میں آئی ہیں۔ ان کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے انکار کر دیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور دروازہ جلا دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آگے آئیں تو انہیں گرا دیا جس سے ان کا حمل ضائع ہو گیا اور ان کی پسلی ٹوٹ گئی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مجبور کر کے ان سے زبردستی بیعت لی۔ جبری بیعت والی روایات زیادہ تر ابو مخنف لوط بن یحیی (d. 157/774) سے مروی ہیں جن کا صحابہ کرام کے بارے میں تعصب مشہور ہے اور صحابہ کی کردار کشی سے متعلق جتنی روایات ہمیں ملتی ہیں، ان کا زیادہ تر حصہ انہی سے منقول ہے۔ ابو مخنف سے ہٹ کر صرف ایک روایت ایسی ملتی ہے جو بلاذری نے نقل کی ہے:
المدائني، عن مسلمة بن محارب، عن سليمان التيمي، وعن ابن عون: ابوبکر نے علی کو پیغام بھیجا کہ وہ آ کر بیعت کریں۔ انہوں نے بیعت نہ کی۔ عمر ان کے گھر آئے اور ان کے ہاتھ میں ایک مشعل تھی۔ فاطمہ گھر کے دروازے پر آئیں اور کہنے لگیں: “ابن خطاب! کیا آپ میرے گھر کا دروازہ جلا دیں گے؟” انہوں نے کہا: “ہاں۔ یہ اس سے زیادہ مضبوط طریقہ ہے جو آپ کے والد لے کر آئے تھے۔” اتنے میں علی آ گئے اور انہوں نے بیعت کر لی اور کہا: “میرا تو ارادہ صرف یہ تھا کہ میں اس وقت تک گھر سے نہ نکلوں جب تک کہ قرآن جمع نہ کر لوں۔( ایضاً ۔ 2/268)
اس روایت میں سند میں دو مسائل ہیں:
• مسلمہ بن محارب کے حالات نامعلوم ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کس درجے کے قابل اعتماد راوی ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمہ بن محارب کو مشہور ماہر جرح و تعدیل، ابن حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ یہ ابن حبان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن ان کے علاوہ کسی اور ماہر جرح و تعدیل نے مسلمہ بن محارب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ زیادہ معروف راوی نہیں تھے، جس کی وجہ سے ماہرین کو ان کے حالات کا زیادہ علم نہیں ہو سکا ہے۔
یہ روایت ابن عون بیان کر رہے ہیں جو کہ (d. 151/768) میں فوت ہوئے۔( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلاء۔ شخصیت نمبر 3328۔ ص 2451۔ )
اگر ابن عون کی عمر کو سو سال بھی مان لیا جائے، تب بھی وہ اس واقعے کے عینی شاہد نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ابن عون نے یہ واقعہ کس سے سنا اور جس سے سنا، وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا؟
اس ایک روایت کے علاوہ کسی اور ذریعے سے یہ روایات نہیں ملتی ہیں۔ جس شخص نے بھی جبری بیعت کی یہ روایت گھڑی ہے، اس نے نہ صرف حضرات ابوبکر و عمر بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہم کی شہرت کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسی باتوں کو آپ سے منسوب کیا ہے جو آپ کے شایان شان نہیں ہیں۔ حضرت علی کی شجاعت ضرب المثل ہے۔ کیا ایسا ممکن تھا کہ کوئی آ کر آپ کے گھر پر حملہ کرے اور خاتون جنت کے ساتھ گستاخی کرے اور حضرت علی اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں اور پھر سر جھکا کر بیعت بھی کر لیں؟ ہمارے دور کا کوئی غیرت مند شوہر ایسا برداشت نہ کرے گا، کجا سیدنا علی شیر خدا جیسے عظیم بہادر کے بارے میں یہ تصور کیا جائے؟ روایت کے الفاظ پر غور کیجیے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ کسی طرح بھی آپ کے شایان شان نہیں ہے۔
اب یہ ہر شخص کے اپنے ضمیر پر ہے۔ چاہے تو ان منقطع اور جھوٹی روایتوں کو مانے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بدگمان رہے اور چاہے تو ان روایتوں کے جھوٹ کو جھوٹ مانے اور صحابہ کرام سے متعلق اپنا دل صاف رکھے۔ پہلی صورت میں پھر اسے یہ بھی ماننا ہو گا کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ناکام رہی اور آپ پر جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے آپ کی وفات کے فوراً بعد آنکھیں پھیر لیں اور آپ کے خاندان پر ظلم و ستم ہوتا دیکھتے رہے۔ جو شخص یہ سوچنا چاہے، سوچے لیکن پھر اسے پھر ان ہزاروں روایات کی توجیہ بھی پیش کرنا ہو گی جن میں اصحاب رسول اور اہل بیت کی باہمی محبت اور تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ محبت والی روایتیں ، بغض والی روایتوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ کوئی غیر متعصب غیر مسلم مورخ بھی انہیں نظر انداز کر کے صرف بغض والی روایتوں کو قبول نہیں کر سکتا ہے۔ ان میں سے متعدد روایات ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ ایک اور روایت پیش خدمت ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عْن أَبِيهِ أَسْلَمَ: اسلم عدوی روایت کرتے ہیں: “جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو علی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پا س آئے اور ان سے مشورہ کرنے لگے۔ اس بات کا علم جب عمر رضی اللہ عنہ کو ہوا تو وہ سیدہ کے گھر آئے اور کہنے لگے: “اے رسول اللہ کی بیٹی! ہمارے نزدیک تمام مخلوق میں آپ کے والد سے بڑھ کر کوئی محبت و عقیدت کے لائق نہیں ہے اور آپ کے والد کے بعد کوئی آپ سے بڑھ کر عقیدت کے لائق نہیں ہے۔ ” یہ کہہ کر انہوں نے سیدہ سے گفتگو کی۔ سیدہ نے علی اور زبیر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: “آپ دونوں پلٹ کر ہدایت پا لیجیے۔” یہ دونوں واپس پلٹے اور جا کر (ابوبکر کی) بیعت کر لی۔ ( ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ جلد 21۔ حدیث 38200۔ http://www.almeshkat.net (ac. 23 Feb 2008) )
درایت کے اعتبار سے بھی حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہما پر یہ الزام غلط ہے۔ بے شمار روایات سے معلوم ہے کہ پہلے تینوں خلفاء راشدین کے دور میں حضرت علی ان کے ساتھ رہے، ان کے ساتھ امور سلطنت میں ہاتھ بٹایا اور ان کے ساتھ خیر خواہی کا رویہ اختیار کیا۔ حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اسماء بنت عمیس سے حضرت علی نے شادی کی۔ حضرت ابوبکر کے ان سے ایک بیٹے تھے جن کا نام محمد بن ابی بکر تھا۔ ان کی پرورش حضرت علی نے اپنے بیٹوں کی طرح کی۔ اگر آپ پر جبر و تشدد کر کے بیعت لی گئی ہوتی تو کیا آپ یہ سب کچھ کر سکتے تھے؟ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے بطور تقیہ ایسا کیا تو یہ معاذ اللہ حضرت علی پر ایک تہمت ہو گی کہ آپ دل سے جس بات پر قائل نہیں تھے، اس کے لیے آپ نے پوری جانفشانی سے جدوجہد کی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب یروشلم کی فتح کے لیے خود شام گئے تو اپنے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کو قائم مقام خلیفہ بنا کر گئے جو کہ ان پر اندھے اعتماد کی علامت ہے۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ چاہتے تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اقتدار پر قبضہ کر سکتے تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ نہج البلاغہ کی روایت کے مطابق جب حضرت عمر ایران کو فتح کرنے کے لیے خود جانا چاہتے تھے تو حضرت علی نے خود انہیں روکا۔ حضرت علی نے اپنے بیٹوں کے نام ابو بکر ، عمر اور عثمان رکھے،( مصعب الزبیری (156-236/773-851)۔ نسب قریش۔ باب ولد علی بن ابی طالب۔ 42, 43۔ http://www.waqfeya.com (ac. 14 Aug 2012))۔ جو ان تینوں خلفاء سے ان کی محبت کی علامت ہے اور ان میں سے دو بیٹے ابوبکر اور عثمان سانحہ کربلا میں شہید ہوئے۔( ابن حزم۔ جمہرۃ الانساب۔ 38۔ قاہرہ: دار المعارف)۔ اگر حضرت علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر جبر و تشدد کیا گیا ہوتا تو کیا اس کا امکان تھا کہ آپ پہلے خلفاء کے ساتھ اتنے خلوص اور محبت سے پیش آتے؟
۲۔حضرات ابوبکر و عمر کے دورمیں حضرت علی کا کردار کیا تھا؟
حضرت علی، حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے دور میں مرکزی کابینہ کے رکن تھے۔ اس کابینہ میں ان کے علاوہ حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ، زبیر، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔( ابن سعد۔ 2/302۔ باب اہل العلم و الفتوی من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ )۔ تمام معاملات مشورے سے طے کیے جاتے تھے جس میں حضرت علی پوری دیانتداری سے شریک ہوتے اور ان کے مشورے کو بے پناہ اہمیت دی جاتی۔ یہاں ہم چند مثالیں پیش کر رہے ہیں:
1۔ مرتدین کے خلاف جنگ کے لیے صدیق اکبر بذات خود نکلے تو حضرت علی رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ کہہ کر روکا: ’’اے خلیفہ رسول اللہ! آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ اب میں آپ کو وہی بات کہوں گا جو احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فرمائی تھی۔ اپنی تلوار نیام میں رکھیے اور اپنی ذات کے متعلق ہمیں پریشانی میں مبتلا نہ کیجیے۔ اللہ کی قسم! اگر آپ کے ذات کے سبب ہمیں کوئی مصیبت پہنچی تو آپ کے بعد اسلام کا یہ نظام درست نہ رہ سکے گا۔‘‘( ابن کثیر ۔ 11H/9/446۔ بحوالہ دار قطنی۔ ابن عساکر 30/316۔ بیروت: دار الفکر۔ )
2۔ غزوہ روم کے موقع پر حضرت علی مشورہ میں شریک ہوئے اور بہترین رائے دی جسے حضرت ابوبکر نے پسند کیا۔
3۔ مرتدین کی جانب سے مدینہ پر حملے کا خظرہ ہوا تو حضرت ابوبکر نے مدینہ آنے والے راستوں پر لشکر مقرر کیے جن کے سربراہ حضرت علی، زبیر، طلحہ اور عبداللہ بن مسعود تھے۔ رضی اللہ عنہم۔( طبری۔ 11H/2/2-54)
4۔ حضرت علی، عہد فاروقی میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔( ابن سعد۔ 2/93۔ باب علی بن ابی طالب۔ ابن کثیر۔ 13H/9/602۔ )
6۔ حضرت عمرنے ارادہ کیا کہ ایران کی جنگوں میں وہ خود قیادت کریں۔ حضرت علی نے انہیں منع کیا اور کہا: ’’ ملک میں نگران کی منزل مہروں کے اجتماع [تسبیح] میں دھاگے کی ہوتی ہے کہ وہی سب کو جمع کیے رہتا ہے اور وہ اگر ٹوٹ جائے تو سارا سلسلہ بکھر جاتا ہے اور پھر کبھی جمع نہیں ہو سکتا ہے۔ آج عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی بنا پر کثیر ہیں اور اپنے اتحاد و اتفاق کی بنا پر غالب آنے والے ہیں۔ لہذا آپ مرکز میں رہیں اور اس چکی کو انہی کے ذریعہ گردش دیں اور جنگ کی آگ کا مقابلہ انہی کو کرنے دیں۔ آپ زحمت نہ کریں کہ اگر آپ نے اس سرزمین کو چھوڑ دیا تو عرب چاروں طرف سے ٹوٹ پڑیں گے اورسب اس طرح شریک جنگ ہو جائیں گے کہ جن محفوظ مقامات کو آپ چھوڑ کر گئے ہیں ، ان کا مسئلہ جنگ سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔ان عجمیوں نے اگر آپ کو میدان جنگ میں دیکھ لیا تو کہیں گے کہ عربیت کی جان یہی ہے۔ اس جڑ کو کاٹ دیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راحت مل جائے گی اور اس طرح ان کے حملے شدید تر ہو جائیں گے اور وہ آپ میں زیادہ ہی طمع کریں گے۔۔‘‘( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خطبہ نمبر 146۔ طبری۔ 21H/3/1-139)
7۔ حضرت عمر نے دو مرتبہ شام کا سفر کیا تو دونوں مرتبہ قائم مقام خلیفہ حضرت علی کو بنا کر گئے۔ ( ابن کثیر۔ 9/656۔ طبری۔ 17H/3/1-75)
کتب حدیث و آثار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بے شما رمواقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق فیصلہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے پہلے دونوں خلفاء کے دور میں پوری طرح ان کا ساتھ دیا اور حکومتی معاملات میں شریک رہے۔ اگلے باب میں ہم بیان کریں گے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں تو آپ نائب خلیفہ تھے۔
۳۔حضرت علی اورصحابہ کرام کی موجودگی میں باغیوں نے حضرت عثمان کو شہید کیسے کر دیا؟
تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علی، طلحہ، زبیر، سعداور دیگر بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں حضرت عثمان کو باغیوں نے شہید کیسے کر دیا؟
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پالیسی کہ مہاجرین کو مدینہ سے منتقل نہ ہونے دیا جائے، میں تبدیلی کے باعث مہاجرین و انصار کی ایک بڑی تعداد دوسرے شہروں میں منتقل ہو چکی تھی۔ باغیوں نے حملے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا، جب مسلمانوں کی کثیر تعداد حج کے لیے روانہ ہو چکی تھی۔ ان باغیوں کی تعداد اگرچہ دو یا تین ہزار سے زائد نہ تھی لیکن ان کے مقابلے پر مدینہ میں بھی سات سو کے قریب افراد موجود تھے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرام تو اپنے سے کئی گنا بڑی فوج سے ٹکرا جایا کرتے تھے، اس وقت ان سات سو افراد نے مقابلہ کیوں نہ کیا؟ اس کی سب سے بڑی وجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حلم تھا۔ آپ کسی کو یہ اجازت دینے کو تیار نہ تھے کہ آپ کی جان بچانے کے لیے باغیوں پر حملے میں پہل کی جائے۔ حضرت علی، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم نے بارہا آپ سے مقابلے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ان حضرات نے اپنے جواں سال بیٹوں حضرت حسن، حسین، محمد بن طلحہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو آپ کے گھر پر پہرے پر مقرر کیا لیکن حضرت عثمان نے انہیں خدا کے واسطے دے دے کر لڑائی نہ کرنے پر مجبور کیا۔ اہل مدینہ آپ کے پاس اکٹھے ہو کر گئے کہ آپ باغیوں کا مقابلہ کرنے کی اجازت دیں لیکن آپ نے قسمیں دے کر انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ ( ایضاً ۔ 3/1-440)
یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات آپ کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ پھر جب حملہ آوروں نے آپ کے گھر پر حملہ کیا، تو حضرت حسن ، عبداللہ بن زبیر، محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہم دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ایک موقع پر انہی حضرات نے باغیوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور اس میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ زخمی بھی ہوئے۔ اس کے بعد قاتلین دیوار پھاند کر آئے اور آپ کو شہید کر دیا۔ جب تک ان حضرات کو خبر ہوتی، قاتل اپنا کام کر کے جا چکے تھے۔
تاریخ کے طالب علموں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عثمان نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب ہابیل اور قابیل کے قصے میں ہے۔ جیسے قابیل نے جب ہابیل کو قتل کی دھمکی دی تو انہوں نے یہ کہا تھا : لَئِنْ بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِي إِلَيْكَ لأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. “تم اگر مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاؤ گے تو میں تمہیں قتل کرنے کے لیے (پہلے) اپنا ہاتھ نہ اٹھاؤں گا کیونکہ میں اللہ، رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔”( المائدہ 5:28)۔ یہی ہابیلی مزاج حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا تھا۔ آپ ہرگز اس بات کو درست نہ سمجھتے تھے کہ اپنی جان بچانے کے لیے کسی ایک مسلمان کا خون بہائیں ورنہ اہل مدینہ تو اپنے خون کا آخری قطرہ بھی آپ کے لیے بہانے کو تیار تھے۔ بالکل یہی مزاج حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پایا تھا اور وہ اپنے رشتے کے تایا اور خالو (حضرت عثمان) کے اس طرز عمل سے بہت متاثر تھے۔
حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ نے حضرت عثمان کے دفاع میں کیا اقدامات کیے؟
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چلیے، جنگ نہ سہی لیکن حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع میں کیا اقدامات کیے؟ تاریخی روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے لیے جنگ کے علاوہ اور جو کچھ بھی ممکن تھا، وہ کر گزرے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
1۔ باغیوں کا ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ حضرت علی، طلحہ یا زبیر رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کو خلافت کا لالچ دےکر ساتھ ملا لیا جائے اور ان کی مدد سے حضرت عثمان کو معزول کر دیا جائے۔ اس طرح جو الزام ہے، وہ ان صحابہ پر آئے اور ان کا مقصد پورا ہو جائے۔ چنانچہ جب انہوں نے مدینہ سے باہر ذو المروہ، ذو خشب اور اعوص نامی مقامات پر پڑاؤ ڈالا تو ان بزرگوں کے پاس پہنچ کر یہی منصوبہ پیش کیا۔ اہل مصر حضرت علی، اہل بصرہ حضرت طلحہ اور اہل کوفہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ وہ ان حضرات کو خلیفہ بنانے پر تیار ہیں۔ حضرت علی نے جب ان کی تجویز سنی تو آپ ان پر چلائے اور انہیں لعنت ملامت کرتے ہوئے فرمایا: “نیک لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ذو المروہ اور ذو خشب کے لشکر پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ تم واپس جاؤ، اللہ تمہاری صحبت سے مجھے بچائے۔” اہل بصرہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہی بات رکھی تو انہوں نے فرمایا: “اہل ایمان کو یہ بات معلوم ہے کہ ذو المروہ، ذو خشب اور اعوص کی فوجوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔” حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی جواب دیا۔( طبری۔ 3/399)
2۔ حضرت علی نے اپنے بیٹوں حسن اور حسین، حضرت طلحہ نے اپنے بیٹوں محمد اور موسی اور حضرت زبیر نے اپنے بیٹے عبداللہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی حفاظت کے لیے بھیجا۔ یہ وہ وقت تھا جب باغی مدینہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور کسی بھی وقت خلیفہ وقت کو شہید کر سکتے تھے۔ اس طرح ان جلیل القدر صحابہ نے اپنے جوان بیٹوں کو ایک نہایت ہی پرخطر کام پر لگا دیا۔ ان تمام نوجوان صحابہ کی عمر اس وقت تیس سال کے قریب ہو گی۔( ایضاً ۔ 3/399)۔ جب حضرت علی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کی اطلاع ملی تو وہ دوڑے آئے اور اپنے بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو مارا اور عبداللہ بن زبیر اور محمد بن طلحہ کو برا بھلا کہا اور فرمایا کہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ سانحہ کیسے پیش آ گیا۔( بلاذری۔ 6/186)
3۔ چونکہ مصری باغیوں کی اکثریت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دار تھی، اس وجہ سے آپ بار بار ان کے پاس گئے اور جا کر یہ کوشش کی کہ ان میں پھوٹ پڑ جائے اور یہ واپس چلے جائیں۔ ایک موقع پر آپ مہاجرین و انصار کے پورے وفد کو لے گئے۔ مہاجرین کی جانب سے حضرت علی اور انصار کی طرف سے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہما نے ایسی گفتگو کی کہ باغیوں میں جو لوگ محض پراپیگنڈا کا شکار ہو کر چلے آئے تھے، واپس جانے پر رضا مند ہو گئے۔
4۔ متعدد صحابہ و تابعین جن میں سعید بن عاص، ابوہریرہ، عبداللہ بن سلا م اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم شامل تھے، نے باغیوں کو سمجھانے بجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ امہات المومنین نے بھی خلیفہ مظلوم کا ساتھ دیا جن میں سیدہ عائشہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نمایاں تھیں۔ سیدہ عائشہ نے اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ سیدہ ام حبیبہ ، خلیفہ شہید کو پانی پہنچاتے ہوئے خود شہید ہوتے ہوتے بچیں۔
۴۔حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے باہمی تعلقات
باغی راویوں کی پوری کوشش رہی ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو معاذ اللہ ایک دوسرے کا دشمن ثابت کیا جائے۔ کبھی وہ ان کی زبان سے ایک دوسرے پر لعنت کہلواتے ہیں، کبھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہلواتے ہیں اور ان کے اسلام میں شک کرواتے ہیں۔ درحقیقت یہ ان کے اپنے جذبات ہیں جنہیں وہ زبردستی حضرت علی یا معاویہ رضی اللہ عنہما کی زبان سے کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی تمام روایات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی سند میں کوئی نہ کوئی جھوٹا راوی جیسے ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر یا واقدی ضرور موجود ہو گا۔ یہاں ہم چند روایات اور کچھ نکات پیش کر رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کی ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے تھی؟
1۔ حضرت علی کے بھائی عقیل اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان ، حضرت علی کے قریبی ساتھی تھے اور آپ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ ایک بار عقیل، معاویہ کے پاس بیٹھے تھے تو معاویہ نے جی کھول کر علی کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا: ’’اے ابو یزید(عقیل)! میں علی بن ابی طالب کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں۔ علی قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں۔علی میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں۔‘‘ عقیل نے یہ سن کر کہا: ’’امیر المومنین! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی۔‘‘( ابن عساکر۔ 42/416)
2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے بعد جو خط شہروں میں بھیجا، اس میں فرمایا: ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم میں اور اہل شام میں مقابلہ ہوا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اس معاملے میں نہ وہ ہم سے زیادہ تھے اور نہ ہم ان سے۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ ( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58)
3۔ ایک شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی دینی سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس بارے میں علی بن ابی طالب سے پوچھ لیجیے، وہ مجھ سے زیادہ بڑے عالم ہیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’امیر المومنین! آپ کی رائے، میرے نزدیک علی کی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’آپ نے تو بہت ہی بری بات کی اور آپ کی رائے بہت ہی قابل مذمت ہے۔ کیا آپ ان صاحب (علی) کی رائے کو ناپسند کر رہے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم سے عزت بخشی ہے؟ آپ نے انہیں فرمایا تھا:’علی! آپ میرے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ موسی کے نزدیک ہارون (علیہما الصلوۃ والسلام) کی تھی۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘ ‘‘( ابن عساکر۔ 42/170)
4۔ خوارج نے حضرت علی ، معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں شہید کرنے کا منصوبہ بنایا۔ حضرت معاویہ نے اپنے حملہ آور کو پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا: “میرے پاس ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ خوش ہو جائیں گے۔ اگر میں آپ سے وہ بیان کر دوں تو آپ کو بہت نفع پہنچے گا۔ ” آپ نے فرمایا: “بیان کرو۔” کہنے لگا: “آج میرے بھائی نے علی کو قتل کر دیا ہو گا۔” آپ نے فرمایا: “کاش! تمہارا بھائی ان پر قابو نہ پا سکے۔”( طبری۔ 3/2-357)
5۔ جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “لوگو! آپ لوگ معاویہ کی گورنری کو ناپسند مت کریں۔ اگر آپ نے انہیں کھو دیا تو آپ دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جیسے حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے۔‘‘( ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ 14/38850)
6۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی تو علی اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا۔‘‘( ابن عساکر۔ 59/139)
ان تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں ذاتی نوعیت کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ دونوں میں صرف اسٹریٹجی پر اختلاف تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ باغیوں کی قوت کو اچھی طرح کچل دیا جائے جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ اگر ان باغیوں سے اس وقت انتقام لیا گیا تو ان کے قبائل اٹھ کھڑے ہوں گے جس سے بہت بڑی خانہ جنگی پیدا ہو گی۔ باغی چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکومتی معاملات پر قبضہ کیے بیٹھے تھے، اس وجہ سے انہوں نے پوری کوشش کی کہ شام پر حملہ کر کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قوت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس کی وجہ سے جنگ صفین ہوئی جسے مخلص مسلمانوں نے بند کروا دیا۔ اس طرح سے باغیوں کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

 

 

 

 

 

تحریرو تحقیق : محمد مبشر نذیر

بشکریہ پروفیسر محمد عقیل

ہزارہ – کوئٹہ میں میرے پڑوسی!

کوئٹہ شہر کے مرکز سے دور ڈیلائٹ سینما سے آگے  تغی روڈ پر ہمارا گھر واقع ہے، جہاں ہم آٹھ سالوں تک ہنسی خوشی رہتے رہے۔

انیس سو اڑسٹھ میں شہر چھوڑنے تک کم از کم میں تو یہی سمجھتا تھا۔

1958 سے 1969 تک پاکستان فوج کے کمانڈر ان چیف رہنے والے جنرل محمد موسی کی رہائش گاہ بھی ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر تھی۔ جنرل موسی ہزارہ تھے اور ہمارے علاقے کے تقریباً تمام ہی رہائشی اس برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اس علاقے میں چند ہی ایسے خاندان آباد تھے جو اس برادری سے نہیں تھے اور ہمارا خاندان بھی انہی میں شمار ہوتا تھا۔

ایک چھ سالہ بچے کے طور پر میرا اپنے محلے کے بارے میں پہلا تاثر منفی نوعیت کا تھا۔ میری عمر کے زیادہ تر بچے اپنے خدو خال سے چینی لگتے تھے اور سکول نہیں جاتے تھے۔ مجھے ان کی زبان سمجھنا بھی دشوار لگتا تھا کیونکہ ان کے منہ سے نکلنے والے عجیب و غریب الفاظ میری سمجھ سے بالاتر تھے۔

 بظاہر آوارہ، سخت جان اور سڑکوں پر بے مقصد گھومتے پھرتے ان بچوں سے میں خوف زدہ رہتا تھا۔ یہ بچے اور دوسرے لوگ  ہزارہ برادری سے تعلق نہ رکھنے والوں کو ہمیشہ پنجابی تصور کرتے تھے۔ بعض اوقات یہ بچے گروہ کی شکل میں ‘پنجابی پنجابی ‘ کے نعرے لگاتے ہمارا پیچھا بھی کرتے۔ شاید انہوں نے ساٹھ کی دہائی کے برطانوی مفروضے ‘ ٹیڈی بوائز’ کا تزکرہ سن رکھا تھا، اسی لیے ہر شلوار قمیض نہ پہننے والا بچہ ان کے لیے  ’ٹیڈی بوائے’ اور ٹیڈی گرل’ تھی۔  حتٰی کہ میری والدہ جب کبھی ساڑھی پہن کر بازار جانے کے لیے گھر سے نکلتیں تو انہیں بھی پیچھے سے ‘ٹیڈی گرل’ کی آوازیں سننا پڑتیں۔

 تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے منفی تاثر میں تبدیلی آتی گئی۔ ہزارہ برادری سے میرا پہلا براہ راست واسطہ اس وقت پڑا جب کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک غلط شاٹ کی وجہ سے گیند پڑوس میں ایک خالی پلاٹ میں چلی گئی۔ پلاٹ کے گرد چار دیواری اور ایک دروازہ موجود تھا جس پر ہر وقت تالہ پڑا رہتا تھا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پلاٹ سے چند فاصلے پر موجود اس کے مالک ‘بوڑھے بابا’ کے گھر پر دستک دی اور ان کے باہر آنے پر با ادب انداز میں اپنا مسئلہ بیان کیا۔

 انہوں نے بغیر کوئی ردعمل ظاہر کیے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چابی مجھے تھما دی۔ جس کے بعد میں نے پلاٹ سے گیند اٹھانے کے بعد تالا لگا کر چابی انہیں واپس کر دی۔ اس واقعہ کے ساتھ ہی ہمارے خوبصورت رشتے کا آغاز ہو گیا۔ ہماری گیند بار بار اس پلاٹ میں جاتی بعض اوقات تو دن میں ایک سے زائد مرتبہ بھی ایسا ہو جاتا، لیکن ‘بوڑھے صاحب’ اپنے ماتھے پر بل لائے بغیر ہی ہمیں چابی دے دیتے۔

 بوڑھے صاحب نے کئی بکریاں پال رکھی تھیں اور ہماری والدہ ان بکریوں کے لیے مٹر کے چھلکے ایک تھیلی میں جمع کر کے ہمیں بوڑھے صاحب کو دینے کا کہتیں اور صاحب ہمیشہ ہی  مسکراتے ہوئے تھیلی لے لیتے۔

 ہمارے محلے دار بہت ہی بھلے اور دیکھ بھال کرنے والے تھے۔ ایک مرتبہ سالانہ امتحانات کے دوران ہم اسکول جانے کے لیے تیار ہوئے تو پتا چلا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے، جس پر گھر میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ بالآخر ہمارے والد ‘بوڑھے صاحب’ کے بیٹے محمد علی کے گھر گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا۔ علی فوراً اندر گئے اور اپنی گاڑی کی چابی لے آئے، اسی دوران ‘بوڑھے صاحب’ بھی پہنچ گئے۔ میرے والد نے انہیں بتایا کہ ہمارا اسکول نذدیک ہی واقع ہے اور وہ جلد ہی گاڑی لوٹا دیں گے۔ چہرے پر پریشانی کے تاثرات لیے ہوئے بوڑھے صاحب نے کہا کہ ‘ تم کیوں اس کی پروا کرتا ہے، تم اس کو لندن لے کر جاؤ’۔

مصنف (بایں سے دوسرے) اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ

 میرے چھوٹے بہن بھائیوں اور مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ ہمارا گھر ملک کے فوجی سربراہ کی رہائش گاہ کے قریب واقع تھا۔ اس زمانے میں جب کبھی ہزارہ برادری میں شادی ہوتی تو ایک فوجی بینڈ آتا اور دن رات دھنیں بھکیرتا رہتا۔

اس بینڈ کا سب سے عمدہ شو اس وقت دیکھنے کو ملا جب جنرل موسٰی کی بیٹی کی شادی فلائیٹ لیفٹیننٹ شربت علی خان چنگیزی سے ہوئی، جنہوں نے بعد ازاں انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

ایک بڑی شادی ہونے کی وجہ سے اس کی تقریبات ایک ہفتے تک جاری رہیں۔پہلے تین دن تو نامور بلوچ ریجیمنٹ کے بینڈ نے ہمیں محضوظ کیا۔ تقریبات کا چوتھا روز یادگار ثابت ہوا کیونکہ عین اس وقت جب بلوچ ریجیمنٹ حاظرین کے سامنے دھنیں بجا رہا تھا، اچانک ایک فوجی ٹرک آیا اور اس میں سے پنجاب ریجیمنٹ کا بینڈ نمودار ہوا۔ اس بینڈ نے اس مہارت سے دھنیں بکھیریں اور مارچ کیا کہ پہلے بینڈ کی کارکردگی گہنا کر رہ گئی۔

 مجھے یاد ہے کہ پنجاب بینڈ کی سربراہی ایک لمبا چوڑا اور مستند بینڈ ماسٹر کر رہا تھا۔ جلد ہی دونوں بینڈز میں سبقت لے جانا کا ایسا مقابلہ شروع ہوا کہ حاضرین بالخصوص بچے مبہوت ہو کر رہ گئے۔

 ہمارے علاقے میں محرم الحرام کے دوران بھی ایک مخصوص اور منفرد سماں ہوتا تھا۔ ہر روز ہی سڑکوں پر چھوٹے بڑے ماتمی جلوس برآمد ہوتے تھے اور چونکہ ہم ان جلوسوں میں عزا داری کرنے والے اکثر شرکاء سے واقف ہوتے تھے لہذا ہمیں ان کی فکر بھی رہتی تھی۔

 میں اور میرے چھوٹے بہن بھائی سنی فرقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود جلوسوں کے دوران سینہ کوبی اور نعروں سے اس قدر متاثر ہوتے کہ ہم اپنے گھر کے صحن میں ایک جلوس برآمد کرتے، سینہ کوبی اور دری زبان میں واقعہ کربلا کی ذکر بھی کرتے۔

 کوئٹہ میں رہائش کے دوران مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ہم نے کبھی ماہِ محرم میں دنگے فساد یا پھر لڑائی دیکھی ہو۔

 میرے بچپن کا  یہ خوبصورت دور اس وقت ختم ہو گیا جب ہمارے والد نے کوئٹہ میں بارہ سال گزارنے کے بعد راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ہمارا سارا ساز و سامان اپنی ووکس ویگن بیٹل میں بھرا اور میری ماں اور ہم پانچوں بہن بھائی بھی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ روانگی کے وقت سب ہی افسردہ تھے کچھ کی تو آنکھیں بھی نم تھیں۔

 اس موقع پر میں ‘بوڑھے صاحب’ کی آنکھوں میں آنسو دکھ سکتا تھا۔ سبھی محلے دار ہمیں گلے لگا کر بلند آوازوں میں خدا حافظ کہہ رہے تھے۔ گاڑی روانہ ہونے پر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سب ہی دم بخود کھڑے نظر آئے۔ بالآخر گاڑی کے سڑک پر موڑ کاٹنے کے ساتھ ہی وہ تمات چہرے میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

 میں دوبارہ کبھی اس شہر نہ جا سکا جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔ وہاں جانا اب خاصا تکلیف دہ ہو گا کیونکہ میں آئے روز اخبارات میں ہزارہ برادری  کے لوگوں کی ہلاکتوں کی خبریں پڑتا رہتا ہوں، اس قتل و غارت کے بعض واقعات تغی روڈ پر بھی پیش آئے جہاں ہمارا گھر تھا۔

 شاید انیس سو اڑسٹھ میں جن بچوں کو میں نے الوداع کہا تھا وہ بھی ہدف بننے والوں میں شامل ہوں۔ لیکن میں حمتی طور پر یہ کبھی بھی جان نہیں پاؤں گا۔

 میں امید کرتا ہوں کہ وہ سب مادر وطن سمجھے جانے والی اِس مقتل گاہ کے مقابلے میں اب کہیں اچھی جگہ پر ہوں گے۔

تحریر: وقار احمد
بشکریہ ڈان

 

تیرا کیا ہو گا کالیا؟

ویسے تو ہماری افغان پالیسی پردہ اسرار میں لپٹی ہوئی راولپنڈی اور آبپارہ کے بند کمروں کے پیچھے بیٹھے ٹھیکہ داروں کا ہی شغل ہے لیکن کبھی کبھی اس میں کی گئی تبدیلیوں کو عوامی دیدار کے لئے بھی پیش کر دیا جاتا ہے.

ظاہر ہے کہ عوامی نماندے کینیا، کینیڈا، مالدیپ اور بھوٹان جیسے “اہم” ممالک سے معاملات طے کرنے میں مصروف ہوتے ہیں تو بھارت، امریکا اور افغانستان جیسے چھوٹے موٹے ملکوں کے معاملات بحالت مجبوری عسکری حلقوں کے گلے پڑ گئے ہیں۔

خیر یہ تذکرہ تو ویسے ہی نکل آیا تھا اصل میں مقصد آپ کو اس خوشخبری میں شریک کرنا تھا جو اس وقت منظر عام پر آئی جب پیچھلے دنوں افغان امن کونسل پاکستان یاترا پر آئی اور بات چیت کے بعد طالبان قیدیوں کی رہائی کا مژدہ سننے میں آیا۔

یہ وہی طالبان ہیں جو کسی زمانے میں ہمارے دوست ہوتے تھے اور پھر ہماری ترجیحات تبدیل ہونے کے بعد پاکستان کے گلی کوچوں میں  ’دوست دوست نہ رہا’ کا رونا روتے پھرتے تھے اور ہمارے پالیسی سازوں  نے امن کی خاطر کچھ کو جیل میں اور کچھ کو اببٹ آباد میں بطور مہمان ٹھہرا دیا تھا۔ ابھی بھی ان میں سے کچھ کراچی اور کوئٹہ میں کسمپرسی اور گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور صرف اسلحہ، سیٹلائٹ فون، مرغن کھانوں اور انٹرنیٹ جیسی ناکافی سہولیات پر گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

مہمان نوازی کے تقاضے پورے نہ کرنے پر ہم آپ سے شرمندہ ہیں اور معافی کے طلبگار ہیں۔ اگرچہ آپکی تفریح طبع کے لئے ہم نے پورے پاکستان بلخصوص کراچی اور کوئٹہ میں موٹے تازے اور کچھ دبلے پتلے لوگ رکھے ہوۓ ہیں آپ انہیں سفر آخرت پر روانہ کر کے دل بہلائیے تب تک ہم ذرا افغانستان میں امن و امان بحال کروا لیں۔

طالبان قیدیوں کی رہائی اس پس منظر میں دیکھنے میں آئی ہے جب افغانستان میں طالبان سے مزاکرات کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں اور  شائد ہمارے بھرپور اصرار پر مزاکرات کی میز پر ہماری بھی جگہ بنا دی گئی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے کی جانب بڑھتی ہی دکھائی دے رہی ہے جہاں امریکا اپنا بوریا بستر لپیٹ کر اپنے گھر چلا جائے گا اور پاکستان، افغانستان میں امن اور شانتی کی بہار آ جائے گی کیونکہ کہا تو یہی جاتا ہے کہ ایک پر امن افغانستان پر امن پاکستان کی ضمانت ہے اسی لئے پاکستان امن کے علمبرداروں یعنی حقانی نیٹ ورک اور طالبان قیادت وغیرہ کو زمانے کے نرم و گرم سے بچائے ہوۓ ہے۔ اب اگر امریکا کی نیت خراب ہو جائے اور وہ 2014 کے بعد بھی افغانستان میں ایک دو بیس رکھنے پر مصر ہو تو یہ اسکی بدنیتی کا مظہر ہو گا۔

خیر افغانستان میں تو ہماری کوششوں سے امن بحال ہو ہی جائے گا لیکن پاکستان میں طالبان گروپوں کا کیا کیا جائے جو افغانستان میں امریکا کی موجودگی نہیں بلکہ پاکستان میں اسلامی نظام (جس کی تعریف اور حدود و قیود وہ خود طے کریں گے) قائم کرنے کی بنیاد پر اسلحہ اٹھائے ہوۓ ہیں۔ ان گروپس کی پیدائش اور پرورش کی بحث سے قطع نظر کیا پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان سے امریکا کی واپسی کے بعد یہ گروپس توبہ کر کے پر امن شہریوں کی طرح رہنا شروع ہو جائیں گے؟

کیا افغان طالبان اگر افغانستان میں اپنی عملداری یا افغان حکومت میں اپنا حصّہ وصول کرنے کے بعد پاکستان کے طالبان گروپس (جو ملا عمر کو اپنا بھی امیر مانتے ہیں،) سے ہتھیار ڈالنے کی کسی اپیل کو خاطر میں نہیں لاتے تو اس صورت میں ہمارا کیا ہو گا؟ کیونکہ افغانستان میں امن کے قیام کے پیچھے ہمارا مقصد تو یہی ہے کہ اسکے ذریعے پاکستان میں ان گروپس کو لگام ڈالی جائے۔

کیا پاکستان کے پاس اس صورتحال کے لئے بھی کوئی حکمت عملی ہے جب افغان طالبان افغانستان میں خوش و خرم ہوں گے اور یہاں کے طالبان ایک زور کا قہقہہ لگا کر کہیں گے،”تیرا کیا ہو گا کالیا”؟

آخر میں طالبان کی جانب سے  سی آیی اے کے سابق سربراہ ڈیوڈ پٹریس کے سیکس سکینڈل پر انھیں سنگسار کرنے کا جو مطالبہ سامنے آیا ہے اس پر ہم بطور قوم طالبان کو سلام پیش کرتے ہیں اور سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ بلکہ اس معاملے کو خود نہ اٹھانے کی بھول کی پاداش میں اور امریکا کی بگڑتی ہی اخلاقیات پر تاسف کا اظہار کرتے ہوۓ  اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ انشاللہ اگلے سال حکومت پاکستان امریکی حکومت بشمول صدر اوبامہ کو اپنے خرچے پر حج کروائے گی۔

 

بشکریہ ڈان

سانحہ کربلا اور تاریخی حقائق۔۔۔۔۔۔۔ محمد مبشر نذیر

سانحہ کربلا، مسلمانوں کی تاریخ کا ایک نہایت ہی سنگین واقعہ ہے۔ اس واقعے میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو مظلومانہ انداز میں شہید کیا گیا اور اس کے بعد امت مسلمہ میں افتراق و انتشار پیدا ہوا۔ اس واقعے سے متعلق بہت سے سوالات ہیں جو تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس سیکشن میں ہم مختلف سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کی اصل نوعیت کیا تھی؟ سانحہ کربلا کیسے وقوع پذیر ہوا؟ سانحہ کربلا کا ذمہ دار کون تھا؟ سانحہ کربلاکے کیا نتائج امت مسلمہ کی تاریخ پر مرتب ہوئے؟ دیگر صحابہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ شمولیت اختیار کیوں نہ کی؟ یزید نے قاتلین حسین کو سزا کیوں نہ دی؟ شہادت عثمان کی نسبت شہادت حسین پر زور کیوں دیا گیا؟ وغیرہ وغیرہ۔
حضرت حسن کے اقدام کی اصل نوعیت کیا تھی؟
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کے بارے میں مسلمانوں کے اندر تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں:
1۔ ایک اقلیت کا نظریہ یہ ہے کہ خلافت صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کا حق تھا۔ چونکہ یزید نے اس پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، اس وجہ سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے حق کے حصول کے لیے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اس راہ میں جام شہادت نوش کیا۔
2۔ دوسری اقلیت کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی حیثیت معاذ اللہ ایک باغی کی سی تھی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں حکم ہے کہ جب ایک خلیفہ کی بیعت ہو جائے تو پھر اس کے خلاف دعوی کرنے والے کو قتل کر دو۔ اس وجہ سے یزیدی افواج نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے ایک جائز اقدام کیا۔
3۔ امت کی اکثریت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوئی بغاوت نہیں کی تھی اور آپ کی شہادت ایک مظلومانہ شہادت ہے۔
پہلا نقطہ نظر کچھ مذہبی دلائل کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کتاب کا اسکوپ چونکہ صرف تاریخ ہے، اس وجہ سے اس نقطہ نظر پر تبصرہ کی گنجائش اس تحریر میں نہیں ہے۔
دوسرے نقطہ نظر پر ہم یہاں گفتگو کرنا چاہیں گے کیونکہ احادیث کے بارے میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن تاریخی اعتبار سے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا موقف کیا تھا۔ پہلے ہم احادیث نقل کرتے ہیں:
عرفجہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب آپ لوگ ایک شخص (کی حکومت) پر متفق ہوں اور کوئی آ کر آپ کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرے یا آپ کی اجتماعیت میں تفرقہ پیدا کرے تو اسے قتل کر دیجیے۔”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر (بیک وقت) دو خلفاء کی بیعت کی جائے تو بعد والے کو قتل کر دو۔”
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “آپ پر ایسے امراء مسلط ہوں گے جن کی برائی کو آپ لوگ پہچان بھی لیں گے اور بعض اعمال کی برائی کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ جس نے ان کے اعمال بد کو پہچان لیا، وہ بری الذمہ ہو گیا۔ جو نہ پہچان سکا، وہ بھی محفوظ رہا لیکن جو ان امور پر خوش ہوا اور اس نے تابعداری کی (وہ دنیا و آخرت میں ناکام ہوا۔) صحابہ نے عرض کیا: “کیا ہم ایسے حکمرانوں سے جنگ نہ کریں؟” فرمایا: “نہیں۔ جب تک وہ نماز اد اکرتے رہیں۔”(صحیح مسلم، کتاب الامارہ۔ حدیث 1852-1854)
ان احادیث سے واضح ہے کہ اگر مسلمانوں پر ایسے لوگ مسلط ہو جائیں، جن کا کردار قابل تعریف نہ ہو تو ان کے خلاف اس وقت تک بغاوت نہ کریں جب تک کہ وہ اسلام پر قائم رہیں اور اس کی علامت کے طور پر نماز ادا کرنے سے انکار نہ کریں۔ بغاوت کرنے سے منع کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بغاوت کی صورت میں ان حکمرانوں کا ظلم بہت پھیل جائے گا۔
ہمارے نزدیک حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر ان احادیث کا اطلاق ایک بہت بڑی جسارت ہے۔ اسی باب میں آگے چل کر ہم اس کی وضاحت کریں گے کہ حضرت حسین نے نہ تو بغاوت کی، نہ ہی مسلمانوں کی اجتماعیت کو توڑنے کی کوشش کی اور نہ ہی ایک خلیفہ کی موجودگی میں اپنی خلافت کا دعوی کیا۔ اس وجہ سے آپ کو باغی قرار دے کر آپ کی مظلومانہ شہادت کو ناجائز قرار دینا، ایک بہت بڑا الزام ہے۔ اس کی تفصیل ہم اگلے سیکشنز میں بیان کریں گے۔
حضرت حسین نے کوفہ کا سفر کیوں کیا؟
طبری، بلاذری اور ابن سعد کی روایتیں اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفہ کی باغی تحریک زیر زمین چلی گئی تھی۔ انہوں نے حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اتحاد کو دل سے قبول نہ کیا تھا چنانچہ یہ لوگ حضرت حسن کو ترغیب دلاتے رہتے تھے کہ وہ صلح کے معاہدے کو توڑ کر حضرت معاویہ سے دوبارہ جنگ شروع کریں۔ حضرت حسن انہیں جھڑک دیتےتو یہ آ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے نقطہ نظر پر قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ آپ نے بھی حضرت معاویہ کے زمانے میں ان کی کوئی بات قبول نہ کی اور اپنی بیعت پر قائم رہے۔
جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور یزید نے اقتدار سنبھالا تو گورنر مدینہ ولید بن عتبہ بن ابی سفیان نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں یہ خبر سنائی اور ان سے بیعت طلب کی۔ حضرت حسین نے فرمایا: “انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالی معاویہ پر رحمت فرمائے اور آپ کے اجر میں اضافہ کرے۔بیعت کا جو سوال آپ نے کیا ہے تو میں پوشیدہ طور پر بیعت کرنے والا نہیں ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو بھی مجھ سے پوشیدہ بیعت نہیں لینی چاہیے بلکہ اعلانیہ لوگوں کے سامنے بیعت لینی چاہیے۔” ولید نے اس بات کو قبول کیا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب آپ سب لوگوں سے بیعت لیں گے تو ان کے ساتھ مجھ سے بھی لے لیجیے گا۔” ولید ایک عافیت پسند آدمی تھے اور جھگڑے جدال کو پسند نہ کرتے تھے، اس وجہ سے انہوں نے آپ کو جانے کی اجازت دے دی۔( طبری۔ 4/1-140۔ بلاذری ۔ 5/316۔ )
ابو مخنف نے حضرت حسین کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے متعلق دو متضاد الفاظ نقل کیے ہیں۔ ایک میں انہیں اس امت کا فرعون قرار دیا گیا ہے اور دوسرے میں آپ کے لیے رحمت کی دعا کی گئی ہے۔ اس کا اندازہ ہم خود لگا سکتے ہیں کہ کون سی بات حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے شایان شان ہے۔
اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کا سفر کیا۔ آپ کے بھائیوں میں سے حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے اس موقع پر آپ کو جو رائے دی، وہ ابو مخنف نے یوں نقل کی ہے:
بھائی جان! تمام مخلوق میں آپ سے بڑھ کر مجھے کوئی محبوب نہیں ہے اور آپ سے بڑھ کر دنیا میں کسی کے لیے بھی خیر خواہی کا کلمہ میرے منہ سے نہ نکلے گا۔ آپ اپنے لوگوں کے ساتھ یزید بن معاویہ سے اور سب شہروں سے جہاں تک ہو سکے ، الگ رہیے۔ اپنے قاصدوں کو لوگوں کے پاس بھیجیے اور ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کیجیے۔ اگر وہ آپ کی بیعت کر لیں تو اس پر اللہ کا شکر کیجیے اور اگر لوگ آپ کے علاوہ کسی اور پر متفق ہو جائیں تو اس سے آپ کے دین اور عقل میں اللہ کوئی کمی نہ فرمائے گا اور آپ کے احترام اور فضل میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔ مجھے خطرہ ہے کہ آپ (بالخصوص عراق کے) ان شہروں میں سے کسی شہر میں داخل ہوں ۔ لوگوں کا ایک گروہ آپ کے پاس آ جائے، پھر ان میں اختلاف پڑ جائے اور دوسرا گروہ آپ کے مخالف آ کھڑا ہو۔ کشت و خون کی نوبت آ جائے تو سب سے پہلے آپ کی طرف برچھیوں کا رخ ہو جائے اور آپ جیسے شخص کا، جو ذاتی اور خاندانی اعتبار سے بہترین ہے، آسانی سے خون بہا دیا جائے اور آپ کے سب اہل و عیال تباہی میں مبتلا ہوں۔
حضرت حسین نے پوچھا: “بھائی! پھر میں کہاں جاؤں؟” محمد نے عرض کیا: “آپ مکہ چلے جائیے۔ وہاں اطمینان حاصل ہو جائے تو ٹھیک ورنہ پھر ریگستانوں اور پہاڑوں میں چلے جائیے۔ ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے پر منتقل ہو جائیے۔ دیکھتے رہیے کہ اونٹ کس طرف بیٹھتا ہے۔ اس وقت آپ رائے قائم کرتے ہوئے تمام امور کو براہ راست دیکھیے اور جو بات عقل کے تقاضوں پر پورا اترے، اسے اختیار کر لیجیے۔ اس سے بڑھ کر مشکل کا سامنا کسی صورت میں نہ ہو گا کہ معاملات کو ٹیڑھے رخ سے آپ کو دکھایا جائے۔” آپ نے فرمایا: “میرے بھائی! آپ نے خیر خواہی اور محبت کی بات کہی ہے۔ امید یہی ہے کہ آپ کی رائے درست اور موافق ہو گی۔
( ایضاً۔ 4/1-142۔ بلاذری 5/317۔ )
واقدی کی روایت کے مطابق حضرت حسین کے علاوہ ابن زبیر رضی اللہ عنہم بھی مدینہ سے نکل آئے تھے۔ راستے میں ان کی ملاقات ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے ہوئی۔ یہ پوچھنے لگے: “کیا خبر ہے۔” انہوں نے جواب دیا: “معاویہ فوت ہو گئے اور یزید کی بیعت لی جا رہی ہے۔” ابن عمر نے ان دونوں سے کہا: “آپ دونوں اللہ سے ڈریے اور مسلمانوں کی اجتماعیت سے علیحدہ نہ ہوں۔” پھر ابن عمر مدینہ چلے آئے اور وہیں ٹھہرے رہے۔ کچھ دن انتظار کیا اور جب تمام شہروں کی بیعت کا حال انہیں معلوم ہوا تو ولید بن عتبہ کے پاس آ کر انہوں نے بھی بیعت کر لی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی۔
( ایضاً ۔ 4/1-144)
تاریخ طبری میں ایک ایسی روایت ملتی ہے جو ہشام کلبی، ابو مخنف اور واقدی تینوں کی سند سے خالی ہے۔ ہم یہی روایت یہاں درج کر رہے ہیں۔ اس کے راوی عمار بن معاویہ الدہنی (d. 133/750) ہیں جو کہ اہل تشیع میں سے اعتدال پسند گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ( ذہبی۔ میزان الاعتدال 5/206۔ راوی نمبر 6011)۔ انہوں نے یہ روایت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے محمد باقر رحمہ اللہ سے نقل کی ہے۔
حدثني زكرياء بن يحيى الضرير، قال: حدثنا أحمد بن جناب المصيصي – ويكنى أبا الوليد – قال: حدثنا خالد بن يزيد بن أسد بن عبد الله القسري، قال: حدثنا عمار الدهني: عمار الدہنی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر (محمد باقر) سے عرض کیا: “مجھے حسین کی شہادت کا واقعہ اس طرح تفصیل سے سنائیے کہ مجھے محسوس ہو کہ گویا کہ میں وہاں خود موجود ہوں۔ ” انہوں نے فرمایا۔
جب معاویہ فوت ہوئے تو ولید بن عتبہ بن ابی سفیان مدینہ کے گورنر تھے۔ انہوں نے حسین کو بیعت لینے کے لیے پیغام بھیجا۔ انہوں نے فرمایا: “مجھے کچھ مہلت دیجیے۔” ولید نے ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا اور انہیں مہلت دی۔ اب آپ نکل کر مکہ تشریف لے گئے۔ وہاں اہل کوفہ (کے کچھ لوگ) اور ان کے قاصد یہ پیغام لے کر آئے کہ ہم لوگ آپ پر بھروسہ کیے بیٹھے ہیں اور نماز جمعہ میں کوفہ کے گورنر کے ساتھ شریک نہیں ہوتے۔ آپ ہمارے پاس آ جائیے۔ اس زمانہ میں نعمان بن بشیر کوفہ کے گورنر تھے۔ حسین نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بلوایا اور ان سے کہا: “آپ کوفہ روانہ ہو جائیے اور یہ دیکھیے کہ یہ لوگ مجھے کیا لکھ رہے ہیں۔ اگر وہ سچ لکھ رہے ہیں تو پھر میں ان کی طرف چلا جاؤں؟”
مسلم وہاں سے روانہ ہو کر مدینہ میں آئے اور یہاں سے دو راہبروں کو ساتھ لے کر کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔ دونوں راہبر صحرا کی طرف سے چلے ۔ راستے میں ان میں سے ایک پیاس کے مارے فوت ہو گیا۔ مسلم نے حسین کو لکھا: “اس سفر سے مجھے معاف رکھیے۔” حسین نے یہی لکھا کہ آپ کوفہ جائیے۔ مسلم آگے بڑھے اور آخر کار کوفہ پہنچ گئے۔ یہاں انہوں نے ایک شخص ، جس کا نام ابن عوسجہ تھا، کے گھر قیام کیا۔ ان کے آنے کی شہرت اہل کوفہ میں پھیل گئی اور لوگ آ آ کر بیعت کرنے لگے۔ بارہ ہزار آدمیوں نے ان کی بیعت کی۔
یزید کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر (گورنر کوفہ) نعمان بن بشیر سے کہا: “یا تو آپ کمزور ہیں یا پھر کمزور بنتے ہیں۔ شہر میں فساد پھیل رہا ہے (اور آپ کچھ نہیں کرتے۔) نعمان نے فرمایا: “اگر اللہ کی اطاعت میں میں کمزور سمجھا جاؤں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں صاحب قوت کہلاؤں۔ میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ جس بات پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے، اس کا پردہ فاش کروں۔” اس شخص نے ان کی یہ بات یزید کو لکھ بھیجی۔
یزید نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو بلایا ، جس کا نام سرجون تھا اور وہ اس سے مشورہ کیا کرتا تھا۔ اس نے سرجون کو ساری بات بتلائی۔ اس نے کہا: “اگر معاویہ زندہ ہوتے تو کیا آپ ان کی بات مان لیتے؟” یزید نے کہا: “ہاں۔” اس نے کہا: “پھر میری بات مانیے ۔ کوفہ کے لیے (موجودہ گورنر بصرہ) عبیداللہ بن زیاد سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے۔ اسی کو وہاں کی حکومت دے دیجیے۔” اس سے پہلے یزید، ابن زیاد سے ناراض تھا اور اسے بصرہ کی گورنری سے بھی معزول کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اسے لکھ بھیجا: “میں آپ سے خوش ہوں۔ میں نے بصرہ کے ساتھ کوفہ کی گورنری بھی آپ کے سپرد کی۔” ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ مسلم بن عقیل کا پتہ چلایے اور وہ ہاتھ آ جائیں تو انہیں بھی قتل کر دیجیے۔
عبیداللہ بصرہ کے سرکردہ لوگوں کو لے کر سر اور منہ کو لپیٹے کوفہ میں آ پہنچا۔ وہ جس مجمع سے گزرتا تھا، انہیں “السلام علیکم” کہتا تھا۔ جواب میں لوگ اسے “وعلیک السلام اے رسول اللہ کے نواسے” کہتے تھے۔ ان لوگوں کو شبہ تھا کہ تھا کہ یہ حسین بن علی ہیں۔ عبیداللہ گورنر کے محل میں آ پہنچا اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو بلا کر تین ہزار درہم دیے اور کہا: “جاؤ، اس شخص کا پتہ چلاؤ جس سے اہل کوفہ بیعت کر رہے ہیں۔ اس سے یہی کہنا کہ میں حمص (شام) سے اسی بیعت کے لیے آیا ہوں اور یہ مال اسے دے دینا کہ اس سے اپنی طاقت میں اضافہ کیجیے۔” وہ شخص اسی طرح (مختلف لوگوں کے ذریعے) نرمی سے بات کر کے (باغی تحریک) کا سراغ چلانے کی کوشش کی۔ آخر کار اہل کوفہ میں سے ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس اسے کسی نے پہنچا دیا ، جو بیعت لیا کرتا تھا۔یہ غلام اب اس شخص سے ملا اور ساری بات کہہ دی۔ وہ بوڑھا کہنے لگا: “تمہارے ملنے سے میں خوش بھی ہوا ہوں اور مجھے تکلیف بھی ہوئی ہے۔ میں خوش اس بات سے ہوا ہوں کہ اللہ نے تمہیں ہدایت دی مگر غمگین اس لیے ہوا ہوں کہ ہماری تحریک ابھی مستحکم نہیں ہوئی ہے۔” یہ کہہ کر وہ بوڑھا اس غلام کو اندر لے گیا اور اس سے مال لے لیا اور اس سے بیعت لے لی۔ غلام نے آ کر عبیداللہ کو ساری تفصیل بیان کر دی۔
عبیداللہ جب کوفہ میں آیا تو مسلم (بن عقیل) ابھی جس گھر میں تھے، اسے چھوڑ کر ہانی بن عروہ مرادی کے گھر میں چلے آئے۔ انہوں نے حسین بن علی کو لکھ بھیجا کہ بارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کر لی ہے، آپ ضرور تشریف لے آئیے۔ ادھر عبیداللہ نے کوفہ کے سرکردہ لوگوں سے پوچھا: “سب لوگوں کے ساتھ ہانی بن عروہ میرے پاس کیوں نہیں آئے ہیں۔” یہ سن کر محمد بن اشعث اپنی برادری کے لوگوں کے ساتھ ہانی کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دروازے کے باہر ہی کھڑے ہیں۔ انہوں نے ان سے کہا: “گورنر نے ابھی آپ کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے آنے میں بہت دیر کر دی ہے۔ آپ کو ان کے پاس جانا چاہیے۔” یہ لوگ اسی طرح اصرار کرتے رہے، آخر ہانی سوار ہو کر ان لوگوں کے ساتھ عبید اللہ کے پاس چلے آئے۔ اس وقت قاضی شریح بھی وہیں موجود تھے۔ ہانی کو دیکھ کر عبیداللہ نے شریح سے کہا: “لیجیے! آنے والا اپنے پاؤں پر چل کر ہمارے پاس آ گیا ہے۔” ہانی نے جب سلام کیا تو عبیداللہ کہنے لگا: “یہ بتائیں کہ مسلم کہاں ہیں؟” ہانی نے کہا: “مجھے کیا معلوم؟”
عبیداللہ نے اپنے غلام کو، جو درہم لے کر گیا تھا، بلایا۔ جب وہ ہانی کے سامنے آیا تو یہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کہنے لگے: “گورنر کا اللہ بھلا کرے۔ واللہ! مسلم کو میں نے اپنے گھر میں نہیں بلایا، وہ خود سے آئے اور میری ذمہ داری بن گئے۔” عبیداللہ نے کہا: “انہیں میرے پاس لاؤ۔” وہ بولے: “واللہ! اگر وہ میرے پاؤں کے نیچے بھی چھپے ہوتے تو میں وہاں سے قدم نہ سرکاتا۔” عبیداللہ نے حکم دیا کہ اسے میرے قریب لاؤ۔ جب وہ لوگ ہانی کو اس کے قریب لے گئے تو اس نے ان پر ایسی ضرب لگائی کہ ان کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ہانی نے ایک سپاہی کی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ اسے میان سے نکالیں لیکن لوگوں نے انہیں روک دیا۔ عبیداللہ نے کہا: “تمہارا قتل اب اللہ نے حلال کر دیا ہے۔” یہ کہہ کر قید کا حکم دیا اور محل ہی کی ایک طرف انہیں قید کر دیا گیا۔ ۔۔۔۔۔ (ا س کےبعد طبری نے بیچ میں بطور جملہ معترضہ ایک اور روایت بیان کی ہے۔ پھر دوبارہ عمار الدہنی کے بیان کی طرف واپس آئے ہیں۔)
ہانی اسی حالت میں تھے کہ یہ خبر (ان کے ) قبیلہ مذحج کو پہنچ گئی۔ ابن زیاد کے محل کےد روازے پر ایک شور سا بلند ہوا۔ وہ سن کر پوچھنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ مذحج کے لوگ ہیں۔ ابن زیاد نے شریح سے کہا: “آپ ان لوگوں کے پاس جائیے اور انہیں بتائیے کہ میں کچھ بات چیت کے لیے ہانی کو صرف قید کیا ہے۔” اس نے اپنے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک کو جاسوسی کے لیے بھیجا کہ دیکھ کر آؤ کہ شریح کیا بات کرتے ہیں؟ شریح کا گزر ہانی کی طر ف سے ہوا تو ہانی نے کہا: “شریح! اللہ سے ڈریے۔ یہ شخص مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔” شریح نے محل کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: “انہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے۔ گورنر نے بس کچھ بات چیت کے لیے انہیں روک رکھا ہے۔” سب لوگ کہنے لگے: “شریح صحیح کہہ رہے ہیں۔ تمہارے سردار کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے۔” یہ سن کر سبھی لوگ بکھر گئے۔
دوسری طرف مسلم (بن عقیل) کو جب یہ خبر ملی تو انہوں نے اپنے شعار (خاص کوڈ ورڈز) کا اعلان کروا دیا اور اہل کوفہ میں سے چار ہزار آدمی ان کے پاس جمع ہو گئے۔ اب مسلم نے فوج کے مقدمہ (اگلے حصے) کو آگے بڑھایا، میمنہ و میسرہ (دایاں اور بایاں بازو) کو درست کیا اور خود قلب (درمیانہ حصہ) میں آ کر عبیداللہ کا رخ کیا۔ ادھر عبیداللہ نے اہل کوفہ کے سرکردہ لوگوں کو بلا کر اپنے خاص محل میں جمع کیا۔ مسلم جب محل کے دروازے پر پہنچے تو تمام سردار محل پر چڑھ کر اپنے اپنے برادری والوں کے سامنے آئے اور انہیں سمجھا بجھا کر واپس کرنے لگے۔ اب لوگ مسلم کے پاس سے سرکنے لگے۔ شام ہونے تک پانچ سو آدمی رہ گئے۔ جب رات کا اندھیرا پھیلا تو وہ بھی ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ مسلم اکیلے گلیوں میں گھومتے ہوئے ایک مکان کے دروازہ پر بیٹھ گئے۔ ایک عورت نکلی تو اس سے پانی مانگا۔ اس نے پانی لا کر پلایا اور پھر اندر چلی گئی۔ کچھ دیر کے بعد وہ پھر نکلی تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہنے لگی: “اللہ کے بندے! آپ کا بیٹھنا تو مجھے مشکوک لگتا ہے، آپ یہاں سے اٹھ جائیے۔” انہوں نے کہا: “میں مسلم بن عقیل ہوں۔ کیا مجھے پناہ مل سکتی ہے؟” عورت نے کہا: “اندر آ جائیے۔ جگہ ہے۔”
اس عورت کا بیٹا محمد بن اشعث کے ساتھیوں میں سے تھا۔ اسے جب علم ہوا تو اس نے ابن اشعث کو حال سنایا اور اس نے جا کر عبیداللہ کو خبر کی۔ عبیداللہ نے اپنے پولیس چیف عمرو بن حریث مخزومی کو روانہ کیا اور ابن اشعث کے بیٹے عبدالرحمن کو ساتھ کر دیا۔ مسلم کو خبر ہوئی کہ گھر کو سپاہیوں نے گھیر لیا ہے۔ انہوں نے تلوار اٹھا لی اور باہر آ کر لڑنا شروع کر دیا۔ عبدالرحمن نے کہا: “آپ کے لیے امان ہے۔” انہوں نے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا اور وہ انہیں لے کر عبیداللہ کے پاس آیا۔ عبیداللہ کے حکم سے محل کی چھت پر انہیں لے گئے اور انہیں قتل کر کے ان کی لاش لوگوں کے سامنے پھینک دی۔ پھر اس کے حکم سے لوگ ہانی کو گھسیٹ کر لے گئے اور سولی پر لٹکا دیا۔
( طبری۔ 4/1-147 to 150 )
(اس کے بعد طبری نے ابو مخنف کی طویل روایتیں بیان کی ہیں اور پھر عمار الدہنی کی روایت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے۔)
اس بیان سے واقعے کی صورت یہ نکلتی ہے:
1۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے جب گورنر مدینہ نے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے مہلت طلب کی اور اس مہلت میں وہ مدینہ سے نکل کر مکہ آ پہنچے۔
2۔ جیسے ہی آپ مکہ پہنچے تو اہل کوفہ کا وفد آپ کے پاس آیا اور انہوں نے بہت سے خطوط لکھ کر آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔ کوفہ میں اس وقت انارکی کی سی صورت پیدا ہو گئی تھی اور وہ باغی تحریک، جسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دبا دیا تھا، دوبارہ کھڑی ہو رہی تھی۔
3۔ آپ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل رحمہ اللہ کو بھیجا کہ وہ کوفہ جا کر حالات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے وہاں جا کر بیعت لینا شروع کر دی۔ اس دوران کوفہ پر عبیداللہ بن زیاد نے اپنا اقتدار مستحکم کر لیا۔ مسلم بن عقیل نے ایک فوج تیار کی اور گورنر کے محل کا محاصرہ کر لیا لیکن چند ہی گھنٹوں میں یہ فوج تتر بتر ہو گئی اور مسلم بن عقیل کو چھوڑ گئی۔ ابن زیاد نے انہیں گرفتار کروا کے قتل کر دیا۔
اس روایت کی تفصیلات کو درست مان لیا جائے اور یہ فرض کر لیا جائے کہ کسی راوی نے حضرت محمد باقر رحمہ اللہ کے بیان میں اپنی جانب سے کچھ نہیں ملایا ہو گا تو معلوم ہوتا ہے کہ اقدامات کی ابتدا باغی تحریک کی جانب سے ہوئی تھی جنہوں نے گورنر کے محل پر حملہ کا اقدام کیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رحمہ اللہ ان باغیوں کی باتوں میں آ گئے اور انہوں نے قبل از وقت اقدام کر ڈالا۔ باغی تو چاہتے ہی یہ تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان سے کوئی “شہید” انہیں ملے جس کے نام کو لے کر وہ اپنی تحریک میں زور پیدا کریں۔ اس وجہ سے وہ عین موقع پر حضرت مسلم کا ساتھ چھوڑ گئے۔
دوسری طرف ابن زیاد نے ضرورت سے زیادہ سخت ری ایکشن ظاہر کیا اور انہیں قتل کروا دیا۔ پھر اس نے ہانی بن عروہ کو بھی نہایت اذیت ناک طریقے سے سولی دی۔ اس کا یہ عمل ایک طرف ظلم تھا اور دوسری طرف اس کے جذباتی پن کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ اس موقع پر اپنے والد زیاد بن ابی سفیان رحمہ اللہ کی حکمت و دانش سے کام لیتا اور معاملات کو نرمی سے سلجھاتا تو بعد کے سانحات پیش نہ آتے۔
مسلم بن عقیل رحمہ اللہ نے اس موقع پر ابن اشعث، جو کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے برادر نسبتی تھے، کے ہاتھ ایک پیغام حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام بھیجا جو طبری نے ابو مخنف کے حوالے سے نقل کیا ہے:
اے اللہ کے بندے! میں سمجھتا ہوں کہ تم مجھے امان تو نہیں دلا سکو گے۔ اتنا سلوک کیا میرے ساتھ کرو گے کہ اپنے کسی آدمی کو میری طرف سے حسین کے پاس بھیج دو۔ وہ آج کل ہی میں تم لوگوں کے پاس آنے کو روانہ ہو چکے ہوں گے اور ان کے اہل بیت بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ تم جو میری بے تابی دیکھ رہے ہو، محض اسی سبب سے ہے۔ میری طرف سے یہ پیغام ان تک پہنچا دینا کہ: مسلم نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ وہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ آپ یہاں آئیں اور قتل کیے جائیں۔ آپ اہل بیت کو لے کر پلٹ جائیے، کوفیوں کے دھوکے میں نہ آئیے۔ یہ وہی لوگ ہیں، جن سے چھٹکارا پانے کے لیے آپ کے والد فوت ہو جانے اور قتل ہو جانے کی تمنا رکھتے تھے۔ اہل کوفہ نے آپ سے بھی جھوٹ بولے اور مجھ سے بھی جھوٹ بولے۔ میری رائے کو جھٹلائیے گا نہیں۔
( ایضاً ۔ 4/1-168)
ابو مخنف کی اس گھر کی گواہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ کی باغی تحریک کے مقاصد کیا تھے۔
حضرت حسین عراق روانہ کیونکر ہوئے؟
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جب مکہ میں قیام کیا تو یہاں کے گورنر عمرو بن سعید تھے جو حضرت سعید بن عاص رحمہ اللہ کے بیٹے تھے۔ انہوں نے حضرت حسین سے کوئی بدسلوکی نہ کی بلکہ نرمی کا برتاؤ کیے رکھا۔ اس دوران اہل کوفہ کی باغی تحریک نے آپ کی جانب خطوط کی بھرمار کر دی اور اپنے وفود ان کی جانب بھیجے اور کہا کہ ہم لوگوں نے گورنر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دی ہے اور آپ بس جلد از جلد یہاں تشریف لے آئیے۔ حضرت حسین کا جو خط ابو مخنف نے نقل کیا ہے، اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہو کہ آپ کوفہ بغاوت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ خط کے الفاظ یہ ہیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حسین بن علی کی طرف سے اہل ایمان اور مسلمانوں کی جماعت کے نام۔ ہانی اور سعید آپ لوگوں کے خطوط لے کر میرے پاس آئے۔ آپ کے قاصدوں میں سے یہ دونوں افراد سب سے آخر میں آئے ۔ جو کچھ آپ لوگوں نے لکھا ہے کہ کہا ہے کہ “ہماری راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے، آپ آئیے۔ شاید اللہ آپ کے سبب ہمیں حق و ہدایت پر اکٹھا کر دے۔” میں نے اپنے چچا زاد بھائی، جن پر مجھے اعتماد ہے اور وہ میرے اہل خانہ میں سے ہیں، کو آپ کے پاس روانہ کیا ہے۔ میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ آپ لوگوں کا حال اور سب کی رائے وہ مجھے لکھ بھیجیں۔ اگر ان کی تحریر سے بھی یہی بات ثابت ہو گئی کہ آپ کی جماعت کے لوگ اور صاحبان عقل و فضل آپ میں سے اس بات پر متفق الرائے ہیں، جس امر کے لیے آپ کے قاصد میرے پاس آئے ہیں، اور جو مضامین آپ کے خطوط میں میں نے پڑھے ہیں تو میں انشاء اللہ بہت جلد آپ کے پاس چلا آؤں گا۔ اپنی جان کی قسم، قوم کا لیڈر تو وہی ہو سکتا ہے جو قرآن پر عمل کرے، عدل کو قائم کرے، حق کا طرف دار ہو اور اللہ کی ذات پر توکل رکھے۔والسلام۔
(طبری۔ 4/1-151)
اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا کوئی ارادہ بغاوت کا نہ تھا بلکہ آپ صرف اصلاح احوال چاہتے تھے۔ آپ سے متعلق یہ بدگمانی کرنا کہ آپ کوفہ جا کر مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا چاہتے تھے، بالکل غلط ہے۔
حضرت حسین کی روانگی کے بارے میں مخلصین کا موقف کیا تھا؟
اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عراق روانگی کا ارادہ کیا تو آپ کے مخلص دوستوں اور رشتے داروں نے آپ کو نہایت ہی اچھے اور مخلصانہ مشورے دیے۔ یہ مشورے ابو مخنف کے حوالے سے طبری نے بھی درج کیے ہیں اور بلاذری نے دیگر راویوں کے حوالے سے انہیں درج کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو رشتے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے چچا تھے، مگر عمر میں ان سے کچھ ہی بڑے تھے کے بارے میں طبری نے بیان کیا ہے:
عبداللہ بن عباس نے حسین کی روانگی کا سنا تو ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: “بھائی! لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ آپ عراق کی طرف روانہ ہونے لگے ہیں۔ مجھے تو بتا دیجیے کہ آپ کا ارادہ کیا ہے؟” انہوں نے کہا: “انشاء اللہ انہی دو دن میں روانگی کا ارادہ ہے۔” انہوں نے کہا: “میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، ایسا نہ کیجیے۔ اللہ آپ پر رحمت فرمائے، مجھے یہ تو بتائیے کہ کیا آپ ان لوگوں میں جا رہے ہیں جنہوں نے اپنے حاکم کو قتل کر کے اپنے شہروں کی ایڈمنسٹریشن سنبھال لی ہے اور اپنے دشمن کو نکال باہر کیا ہے؟ اگر وہ ایسا کر چکے ہیں تو پھر چلے جائیے ۔ اگر ان پر حاکم مسلط ہیں اور اسی کے عہدہ دار شہروں سے خراج وصول کر رہے ہیں اور پھر بھی یہ آپ کو بلا رہے ہیں تو یہ محض آپ کو جنگ چھیڑنے کے لیے بلا رہے ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ یہ لوگ آپ کو دھوکہ دیں گے، آپ کو جھٹلائیں گے، آپ کی مخالفت کریں گے، آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور اگر آپ سے پیچھے ہٹ گئے تو پھر یہی لوگ آپ کے خلاف انتہائی سخت حملہ کر دیں گے۔” حسین نے جواب دیا: “میں اللہ سے خیر کا طالب ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کیا ہوتا ہے؟”
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب بصرہ کے گورنر تھے تو باغی تحریک کے سرکردہ لوگوں کو نہایت قریب سے دیکھ چکے تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ یہ باغی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو محض اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، اس وجہ سے انہوں نے نہایت ہی شد و مد سے آپ کو عراق جانے سے روکا۔ اس کے برعکس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ آپ وہاں جا کر حالات کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اسی دن شام یا اگلے دن صبح ابن عباس پھر آئے اور کہنے لگے:
“بھائی! میں برداشت کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے صبر نہیں آتا۔ مجھے اس راستے میں آپ کی ہلاکت اور تباہی کا اندیشہ ہے۔ اہل عراق (کی باغی تحریک) دراصل دغا باز لوگ ہیں۔ ان کے پاس ہرگز نہ جائیے۔ اسی شہر میں ٹھہرے رہیے کہ آپ اہل حجاز کے سردار ہیں۔ اگر اہل عراق آپ کو بلاتے ہیں تو انہیں لکھیے کہ اپنے دشمن سے پہلے اپنا پیچھا چھڑائیں۔ اس کے بعد آپ ان کے پاس چلے آئیں گے۔ اگر آپ کو یہ بات منظور نہیں ہے تو یمن کی طرف چلے جائیے۔ وہاں قلعے ہیں، پہاڑ ہیں اور ایک وسیع ملک ہے۔ آپ کے والد کے ساتھی وہاں موجود ہیں۔ آپ سب سے الگ تھلگ رہ کر ان سے خط و کتاب کیجیے اور قاصد بھیجیے۔ اس طریقہ سے مجھے امید ہے کہ جو بات آپ چاہتے ہیں، امن و عافیت کے ساتھ آپ کو حاصل ہو جائے گی۔ ” حضرت حسین نے جواب دیا: “بھائی! واللہ میں جانتا ہوں کہ آپ خیر خواہ اور شفیق ہیں۔ لیکن میں تو اب روانگی کا مصمم ارادہ کر چکا ہوں۔”
ابن عباس بولے: “اگر جانا ہی ٹھہرا تو خواتین اور بچوں کو ساتھ نہ لے جائیے۔ واللہ! مجھے ڈر ہے کہ کہیں حضرت عثمان کی طرح آپ بھی اپنی خواتین اور بچوں کے سامنے قتل نہ کر دیے جائیں۔” ( ایضاً ۔ 4/1-176)۔
ابو مخنف کو چونکہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے خاص بغض ہے، اس وجہ سے اس نے ان کی ایسی تصویر پیش کی ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جلد از جلد مکہ سے چلے جائیں۔ لیکن ان کی اپنی ایک روایت میں اس کے خلاف بات نظر آتی ہے جو اس نے عبداللہ بن سلیم اور مذری بن مشمعل سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
ہم لوگ کوفہ سے حج کے لیے نکلے اور مکہ پہنچے۔ آٹھ ذی الحجہ کو ہم حرم شریف میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت حسین اور عبداللہ بن زبیر دن چڑھنے کے وقت حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہیں۔ ہم ان کے قریب ہو گئے۔ ہم نے ابن زبیر کو حسین سے کہتے سنا: “اگر آپ چاہیں تو یہاں مقیم رہیں اور اس معاملے کی قیادت سنبھال لیجیے۔ ہم آپ کے مددگار اور خیر خواہ ہوں گے اور آپ کی بیعت کر لیں گے۔ ” حسین نے جواب دیا: “میں نے اپنے والد سے یہ بات سنی ہے کہ ایک دنبہ مکہ کی حرمت کو حلال کر دے گا۔ میں وہ دنبہ نہیں بننا چاہتا ہوں۔” اس پر ابن زبیر نے کہا: “اچھا آپ یہاں رہیے اور حکومت میرے حوالے کر دیجیے۔ میں آپ کی ہر بات مانوں گا اور کوئی بات آپ کی مرضی کے خلاف نہ ہو گی۔ ” حسین نے کہا: “مجھے یہ بھی منظور نہیں۔” پھر یہ دونوں حضرات چپکے چپکے باتیں کرتے رہے کہ ظہر کا وقت ہو گیا اور لوگ منی کی طر ف چلے۔ حسین نے کعبہ کا طواف کیا ، صفا و مروہ کی سعی کی، بال کتروائے اور عمرہ کا احرام کھول دیا۔ پھر آپ کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔ ( ایضاً ۔ 4/1-177)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن زبیر، حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے کتنے مخلص تھے۔ حضرت حسین ابھی مقام تنعیم تک پہنچے تھے کہ ان کی ملاقات فرزدق شاعر سے ہوئی جو کہ عراق سے آ رہے تھے۔ انہوں نے بھی آپ کو جانے سے روکا اور کہا: “لوگوں کے دل آپ کے ساتھ اور تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہیں۔” اس کے بعد حضرت حسین کے کزن عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم نے انہیں ایک خط لکھا اور اسے اپنے بیٹوں عون اور محمد کے ہاتھ بھیجا۔ اس خط میں لکھا تھا:
“میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ میرا خط دیکھتے ہی واپس چلے آئیے۔ مجھے ڈر ہے کہ آپ جہاں جا رہے ہیں، وہاں آپ ہلاک نہ ہو جائیں اور اہل بیت کو تباہ نہ کر دیا جائے۔ اگر آپ کو قتل کر دیا گیا تو دنیا میں اندھیرا ہو جائے گا۔ اہل ہدایت کے راہنما اور اہل ایمان کا سہارا آپ ہی کی ذات ہے۔ روانگی میں جلدی نہ کیجیے، اس خط کے پیچھے میں بھی آ رہا ہوں۔ والسلام۔”
عبداللہ بن جعفر، (گورنر مکہ) عمرو بن سعید کے پاس گئے اور ان سے کہا: “حسین کے لیے ایک خط لکھیے، اس میں انہیں امان دینے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک اور احسان کرنے کا وعدہ ہو۔ انہیں لکھیے کہ وہ واپس چلے آئیں۔ شاید انہیں آپ کے خط سے اطمینان ہو جائے اور وہ راستے سے واپس آ جائیں۔” عمرو بن سعید نے کہا: “جو آپ کا جی چاہیے، لکھ کر میرے پاس لے آئیے، میں اس پر مہر لگا دوں گا۔” عبداللہ بن جعفر خط لکھ کر عمرو کے پاس لے آئے اور کہا: “اس پر مہر لگا کر اپنے بھائی یحیی بن سعید کے ہاتھ روانہ کیجیے۔ یحیی کے جانے سے انہیں اطمینان ہو جائے اور وہ سمجھ لیں گے کہ جو آپ نے لکھا ہے، دل سے لکھا ہے۔” عمرو نے ایسا ہی کیا۔ یہ خط لے کر یحیی اور ابن جعفر دونوں حضرت حسین کے پاس پہنچے ۔ یحیی نے انہیں خط دیا اور دونوں نے واپسی پر بھرپور اصرار کیا۔
( ایضاً ۔ 4/1-179)
خود ابو مخنف کی روایات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پہلے گورنر مدینہ اور پھر گورنر مکہ، جو دونوں بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے، نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی بدسلوکی نہ کی تھی اور یہ لوگ آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔ عمرو بن سعید سے جیسے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے خط لکھوا لیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ حضرت حسین کی کتنی قدر کرتے تھے۔ مروان بن حکم، جن کے بارے میں یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے تھے اور ان کے خلاف سب و شتم کرتے تھے، نے گورنر عراق ابن زیاد کو ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا:
مروان نے ابن زیاد کو یہ خط بھیجا۔ اما بعد: آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حسین بن علی آپ کی طرف آ رہے ہیں۔ وہ سیدہ فاطمہ کے بیٹے ہیں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں۔ خدا کی قسم! حسین سے زیادہ کوئی شخص بھی ہمیں محبوب نہیں ہے۔ خبردار! غیض و غضب میں آ کر کوئی ایسا فعل نہ کر بیٹھنا کہ اس کا مداوا نہ ہو سکے اور عام لوگ اسے رہتی دنیا تک بھلا نہ سکیں۔ والسلام۔
( ابن کثیر۔ 11/507)
عمرو بن سعید بن عاص اور مروان بن حکم کے ان خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو امیہ اور آل علی میں دشمنی کی داستانیں، محض داستانیں ہی ہیں اور بنو امیہ کو بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ویسی ہی محبت تھی جیسی ہمیں ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ان مخلص رشتے داروں کی بات کیوں نہ مانی اور اہل کوفہ کے باغیوں پر اعتبار کر کے وہاں کیوں چلے گئے؟ اوپر بیان کردہ خط کو پڑھنے سے اس کی جو وجہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کا کوئی ارادہ بغاوت برپا کرنے کا نہ تھا بلکہ آپ ان باغیوں کو کنٹرول کر کے حکومت وقت کے معاملات کی اصلاح کرنا چاہتے تھے۔ حکومت کے رویے سے بھی ظاہر یہی تھا کہ یہ لوگ حضرت حسین کا احترام کر رہے تھے۔ اس سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی یہی امید ہو گی کہ آپ کے خلاف کوئی سخت اقدام نہ کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہی ہوتا مگر باغیوں نے یہ نوبت آنے سے پہلے ہی کوفہ میں اقدام بغاوت کر دیا اور پھر مسلم بن عقیل کو چھوڑ کر خود غائب ہو گئے۔ گورنر کوفہ ابن زیاد نے بھی اپنی عجلت پسندی میں نہایت ہی ظالمانہ انداز میں انہیں شہید کر دیا جس سے حالات بگڑتے چلے گئے۔
سانحہ کربلا میں کیا واقعات پیش آئے؟
اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کی جانب چلے۔ اس کے بعد کے واقعات طبری نے عمار الدہنی کے حوالے سے کچھ یوں نقل کیے ہیں:
حسین بن علی کو مسلم بن عقیل کا خط پہنچا تو آپ وہاں سے روانہ ہو کر ابھی اس مقام تک پہنچے تھے جہاں سے قادسیہ تین میل کے فاصلے پر تھا (یعنی ابھی کوفہ سے اسی نوے کلومیٹر دور تھے) کہ حر بن یزید تمیمی سے ملاقات ہوئی۔ حر نے پوچھا: “آپ کہاں جا رہے ہیں؟ فرمایا: ” اسی شہر (کوفہ ) جانے کا ارادہ ہے۔” حر نے عرض کیا: “واپس چلے جائیے۔ وہاں آپ کے لیے خیر کی کوئی امید نہیں ہے۔” یہ سن کر حسین نے واپس جانے کا ارادہ کیا۔ مسلم کے سبھی بھائی آپ کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا: “واللہ! جب تک ہم مسلم کا انتقام نہ لے لیں گے یا سب کے سب قتل نہ ہو جائیں گے، واپس نہیں جائیں گے۔” آپ نے کہا: “پھر تمہارے بغیر زندگی کا کیا مزا؟” یہ کہا اور آگے بڑھے۔ جب ابن زیاد کے لشکر کے ہراول دستے کے کچھ سوا ر آپ کو نظر آئے تو آپ کربلا کی طرف مڑے۔ ایک آبادی جو نشیب میں واقع تھی، اسے آپ نے اپنے لشکر کی پشت پر رکھا تاکہ اگر جنگ ہو تو ایک ہی جانب سے ہو۔ آپ وہیں اترے اور اپنے خیمے نصب کر دیے۔ آپ کے ساتھیوں میں پینتالیس سوار اور سو پیادے تھے۔
عمر بن سعد بن ابی وقاص کو عبیداللہ بن زیاد نے رے (موجودہ تہران) کی گورنری دی اور یہ فرمان بھی لکھ دیا اور کہا: “میری جانب سے آپ ان صاحب (حسین) سے جا کر نمٹ لیجیے۔” ابن سعد نے کہا: “مجھے اس کام سے معاف رکھیے۔” ابن زیاد کسی طرح نہ مانا، تو اس نے کہا: “آج رات کی مہلت دیجیے۔” اس نے مہلت دی تو یہ اپنے معاملے میں سوچتے رہے۔ صبح ہوئی تو ابن زیاد کے پاس آئے اور اس کا حکم ماننے پر راضی ہو گئے اور حسین بن علی کی طرف روانہ ہوئے۔ جب یہ ان کے پاس پہنچے تو حسین نے فرمایا: “تین آپشنز میں سے ایک اختیار کر لیجیے۔ (1) یا تو مجھے چھوڑ دیجیے کہ میں جہاں سے آیا ہوں، وہیں چلا جاؤں۔ (2) یا مجھے یزید کے پاس جانے دیجیے۔ (3) یا کسی سرحد کی طرف چلا جانے دیجیے۔” عمر بن سعد نے اس بات کو قبول کر لیا۔
(عمر نے ابن زیاد کو یہ بات لکھ بھیجی تو ) اس نے جواباً لکھا: “وہ جب تک اپنا ہاتھ، ہمارے ہاتھ میں نہ پکڑا دیں، ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔” حسین نے فرمایا: “یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا۔” اس بات پر لڑائی چھڑ گئی اور حسین کے تمام ساتھی قتل ہو گئے۔ ان میں سترہ اٹھارہ نوجوان ان کے گھر والوں میں سے تھے۔ ایک تیر آ کر ایک بچے کو لگا جو ان کی گود میں تھے۔ حسین ان کا خون پونچھتے جاتے اور کہتے جاتے تھے: “اے اللہ! ہمارا اور ان لوگوں کا تو انصاف فرما۔ انہوں نے ہمیں اس لیے بلایا کہ ہماری مدد کریں گے اور اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔” اس کے بعد آپ نے ایک چادر منگوائی ، اسے پھاڑا اور گلے میں پہن لیا۔ پھر تلوار لے کر نکلے، لڑے اور شہید ہو گئے۔ رضی اللہ عنہ ۔ آپ کو بنی مذحج کے ایک شخص نے قتل کیا اور آپ کا سر کاٹ کر ابن زیاد کے پاس لے گیا اور کہا: “میرے اونٹوں کو مال و زر سے بھر دیجیے۔ میں نے جلیل القدر بادشاہ کو قتل کیا ہے، میں نے اسے قتل کیا ہے جس کے ماں باپ بہترین مخلوق تھے اور جو نسب کے اعتبار سے خود بھی بہترین خلق ہے۔”
ابن زیاد نے اس شخص کو حسین کے سر کے ساتھ یزید کے پاس بھیج دیا۔ اس نے حسین کا سر مبارک یزید کے سامنے رکھ دیا۔ اس وقت اس کے پاس ابو برزہ اسلمی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ چھڑی سے آپ کے لبوں کو کھٹکھٹا رہا تھا اور یہ شعر پڑھ رہا تھا: “ہم نے اپنے پیاروں کو خود قتل کر دیا، انہوں نے بھی ہمارے خلاف سرکشی اور نافرمانی کی تھی۔” ابو برزہ کہنے لگے: “اپنی چھڑی کو ہٹاؤ۔ واللہ! میں نے بار بار دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دہن یہاں رکھ کر بوسہ لیتے تھے۔”
ابن سعد نے حسین کے اہل و عیال کو ابن زیاد کے پاس روانہ کر دیا۔ آپ کے اہل بیت میں خواتین کے ساتھ ایک بیمار لڑکے کے سوا کوئی باقی نہ رہا تھا۔ ابن زیاد نے حکم دیا کہ اسے بھی قتل کر دو۔ زینب یہ سن کر بیمار سے لپٹ گئیں او رکہنے لگیں: “جب تک مجھے بھی قتل نہیں کرو گے، تو اس وقت تک اسے بھی قتل نہ کر سکو گے۔” ابن زیاد کو ترس آ گیا اور وہ اس ارادے سے باز رہا۔ اس نے ان سب کا سامان تیار کروایا اور انہیں سوار کروا کے یزید کے پاس بھیج دیا۔ یہ لوگ جب یزید کے پاس پہنچے تو اس نے اہل شام میں اپنے درباریوں کو جمع کیا۔ اس کے بعد اہل بیت کو دربار میں لایا گیا۔ اہل دربار نے اسے مبارک دی۔ انہی لوگوں میں سے ایک نیلی آنکھوں اور سرخ رنگت والے نے اہل بیت میں سے ایک لڑکی کو دیکھ کر کہا: “امیر المومنین! یہ مجھے دے دیجیے۔” سیدہ زینب نے کہا: “واللہ! نہ یزید کو یہ اختیار حاصل ہے اور نہ تمہیں اور تم اس وقت تک یہ نہیں کر سکتے جب تک کہ جب تک تم دین اسلام سے خارج نہ ہو جاؤ۔ ” یزید نے اس شخص کو روک دیا۔ پھر اس نے ان اہل بیت کو اپنے گھر والوں میں بھیج دیا۔ اس کے بعد ان کی روانگی کا سامان تیار کر کے ان سب کو مدینہ کی طرف روانہ کر دیا۔
جب یہ لوگ مدینہ پہنچے تو بنو عبدالمطلب کی ایک خاتون بکھرے بالوں کے ساتھ سر پر چادر رکھے ان کے استقبال کو نکلیں۔ وہ رو رو کر کہہ رہی تھیں: “لوگو! تم کیا جواب دو گے جب پیغمبر تم سے پوچھیں گے کہ تم نے آخری امت ہو کر میرے بعد میری اولاد اور اہل بیت سے کیا سلوک کیا؟ کچھ لوگ ان میں سے قیدی ہوئے اور کچھ قتل کر کے خاک و خون میں لتھڑا دیے گئے۔ میں نے تمہیں جو ہدایت دی، اس کا بدلہ یہ نہ تھا کہ میرے خاندان کے ساتھ میرے بعد برائی کرو۔”
( طبری۔ 4/1-180-182 )
سانحہ کربلا کا یہ واقعہ جو عمار الدہنی نے حضرت محمد باقر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر کے بیان کیا ہے، ان تفصیلات سے خالی ہے جو ابو مخنف نے روایت کی ہیں۔ ابو مخنف کی روایتیں تاریخ طبری کے مکتبہ مشکاۃ ورژن میں میں 90 صفحات میں پھیلی ہوئی ہیں اور انہوں نے خوب نمک مرچ لگا کر واقعے کو بیان کیا ہے اور اس میں حسب عادت مختلف صحابہ پر چوٹیں بھی کی ہیں جن میں خاص کر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نمایاں ہیں۔ ابو مخنف کی روایات میں بالکل اسی قسم کی جذباتیت پائی جاتی ہے جیسی ہم اپنے زمانے کے واعظوں اور ذاکروں کے بیانات میں دیکھتے ہیں۔ وہ صورتحال کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ گویا اس دور میں خیر بالکل رخصت ہو گئی تھی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سوا تمام صحابہ و تابعین معاذ اللہ دین کی حمیت و غیرت سے خالی ہو گئے تھے اور انہوں نے غاصب اور ظالم حکمرانوں کو قبول کر لیا تھا۔
ابو مخنف کے مقابلے میں عمار الدہنی کی روایت ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ حضرت محمد باقر بن زین العابدین رحمہما اللہ ایک نہایت ہی قابل اعتماد راوی ہیں۔ آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں اور آپ کے والد ماجد حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ سانحہ کربلا کے چشم دید گواہ ہیں۔ عمار الدہنی نے آپ سے سن کر یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ کسی راوی نے اس واقعے میں اپنی جانب سے کچھ ملاوٹ نہیں کی ہے تو اس بیان سے ہم یہ نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔
1۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر کوفہ کی جانب چلے۔ جب آپ اس کے قریب پہنچے تو آپ کی ملاقات حر بن یزید سے ہوئی اور حر نے آپ کو کوفہ جانے سے منع کیا۔ اس موقع پر حضرت حسین نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور واپسی کا ارادہ کیا لیکن مسلم بن عقیل کے بیٹوں نے آگے بڑھنے پر اصرار کیا جس پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا۔ ابو مخنف کی روایت میں ہے:
عبداللہ اور مذری نامی دو شخص، جن کا تعلق بنو اسد سے تھا، حج کو گئے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حج سے فارغ ہوئے تو ہمیں اس کے سوا اور کوئی فکر نہ تھی کہ راستہ ہی میں حسین تک پہنچ جائیں اور دیکھیں کہ ان کے ساتھ معاملہ پیش آیا ہے۔ ہم اپنی اونٹنیوں کو دوڑاتے ہوئے چلے (اور بالآخر حضرت حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے۔۔۔۔ ) ہم نے کہا: “ہمیں سچی خبر مل گئی ہے اور ہمارے بنو اسد ہی کے ایک ایسے شخص نے دی ہے جو صائب الرائے ہے اور فضل اور عقل رکھتا ہے۔ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ ابھی کوفہ ہی میں تھا کہ مسلم بن عقیل اور ہانی قتل ہو چکے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ ان دونوں کے پاؤں پکڑ کر بازار میں گھسیٹتے ہوئی لایا گیا ہے۔ ” یہ سن کر آپ نے کہا: “انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان دونو ں پر اللہ کی رحمت ہو۔” آپ بار بار یہی کہتے رہے۔
ہم نے عرض کیا: “ہم آپ کو اللہ کی قسم دیتے ہیں کہ اپنی جان اور اپنے اہل بیت کا خیال کیجیے اور اسی جگہ سے واپس چلے جائیے۔ کوفہ میں نہ کوئی آپ کا یار و مددگار ہے اور نہ آپ کے حمایتی ہیں بلکہ ہمیں تو خوف اس بات کا ہے کہ وہ لوگ آپ کی مخالفت کریں گے۔ ” یہ سن کر عقیل بن ابی طالب کے فرزند (مسلم کے بھائی) اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے: “واللہ! جب تک ہم بدلہ نہ لیں گے ، اس جگہ سے نہ ہلیں گے یا پھر ہمارا حال بھی وہی ہو جو ہمارے بھائی کا ہوا ہے۔ ” یہ سن کر آپ نے دونوں افراد کی طرف دیکھا اور فرمایا: “ان لوگوں کے بعد زندگی کا کوئی مزہ نہیں۔” ہم سمجھ گئے کہ آپ نے کوفہ کی طرف جانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ ہم نے کہا: “اللہ آپ کے لیے بہتری کرے۔ ” آپ نے جواب دیا: “اللہ آپ دونوں پر بھی رحمت فرمائے۔” آپ کے بعض ساتھیوں نے کہا: “کہاں مسلم بن عقیل اور کہاں آپ۔ کوفہ میں آپ جائیں گے تو سب آپ کی طرف دوڑیں گے۔”
( ایضاً ۔ 4/1-187)
2۔ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے مذاکرات کے لیے بھیجا جو کہ حضرت حسین کے قریبی رشتہ دار تھے اور طبری کی روایت کے مطابق مسلم بن عقیل نے انہی کو یہ وصیت کی تھی کہ وہ حضرت حسین تک ان کا پیغام پہنچا دیں کہ اہل کوفہ نے دھوکہ دیا ہے۔ آپ نے عمر سے فرمایا: “تن آپشنز مںح سے ایک اختالر کر لےرف ۔ (1) یا تو مجھے چھوڑ دیےگی کہ مں جہاں سے آیا ہوں، وہں چلا جاؤں۔ (2) یا مجھے یزید کے پاس جانے دیےتا۔ (3) یا کسی سرحد کی طرف چلا جانے دیےاو۔” عمر نے اس بات کو قبول کر لیا مگر ابن زیاد نہ مانا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اسی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا بغاوت کا کوئی ارادہ نہ تھا اور اگر کہیں ذہن میں یہ خیال آیا بھی تھا تو اس وقت دور ہو گیا تھا۔ اگر ابن زیاد انہیں یزید کے پا س جانے دیتا تو آپ اپنے تحفظات یزید کے سامنے پیش کر دیتے۔
3۔ ابن زیاد نے اصرار کیا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ پہلے اس کے پاس آ کر اس کے ہاتھ پر یزید کی بیعت کریں۔ حضرت حسین نے اس کے پاس جانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہ پہلے مسلم بن عقیل کو قتل کر چکا تھا۔ بات بڑھ گئی اور جنگ شروع ہو گئی۔ اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ آپ کی شہاد ت کے بعد آپ کے اہل و عیال کو ابن زیاد کے پاس لایا گیا جس نے آپ کے سرمبارک سے گستاخی کی۔ پھر ان سب کو یزید کے پاس بھیج دیا گیا۔ یزید کے دربار میں موجود ایک شخص نے اہل بیت کی ایک خاتون پر بری نظر ڈالی تو یزید نے اسے منع کر دیا۔ اس کے بعد اس نے ان سب کو اعزاز و اکرام کے ساتھ مدینہ بھیج دیا۔
حضرت حسین کا منصوبہ کیا تھا؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اگر کوفہ کی طرف جا رہے تھے تو آپ کا پلان کیا تھا؟ بالفرض اگر اہل کوفہ آپ کے ساتھ عہد شکنی نہ کرتے تو کیا واقعات پیش آتے؟ تاریخ کی کتب میں ہمیں آپ کے اپنے الفاظ میں آپ کے ارادے کی تفصیلات نہیں ملتی ہیں۔ یہ بعض تجزیہ نگاروں کی محض قیاس آرائی ہی ہے کہ آپ کوفہ کی حکومت سنبھال کر اہل شام کے ساتھ جنگ کرتے۔ طبری میں ہشام کلبی کی ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ جب حر بن یزید کی سرکردگی میں سرکاری فوج نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ جانے سے روکا تو آپ نے اس موقع پر آپ نے اہل کوفہ پر مشتمل اس سرکاری فوج سے ایک خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
قال هشام: حدثني لقيط، عن علي بن الطعان المحاربي: ۔۔ آپ نے حجاج بن مسروق جعفی کو حکم دیا کہ وہ اذان کہیں۔ انہوں نے اذان دی اور اقامت کی باری آئی تو آپ (حضرت حسین) تہبند، چادر اور جوتے پہنے نکلے۔ اللہ تعالی کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: “اے لوگو! میں اللہ عزوجل سے اور آپ سب لوگوں کے سامنے (اپنے آنے کا) سبب بیان کرتا ہوں۔ اس وقت تک میں آپ لوگوں کے پاس نہیں آیا، جب تک آپ لوگوں کے خطوط اور آپ کے قاصد یہ پیغام لے کر میرے پاس نہیں آئے کہ آپ آئیے، ہمارا کوئی حکمران نہیں ہے، شاید آپ کے سبب اللہ تعالی ہم سب لوگوں کو ہدایت پر متفق فرما دے۔ اب اگر آپ اسی بات پر قائم ہیں تو میں آپ کے پاس آ چکا ہوں۔ اگر آپ لوگ مجھ سے ایسا معاہدہ کر لیں جس سے مجھے اطمینان ہو جائے تو میں آپ کے شہر جانے کو تیار ہوں۔ اگر آپ لوگ ایسا نہیں کرتے اور میرا آنا آپ کو ناگوار گزرا ہے تو جہاں سے میں آیا ہوں، وہیں واپس چلا جاتا ہوں۔ ” یہ سن کر سب خاموش رہے۔ آپ نے موذن سے کہا: “اقامت کہیے۔” انہوں نے اقامت کہی تو حسین نے حر سے پوچھا: “آپ لوگ کیا الگ نماز پڑھیں گے؟” انہوں نے کہا: “جی نہیں۔ ہم سب آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔” آپ نے سب کو نماز پڑھائی اور اپنے خیمہ میں چلے گئے۔ ۔۔۔
(پھر عصر کے بعد آپ نے ایک خطبہ دیا۔) حر نے آپ سے کہا: “واللہ! مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ کیسے خطوط تھے، جن کا آپ ذکر فرما رہے تھے۔” یہ سن کر آپ نے عقبہ بن سمعان سے کہا: “وہ دونوں تھیلے جن میں لوگوں کے خطوط ہیں، لے آئیے۔” عقبہ دونوں تھیلے لائے جن میں خطوط بھرے ہوئے تھے۔ آپ نے سب کے سامنے لا کر ان خطوط کو بکھیر دیا۔
( ایضاً ۔ 4/1-191)
اس روایت کے الفاظ ” آپ آئے ، ہمارا کوئی حکمران نہںں ہے” سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا سفر اسی وجہ سے اختیار کیا کہ وہاں انارکی (عدم حکومت) کی سی کیفیت تھی۔ آپ اس انارکی کو ختم کرنے کے لیے کوفہ تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے ہی میں جب آپ پر یہ واضح ہو گیا کہ انارکی کی کیفیت ختم ہو گئی ہے اور وہاں حکومت قائم ہو گئی ہے تو پھر آپ نے اپنی رائے تبدیل کر لی اور واپسی کا عزم کیا۔
ہماری رائے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ہستی سے یہ بات بہت بعید از قیاس ہے کہ آپ محض اپنے اقتدار کے لیے مسلمانوں میں خانہ جنگی برپا کرتے۔ باغی تحریکوں نے اپنے قتل و غارت کو جسٹی فائی کرنے کے لیے یہ خیال آپ کی جانب منسوب کیا ہے۔ یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں شدید بدگمانی ہے کہ آپ کے بارے میں ایسا خیال کیا جائے کہ آپ اپنے اقتدار کے لیے مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے تھے۔ آپ کے بارے میں ہم حسن ظن رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا مقصد ایک پریشر گروپ بنا کر حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ اصلاح طلب امور کی اصلاح ہو سکے۔
کیا حضرت حسین کی رائے تبدیل ہوئی؟
تاریخی روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے اہل کوفہ کی اصل صورتحال آئی تو ان کی رائے تبدیل ہو گئی۔ یہ بات درست اور قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ طبری میں ابو مخنف ہی کی روایت میں بنو اسد کے دو افراد کا بیان اس طرح نقل ہوا ہے:
قال أبو مخنف: وأما ما حدثنا به المجالد بن سعيد والصقعب بن زهير الأزدي وغيرهما من المحدثين، فهو ما عليه جماعة المحدثين، قالوا: حضرت حسین نے فرمایا: تین باتوں میں سے ایک بات میرے لیے اختیار کر لیجیے: جہاں سے میں آیا ہوں، وہیں چلا جاؤں۔ یا یہ کہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں اور وہ اپنے اور میرے درمیان جو فیصلہ کر نا چاہے، کر لے یا پھر یہ کیجیے کہ مملکت اسلام کی سرحدوں میں سے کسی سرحد پر مجھے جانے دیجیے۔ میں ان لوگوں جیسا ایک شخص بن کر رہوں گا اور میرا نفع و نقصان ان کے نفع و نقصان کے تابع ہو گا۔
( ایضاً ۔ 4/1-200)
بعینہ یہی بات اوپر عمار الدہنی کی روایت میں گزر چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کس درجے میں امن پسند تھے اور آپ کسی صورت میں خونریزی نہ چاہتے تھے۔ ’’سر داد نہ داد دست در دست یزید‘‘ قسم کی باتیں محض باغی تحریکوں کے لٹریچر سے متاثر ہو کر کہی گئی ہیں۔ ان باغی تحریکوں نے اپنی تقویت کے لیے حضرت حسین کی شخصیت کو ایک کٹر اور بے لچک (Adamant) شخص کے طور پر پیش کیا ہے ورنہ آپ حالات کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ جب آپ کو مسلم بن عقیل کی خبر ملی تو آپ نے تمام لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ ان سے الگ ہو کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔طبری میں ہشام کلبی کی یہ روایت بیان ہوئی ہے:
قال هشام: حدثنا أبو بكر بن عياش عمن أخبره: (حضرت حسین نے فرمایا:) ایک بہت ہی سخت واقعہ کی خبر مجھے پہنچی ہے۔ مسلم بن عقیل، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن بقطر قتل کر دیے گئے ہیں۔ ہمارے شیعوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ آپ لوگوں میں سے جو کوئی جانا چاہے، چلا جائے۔ میں نے اپنی ذمہ داری آپ سے ختم کر دی ہے۔ ” یہ سنتے ہی وہ سب لوگ چلے گئے ۔ کوئی دائیں طرف چلا گیا اور کوئی بائیں جانب۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جو لوگ مدینہ سے آپ کے ساتھ چلے تھے، وہی باقی رہ گئے۔
( ایضاً ۔ 4/1-188)
عمار الدھنی اور ابو مخنف کی روایات میں موجود ہے کہ آپ نے سرکاری افواج کے سامنے تین آپشنز پیش کی تھیں: (1) یا تو مجھے چھوڑ دیےلد کہ مںو جہاں سے آیا ہوں، وہں چلا جاؤں۔ (2) یا مجھے یزید کے پاس جانے دیےعب۔ (3) یا کسی سرحد کی طرف چلا جانے دیےلد۔ ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا کوئی ارادہ بغاوت یا جنگ کا نہ تھا۔
سانحہ کربلا کے ذمہ دار کون لوگ تھے؟
عمار الدہنی کی اوپر بیان کردہ روایت پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے عمر بن سعد کے ساتھ مذاکرات جاری تھے اور آپ یزید کے پاس جانے کے لیے تیار بھی ہو گئے تھے کہ بیچ میں لڑائی چھڑ گئی۔ یہ لڑائی کیسے چھڑی اور اس کا سبب کیا بنا، اس معاملے میں یہ روایت خاموش ہے۔ البتہ اس روایت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعض الفاظ ایسے بیان ہوئے ہیں جن سے کچھ اشارہ ملتا ہے کہ اس جنگ کے چھڑنے کے ذمہ دار کون لوگ تھے۔ دوران جنگ آپ نے اللہ تعالی سے فریاد کی: “اے اللہ! ہمارا اور ان لوگوں کا تو انصاف فرما۔ انہوں نے ہمںد اس لے بلایا کہ ہماری مدد کریں گے اور اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہں ۔”
یہ ایسے الفاظ ہیں جن کے مصداق نہ تو عمر بن سعد ہو سکتے ہیں اور نہ ابن زیاد اور اس کے ساتھی کیونکہ ان لوگوں نے تو آپ کو کوئی خط نہ لکھا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری فوج میں وہ لوگ موجود تھے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر کوفہ بلایا تھا۔ اب انہی لوگوں نے آپ پر حملہ کر کے آپ اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کرنا شروع کر دیا تھا۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کےبراہ راست قاتلوں میں جن لوگوں کے نا م آئے ہیں، ان کے بیک گراؤنڈ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ باغی تحریک ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ ابو مخنف نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے براہ راست قاتلوں میں عبد الرحمن جعفی، قثم بن عمرو بن یزید الجعفی، صالح بن وہب الیزنی، سنان بن انس نخعی، خولی بن یزید الاصبحی اور ان کے لیڈر شمر بن ذی الجوشن کے نام لکھے ہیں۔ دیگر ذرائع سے ہمیں معلوم نہیں کہ یہی لوگ آپ کے قاتل تھے یا نہیں۔ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ شمر ، جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا اور خود ابو مخنف کی روایت کے مطابق یہ جنگ صفین میں زخمی ہوا تھا۔( ایضاً ۔ 3/2-221)۔ سنان بن انس قبیلہ نخع سے تعلق رکھتا تھا اور مالک الاشتر نخعی کا رشتے دار تھا۔ تاہم پھر بھی ہمیں متعین طور پر کسی شخص کا نام نہیں لینا چاہیے کیونکہ ان روایتوں کے سوا ہمارے پاس کوئی اور ثبوت نہیں ہے اور روایات قابل اعتماد نہیں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باغی تحریک ان لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں پر حملہ کیوں کیا۔ اگر یہ لوگ باغی تحریک سے تعلق رکھتے تھے تو انہیں اس کا فائدہ کیا ہوا؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کا خطرہ تھا کہ کہیں ان کا پول نہ کھل جائے۔ ان کے لکھے ہوئے خطوط حضرت حسین رضی اللہ عنہ اگر دکھا دیتے تو پھر حکومت کی جانب سے بھی انہیں غداری کی سزا ملتی۔ سانحہ کے بعد ان خطوط کا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے جن کی دو بوریاں بھر کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ ساتھ لائے تھے۔ عین ممکن ہے کہ دوران جنگ ہی ان خطوط کو تلف کر دیا گیا ہو تاکہ ثبوت کو مٹا دیا جائے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ باغی تحریک کو ایک تازہ ترین “ہائی پروفائل شہید” کی تلاش تھی، جس کے نام پر اپنی تحریک کے لوگوں کو مشتعل کیا جا سکے۔ عین ممکن ہے کہ بعض باغیوں کے ذہن میں یہ محرک رہا ہو کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی صورت میں انہیں ایسا شہید مل سکتا ہے۔ لاشوں کی سیاست ہمارے دور ہی کا خاصہ نہیں ہے بلکہ ہر دور میں باغی تحریکیں ایسا کرتی رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک ممکنہ تھیوری ہے۔ حقیقت کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے اور وہی روز قیامت اسے واضح فرمائے گا۔ روایات کی بنیاد پر متعین طور پر کوئی بات کہنا مشکل ہے۔
سانحہ کربلا میں عمر بن سعد کا کردار کیا تھا؟
عمر بن سعد کے بارے میں طبری وغیرہ میں جتنی روایات بیان ہوئی ہیں، وہ ابو مخنف کے توسط سے ہوئی ہیں، اس وجہ سے ان کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان روایات سے عمر بن سعد کی دو متضاد تصویریں سامنے آتی ہیں۔ ایک تصویر یہ ہے کہ انہوں نے “رے” کی گورنری کے لالچ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف کاروائی کی اور دوسری تصویر یہ نظر آتی ہے کہ وہ حضرت حسین کے ساتھ مخلص تھے۔ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مطالبات کو بھی مان لیا تھا اور جب آپ شہید ہوئے تو اتنا روئے تھے کہ ان کی داڑھی تر ہو گئی تھی۔ اب ان کے دل میں کیا تھا، ہمیں اس معاملے کو اللہ تعالی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جو شخص بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار ہو گا ، وہ اللہ تعالی کے ہاں سزا پائے گا۔ روایات کی بنیاد پر ہمیں کسی کے بارے میں رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔
سانحہ کربلا میں ابن زیاد کا کردار کیا تھا؟
ابن زیاد کے بارے میں روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسی نے اپنی افواج کو سختی سے نمٹنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جب تین آپشنز پیش کیں تو یہ اس پر اڑ گیا تھا کہ آپ پہلے اس کے پاس آ کر اس کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ سانحہ کے بعد جب حضرت حسین کے اہل و عیال کو اس کے پاس لے جایا گیا تو اس نے کسی افسوس کا اظہار بھی نہیں کیا اور نہ ہی اپنی افواج سے اس پر پوچھ گچھ کی تھی کہ واقعہ کیوں اور کیسے ہوا؟ نہ ہی اس نے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی کی۔ اس کے بارے میں اس سے کوئی مختلف بات روایات میں درج نہیں ہے۔ طبری کی بعض روایات میں یہ ہے کہ ابن زیا دکی والدہ مرجانہ ایک نیک خاتون تھیں اور انہوں نے اپنے بیٹے کو بہت لعن طعن کی تھی۔ باقی حقیقت کا علم اللہ تعالی کو ہے کیونکہ ہمارے پاس سوائے ان روایات کے اور کچھ نہیں ہے۔
سانحہ کربلا میں یزید کا کردار کیا تھا؟
سانحہ کربلا میں یزید کے کردار کے بارے میں دو متضاد تھیوریز پیش کی جاتی ہیں اور دونوں کی بنیاد یہی تاریخی روایتیں ہیں: ایک تھیوری تو یہ ہے کہ ابن زیاد نے یزید کے حکم سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر فوج کشی کی اور یزید نے آپ کی شہادت پر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ تمام کی تمام روایات ابو مخنف نے بیان کی ہیں۔ دوسری تھیوری یہ ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ ابن زیاد نے اپنی طرف سے سختی کی۔ پھر باغی تحریک کے جو لوگ فوج میں شامل تھے، ان کے اقدام کے نتیجے میں یہ حادثہ رونما ہوا۔ یزید کو اس کی جب اطلاع ملی تو اس نے افسوس کا اظہار کیا تاہم اس نے ان قاتلین کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔
تاریخ طبری میں ابو مخنف ہی کی بیان کردہ بعض روایات موجود ہیں، جن سے اس دوسری تھیوری کی تائید ہوتی ہے۔ ابو مخنف کے بیان کے مطابق ابن زیاد نے جب مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کے قتل کی خبر یزید کو بھیجی تو یزید نے کوفہ کی بغاوت پر قابو پا لینے پر ابن زیاد کی تعریف کی لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے متعلق لکھا:
قال أبو مخنف: عن أبي جناب يحيى بن أبي حية الكلبي: ۔۔۔۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ حسین بن علی عراق کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔ سرحدی چوکیوں پر نگران مقرر کر دیجیے۔ جن کے بارے میں شک ہو، انہیں حراست میں لے لیجیے اور جس پر کوئی الزام ہو، اسے گرفتار کر لیجیے۔ لیکن جو خود آپ لوگوں سے جنگ نہ کرے، اس سے آپ بھی جنگ نہ کیجیے۔ جو بھی واقعہ پیش آئے، اس کی مجھے اطلاع دیجیے۔ والسلام۔
( ایضاً ۔ 4/1-173)
سانحہ کربلا کے بعد یزید اور اس کے اہل خاندان کا طرز عمل ابو مخنف نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پوتی سیدہ فاطمہ رحمہا اللہ کے حوالے سے کچھ یوں بیان کیا ہے۔
قال أبو مخنف، عن الحارث بن كعب، عن فاطمة بنت علي: یزید نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے کہا: “نعمان! ان لوگوں کی روانگی کا سامان، جیسا مناسب ہو ، کر دیجیے۔ اور ان کے ساتھ اہل شام میں سے کسی ایسے شخص کو بھیجیے جو امانت دار اور نیک کردار ہو۔ اس کے ساتھ کچھ سوار اور خدمت گار بھیج دیجیے کہ ان سب کو مدینہ پہنچا دے۔ اس کے بعد اس نے خواتین کے لیے حکم دیا کہ انہیں علیحدہ مکان میں ٹھہرایا جائے اور اس میں ضرورت کی سب چیزیں موجود ہوں۔ ان کے بھائی علی بن حسین (رحمہ اللہ ) اسی مکان میں رہیں جس میں وہ سب لوگ ابھی تک رہ رہے ہیں۔ اس کے بعد یہ سب لوگ (خواتین) اس گھر سے یزید کے گھر میں گئیں تو آل معاویہ میں سے کوئی خاتون ایسی نہ تھی جو حسین (رضی اللہ عنہ) کے لیے روتی اور نوحہ کرتی ہوئی ان کے پاس نہ آئی ہو۔ غرض سب نے وہاں پر سوگ منایا۔
یزید صبح و شام کھانے کے وقت علی بن حسین کو بھی بلا لیا کرتا تھا۔ ۔۔۔ جب ان لوگوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو یزید نے علی بن حسین کو بلا بھیجا اور ان سے کہا: “اللہ مرجانہ کے بیٹے (ابن زیاد) پر لعنت کرے۔ واللہ اگر حسین میرے پاس آتے، تو مجھ سے جو مطالبہ کرتے، میں وہی کرتا۔ ان کو ہلاک ہونے سے جس طرح ممکن ہوتا بچا لیتا خواہ اس کے لیے میری اولاد میں سے کوئی مارا جاتا۔ لیکن اللہ کو یہی منظور تھا، جو آپ نے دیکھا۔ آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو، مجھے بتائیے اور میرے پاس لکھ کر بھیج دیجیے۔ پھر یزید نے سب کو کپڑے دیے اور اس قافلے (کے لیڈروں) کو ان لوگوں کے بارے میں خاص تاکید کی۔
( ایضاً ۔ 4/1-237)
بلاذری نے اس ضمن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کےبھائی محمد بن علی رحمہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کیا ہے:
حدثني أبو مسعود الكوفي عن عوانة قال: یزید نے ابن حنفیہ کو ملاقات کے لیے بلایا اور اپنے پاس بٹھا کر ان سے کہا: “حسین کی شہادت پر اللہ مجھے اور آپ کو بدلہ دے۔ واللہ! حسین کا نقصان جتنا بھاری آپ کے لیے ہے، اتنا ہی میرے لیے بھی ہے۔ ان کی شہادت سے جتنی اذیت آپ کو ہوئی ہے، اتنی ہی کو بھی ہوئی ہے۔ اگر ان کا معاملہ میرے سپرد ہوتا اور میں دیکھتا کہ ان کی موت کو اپنی انگلیاں کاٹ کر اور اپنی آنکھیں دے کر بھی ٹال سکتا ہوں تو بلا مبالغہ دونوں ہی ان کے لیے قربان کر دیتا، اگرچہ انہوں نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی تھی اور خونی رشتہ کو ٹھکرایا تھا
(یعنی اہل عراق کی دعوت پر وہاں چلے گئے تھے۔)
آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم عوام کے سامنے حسین (کے اقدام) پر تنقید کرتے ہیں لیکن واللہ یہ اس لیے نہیں کہ عوام میں حضرت علی کے خاندان کو عزت و حرمت حاصل نہ ہو بلکہ ہم لوگوں کو اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حکومت و خلافت میں ہم کسی حریف کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ “
یہ سن کر ابن حنفیہ نے کہا: “اللہ آپ کا بھلا کرے اور حسین پر رحم فرمائے اور ان کی خطاؤں کو معاف کرے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ ہمارے نقصان کو اپنا نقصان اور ہماری محرومی کو اپنی محرومی سمجھتے ہیں۔ حسین اس بات کے ہرگز مستحق نہیں ہیں کہ آپ ان پر تنقید کریں یا ان کی مذمت کریں۔ امیر المومنین! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ حسین کے بارے میں ایسی بات نہ کہیے جو مجھے ناگوار گزرے۔” یزید نے جواب دیا: “میرے چچا زاد بھائی! میں حسین کے متعلق کوئی ایسی بات نہ کہوں گا جس سے آپ کا دل دکھے۔ “
اس کے بعد یزید نے ان سے ان کے قرض کے بارے میں پوچھا۔ محمد بن علی نے فرمایا: ’’مجھ پر کوئی قرض نہیں ہے۔‘‘ یزید نے اپنے بیٹے خالد بن یزید سے کہا: ’’میرے بیٹے! آپ کے چچا کم ظرفی، ملامت اور جھوٹ سے بہت دور ہیں۔ اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کہہ دیتا کہ مجھ پر فلاں فلاں کا قرض ہے۔‘‘ پھر یزید نے حکم جاری کیا کہ انہیں تین لاکھ درہم دیے جائیں جو انہوں نے قبول کر لیے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں پانچ لاکھ درہم کیش اور ایک لاکھ کا سامان دیا۔
یزید ابن حنفیہ کے ساتھ بیٹھتا تھا اور ان سے فقہ اور قرآن سے متعلق سوالات کرتا تھا۔ جب انہیں الوداع کرنے کا وقت آیا تو اس نے ان سے کہا: ’’ابو القاسم! اگر آپ نے میرے اخلاق میں کوئی برائی دیکھی ہو تو بتائیے، میں اسے دور کر دوں گا۔ اور آپ جس چیز کی طرف اشارہ کریں گے، اسے درست کر دوں گا۔‘‘ ابن حنفیہ نے فرمایا: ’’واللہ! میں نے اپنی وسعت کے مطابق کوئی ایسی برائی نہیں دیکھی جس سے آپ نے لوگوں کو روکا نہ ہو او راس معاملے میں اللہ کے حق کے بارے میں بتایا نہ ہو۔ یہ اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے لیے حق بات کو واضح کریں اور اسے نہ چھپائیں۔ میں نے آپ میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا ہے۔‘‘( بلاذری۔ انساب الاشراف ۔ 3/470۔ باب: محمد بن حنفیہ)
ابو مخنف سے روایا ت کا جو دوسرا گروپ مروی ہے، ان کے مطابق شہادت حسین پر یزید خوش ہوا اور اس میں اس کی رضا شامل تھی۔ اس کے برعکس انہی ابو مخنف کی اوپر بیان کردہ روایات سے اس کے برعکس تصویر سامنے آتی ہے کہ یزید کو سانحہ کربلا کا شدید افسوس ہوا اور وہ اس نے اس سانحے پر غم کا ظہار کیا۔ اب یہ شخص کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ ابو مخنف کی روایات میں سے کن روایات کو قبول کرتا ہے۔ اتنی صدیوں بعد کسی کا دل چیر کر نہیں دیکھا جا سکتا ہےکہ اس کے دل میں کیا ہے۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یزید اس سانحہ میں ملوث نہیں تھا تو اس نے ابن زیاد اور سانحہ کربلا کے دیگر ذمہ داروں کو سزا کیوں نہیں دی؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ ایک تحقیقاتی ٹیم بناتا جس میں ایسے دیانت دار لوگ ہوتے جن پر امت کو کامل اعتماد ہوتا۔ یہ لوگ سانحہ کربلا کی تحقیقات کرتے اور جو لوگ اس میں ملوث تھے، انہیں قرار واقعی سزا دی جاتی۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا کتب تاریخ کے صفحات میں کوئی جواب نہیں ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ یزید کی ایسی بھیانک غلطی تھی جس کے نتیجے میں اس کا نہ تو اقتدار قائم رہ سکا اور اس کے مخالفین نے اس کے اس اقدام کو بنیاد بنا کر اس پر لعن طعن کا وہ سلسلہ شروع کیا جو اب تک جاری ہے۔خود یزید کو سانحہ کربلا کی وجہ سے سخت نقصان ہوا۔ اس کی اب تک جو رہی سہی ساکھ تھی، وہ بالکل ہی ختم ہو گئی اور لوگ اس سے نفرت کرنے لگے۔ طبری ہی کی ایک روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یزید کو اس نقصان کا اندازہ ہو گیا تھا اور وہ ابن زیاد سے سخت نفرت کرنے لگا تھا۔
قال أبو جعفر: وحدثني أبو عبيدة معمر بن المثنى أن يونس بن حبيب الجرمي حدثه، قال: تھوڑے ہی دن بعد وہ (یزید) پشیمان ہوا اور اکثر کہا کرتا تھا: “اگر میں ذرا تکلیف گوارا کرتا اور حسین کو اپنے ہی گھر میں رکھتا، جو وہ چاہتے، انہیں اس کا اختیار دے دیتا۔ اس لیے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی تھی اور ان کے حق اور قرابت کی رعایت تھی۔ اگر میری حکومت کی اس میں سبکی بھی ہو جاتی تو اس میں کیا حرج تھا۔ اللہ ابن مرجانہ (ابن زیاد) پر لعنت کرے کہ اس نے انہیں لڑنے پر مجبور کیا۔ وہ تو یہ کہتے تھے کہ مجھے واپس چلا جانے دو یا (مجھے یزید کے پاس بھیج دو) تاکہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں یا مسلمانوں کی سرحدوں میں سے کسی سرحد کی طرف مجھے نکل جانے دو۔ وہاں اللہ عزوجل میری حفاظت کرے گا۔ یہ بات بھی اس نے نہ مانی اور اس سے بھی انکار کر دیا۔ ان کو کوفہ کی طرف واپس لایا اور قتل کر دیا۔ اس واقعہ سے اس نے مسلمانوں کے دلوں میں میرا بغض بھر دیا اور میری عداوت کا بیج بویا۔ اب نیک ہوں یا بد، سب مجھ سے اس بات پر بغض رکھتے ہیں کہ میں نے حسین کو قتل کیا۔ لوگ اسے بہت بڑا واقعہ سمجھتے ہیں۔ مجھے ابن مرجانہ سے کیا غرض ہے؟ اللہ اس پر لعنت کرے اور اس پر اپنا غضب نازل کرے۔
( طبری۔ 4/1-270)
اسی روایت کے کچھ بعد بیان ہے کہ یزید کے مرنے کے بعد ابن زیاد نے ایک خطبہ دیا اور اس کی مذمت بھی کی۔ وہ جانتا تھا کہ یزید اس کے ساتھ بہت برا پیش آنے والا ہے اور اس وجہ سے اس سے خائف تھا۔ ممکن ہے کہ یزید اگر کچھ عرصہ اور زندہ رہتا تو ابن زیاد کے خلاف کاروائی بھی کر ڈالتا لیکن بہرحال اب بہت دیر ہو چکی تھی اور شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا جو نقصان اسے پہنچنا تھا، وہ پہنچ چکا تھا۔
سانحہ کربلا میں باغی تحریک کا کردار کیا تھا؟
سانحہ کربلا میں کوفہ کی باغی تحریک کا کردار نمایاں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ آنے کی دعوت دی اور خطوط کا تانتا باندھ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مسلم بن عقیل رحمہ اللہ کو بغاوت پر اکسایا اور پھر عین محاصرے کی حالت میں ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو براہ راست شہید کرنے والوں میں وہ لوگ شامل تھے جو باغی تحریک سے متعلق تھے۔ ان میں شمر بن ذی الجوشن کا نام نمایاں ہے جو جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا۔ حضرت حسین نے اپنی شہادت سے کچھ دیر پہلے جو دعا فرمائی، اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو شہید کرنے والے یہی لوگ تھے۔ “اے اللہ! ہمارا اور ان لوگوں کا تو انصاف فرما۔ انہوں نے ہمںب اس لےد بلایا کہ ہماری مدد کریں گے اور اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہں ۔”
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے نتائج پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس شہادت سے یزید کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچا البتہ باغی تحریک کی پانچوں انگلیاں گھی میں آ گئیں۔ انہوں نے حضرت حسین کے نام کو خوب کیش کروایا اور چار سال کی تیاری کر کے آپ کے نام پر ایک زبردست بغاوت اٹھائی۔ جیسا کہ ہم باغی تحریکوں کے لائف سائیکل میں بیان کر چکے ہیں کہ یہ لوگ “شہیدوں” کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ ان کا نام استعمال کر کر کے لوگوں کے جذبات بھڑکا سکیں۔ اور پھر اگر شہید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے درجے کا شخص ہو تو کیا کہنے۔ یہی وجہ ہے کہ باغیوں نے پہلے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس آنے کی ترغیب دی، پھر جب آپ کوفہ کی طرف تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد جب آپ شہید ہو گئے تو آپ کے نام کو خوب استعمال کر کے اگلی نسلوں کے جذبات بھڑکائے اور پے در پے بغاوتیں اٹھائیں۔ تاہم اللہ تعالی نے ان کے تمام منصوبوں کو ناکام کر دیا اور ان کی کوئی بغاوت بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد یہی معاملہ اس باغی تحریک نے آپ کے پوتے جناب زید بن علی رحمہما اللہ اور ان کے کزن نفس الزکیہ علیہ الرحمۃ کے ساتھ کیا۔
حضرت عثمان اور حضرت حسین کی شہادتوں میں کیا مناسبت تھی؟
حضرت عثمان اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی شہادتوں میں بہت سے پہلو مشترک ہیں۔ سب سے پہلے یہ تقابل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کیا تھا جس وقت انہوں نے حضرت حسین کو عراق جانے سے روکا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا: “اگر جانا ہی ٹھہرا تو خواتن اور بچوں کو ساتھ نہ لے جائےح۔ واللہ! مجھے ڈر ہے کہ کہںھ حضرت عثمان کی طرح آپ بھی اپنی خواتنل اور بچوں کے سامنے قتل نہ کر دیے جائںس۔” حضرت ابن عباس کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور حضرت حسین کو بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی طرح ان کے اہل و عیال کے سامنے شہید کیا گیا۔ حضرت عثمان کی شہادت سے کچھ ہی دیر پہلے جس آخری شخص نے آپ سے ملاقات کی تھی، وہ حضرت حسین ہی تھے۔
ان دونوں بزرگوں کی شہادتوں میں یہ پہلو بھی مشترک ہے کہ دونوں ہی کو نہایت مظلومیت کے ساتھ شہید کیا گیا۔ جیسے حضرت عثمان کے ساتھ حسن و حسین سمیت چند ہی ساتھی تھے جبکہ ان کے مخالفین ہزاروں کی تعداد میں تھے، ویسے ہی حضرت حسین کے ساتھ بھی چند ہی ساتھی تھے اور ان کے مخالفین بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے۔
حضرت عثمان اور حسین رضی اللہ عنہما کی شہادتوں میں دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں ہی باغی تحریک کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ تیسری مناسبت یہ ہے کہ جیسے قاتلین عثمان اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ، ویسے ہی قاتلین حسین بھی خائب و خاسر رہے۔ حضرت عثمان کے قاتلوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ اقتدار پر قابض ہو جائیں اور کسی کٹھ پتلی خلیفہ کے پردے میں اپنا اقتدار قائم کر سکیں۔ حضرت علی، حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہم نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔ بالکل اسی طرح قاتلین حسین کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو شہید کر کے وہ یزید سے کچھ انعام و اکرام حاصل کریں۔ یزید نے ان کی یہ خواہش پوری نہ کی۔ جیسے قاتلین عثمان کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے چن چن کر گرفتار کیا اور پھر مقدمہ چلا کر انہیں موت کی سزا دی، بالکل اسی طرح قاتلین حسین کو بھی مختار ثقفی کے دور میں چن چن کر قتل کیا گیا۔
حضرت عثمان اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی شہادتوں میں ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ دونوں کے نام کو جنگ و جدال کے لیے استعمال کیا گیا۔ ناصبی فرقے نے حضرت عثمان کا نام لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہما کے خلاف پراپیگنڈا کیا، بالکل ویسے ہی باغی تحریک نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام لے کر بنو امیہ کی حکومتوں کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے ادوار میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نام پرکیا جانے والا پراپیگنڈا ختم ہو گیا جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر کیا جانے والا پراپیگنڈا اب بھی جاری ہے۔ اس معاملے میں کسی مخصوص فرقے کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ جب بھی جس باغی تحریک کو ضرورت پڑتی ہے، تو وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام استعمال کرتی ہے۔
یہاں پر تاریخ کے طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ حضرت حسین کے نام کے ساتھ ہی کیوں کیا جاتا ہے اور حضرت عثمان کو بالکل ہی نظر انداز کیوں کر دیا گیا ہے؟ اس کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور آپ کے خلاف اٹھنے والے باغی تھے۔ اس وجہ سے باغی تحریکوں کو آپ کا نام لینے میں کوئی فائدہ محسوس نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ ایک ایسے باغی سے تشبیہ دی جاتی ہے جو ظالم حکمران کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے بعد خون کو گرمانے والے اشعار پڑھے جاتے ہیں اور تحریکی کارکنوں کو بغاوت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
یہ تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے دور کے سیاسی لیڈروں کے ہتھکنڈوں کو سمجھیں جو ان بزرگوں کے مقدس نام استعمال کر کے سادہ لوح نوجوانوں کو اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ لیڈر خود کم ہی جان دیتے ہیں اور اپنے سادہ لوح کارکنوں کو جان دینے کی زیادہ ترغیب دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوئی بغاوت نہیں کی اور نہ ہی فتنہ و فساد برپا کیا۔ آپ عراق میں انارکی کو ختم کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے اور جب آپ کو یہ علم ہوا کہ وہاں حکومت قائم ہو چکی ہے تو مسلمانوں کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے آپ یزید کے پاس جا کر براہ راست معاملہ طے کرنے کے لیے بھی تیار ہو گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے باوجود بھی آپ کو شہید کیا گیا تو پورے عالم اسلام میں آپ کے قتل کو مظلومانہ قتل ہی قرار دیا گیا۔
سانحہ کربلا کی داستانیں کس حد تک قابل اعتماد ہیں؟
سانحہ کربلا چونکہ ایک بڑا سانحہ تھا اور اس نے عالم اسلام پر بڑے نفسیاتی اثرات مرتب کیے، اس وجہ سے یہ مورخین کے زمرے سے نکل کر عام قصہ گو حضرات، شاعروں اور خطیبوں کی محفلوں کا موضوع بن گیا۔ ان کے ساتھ ساتھ باغی تحریک سے تعلق رکھنے والے قصہ گو خطیبوں اور شاعروں نے جلتی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ ایک عام خطیب یا شاعر کو اس بات سے دلچسپی نہیں ہوتی ہے کہ واقعے کو ٹھیک ٹھیک بیان کیا جائے بلکہ اس کی دلچسپی اس بات سے ہوتی ہے کہ ایسی کیا بات کی جائے جس سے سامعین کے جذبات بھڑکیں، وہ روئیں اور چلائیں، اپنے گریبان چاک کر دیں اور خطیب یا شاعر کو اٹھ کر داد دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان حضرات نے سانحہ کربلا کی ایسی ایسی مبالغہ آمیز داستانیں وضع کیں جن کا تصور بھی شاید ابو مخنف نے بھی نہ کیا ہو گا۔ ان داستانوں کی کوئی سند نہیں ہے اور نہ یہ تاریخ کی کسی کتاب میں موجود ہیں۔ بس جاہل قسم کے واعظ اور شاعر انہیں بیان کر دیتے ہیں۔ یہاں ہم ان مبالغہ آمیز داستانوں کی چند مثالیں پیش کر رہے ہیں جو عام مشہور ہیں۔
1۔ یہ بات عام طور پر مشہور کر دی گئی ہے کہ کربلا میں تین دن تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کا پانی بند کر دیا گیا تھا اور وہ پیاسے شہید ہوئے تھے۔ خود ابو مخنف کی روایت سے اس کی تردید ہوتی ہے جو کہ طبری میں موجود ہے:
قال أبو مخنف: حدثنا عبد الله بن عاصم الفائشي – بطن من همدان – عن الضحاك بن عبد الله المشرقي:۔۔۔ (سانحہ کربلا کی رات سیدہ زینب رضی اللہ عنہا شدت غم سے بے ہوش ہو گئیں۔) بہن کا حال دیکھ کر حضرت حسین کھڑے ہو گئے ۔ ان کے پاس آ کر چہرہ پر پانی چھڑکا اور فرمایا: “پیاری بہن! اللہ کا خوف کرو اور اللہ کے لیے صبر کرو۔ اس بات کو سمجھو کہ روئے زمین پر سب مرنے والے ہیں۔ اہل آسمان بھی باقی نہ رہیں گے۔ بس اللہ کی ذات کے سوا جس نے اپنی قدرت سے اس زمین کو پیدا کیا ہے اور جو مخلوق کو زندہ کر کے واپس لائے گا، وہی اکیلا اور تنہا ہے۔ سب چیزیں مٹ جانے والی ہیں۔ میرے والد مجھ سے بہتر تھے، میری والدہ تم سے بہتر تھیں، میرے بھائی مجھ سے بہتر تھے۔ مجھے اور ان سب کو اور ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو دیکھ کر اطمینان ہو جانا چاہیے۔ ” اسی طرح کی باتیں کر کے آپ نے انہیں سمجھایا اور پھر فرمایا: “پیاری بہن! میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور میری اس قسم کو پورا کرنا۔ میں مر جاؤں تو میرے غم میں گریبان چاک مت کرنا، منہ کو نہ پیٹنا، ہلاکت و موت کو نہ پکارنا۔ “
( ایضاً ۔ 4/1-206)
اس روایت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی ہمشیرہ کو جو نصیحت فرمائی، اسے ہماری خواتین کو بھی پلے باندھ لینا چاہیے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سانحہ کی آخری رات بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس پانی موجود تھا جو آپ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے چہرے پر چھڑکا۔ ویسے بھی کربلا دریائے فرات کے کنارے پر واقع ہے۔ دریا کے پانی کا پھیلاؤ اتنا ہے کہ اس کی وجہ سے اس علاقے میں ایک بڑی جھیل موجود ہے جو کہ ’’بحیرہ رزازہ‘‘ کہلاتی ہے اور کربلا شہر سے محض 18 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ آج بھی گوگل ارتھ کی مدد سے اس پورے علاقے کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ فرات ایک دریا ہے، کوئی چھوٹا موٹا چشمہ نہیں ہے جس کا پانی روک لیا جائے۔ اگر ایک جگہ دشمن نے پہرہ لگا دیا تھا تو دوسری جگہ سے پانی حاصل کیا جا سکتا تھا۔
اس روایت کے کچھ بعد طبری نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک بڑے ٹب میں مشک کو پانی میں حل کرنے کا حکم دیا تاکہ اسے جسم پر ملا جا سکے۔ اگر پینے کے لیے پانی نہ تھا تو پھر پہلوانوں کی طرح نورہ لگانے کے لیے ٹب جتنا پانی کہاں سے آ گیا؟
قال أبو مخنف: حدثني فضيل بن خديج الكندي، عن محمد بن بشر، عن عمرو الحضرمي، قال: جب یہ لوگ (سرکاری فوج) آپ (حضرت حسین) سے جنگ کے لیے آگے بڑھے، تو آپ نے حکم دیا کہ بڑا خیمہ نصب کیا جائے۔ چنانچہ اسے نصب کر دیا گیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ایک بڑے برتن میں مشک کو پانی میں حل کیا جائے۔ جب اسے حل کر لیا گیا تو اب آپ خیمہ کے اندر نورہ لگانے کے لیے گئے۔
( ایضاً ۔ 4/1-208)
2۔ ایک اور مبالغہ آمیز بیان یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے دشمن فوج کے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ بعض روایتوں میں یہ تعداد دو ہزار اور بعض میں تین لاکھ تک آئی ہے۔ اس روایت کے مبالغے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہر آدمی کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اسے پچھاڑ کر قتل کرنے کے لیے ایک منٹ بھی درکار ہو تو 2000 افراد کو قتل کرنے کے لیے 2000 منٹ تو چاہیے ہوں گے، یہ تقریبا 33 گھنٹے بنتے ہیں۔ ابو مخنف کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانحہ ایک آدھ گھنٹے میں ہو کر ختم ہو گیا تھا۔
3۔ ایک اور مبالغہ آمیز بیان یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہداء کے سروں کو نیزوں پر لگا کر انہیں آپ کے اہل خانہ کے ساتھ شہر بہ شہر جلوس کی صورت میں پھرایا گیا اور اس حالت میں بھی حضرت حسین کے مبارک لبوں سے تلاوت قرآن مجید کی آواز سنی گئی۔ اگر کوئی آج بھی یہ کام کرے تو اسے سیاسی خود کشی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو جہاں جہاں سے یہ جلوس گزرتا جاتا، بغاوت کھڑی ہوتی چلی جاتی۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسی کوئی حرکت کی جاتی تو اسے دیکھنے والے ہزاروں ہوتے۔ کیا ان میں سے کسی کی غیرت نے جوش نہیں مارا؟ اس وقت موجود درجنوں صحابہ اور ہزاروں تابعین میں سے کیا دو چار سو لوگ بھی ایسے نہ تھے جنہوں نے اس جلوس کو دیکھ کر یزید کے سامنے کلمہ حق ہی کہا ہو؟
اس قسم کی درجنوں مبالغہ آمیز داستانیں ہمارے ہاں خطیب اور شاعر عام بیان کرتے نظر آتے ہیں لیکن ہم انہی پر اکتفا کرتے ہیں۔
سانحہ کربلا کی روایات کس حد تک مستند ہیں؟
سانحہ کربلا کے موضوع پر بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں۔ محرم الحرام میں بہت سے واعظ اور ذاکرین رو رو کر سانحہ کربلا کی داستان کچھ اس طریقے سے سناتے ہیں جیسے وہ اس واقعے کے چشم دید گواہ ہوں اور انہوں نے اس سانحے کو باقاعدہ ریکارڈ کیا ہو۔ تاریخ میں اس واقعے سے متعلق جیسا جھوٹ گھڑا گیا ہے، شاید ہی کسی اور واقعے سے متعلق گھڑا گیا ہو۔
عجیب بات یہ ہے کہ اولین کتب تاریخ میں اس واقعے کو صرف ایک شخص نے پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کا نام ہے ابو مخنف لوط بن یحیی۔ ان سے بالعموم جو صاحب روایت کرتے ہیں، ان کا نام ہشام کلبی ہے۔ ان دونوں راویوں سے ہمارا اس کتاب میں پرانا تعلق ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ دونوں نہایت ہی متعصب مورخ ہیں اور مخصوص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں سخت بغض رکھتے ہیں۔ تاریخ طبری میں سوائے چند ایک کے، سانحہ کربلا کی تقریباً سبھی روایات انہی دونوں سے مروی ہیں۔ ان دونوں راویوں کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے بغض اتنا نمایاں ہے کہ انہوں نے ان روایات میں بھی جگہ جگہ اس بغض کو داخل کر دیا ہے۔
تاریخ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی شخص یا واقعے کے بارے میں اس سے متعصب راوی کی روایت کو قبول نہ کیا جائے۔ اس وجہ سے مناسب یہی رہے گا کہ ہم ابو مخنف اور ہشام کلبی کی روایات سے اجتناب کریں۔ ان دونوں کے علاوہ ایک اور ناقابل اعتماد مورخ محمد بن عمر الواقدی کی بعض روایتیں سانحہ کربلا سے متعلق ہیں، جن کے بارے میں بھی ہمیں معلوم ہے کہ وہ ہر جھوٹی سچی بات کو ملا کر ایک کہانی بناتے ہیں اور پھر بغیر کسی سند کے بیان کر دیتے ہیں۔ کبھی وہ سند بھی بیان کر دیتے ہیں جو بالعموم مکمل نہیں ہوتی ہے۔
تاریخ طبری کے بارے میں 129 روایات کا بڑا حصہ ابو مخنف، ہشام کلبی اور واقدی سے مروی ہے۔ طبری سے پہلے کے مورخین میں ابن سعد (d. 230/845) ہیں جو کہ ہیں تو واقدی کے شاگرد ، لیکن بذات خود ایک قابل اعتماد مورخ ہیں۔ ان کے بارے میں محدثین کا یہ اصول ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان کی وہ روایات، جو وہ واقدی کےعلاوہ کسی اور سے روایت کرتے ہیں، پر اعتماد کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان کے راوی قابل اعتماد ہوں۔ ابن سعد نے سانحہ کربلا کے واقعات سے متعلق 23 روایات اپنی کتاب میں درج کی ہیں،لیکن ان میں سے ایک روایت وہ ہے جو انہوں نے مختلف اسناد کو ملا کر پورے واقعہ کو ایک طویل کہانی کی صورت میں بیان کی ہے۔ بقیہ 22 چھوٹی چھوٹی روایتیں ہیں جن میں ابن سعد نے واقعے کی کچھ جزوی تفصیلات کو نقل کیا ہے اور ان میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ ان میں سے ہر روایت کو نقل کرنے کے بعد وہ رجع الحديث إلى الأول (اب ہم پہلے بیان کی طرف واپس پلٹتے ہیں) کے الفاظ لکھ کر اسی طویل روایت کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ روایت 25-26 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے جبکہ بقیہ 5-6 صفحات پر بقیہ 22 روایتیں ہیں۔ طویل روایت کی اسناد کو انہوں نے کچھ اس طرح نقل کیا ہے:
أخبرنا محمد بن عمر (الواقدي)، قال: حدثنا ابن أبي ذئب، قال: حدثني عبدالله بن عمير مولى أم الفضل
أخبرنا عبدالله بن محمد بن عمر بن علي، عن أبيه
أخبرنا يحيي بن سعيد بن دينار السعدي، عن أبيه
وحدثني عبدالرحمن بن أبي الزناد، عن أبي وجزة السعدي، عن علي بن حسين.
قال: وغير هؤلاء أيضا قد حدثني. قال محمد بن سعد: وأخبرنا علي بن محمد، عن يحيي بن إسماعيل بن أبي مهاجر، عن أبيه.
وعن (أبو مخنف) لوط بن يحيي الغامدي، عن محمد بن نشر الهمداني، وغيره.
وعن محمد بن الحجاج، عن عبدالملك بن عمير.
وعن هارون بن عيسى، عن يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه.
وعن يحيي بن زكريا بن أبي زائدة، عن مجالد، عن الشعبي.
قال ابن سعد: وغير هؤلاء أيضا قد حدثني في هذا الحديث بطائفة فكتبف جوامع حديثهم في مقتم الحسين رحمة الله عليه ورضوانه وصلوته وبركاته. قالوا:
ابن سعد نے کہا: ان اسناد کے علاوہ بھی اس روایت کو (راویوں کے) ایک گروہ نے مجھ سے بیان کیا۔ میں نے حضرت حسین رحمۃ اللہ علیہ ورضوانہ و صلوتہ وبرکاتہ کی شہادت سے متعلق ان سب کی روایتوں کو اکٹھا کر کے لکھ لیا ہے۔ ان لوگوں نے بیان کیا:۔۔۔۔( ابن سعد۔ طبقات الکبری۔ 6/421-422)۔
ابن سعد نے اس طویل روایت میں یہ نہیں بتایا کہ روایت کا کون سا حصہ کس راوی نے بیان کیا ہے بلکہ انہوں نے اسے ایک مسلسل قصے کی صورت میں بیان کر دیا ہے۔ اب ہمیں یہ معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ تقریباً 25-26 صفحات پر پھیلی ہوئی اس روایت کا کون سا حصہ قابل اعتماد راویوں نے بیان کیا ہے اور کون سا حصہ ناقابل اعتماد راویوں نے۔ اس وجہ سے ان کی پوری روایت کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ ابن سعد کی بیان کردہ تفصیلات کا موازنہ اگر طبری میں بیان کردہ ابو مخنف ، ہشام کلبی اور واقدی کی روایتوں سے کیا جائے تو ان میں مماثلت پائی جاتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن سعد نے بھی زیادہ تر تفصیلات انہی تین راویوں سے اخذ کی ہیں۔
اب آئیے تیسرے مورخ احمد بن یحیی بلاذری (d. 279/893)کی طرف۔ انہوں نے سانحہ کربلا کے ضمن میں 39 روایتیں بیان کی ہیں جو کہ مکتبہ دار الفکر والے ورژن کی جلد 3 میں صفحہ 363-426 پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے 14ایسی روایتیں ہیں جو نہایت ہی ناقابل اعتماد راویوں سے مروی ہیں۔ ان میں ابو مخنف لوط بن یحیی (4654)، عباد بن عوام (2651)، عوانہ بن حکم (4372)، حصین بن عبد الرحمن (1795) اور ہیثم بن عدی (6546)شامل ہیں۔ یہ سب کے سب راوی ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں۔( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلا۔ راویوں کے نمبر کے مطابق دیکھا جا سکتا ہے۔)
ان میں لوط بن یحیی اور عباد بن عوام اسی باغی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے جو مسلسل بغاوتیں اٹھاتی رہی۔ عوانہ بن حکم، ہشام کلبی کے استاذ تھے۔ ہیثم بن عدی کو محدثین نے کذاب قرار دیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمن اگرچہ قابل اعتماد تھے مگر ان کا حافظہ کمزور تھا اور وہ روایات کو خلط ملط کر دیا کرتے تھے۔ آپ ذہبی کے مشہور انسائیکلو پیڈیا ’’سیر الاعلام النبلاء‘‘ میں متعلقہ نمبر پر ان سب کے حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اگر ان راویوں کی بیان کردہ روایتوں کو چھوڑ دیا جائے تو اس طرح سے بقیہ 25روایتیں بچتی ہیں جن سے ہم واقعے کی حقیقت کا کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔
آٹھویں صدی کے مشہور مورخ ابن کثیر نے بھی ابو مخنف وغیرہ کی ان روایتوں کو اپنی کتاب البدایہ و النہایہ میں درج کیا ہے اور اس کے بعد لکھا ہے:
اہل تشیع اور روافض نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں بہت سا جھوٹ اور جھوٹی خبریں گھڑی ہیں۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے، اس کا بعض حصہ محل نظر ہے۔ اگر ابن جریر (طبری) وغیرہ حفاظ اور ائمہ نے اس کا ذکر نہ کیا ہوتا تو میں اسے بیان نہ کرتا۔ اس کا اکثر حصہ ابو مخنف لوط بن یحیی کی روایت سے ہے جو کہ شیعہ تھا اور ائمہ کے نزدیک واقعات بیان کرنے میں ضعیف (ناقابل اعتماد) ہے۔ لیکن چونکہ وہ اخباری اور (خبروں کا) محفوظ کرنے والا ہے اور اس کے پاس ایسی چیزیں ہیں جو اس کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں ہیں، اس وجہ سے اس کے بعد کے کثیر مصنفین نے اس پر کڑی تنقید کی ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ ) ابن کثیر 11/577، اردو ترجمہ: 8/259)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان ناقابل اعتماد مورخین کی روایتوں کو چھوڑ دیا جائے تو سانحہ کربلا سے متعلق ہمیں کچھ زیادہ معلوم نہ ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کا کوئی حل نہیں ہے تاہم دو صورتیں ایسی ہیں جن پر احتیاط سے عمل کیا جائے تو ہم کسی حد تک درست معلومات تک پہنچ سکتے ہیں۔
• ایک صورت تو یہ ہے کہ ان دونوں کی روایتوں کو چھوڑ کر دیگر روایات پر غور کیا جائے۔ اس سے جتنی معلومات حاصل ہوں، ان پر اکتفا کر کے بقیہ معاملات کو حسن ظن پر چھوڑ دیا جائے۔ ہمارے نزدیک یہی صحیح طرز عمل ہے۔
• دوسری صورت یہ ہے کہ ان ناقابل اعتماد مورخین کی روایات میں جہاں جہاں صحابہ کرام سے بغض ظاہر ہوتا ہو، اسے چھوڑ کر بقیہ معاملات میں ان کی باتوں کو پوری احتیاط سے قبول کیا جائے اور ان کی کسی ایسی بات کو قبول نہ کیا جائے جس میں ان کا تعصب جھلکتا ہو اور انہوں نے واقعات کو جذباتی انداز میں ایسے بیان کیا ہو کہ اس دور کے مسلمانوں کی نہایت ہی بھیانک تصویر سامنے آئے۔
سانحہ کربلا کے بارے میں بعد کی صدیوں میں کیا رواج پیدا ہوئے؟
سانحہ کربلا کے بارے میں چوتھی صدی ہجری کے بعد تین موقف رواج پا گئے ہیں۔ ایک گروہ نے اس سانحہ کے دن یوم عاشورہ 10 محرم کو ماتم اور غم کا دن بنا لیا۔ دوسرے گروہ نے اسے عید اور خوشی کا دن بنایا اور امت کی اکثریت نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو ایک سانحہ کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو دیگر انبیاء و صلحاء کی شہادت کے ساتھ کرتے ہیں۔ ابن کثیر (701-774/1301-1372)نے انہیں اس طرح بیان کیا ہے:
روافض نے سن 400 ہجری کے آپس پاس بنو بویہ کی حکومت میں حد سے تجاوز کیا۔ یوم عاشورہ کو بغداد وغیرہ شہروں میں ڈھول بجائے جاتے، راستوں اور بازاروں میں راکھ اور بھوسہ بکھیرا جاتا، دکانوں پر ٹاٹ لٹکائے جاتے اور لوگ غم اور گریہ کا اظہار کرتے۔ اس رات بہت سے لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی موافقت میں پانی نہ پیتے کیونکہ آپ کو پیاسا ہونے کی حالت میں قتل کیا گیا تھا۔ خواتین ننگے منہ نوحہ کرتیں اور اپنے سینوں اور چہروں پر طمانچے مارتے ہوئے برہنہ پا بازاروں میں نکلتیں۔ اس قسم کی دیگر بدعات شنیعہ اور قبیح خواہشات اور رسوائی کے من گھڑت کام کیے جاتے۔ اس قسم کے کاموں سے ان کا مقصد بنو امیہ کی حکومت کو ذلیل کرنا تھا کیونکہ حضرت حسین ان کے دور حکومت میں قتل ہوئے تھے۔
• شام کے ناصبین نے یوم عاشورہ کو اس کے برعکس منانا شروع کیا۔ یہ لوگ یوم عاشورہ کو کھانے پکاتے، غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور قیمتی لباس پہنتے اور اس دن کو عید کے طور پر مناتے ۔ اس میں وہ طرح طرح کے کھانے پکاتے اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے اور ان کا مقصد روافض کی مخالفت کرنا تھا۔ انہوں نے حضرت حسین کے قتل کی تاویل یہ کی کہ وہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے نکلے تھے اور جس شخص کی بیعت پر لوگوں نے اتفاق کیا تھا، اسے معزول کرنے آئے تھے۔ (باغیوں کو سزا دینے کے ضمن میں) صحیح مسلم میں اس بارے میں جو وعیدیں اور انتباہ آیا ہے، یہ ان احادیث کی تاویل کر کے ان کا اطلاق حضرت حسین پر کرتے ہیں۔ یہ جاہلوں کی تاویل تھی جنہوں نے آپ کو شہید کیا۔ ان پر لازم تھا کہ وہ آپ کو شہید نہ کرتے بلکہ آپ نے جب تین آپشنز دی تھیں، تو ان میں سے کسی ایک کو قبول کر لیتے۔۔۔۔
• ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ آپ کی شہادت پر غمگین ہو۔ بلاشبہ آپ سادات مسلمین اور علماء و صحابہ میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان بیٹی کے بیٹے تھے جو آپ کی بیٹیوں میں سب سے افضل تھیں۔ آپ عبادت گزار ، دلیر اور سخی تھے لیکن شیعہ جس طریق پر بے صبری سے غم کا اظہار کرتے ہیں، وہ مناسب نہیں ہے۔ شاید اس کا اکثر حصہ تصنع اور دکھاوے پر مشتمل ہے۔ آپ کے والد (حضرت علی رضی اللہ عنہ) آپ سے افضل تھے۔ وہ بھی شہید ہی ہوئے تھے لیکن ان کے قتل کا ماتم حضرت حسین کے قتل کی طرح نہیں کرتے۔ بلاشبہ آپ کے والد 17 رمضان 40 ہجری کو جمعہ کے روز فجر کی نماز کو جاتے ہوئے قتل ہوئے تھے۔
• اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی قتل ہوئے تھے جو اہل السنۃ و الجماعۃ کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ آپ ماہ ذو الحجہ 36 ہجری کے ایام تشریق میں اپنے گھر میں محصور ہو کر قتل ہو ئے تھے۔ آپ کی شاہ رگ کو کاٹ دیا گیا مگر لوگوں نے آپ کے قتل کے دن کو ماتم کا دن نہیں بنایا۔ اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی قتل ہوئے جو حضرت عثمان اور حضرت علی سے افضل تھے۔ آپ محراب میں کھڑے ہو کر فجر کی نماز پڑھاتے اور قرآن پڑھتے ہوئے قتل ہوئے مگر لوگوں نے آپ کے یوم شہادت کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا۔ اسی طرح حضرت صدیق رضی اللہ عنہ آپ سے بھی افضل تھے اور لوگوں نے آپ کے یوم وفات کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا اور آخرت میں اولاد آدم کے سردار ہیں، آپ کو اللہ تعالی نے اسی طرح وفات دی، جیسے آپ سے پہلے انبیاء نے وفات پائی تھی۔ کسی نے آپ کی وفات کے دن کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا اور نہ وہ کام کیے ہیں جو ان روافض کے جاہل لوگ حضرت حسین کی شہادت کے روز کرتے ہیں۔ نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن اور نہ آپ سے پہلے کسی شخص کی وفات کے دن کے بارے میں کسی شخص نے کسی ایسے مذکورہ معاملے کو بیان کیا ہے جس کا یہ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے دن کے بارے میں دعوی کرتے ہیں۔ جیسے سورج گرہن اور وہ سرخی جو آسمان پر نمودار ہوتی ہے۔
( ابن کثیر ۔ البدایہ و النہایہ۔ 11/577 (اردو 8/259) )
• ابن کثیر نے مسلمانوں کی اکثریت کا جو موقف بیان کیا ہے، وہی ان کا اپنا نقطہ نظر بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کا ذکر کرنے سے ان کا مقصد یہی ہے کہ وہ اہل سنت کو اس جانب توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ  شہادت حسین رضی اللہ عنہ پر ان کا موقف کیا ہونا چاہیے۔

(بشکریہ پروفیسر محمد عقیل)

بے نظیر بھٹو پر اعتماد کرکےمیں نے بہت بڑی غلطی کی

پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا کہنا ہے کہ نوے کی دہائی میں سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کی گئی تھیں لیکن یہ آئین کے خلاف تھا یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

ایک غیرملکی نشریاتی ادارے کے ایک پروگرام  میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اسد درانی کا کہنا تھا کہ اس طرح کا کوئی بھی کام قانون دیکھ کر نہیں کیا جاتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سنہ انیس سو نوے میں بینظیر کی حکومت قانون کے ہی مطابق صدر کے اختیار اٹھاون ٹو بھی کے تحت ختم کی گئی تھی۔

اسد درانی کے بقول اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سمجھتے تھے کہ پیپلز پارٹی حالات کے مطابق صحیح نہیں جار ہی اس لیے انہوں نے اسے سبق سکھانے کے لیے ایسا کیا۔

سیاستدانوں میں تقسیم کی جانے والی رقم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ رقوم کراچی کی تاجر برادری نے اکھٹی کی تھی۔ بقول ان کے ’سب کو فوج پر بھروسہ تھا اس لیے تقسیم کی ذمہ داری فوج کو دی گئی‘۔

اسد درانی کے بقول افسران کے حکم پر انہوں نے رقوم تقسیم کرنے کے لیے بعض لوگوں کو ذمہ داری سونپی تھی۔

اسد درانی کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کا فوج کو پوری طرح علم تھا۔ ’ایسا کرنے کے لیے ملک کی سپریم کمانڈ نے کہا۔‘

اسد درانی کے بقول اس وقت سب کچھ ایک اصول کے تحت ہو رہا تھا۔

اس سوال پر کہ وہ یہ کام کرنے سے انکار بھی کرسکتے تھے تو ایسا کیوں نہیں کیا؟ اسد درانی کا کہنا تھا کہ حکم بجا لانا فوج کی تربیت میں شامل ہوتا ہے۔ حکم عدولی کی صورت میں بھی ان کے خلاف کوئی نہ کوئی کارروائی ہونا تھی۔

رقوم تقسیم کیے جانے کے طریقہ کار سے متعلق اسد درانی کا کہنا تھا کہ ’کسے کتنی رقم دینا ہے اس کی ہدایت اس وقت کے فوجی سربراہ اسلم بیگ دیا کرتے تھے۔ چونکہ فیصلہ ایوانِ صدر کرتا تھا اس لیے بعض دفعہ ہدایات وہاں سے بھی آتی تھیں۔‘

بقول اسد درانی اس وقت یہ تمام عمل شفاف طریقہ سے ہوا۔ رقوم کی تقسیم کی ذمہ داری سویلین لوگوں کی تھی جو جا کر یہ رقم سویلین لوگوں کے حوالے کر دیا کرتے۔

اس سوال پر کہ رقوم کیا کہہ کر دی جاتی تھی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ رقم لے جانے والے کہتے ’یونس حبیب کی کمیونیٹی نے الیکشن کے لیے ڈونیشن دیے ہیں۔ آپ اسے اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کریں۔‘

آئی جی آئی کی تشکیل کے حوالے سے اسد درانی نے کہا یہ یہ اتحاد انیس سو اٹھاسی میں جنرل ضیاء الحق کے انتقال کے بعد بنا۔

اسد درانی کے بقول آئی جی آئی کے بنائے جانے کے پیچھے یہی نظریہ تھا کہ جمہوریت چلانے کے لیے ملک میں دو بڑی پارٹیاں ہونی چاہئیں چونکہ اس وقت پیپلز پارٹی مضبوط حیثیت اختیار کر چکی تھی اس لیے دیگر سیاسی دھڑوں کو متحد کر کے ایک پارٹی بنائی جائے۔

آئی جی آئی کے تخلیق کاروں کے بارے میں اسد درانی کا کہنا تھا کہ ان میں حمید گل، پاکستان کے سابق صدر غلام اسحاق خان، اور پاکستان فوج کے سابق سربراہ اسلم بیگ شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایک آدمی کا کام نہیں تھا اس کے پیچھے کئی لوگوں کی سوچ شامل تھی۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو کیا وہ اس کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ بقول اسد درانی انہیں یہی سکھایا گیا ہے کہ ’اگر کوئی کام کریں تو اس کی ذمہ داری بھی لیں‘۔

انہوں نے کہا: ’جو بات اسے قبول کیا ہے اور باقی کی باتیں تفتیش کے موقع کے لیے سنبھال کر رکھی ہیں‘۔

اسد درانی کا کہنا تھا کہ جب وہ تمام معاملات سے پردہ اٹھا دیں گے تو لوگ خود فیصلہ کریں گے کہ کیا صحیح تھا اور کیا غلط۔

اسد درانی کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کا فوج کو پوری طرح علم تھا۔ ’ایسا کرنے کے لیے ملک کی سپریم کمانڈ نے کہا۔‘

اسد درانی کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی منظر نامے پر کسی دوسری پارٹی کو موقع دینے کی تجویز معقول لگی تھی۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر اٹھاون ٹو بی کے استعمال اور اس وقت کے انتخابات کے انعقاد کو قانون کے مطابق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت انتخابات کے لیے ’ڈونیشن‘ دینا بھی غلط نہیں تھا۔‘

اسد درانی کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برس سے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کو بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بقول ان کے ایسا نہ صرف اپنے ملک میں ہو رہا ہے بلکہ امریکہ اور مغرب میں بھی ایسا کیا جا رہا ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے بقول ’امریکہ کی خطے کے لیے جو پالیسی ہے اس میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی بڑی رکاوٹ ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اصغر خان کیس کی دوبارہ سماعت کے لیے بھی یہی وجوہات دی گئیں کہ فوج کے خلاف مقدمات کیوں نہیں کھولے جاتے‘۔

اسد درانی نے کہا کہ ’میں نے بہت بڑی غلطی کی۔ فوجیوں کو سیاسی معاملات کی سمجھ نہیں آتی، اس لیے بطور سفیر حکومت پر اعتبار کیا۔‘

اسدر درانی کے بقول ان سے کہا گیا کہ جو بھی تفصیل ہے وہ دے دیں جو ایک خفیہ عمل کا حصہ ہے۔ ’بہت اصرار پر انتہائی خفیہ معلومات وزیرِ اعظم (بینظیر بھٹو) کو دیں۔ یہ علم نہیں تھا آگے چل کر سیاسی مفاد کے لیے انہیں اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا‘۔

جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا رقوم کی تقسیم کے معاملے میں انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ ان کی خواہش کے مطابق تھا۔ لیکن یہ ان کا انفرادی فیصلہ تھا یا اجتماعی اس کا فیصلہ تفتیش کے بعد ہو گا۔